<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 28 Oct 2026 13:57:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 28 Oct 2026 13:57:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کی ڈالر خریدنے کی بھوک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293164/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ چار برسوں کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی کارکردگی کا نمایاں پہلو بیرونی کھاتوں کا انتظام رہا ہے۔ 2023 کے آغاز میں اسٹیٹ بینک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر کم ہوکر 3 ارب ڈالر رہ گئے تھے، جو اب بڑھ کر 21.5 ارب ڈالر ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس کی مستقبل کی واجبات میں بھی تقریباً 4 ارب ڈالر کی کمی آئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح مجموعی بہتری 22.5 ارب ڈالر بنتی ہے، جبکہ جنوری 2023 سے جون 2026 تک مجموعی بیرونی قرضوں اور واجبات میں 10.2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ اس عرصے کے دوران زرمبادلہ ذخائر میں 15.3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ 9 ارب ڈالر سے زائد کا خالص اضافہ مکمل طور پر انٹربینک مارکیٹ سے ڈالر کی خریداری کا نتیجہ ہے۔ رواں مالی سال کے دوران یہ رقم مزید بڑھ چکی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، جولائی 2026 میں اسٹیٹ بینک نے انٹربینک مارکیٹ سے 863 ملین ڈالر خریدے، حالانکہ اس دوران کرنٹ اکاؤنٹ 445 ملین ڈالر خسارے میں تھا۔ اس سے گزشتہ ماہ، یعنی جون 2026 میں، بھی اسٹیٹ بینک نے 841 ملین ڈالر خریدے، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 836 ملین ڈالر تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جون 2024 سے جولائی 2026 تک اسٹیٹ بینک نے انٹربینک مارکیٹ سے 17.2 ارب ڈالر خریدے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹری پالیسی کے بعد پریس کانفرنس میں گورنر اسٹیٹ بینک کے بیان کے مطابق، مرکزی بینک نے گزشتہ چار برسوں میں انٹربینک مارکیٹ سے 30 ارب ڈالر خریدے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے تقریباً 12 ارب ڈالر سود کی ادائیگیوں کے لیے استعمال ہوئے، جبکہ باقی رقم زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کے لیے استعمال کی گئی۔ یہ اطمینان بخش خبر ہے اور اس نے پاکستان کو ڈیفالٹ کے دہانے سے نکال کر ایسی پوزیشن میں پہنچانے میں مدد دی ہے جہاں وہ تیل کے موجودہ بحران سے بہتر انداز میں نمٹ رہا ہے۔ اس کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود اور مالیاتی پوزیشن میں بہتری نے بھی مہنگائی پر قابو پانے میں مدد دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک ایک ایسا طریقہ کار اپنا رہا ہے جو بینکوں کے ٹریژری شعبوں کو مسلسل دباؤ میں رکھتا ہے، لیکن ملک کے لیے مؤثر ثابت ہورہا ہے۔ گزشتہ تقریباً تین برسوں سے اسٹیٹ بینک نے بالواسطہ طور پر بینکوں کو ایک دوسرے سے غیر ملکی کرنسی خریدنے کی اجازت نہیں دی۔ دن کے اختتام پر بینکوں کے پاس موجود اضافی ڈالر اسٹیٹ بینک کے حوالے کرنا لازم ہیں، جو بعدازاں مرکزی بینک کی ڈالر خریداری کا حصہ بن جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح بینکوں کو درآمدات اور دیگر ادائیگیوں کے لیے ڈالر فراہم کرنے کی غرض سے برآمدات اور ترسیلات زر کے ذریعے اندرونی طور پر ڈالر کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ وہ درآمدات کے لیے زیادہ شرحیں وصول کرتے ہیں، جبکہ ترسیلات زر پر رعایت دیتے ہیں۔ پہلے حکومت ترسیلات زر پر رعایت فراہم کرتی تھی، لیکن اب بینک یہ اخراجات اپنی جیب سے برداشت کررہے ہیں۔ اوسطاً بینک فی ڈالر 2 سے 2.5 روپے کی رعایت دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بینکاری کے باضابطہ ذرائع سے ترسیلات زر میں اضافے میں مدد مل رہی ہے۔ بینک ترسیلات زر حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہیں اور وہ نہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں بلکہ غیر رسمی مارکیٹ کا بھی مقابلہ کررہے ہیں، جسے چند برس قبل کی جانے والی کارروائیوں کے بعد نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، جنگ کے بعد مارکیٹ سے رقوم کا اخراج بظاہر رک گیا ہے یا اس کی رفتار کم ہوگئی ہے، جس سے بیرونی رقوم کی آمد میں بہتری آرہی ہے۔ اس پس منظر میں اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2027 کے لیے ترسیلات زر کا ہدف بڑھا کر 45 ارب ڈالر کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک اپنے ارادے میں سنجیدہ ہے اور آج بھی مارکیٹ سے جارحانہ انداز میں ڈالر خرید رہا ہے۔ درآمدات کے لیے زرمبادلہ کی دستیابی کا دورانیہ دو ہفتوں سے بڑھ کر تین ماہ سے زیادہ ہوگیا ہے۔ لیکن اسٹیٹ بینک مزید ڈالر چاہتا ہے۔ وہ ڈالر حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہے اور بینکوں کے ٹریژری شعبوں کے لیے مشکلات پیدا کررہا ہے۔ مرکزی بینک نے اپنے زرمبادلہ ذخائر کا ہدف بڑھا کر دسمبر 2026 تک 23 ارب ڈالر اور جون 2027 تک 25 ارب ڈالر کردیا ہے۔ اسٹیٹ بینک مزید ڈالر چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ درست حکمت عملی ہے۔ اسٹیٹ بینک کو زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ جاری رکھنا چاہیے۔ تاہم، اسے صرف بینکوں پر دباؤ ڈال کر ایسا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے کرنسی کی قیمت کو بھی پالیسی کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ حقیقی مؤثر شرح مبادلہ (آر ای ای آر) 109 ہے، جو 2018 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ جب بھی کوئی کرنسی کی قدر میں ردوبدل کی اجازت دینے کی بات کرتا ہے تو اسٹیٹ بینک اپنی ڈالر خریداری کی مہم کا حوالہ دینا شروع کردیتا ہے، جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ یہ اچھی بات ہے، لیکن کافی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود، نہ تو اسٹیٹ بینک اور نہ ہی حکومت میں کوئی پاکستانی روپے کی قدر میں کمی چاہتا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ روپے کی قدر میں کمی منفی اثرات کا ایک ایسا سلسلہ شروع کرسکتی ہے جس کے نتیجے میں معیشت میں ڈالر کے استعمال کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک مارکیٹ سے مزید ڈالر خریدنے پر غور کررہا ہے اور دوہری کرنسی میں بانڈ جاری کرنے کی منصوبہ بندی بھی کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ حکام چاہتے ہیں کہ ڈالر خریدنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے روپے کی قدر مستحکم رکھی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حکمت عملی سے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ تو ہوسکتا ہے، لیکن ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں معیشت کی شرح نمو 4 فیصد سے آگے نہ بڑھ سکے۔ ذخائر میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے زیادہ شرح نمو حاصل کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کو مارکیٹ میں بے چینی کا انتظام کرتے ہوئے کرنسی کی قدر میں ردوبدل کی اجازت دینی ہوگی۔ تاہم، ایسا جلد ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ چار برسوں کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی کارکردگی کا نمایاں پہلو بیرونی کھاتوں کا انتظام رہا ہے۔ 2023 کے آغاز میں اسٹیٹ بینک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر کم ہوکر 3 ارب ڈالر رہ گئے تھے، جو اب بڑھ کر 21.5 ارب ڈالر ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس کی مستقبل کی واجبات میں بھی تقریباً 4 ارب ڈالر کی کمی آئی ہے۔</strong></p>
<p>اس طرح مجموعی بہتری 22.5 ارب ڈالر بنتی ہے، جبکہ جنوری 2023 سے جون 2026 تک مجموعی بیرونی قرضوں اور واجبات میں 10.2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ اس عرصے کے دوران زرمبادلہ ذخائر میں 15.3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>چنانچہ 9 ارب ڈالر سے زائد کا خالص اضافہ مکمل طور پر انٹربینک مارکیٹ سے ڈالر کی خریداری کا نتیجہ ہے۔ رواں مالی سال کے دوران یہ رقم مزید بڑھ چکی ہوگی۔</p>
<p>تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، جولائی 2026 میں اسٹیٹ بینک نے انٹربینک مارکیٹ سے 863 ملین ڈالر خریدے، حالانکہ اس دوران کرنٹ اکاؤنٹ 445 ملین ڈالر خسارے میں تھا۔ اس سے گزشتہ ماہ، یعنی جون 2026 میں، بھی اسٹیٹ بینک نے 841 ملین ڈالر خریدے، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 836 ملین ڈالر تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جون 2024 سے جولائی 2026 تک اسٹیٹ بینک نے انٹربینک مارکیٹ سے 17.2 ارب ڈالر خریدے۔</p>
<p>مانیٹری پالیسی کے بعد پریس کانفرنس میں گورنر اسٹیٹ بینک کے بیان کے مطابق، مرکزی بینک نے گزشتہ چار برسوں میں انٹربینک مارکیٹ سے 30 ارب ڈالر خریدے ہیں۔</p>
