<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 29 Oct 2026 14:36:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 29 Oct 2026 14:36:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حب پاور کا بڑھتا منافع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293215/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حب پاور کمپنی لمیٹڈ  نے مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے دوران گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں مجموعی منافع میں 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا، جو 12.8 ارب روپے رہا۔ کمپنی کی آمدنی کو بجلی کی زیادہ پیداوار، ایسوسی ایٹ کمپنیوں سے حاصل ہونے والے منافع میں اضافے اور مالیاتی اخراجات میں کمی سے سہارا ملا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے 5 روپے فی حصص کے عبوری نقد منافع (کیش ڈیویڈنڈ) کا بھی اعلان کیا، اس طرح مسلسل پانچویں سہ ماہی میں منافع کی ادائیگی برقرار رکھی گئی۔ کمپنی کی حالیہ کارکردگی مالی سال 2026 میں مضبوط نتائج کے بعد سامنے آئی ہے، جب حب پاور نے تقریباً 49.6 ارب روپے کا مجموعی منافع ریکارڈ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے دوران کمپنی کی مجموعی آمدنی میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 27 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ اس کے پاور پورٹ فولیو میں بجلی کی زیادہ پیداوار تھی۔ تاہم، فروخت کی لاگت میں 44 فیصد اضافہ ہوا، جس کے باعث مجموعی منافع میں اضافے کی شرح 5 فیصد تک محدود رہی۔ نتیجتاً، مجموعی منافع کا مارجن ایک سال پہلے کے 43.6 فیصد سے کم ہو کر 36.2 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے بجلی پیدا کرنے والے تمام منصوبوں کی مجموعی پیداوار 75 فیصد اضافے سے تقریباً 2,311 گیگا واٹ آور  تک پہنچ گئی۔ سی پی ایچ جی سی  کی بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ٹی ای ایل  اور ٹی این پی ٹی ایل نے بالترتیب 88 فیصد اور 83 فیصد کی بہتر پیداواری استعداد برقرار رکھی۔ زیادہ تھرمل بجلی کی طلب کے باعث نارووال اور لاریب کے منصوبوں کو بھی بجلی کی ترسیل کے نظام سے زیادہ طلب ملنے کی وجہ سے فائدہ ہوا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/10/29064846ac0c0eb.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img width='1200' height='1130' src='https://i.brecorder.com/large/2026/10/29064846ac0c0eb.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ایسوسی ایٹ کمپنیوں اور مشترکہ منصوبوں سے حب پاور کے حصے میں آنے والے منافع میں 18 فیصد اضافہ ہوا، جو کمپنی کے مجموعی منافع میں ایک اہم کردار ادا کرتا رہا۔ دیگر آمدنی میں 12 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اسی سہ ماہی کے دوران مالیاتی اخراجات میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کی وجہ قرضوں کی مسلسل ادائیگی اور شرح سود میں کمی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار میں تنوع لانے کے حوالے سے حب پاور چین کی کمپنی بی وائی ڈی  کے اشتراک سے میگا موٹر کمپنی کے ذریعے الیکٹرک گاڑیوں کے منصوبے پر پیش رفت کر رہی ہے۔ کمپنی کی انتظامیہ کو توقع ہے کہ مقامی سطح پر گاڑیاں اسمبل کرنے والا پلانٹ 2026 کے اختتام تک کام شروع کر دے گا، جس کا ابتدائی ہدف ماہانہ 1,000 سے 1,500 گاڑیوں کی فروخت ہے۔ کمپنی اپنے ماڈلز کی اقسام میں بتدریج اضافہ کرنے اور مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری بڑھانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ طویل مدت میں مقامی پرزہ جات اور مواد کا تناسب 80 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حب پاور کے ذیلی ادارے حب پاور گرین نے اس منصوبے کی معاونت کے لیے پہلے ہی الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ کے 29 اسٹیشن نصب کر دیے ہیں۔ کمپنی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری میں شرکت، ممکنہ حصولیابیوں اور ایلومینیم سمیلٹر منصوبے میں سرمایہ کاری کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے، جبکہ کے الیکٹرک سے متعلق سرمایہ کاری کے مواقع پر بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کمپنی کی انتظامیہ نے بنیادی ڈھانچے اور بجلی کی زیادہ لاگت کے باعث ڈیٹا سینٹر میں مجوزہ سرمایہ کاری مؤخر کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ عرصے میں بجلی کی طلب میں اضافے، ایسوسی ایٹ کمپنیوں سے مسلسل منافع اور ڈیویڈنڈ کی آمدنی، اور بی وائی ڈی کی گاڑیوں کی مقامی اسمبلنگ شروع ہونے سے حب پاور کی ترقی کے امکانات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔ تاہم، کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے ٹیرف میں ممکنہ ردوبدل، بجلی کی ترسیل کی صلاحیت سے متعلق رکاوٹیں اور نئے منصوبوں پر عملدرآمد کے خطرات کمپنی کے لیے اہم چیلنجز رہیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حب پاور کمپنی لمیٹڈ  نے مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے دوران گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں مجموعی منافع میں 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا، جو 12.8 ارب روپے رہا۔ کمپنی کی آمدنی کو بجلی کی زیادہ پیداوار، ایسوسی ایٹ کمپنیوں سے حاصل ہونے والے منافع میں اضافے اور مالیاتی اخراجات میں کمی سے سہارا ملا۔</strong></p>
