<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 28 Oct 2026 23:01:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 28 Oct 2026 23:01:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس ایم ایز اور زراعت کے لیے قرضوں کی فراہمی میں تیزی لائی جائے، وزیر خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293201/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) اور زراعت کے لیے قرضوں کی تیز تر فراہمی اور مالیاتی اسکیموں پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مالی وسائل تک رسائی بڑھانے کے اقدامات کے نتیجے میں کاروباری اداروں اور کسانوں کو حقیقی فوائد ملنے چاہییں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ نے بدھ کو مالی وسائل تک رسائی (اے ٹو ایف) کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے چھٹے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مالیاتی اداروں اور عمل درآمد کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ وہ زیادہ تیزی اور مؤثر انداز میں کام کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں ایس ایم ایز، زراعت، ہاؤسنگ، برآمدات اور حکومت کی اہم مالیاتی اسکیموں، بشمول اپنا گھر، زرعی قرضوں کی اسکیم ’’زرخیزے‘‘ اور پاکستان ایکسلریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن (پی اے وی ای) اسکیم کے تحت پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ کی پریس ریلیز کے مطابق 23 اکتوبر 2026 تک ایس ایم ایز کے لیے واجب الادا قرضوں کا حجم 1.148 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا، جس میں 538 ارب روپے چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے مختص تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کے استعداد کار بڑھانے کے لائحہ عمل کا بھی جائزہ لیا۔ اس منصوبے میں مالیاتی امور سے متعلق آگاہی، دستاویزات کی تیاری میں بہتری، اکاؤنٹنگ میں معاونت اور ڈیجیٹل ذرائع کی فراہمی شامل ہے، تاکہ کاروباری اداروں کو رسمی مالیاتی نظام سے قرض حاصل کرنے میں آسانی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زراعت کے شعبے میں واجب الادا قرضوں کا حجم 1.329 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ قرض لینے والوں کی تعداد تقریباً 35 لاکھ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’زرخیزے: آسان زرعی قرضہ اسکیم‘‘ کے تحت 8 ارب 67 کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کی 20,176 قرض درخواستیں منظور کی جا چکی تھیں، جبکہ چھوٹے کاشت کاروں کو بغیر ضمانت 2 ارب 34 کروڑ روپے کے تقریباً 6,132 قرضے فراہم کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے لائیو اسٹاک اور ڈیری کے شعبوں کے لیے مالی معاونت مضبوط بنانے اور زرعی ویلیو چین میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں واجب الادا قرضوں کا حجم 455 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جس سے 2 لاکھ 41 ہزار 500 قرض لینے والے مستفید ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنا گھر پروگرام کے تحت 511 ارب روپے کی مالی معاونت پر مشتمل 86,896 درخواستیں منظور کی گئی تھیں، جبکہ تقریباً 91 ارب روپے کے 15,584 قرضے جاری کیے جا چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے ہاؤسنگ فنانس، خصوصاً اپنا گھر اسکیم کے تحت پیش رفت کو سراہا، تاہم ایس ایم ایز اور زراعت کے لیے مالی معاونت میں مزید اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ہاؤسنگ قرضوں کی فراہمی تیز کرنے اور تعمیراتی شعبے میں مالی وسائل کی رسائی سے متعلق رکاوٹیں دور کرنے پر بھی بات کی۔ اس سلسلے میں بلڈرز، ڈیولپرز اور زیر تعمیر منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کے اقدامات زیر غور آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سستی الیکٹرک دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے فروغ کے لیے شروع کی گئی پی اے وی ای اسکیم کے تحت تقریباً 3 ارب 6 کروڑ روپے کی مالی معاونت پر مشتمل 21,918 درخواستیں منظور کی گئیں۔ ان میں سے 1 ارب 9 کروڑ 30 لاکھ روپے کے 5,506 قرضے جاری کیے گئے، جبکہ 3,263 الیکٹرک گاڑیاں صارفین کے حوالے کی جا چکی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے قرضوں کی جانچ پڑتال اور فراہمی بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل اقدامات کا بھی جائزہ لیا، جن میں ایس ایم ایز کے کریڈٹ اسکورنگ اور برآمد کنندگان کو مالی معاونت فراہم کرنے کے آزمائشی منصوبے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے محفوظ اور متعلقہ فریق کی رضامندی سے ڈیٹا کے تبادلے، معلومات کی رازداری کے تحفظ اور مختلف ڈیٹا نظاموں کو منسلک کرنے میں حائل مسائل کے بروقت حل پر زور دیا، تاکہ ڈیجیٹل اور نقد بہاؤ کی بنیاد پر قرضوں کی فراہمی کو زیادہ وسیع کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے، قرضوں کی وصولی کے طریقہ کار بہتر بنانے، قرض دینے کے خطرات کا انتظام کرنے اور مالی سہولتوں سے محروم طبقات کی رسائی بڑھانے کے لیے قانونی اور ضابطہ جاتی اصلاحات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ مالی وسائل تک رسائی میں بہتری معاشی شمولیت، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، روزگار کی تخلیق اور غربت میں کمی کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وفاقی سیکریٹریز برائے خزانہ، ہاؤسنگ و ورکس اور قومی غذائی تحفظ و تحقیق، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین، کرنداز پاکستان اور سمیڈا کے چیف ایگزیکٹوز، جبکہ وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) اور زراعت کے لیے قرضوں کی تیز تر فراہمی اور مالیاتی اسکیموں پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ مالی وسائل تک رسائی بڑھانے کے اقدامات کے نتیجے میں کاروباری اداروں اور کسانوں کو حقیقی فوائد ملنے چاہییں۔</p>
