<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 28 Oct 2026 11:28:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 28 Oct 2026 11:28:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سمیڈا کی تنظیم نو، وزیراعظم کی ہدایت پر کمیٹی میں بورڈ ارکان بھی شامل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293158/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزارت صنعت و پیداوار نے اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کی تنظیم نو کے لیے جامع منصوبہ تیار کرنے والی کمیٹی میں اتھارٹی کے ارکان کو بھی شامل کرلیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے منگل کو سمیڈا کی تنظیم نو سے متعلق وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بتایا کہ سمیڈا بورڈ کے ارکان کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے تاکہ اصلاحاتی تجاویز کی تیاری میں ادارہ جاتی رائے اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے سمیڈا کو فعال بنانے اور اس کی خدمات ملک کے کونے کونے تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی کو چار ہفتوں کے اندر تنظیم نو کا منصوبہ وزیراعظم آفس میں پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون اختر خان نے کہا کہ سمیڈا کئی سال تک غیر فعال رہا، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے تحت ادارے کو دوبارہ فعال بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق سمیڈا میں کاروبار کو فروغ دینے، چھوٹے کاروباری اداروں کو مضبوط بنانے اور قومی اقتصادی ترقی میں کردار ادا کرنے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ادارے کی خدمات کا دائرہ مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں تک وسیع کیا جائے گا، بالخصوص خواتین کاروباری افراد اور دیہی و پسماندہ علاقوں میں کام کرنے والے کاروباروں پر توجہ دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون اختر نے زور دیا کہ چھوٹے کاروباری افراد کو مالی وسائل، کاروباری مشاورت اور ادارہ جاتی معاونت تک رسائی فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے کاروبار کو ترقی دے سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سمیڈا کی تنظیم نو کے لیے بین الاقوامی بہترین طریقوں اور کامیاب ادارہ جاتی ماڈلز کا جائزہ لے کر پاکستان کے معاشی اور کاروباری حالات کے مطابق قابل عمل منصوبہ تیار کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون اختر خان کے مطابق پاکستان کے تقریباً 99 فیصد کاروباری اداروں کا تعلق چھوٹے اور درمیانے درجے کے شعبے سے ہے، جبکہ یہ شعبہ روزگار کی مجموعی فراہمی میں تقریباً 78 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے کو مضبوط بنانا روزگار کے مواقع بڑھانے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور جامع اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزارت صنعت و پیداوار نے اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کی تنظیم نو کے لیے جامع منصوبہ تیار کرنے والی کمیٹی میں اتھارٹی کے ارکان کو بھی شامل کرلیا ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے منگل کو سمیڈا کی تنظیم نو سے متعلق وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بتایا کہ سمیڈا بورڈ کے ارکان کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے تاکہ اصلاحاتی تجاویز کی تیاری میں ادارہ جاتی رائے اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جاسکے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے سمیڈا کو فعال بنانے اور اس کی خدمات ملک کے کونے کونے تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی کو چار ہفتوں کے اندر تنظیم نو کا منصوبہ وزیراعظم آفس میں پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔</p>
<p>ہارون اختر خان نے کہا کہ سمیڈا کئی سال تک غیر فعال رہا، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے تحت ادارے کو دوبارہ فعال بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق سمیڈا میں کاروبار کو فروغ دینے، چھوٹے کاروباری اداروں کو مضبوط بنانے اور قومی اقتصادی ترقی میں کردار ادا کرنے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ادارے کی خدمات کا دائرہ مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں تک وسیع کیا جائے گا، بالخصوص خواتین کاروباری افراد اور دیہی و پسماندہ علاقوں میں کام کرنے والے کاروباروں پر توجہ دی جائے گی۔</p>
<p>ہارون اختر نے زور دیا کہ چھوٹے کاروباری افراد کو مالی وسائل، کاروباری مشاورت اور ادارہ جاتی معاونت تک رسائی فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے کاروبار کو ترقی دے سکیں۔</p>
<p>اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سمیڈا کی تنظیم نو کے لیے بین الاقوامی بہترین طریقوں اور کامیاب ادارہ جاتی ماڈلز کا جائزہ لے کر پاکستان کے معاشی اور کاروباری حالات کے مطابق قابل عمل منصوبہ تیار کیا جائے گا۔</p>
<p>ہارون اختر خان کے مطابق پاکستان کے تقریباً 99 فیصد کاروباری اداروں کا تعلق چھوٹے اور درمیانے درجے کے شعبے سے ہے، جبکہ یہ شعبہ روزگار کی مجموعی فراہمی میں تقریباً 78 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے کو مضبوط بنانا روزگار کے مواقع بڑھانے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور جامع اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293158</guid>
      <pubDate>Wed, 28 Oct 2026 09:35:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/2809304820f3aa6.webp" type="image/webp" medium="image" height="800" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/2809304820f3aa6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