<p>ان میں سے تقریباً 12 ارب ڈالر سود کی ادائیگیوں کے لیے استعمال ہوئے، جبکہ باقی رقم زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کے لیے استعمال کی گئی۔ یہ اطمینان بخش خبر ہے اور اس نے پاکستان کو ڈیفالٹ کے دہانے سے نکال کر ایسی پوزیشن میں پہنچانے میں مدد دی ہے جہاں وہ تیل کے موجودہ بحران سے بہتر انداز میں نمٹ رہا ہے۔ اس کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود اور مالیاتی پوزیشن میں بہتری نے بھی مہنگائی پر قابو پانے میں مدد دی ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک ایک ایسا طریقہ کار اپنا رہا ہے جو بینکوں کے ٹریژری شعبوں کو مسلسل دباؤ میں رکھتا ہے، لیکن ملک کے لیے مؤثر ثابت ہورہا ہے۔ گزشتہ تقریباً تین برسوں سے اسٹیٹ بینک نے بالواسطہ طور پر بینکوں کو ایک دوسرے سے غیر ملکی کرنسی خریدنے کی اجازت نہیں دی۔ دن کے اختتام پر بینکوں کے پاس موجود اضافی ڈالر اسٹیٹ بینک کے حوالے کرنا لازم ہیں، جو بعدازاں مرکزی بینک کی ڈالر خریداری کا حصہ بن جاتے ہیں۔</p>
<p>اس طرح بینکوں کو درآمدات اور دیگر ادائیگیوں کے لیے ڈالر فراہم کرنے کی غرض سے برآمدات اور ترسیلات زر کے ذریعے اندرونی طور پر ڈالر کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ وہ درآمدات کے لیے زیادہ شرحیں وصول کرتے ہیں، جبکہ ترسیلات زر پر رعایت دیتے ہیں۔ پہلے حکومت ترسیلات زر پر رعایت فراہم کرتی تھی، لیکن اب بینک یہ اخراجات اپنی جیب سے برداشت کررہے ہیں۔ اوسطاً بینک فی ڈالر 2 سے 2.5 روپے کی رعایت دے رہے ہیں۔</p>
<p>اس سے بینکاری کے باضابطہ ذرائع سے ترسیلات زر میں اضافے میں مدد مل رہی ہے۔ بینک ترسیلات زر حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہیں اور وہ نہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں بلکہ غیر رسمی مارکیٹ کا بھی مقابلہ کررہے ہیں، جسے چند برس قبل کی جانے والی کارروائیوں کے بعد نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ، جنگ کے بعد مارکیٹ سے رقوم کا اخراج بظاہر رک گیا ہے یا اس کی رفتار کم ہوگئی ہے، جس سے بیرونی رقوم کی آمد میں بہتری آرہی ہے۔ اس پس منظر میں اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2027 کے لیے ترسیلات زر کا ہدف بڑھا کر 45 ارب ڈالر کردیا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک اپنے ارادے میں سنجیدہ ہے اور آج بھی مارکیٹ سے جارحانہ انداز میں ڈالر خرید رہا ہے۔ درآمدات کے لیے زرمبادلہ کی دستیابی کا دورانیہ دو ہفتوں سے بڑھ کر تین ماہ سے زیادہ ہوگیا ہے۔ لیکن اسٹیٹ بینک مزید ڈالر چاہتا ہے۔ وہ ڈالر حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہے اور بینکوں کے ٹریژری شعبوں کے لیے مشکلات پیدا کررہا ہے۔ مرکزی بینک نے اپنے زرمبادلہ ذخائر کا ہدف بڑھا کر دسمبر 2026 تک 23 ارب ڈالر اور جون 2027 تک 25 ارب ڈالر کردیا ہے۔ اسٹیٹ بینک مزید ڈالر چاہتا ہے۔</p>
<p>یہ درست حکمت عملی ہے۔ اسٹیٹ بینک کو زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ جاری رکھنا چاہیے۔ تاہم، اسے صرف بینکوں پر دباؤ ڈال کر ایسا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے کرنسی کی قیمت کو بھی پالیسی کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ حقیقی مؤثر شرح مبادلہ (آر ای ای آر) 109 ہے، جو 2018 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ جب بھی کوئی کرنسی کی قدر میں ردوبدل کی اجازت دینے کی بات کرتا ہے تو اسٹیٹ بینک اپنی ڈالر خریداری کی مہم کا حوالہ دینا شروع کردیتا ہے، جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ یہ اچھی بات ہے، لیکن کافی نہیں۔</p>
<p>اس کے باوجود، نہ تو اسٹیٹ بینک اور نہ ہی حکومت میں کوئی پاکستانی روپے کی قدر میں کمی چاہتا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ روپے کی قدر میں کمی منفی اثرات کا ایک ایسا سلسلہ شروع کرسکتی ہے جس کے نتیجے میں معیشت میں ڈالر کے استعمال کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک مارکیٹ سے مزید ڈالر خریدنے پر غور کررہا ہے اور دوہری کرنسی میں بانڈ جاری کرنے کی منصوبہ بندی بھی کررہا ہے۔</p>
<p>چنانچہ حکام چاہتے ہیں کہ ڈالر خریدنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے روپے کی قدر مستحکم رکھی جائے۔</p>
<p>اس حکمت عملی سے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ تو ہوسکتا ہے، لیکن ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں معیشت کی شرح نمو 4 فیصد سے آگے نہ بڑھ سکے۔ ذخائر میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے زیادہ شرح نمو حاصل کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کو مارکیٹ میں بے چینی کا انتظام کرتے ہوئے کرنسی کی قدر میں ردوبدل کی اجازت دینی ہوگی۔ تاہم، ایسا جلد ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293164</guid>
      <pubDate>Wed, 28 Oct 2026 10:35:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/28103408714018d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/28103408714018d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