<p>کمپنی نے 5 روپے فی حصص کے عبوری نقد منافع (کیش ڈیویڈنڈ) کا بھی اعلان کیا، اس طرح مسلسل پانچویں سہ ماہی میں منافع کی ادائیگی برقرار رکھی گئی۔ کمپنی کی حالیہ کارکردگی مالی سال 2026 میں مضبوط نتائج کے بعد سامنے آئی ہے، جب حب پاور نے تقریباً 49.6 ارب روپے کا مجموعی منافع ریکارڈ کیا تھا۔</p>
<p>مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے دوران کمپنی کی مجموعی آمدنی میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 27 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ اس کے پاور پورٹ فولیو میں بجلی کی زیادہ پیداوار تھی۔ تاہم، فروخت کی لاگت میں 44 فیصد اضافہ ہوا، جس کے باعث مجموعی منافع میں اضافے کی شرح 5 فیصد تک محدود رہی۔ نتیجتاً، مجموعی منافع کا مارجن ایک سال پہلے کے 43.6 فیصد سے کم ہو کر 36.2 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>کمپنی کے بجلی پیدا کرنے والے تمام منصوبوں کی مجموعی پیداوار 75 فیصد اضافے سے تقریباً 2,311 گیگا واٹ آور  تک پہنچ گئی۔ سی پی ایچ جی سی  کی بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ٹی ای ایل  اور ٹی این پی ٹی ایل نے بالترتیب 88 فیصد اور 83 فیصد کی بہتر پیداواری استعداد برقرار رکھی۔ زیادہ تھرمل بجلی کی طلب کے باعث نارووال اور لاریب کے منصوبوں کو بھی بجلی کی ترسیل کے نظام سے زیادہ طلب ملنے کی وجہ سے فائدہ ہوا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/10/29064846ac0c0eb.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img width='1200' height='1130' src='https://i.brecorder.com/large/2026/10/29064846ac0c0eb.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>دریں اثنا، مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ایسوسی ایٹ کمپنیوں اور مشترکہ منصوبوں سے حب پاور کے حصے میں آنے والے منافع میں 18 فیصد اضافہ ہوا، جو کمپنی کے مجموعی منافع میں ایک اہم کردار ادا کرتا رہا۔ دیگر آمدنی میں 12 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اسی سہ ماہی کے دوران مالیاتی اخراجات میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کی وجہ قرضوں کی مسلسل ادائیگی اور شرح سود میں کمی تھی۔</p>
<p>کاروبار میں تنوع لانے کے حوالے سے حب پاور چین کی کمپنی بی وائی ڈی  کے اشتراک سے میگا موٹر کمپنی کے ذریعے الیکٹرک گاڑیوں کے منصوبے پر پیش رفت کر رہی ہے۔ کمپنی کی انتظامیہ کو توقع ہے کہ مقامی سطح پر گاڑیاں اسمبل کرنے والا پلانٹ 2026 کے اختتام تک کام شروع کر دے گا، جس کا ابتدائی ہدف ماہانہ 1,000 سے 1,500 گاڑیوں کی فروخت ہے۔ کمپنی اپنے ماڈلز کی اقسام میں بتدریج اضافہ کرنے اور مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری بڑھانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ طویل مدت میں مقامی پرزہ جات اور مواد کا تناسب 80 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>حب پاور کے ذیلی ادارے حب پاور گرین نے اس منصوبے کی معاونت کے لیے پہلے ہی الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ کے 29 اسٹیشن نصب کر دیے ہیں۔ کمپنی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری میں شرکت، ممکنہ حصولیابیوں اور ایلومینیم سمیلٹر منصوبے میں سرمایہ کاری کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے، جبکہ کے الیکٹرک سے متعلق سرمایہ کاری کے مواقع پر بات چیت جاری ہے۔</p>
<p>تاہم کمپنی کی انتظامیہ نے بنیادی ڈھانچے اور بجلی کی زیادہ لاگت کے باعث ڈیٹا سینٹر میں مجوزہ سرمایہ کاری مؤخر کر دی ہے۔</p>
<p>آئندہ عرصے میں بجلی کی طلب میں اضافے، ایسوسی ایٹ کمپنیوں سے مسلسل منافع اور ڈیویڈنڈ کی آمدنی، اور بی وائی ڈی کی گاڑیوں کی مقامی اسمبلنگ شروع ہونے سے حب پاور کی ترقی کے امکانات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔ تاہم، کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے ٹیرف میں ممکنہ ردوبدل، بجلی کی ترسیل کی صلاحیت سے متعلق رکاوٹیں اور نئے منصوبوں پر عملدرآمد کے خطرات کمپنی کے لیے اہم چیلنجز رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293215</guid>
      <pubDate>Thu, 29 Oct 2026 10:16:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/291013579c53bac.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/291013579c53bac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