<p>وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ نے بدھ کو مالی وسائل تک رسائی (اے ٹو ایف) کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے چھٹے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مالیاتی اداروں اور عمل درآمد کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ وہ زیادہ تیزی اور مؤثر انداز میں کام کریں۔</p>
<p>اجلاس میں ایس ایم ایز، زراعت، ہاؤسنگ، برآمدات اور حکومت کی اہم مالیاتی اسکیموں، بشمول اپنا گھر، زرعی قرضوں کی اسکیم ’’زرخیزے‘‘ اور پاکستان ایکسلریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن (پی اے وی ای) اسکیم کے تحت پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>وزارت خزانہ کی پریس ریلیز کے مطابق 23 اکتوبر 2026 تک ایس ایم ایز کے لیے واجب الادا قرضوں کا حجم 1.148 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا، جس میں 538 ارب روپے چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے مختص تھے۔</p>
<p>کمیٹی نے اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کے استعداد کار بڑھانے کے لائحہ عمل کا بھی جائزہ لیا۔ اس منصوبے میں مالیاتی امور سے متعلق آگاہی، دستاویزات کی تیاری میں بہتری، اکاؤنٹنگ میں معاونت اور ڈیجیٹل ذرائع کی فراہمی شامل ہے، تاکہ کاروباری اداروں کو رسمی مالیاتی نظام سے قرض حاصل کرنے میں آسانی ہو۔</p>
<p>زراعت کے شعبے میں واجب الادا قرضوں کا حجم 1.329 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ قرض لینے والوں کی تعداد تقریباً 35 لاکھ ہے۔</p>
<p>’’زرخیزے: آسان زرعی قرضہ اسکیم‘‘ کے تحت 8 ارب 67 کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کی 20,176 قرض درخواستیں منظور کی جا چکی تھیں، جبکہ چھوٹے کاشت کاروں کو بغیر ضمانت 2 ارب 34 کروڑ روپے کے تقریباً 6,132 قرضے فراہم کیے گئے۔</p>
<p>کمیٹی نے لائیو اسٹاک اور ڈیری کے شعبوں کے لیے مالی معاونت مضبوط بنانے اور زرعی ویلیو چین میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں واجب الادا قرضوں کا حجم 455 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جس سے 2 لاکھ 41 ہزار 500 قرض لینے والے مستفید ہوئے۔</p>
<p>اپنا گھر پروگرام کے تحت 511 ارب روپے کی مالی معاونت پر مشتمل 86,896 درخواستیں منظور کی گئی تھیں، جبکہ تقریباً 91 ارب روپے کے 15,584 قرضے جاری کیے جا چکے تھے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے ہاؤسنگ فنانس، خصوصاً اپنا گھر اسکیم کے تحت پیش رفت کو سراہا، تاہم ایس ایم ایز اور زراعت کے لیے مالی معاونت میں مزید اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>کمیٹی نے ہاؤسنگ قرضوں کی فراہمی تیز کرنے اور تعمیراتی شعبے میں مالی وسائل کی رسائی سے متعلق رکاوٹیں دور کرنے پر بھی بات کی۔ اس سلسلے میں بلڈرز، ڈیولپرز اور زیر تعمیر منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کے اقدامات زیر غور آئے۔</p>
<p>سستی الیکٹرک دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے فروغ کے لیے شروع کی گئی پی اے وی ای اسکیم کے تحت تقریباً 3 ارب 6 کروڑ روپے کی مالی معاونت پر مشتمل 21,918 درخواستیں منظور کی گئیں۔ ان میں سے 1 ارب 9 کروڑ 30 لاکھ روپے کے 5,506 قرضے جاری کیے گئے، جبکہ 3,263 الیکٹرک گاڑیاں صارفین کے حوالے کی جا چکی تھیں۔</p>
<p>کمیٹی نے قرضوں کی جانچ پڑتال اور فراہمی بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل اقدامات کا بھی جائزہ لیا، جن میں ایس ایم ایز کے کریڈٹ اسکورنگ اور برآمد کنندگان کو مالی معاونت فراہم کرنے کے آزمائشی منصوبے شامل ہیں۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے محفوظ اور متعلقہ فریق کی رضامندی سے ڈیٹا کے تبادلے، معلومات کی رازداری کے تحفظ اور مختلف ڈیٹا نظاموں کو منسلک کرنے میں حائل مسائل کے بروقت حل پر زور دیا، تاکہ ڈیجیٹل اور نقد بہاؤ کی بنیاد پر قرضوں کی فراہمی کو زیادہ وسیع کیا جا سکے۔</p>
<p>اجلاس میں مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے، قرضوں کی وصولی کے طریقہ کار بہتر بنانے، قرض دینے کے خطرات کا انتظام کرنے اور مالی سہولتوں سے محروم طبقات کی رسائی بڑھانے کے لیے قانونی اور ضابطہ جاتی اصلاحات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ مالی وسائل تک رسائی میں بہتری معاشی شمولیت، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، روزگار کی تخلیق اور غربت میں کمی کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔</p>
<p>اجلاس میں وفاقی سیکریٹریز برائے خزانہ، ہاؤسنگ و ورکس اور قومی غذائی تحفظ و تحقیق، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین، کرنداز پاکستان اور سمیڈا کے چیف ایگزیکٹوز، جبکہ وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293201</guid>
      <pubDate>Wed, 28 Oct 2026 19:57:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/28194943af86b59.webp" type="image/webp" medium="image" height="1002" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/28194943af86b59.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
