<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Perspectives</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 28 Oct 2026 03:24:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 28 Oct 2026 03:24:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سولر توانائی کے فروغ کو مشترکہ وسیلہ بنانا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293152/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تصور کریں کہ سندھ کے تھرپارکر میں ایک چھوٹا سا کچا گھر ہے۔ اب تصور کریں کہ غروبِ آفتاب کے بعد ایک ماں گھر کا واحد بلب روشن کرتی ہے اور بچوں کو بار بار یاد دہانی کراتی ہے کہ وہ جلدی اپنا ہوم ورک مکمل کرلیں، کیونکہ بجلی ذخیرہ کرنے والی بیٹری رات بھر نہیں چل سکے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھرپارکر سے شمال مشرق کی جانب تقریباً 1,432 کلومیٹر دور اسلام آباد ہے، جہاں خاندانوں کو بجلی کی دستیابی کا بالکل مختلف تجربہ ہوتا ہے۔ دارالحکومت میں بہت سے گھروں کی چھتیں سولر پینلز سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ گرم اور دھوپ بھرے دوپہروں میں یہ پینلز بظاہر گھر کی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرتے ہیں۔ یہ اضافی بجلی استعمال نہیں ہو پاتی، حالانکہ چند میٹر کے فاصلے پر رہنے والا کوئی دوسرا خاندان اپنے گھر پر سولر پینلز لگانے کی استطاعت نہ ہونے کے باعث بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے پریشان ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں توانائی کی منصفانہ اور مساوی منتقلی کے بنیادی سوالات انہی دو صورتِ حال سے جنم لیتے ہیں، خصوصاً حالیہ برسوں میں سولر توانائی کے تیزی سے فروغ کے تناظر میں۔ بعض گھرانوں کو ضرورت سے بہت کم بجلی میسر ہے، جبکہ دوسرے اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس اضافی بجلی کا کیا کیا جائے؟ ملک میں توانائی کی محرومی کی موجودہ صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے مناسب یہی ہوگا کہ یہ اضافی بجلی ان لوگوں تک پہنچائی جائے اور ان کے ساتھ بانٹی جائے جنہیں اس کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکوئٹیبل ڈیولپمنٹ (پرائیڈ) نے پاکستان میں چھتوں پر نصب سولر پینلز کی پیداواری صلاحیت کا تخمینہ تقریباً 33 گیگاواٹ لگایا تھا، جبکہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے پر کام کرنے والے ادارے رینیوایبلز فرسٹ کے حالیہ تخمینے کے مطابق تقسیم شدہ سولر توانائی کی صلاحیت تقریباً 38 گیگاواٹ ہے، جس میں سے تقریباً 8 گیگاواٹ نیٹ میٹرنگ کے تحت باضابطہ طور پر رجسٹرڈ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک میں چھتوں پر نصب سولر پینلز کی مجموعی صلاحیت کا 78 فیصد سے زیادہ حصہ نیٹ میٹرنگ کے نظام سے باہر ہے۔ لوگوں نے محض سولر پینلز نصب کیے اور ان سے بجلی استعمال کرنا شروع کر دی، کیونکہ قومی گرڈ سے بجلی حاصل کرنا ناقابلِ برداشت حد تک مہنگا ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2015 میں گرڈ سے حاصل ہونے والی بجلی کے ایک یونٹ کی قیمت تقریباً 9 روپے تھی، جو 2024 تک بڑھ کر 42 روپے فی یونٹ سے تجاوز کر گئی۔ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے ساتھ بہت سے گھرانوں کے لیے سولر توانائی سستا متبادل بن گئی۔ سادہ الفاظ میں، لوگوں نے سولر توانائی اس لیے اختیار نہیں کی کہ یہ انتہائی سستی تھی، بلکہ اس لیے کہ انہیں گرڈ کی بجلی سے کم خرچ والا کوئی متبادل درکار تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری علاقوں میں سولر توانائی کا پھیلاؤ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خرچ پر سولر پینلز لگانے کے اس رجحان نے اب بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) اور سولر توانائی نصب کرنے کی استطاعت نہ رکھنے والے صارفین کے لیے نئے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ دھوپ کے اوقات میں بہت سے گھرانے اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرتے ہیں اور یہ اضافی بجلی ایسے گرڈ میں چلی جاتی ہے جسے دونوں سمتوں میں بجلی کی ترسیل کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا۔ بجلی گھر سے گھروں تک بجلی پہنچانے کے لیے نصب کی گئی تاروں اور حفاظتی آلات سے اب الٹی سمت میں بھی بجلی گزارنے کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔ پھر سورج غروب ہوتے ہی یہی گھرانے دوبارہ گرڈ سے بجلی لینے لگتے ہیں، جس سے طلب میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ ڈسکوز کو کم بجلی فروخت ہونے کے باوجود اپنے مستقل اخراجات پورے کرنا ہوتے ہیں۔ نتیجتاً، اخراجات کا بوجھ اکثر ان گھرانوں پر پڑتا ہے جو سولر پینلز نصب کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہروں کو ایک مختلف حل درکار ہے، کیونکہ وہاں مسئلہ بھی مختلف ہے۔ اسلام آباد جیسے شہر میں زیادہ تر گھر پہلے ہی بجلی کے گرڈ سے منسلک ہیں۔ یہاں چیلنج بجلی تک رسائی نہیں بلکہ مختلف ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ شہروں کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جو چھتوں پر نصب ہزاروں چھوٹے، الگ الگ سولر سسٹمز اور بیٹریوں کو یکجا کر سکے، تاکہ وہ بجلی پیدا کرنے والے ہزاروں غیر یقینی چھوٹے ذرائع کے بجائے ایک بڑے اور بہتر انداز میں چلائے جانے والے بجلی گھر کی طرح اجتماعی طور پر کام کریں۔ اسے ورچوئل پاور پلانٹ (وی پی پی) کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نظام دنیا کے دوسرے حصوں میں پہلے ہی بڑے پیمانے پر کام کر رہا ہے۔ برطانیہ میں آکٹوپس انرجی نامی کمپنی کا پلیٹ فارم ’کریکن‘ پانچ لاکھ سے زیادہ منسلک آلات سے 2 گیگاواٹ سے زائد لچکدار بجلی کی طلب و رسد کا انتظام کرتا ہے۔ ان آلات میں صرف برقی گاڑیوں سے حاصل ہونے والی کم از کم ایک گیگاواٹ بجلی بھی شامل ہے۔ ’انٹیلی جنٹ آکٹوپس گو‘ نامی ٹیرف کے ذریعے یہ نظام بیٹریوں اور برقی گاڑیوں کو اس وقت چارج کرتا ہے جب گرڈ سے بجلی کی قیمت کم ہو اور نیٹ ورک میں بجلی کی اضافی پیداوار دستیاب ہو۔ اس وقت بجلی کی قیمت تقریباً 0.08 پاؤنڈ فی یونٹ ہوتی ہے۔ اس سہولت سے برقی گاڑی چلانے کی لاگت کم ہو کر تقریباً 0.02 پاؤنڈ فی میل رہ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے گرڈ پر دباؤ ڈالنے والے یہی چھتوں پر نصب سولر پینلز اور بیٹریاں برطانیہ میں ایسا وسیلہ سمجھی جاتی ہیں جسے استعمال کرنے کے لیے گرڈ صارفین کو ادائیگی کر سکتا ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں ہے۔ کمی ایسے نظام کی ہے جو بجلی کے ان منتشر ذرائع کی نشاندہی کرے، ان کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے اور گھرانوں کو اپنی اضافی بجلی دستیاب کرنے کے عوض معاوضہ دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیہی علاقوں کا تناظر&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے غریب اور دور دراز دیہات میں مسئلہ مختلف نوعیت کا ہے۔ یہاں گھرانوں کے پاس اکثر صرف ایک چھوٹا سولر پینل اور چھوٹی بیٹری ہوتی ہے، جو پنکھا اور ایک دو بلب چلانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ کسی بھی دن ایک گھر کا سولر پینل ضرورت سے کچھ زیادہ بجلی پیدا کر رہا ہو سکتا ہے، جبکہ پڑوسی گھرانے کی بیٹری پہلے ہی خالی ہو چکی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ان چھوٹے نظاموں کو ایک دوسرے سے منسلک کیا جا سکے تو ایک گھر کی اضافی بجلی ضائع ہونے یا گرڈ میں واپس جانے کے بجائے پڑوسی گھر تک پہنچ سکتی ہے۔ اسے ’سوارم گرڈ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ روایتی بجلی گھر کی طرح اوپر سے نیچے کی جانب قائم کرنے کے بجائے نچلی سطح سے، یعنی ایک ایک گھر کو جوڑ کر بتدریج تشکیل پاتا ہے۔ تھرپارکر کے صحرائی دیہات میں، جہاں ہم نے خود میدانی سروے کیا، بعض پڑوسی گھرانے پہلے ہی غیر رسمی طور پر بجلی بانٹ رہے ہیں۔ سروے میں تقریباً نصف گھرانوں نے کہا کہ وہ ایسے نیٹ ورک کا باقاعدہ حصہ بننے کے لیے تیار ہوں گے، خصوصاً اگر اس سے آمدنی کا ایک چھوٹا ذریعہ بھی پیدا ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کی محرومی کم کرنے کے لیے دنیا کے دوسرے حصوں میں اس تصور کو عملی طور پر آزمایا جا چکا ہے۔ بنگلہ دیش میں ’سول شیئر‘ نامی کمپنی 120 باہمی بجلی کی ترسیل والے مائیکرو گرڈز کے ذریعے 80 ہزار سے زیادہ افراد کو بجلی فراہم کر رہی ہے۔ اس نظام میں اسمارٹ میٹر ضرورت کے وقت ایک عمارت کی اضافی سولر بجلی خودکار طریقے سے دوسری عمارت تک پہنچاتے ہیں، جبکہ صارفین موبائل منی کے ذریعے بجلی کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔ بعد ازاں یہ نظام ایک بڑے توانائی کے اشتراکی نیٹ ورک میں تبدیل ہو گیا، جس میں صارفین کے درمیان بجلی کی خرید و فروخت، برقی رکشوں کی بیٹریاں لیز پر دینے اور چھوٹے کاروباروں، مثلاً کریانے کی دکانوں، کے لیے چھتوں پر سولر پینلز نصب کرنے کی سہولتیں بھی شامل ہیں۔ اضافی سولر بجلی ضائع کرنے کے بجائے استعمال کرنے سے اس نظام نے مقامی سطح پر کاربن کے اخراج میں 30 فیصد تک کمی لانے میں مدد دی ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں شامل گھرانوں، چھوٹے کاروباروں اور برقی رکشے چلانے والوں کی آمدنی میں بھی 25 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورچوئل پاور پلانٹ اور سوارم گرڈ، دونوں ہی پاکستان میں بجلی کے موجودہ انتظام کے مقابلے میں تمام فریقوں کے لیے زیادہ مالی طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ ملک میں نافذ نیٹ بلنگ کے موجودہ قواعد کے تحت، گرڈ کو اضافی بجلی فراہم کرنے والے سولر صارف کو فی یونٹ صرف 11 سے 13 روپے ملتے ہیں، جبکہ سولر سہولت سے محروم صارف زیادہ مہنگے ٹیرف کے درجوں میں آنے پر فی یونٹ 40 سے 55 روپے تک ادا کر سکتا ہے۔ سوارم گرڈ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک راستہ فراہم کرتا ہے۔ سولر صارف اپنی اضافی بجلی پڑوسی کو تقریباً 20 روپے فی یونٹ کے حساب سے فروخت کر سکتا ہے، جو گرڈ کی جانب سے ملنے والے معاوضے سے تقریباً دوگنا ہے۔ اس کے باوجود پڑوسی صارف گرڈ کے مقابلے میں نصف سے بھی کم قیمت ادا کرے گا۔ اس طرح دونوں فریق فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور کسی ادارے کو قیمتوں کے فرق پر سبسڈی بھی نہیں دینا پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں بھی ان دونوں طریقوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں، حالانکہ پاکستان کے بجلی کے مسائل کا ذمہ دار اکثر انہیں ٹھہرایا جاتا ہے۔ ورچوئل پاور پلانٹ اور سوارم گرڈ کے ذریعے اضافی سولر بجلی کو ایسے نیٹ ورک میں واپس بھیجنے سے پہلے مقامی سطح پر استعمال کیا جا سکے گا، جو دونوں سمتوں میں بجلی کی ترسیل کے لیے کبھی بنایا ہی نہیں گیا تھا۔ اس سے حفاظتی آلات کے بار بار ٹرپ ہونے اور ٹرانسفارمرز کو نقصان پہنچنے کے خطرات کم ہوں گے۔ ورچوئل پاور پلانٹ بجلی فراہم کرنے والے اداروں کو سولر توانائی کے باعث طلب میں ہونے والے تیز اتار چڑھاؤ کو متوازن کرنے کا طریقہ بھی دے گا، بالکل اسی طرح جیسے برطانیہ میں آکٹوپس انرجی کرتی ہے۔ اس طرح تقسیم کار کمپنیوں کو ہر شام طلب میں اچانک اضافے سے غیر متوقع صورتِ حال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر مناسب انداز میں انتظام کیا جائے تو چھتوں پر نصب سولر پینلز تقسیم کار کمپنیوں کے لیے خطرہ بننے کے بجائے ایسا وسیلہ بن سکتے ہیں جسے وہ مؤثر طور پر استعمال کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، یہ سب کچھ خود بخود نہیں ہوگا۔ پاکستان کو توانائی کے نگران ادارے نیپرا کی جانب سے واضح قواعد درکار ہیں، جن کے تحت لوگ قانونی طور پر اپنی اضافی بجلی پڑوسیوں کو فروخت یا فراہم کر سکیں۔ اس کے ساتھ تقسیم کار کمپنیوں کو بھی چھتوں پر نصب سولر پینلز کو مسئلے کے بجائے حل کا حصہ سمجھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی پہلے ہی دستیاب ہے اور لوگ سولر توانائی استعمال کرنے میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔ پاکستانی گھرانوں نے ملک بھر میں چھتوں پر سولر پینلز نصب کرکے سب سے اہم ابتدائی قدم اٹھا لیا ہے۔ اب اگلا قدم ان نظاموں کو آسان اور منظم طریقے سے ایک دوسرے سے منسلک کرنا ہے، تاکہ ضرورت پڑنے پر تھرپارکر کا کوئی گھرانہ اپنے پڑوسی کی بیٹری میں موجود اضافی بجلی استعمال کر سکے، جبکہ اسلام آباد کا کوئی گھر دوپہر کے وقت پیدا ہونے والی اپنی اضافی سولر بجلی ضائع کرنے کے بجائے دوسروں کے ساتھ بانٹ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اپنی موجودہ سولر توانائی کو بہتر انداز میں استعمال کرکے ایسا مستقبل تشکیل دے سکتا ہے۔ ایسا مستقبل نہیں جس میں سولر پینلز لگانے کی استطاعت رکھنے والے لوگ گرڈ سے الگ ہو جائیں اور باقی صارفین بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ اٹھاتے رہیں، بلکہ ایسا نظام جس میں ملک بھر میں پیدا ہونے والی بجلی کو بانٹا، اس کی فراہمی میں ہم آہنگی پیدا کی اور اسے مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے موقف کی عکاسی کرتا ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تصور کریں کہ سندھ کے تھرپارکر میں ایک چھوٹا سا کچا گھر ہے۔ اب تصور کریں کہ غروبِ آفتاب کے بعد ایک ماں گھر کا واحد بلب روشن کرتی ہے اور بچوں کو بار بار یاد دہانی کراتی ہے کہ وہ جلدی اپنا ہوم ورک مکمل کرلیں، کیونکہ بجلی ذخیرہ کرنے والی بیٹری رات بھر نہیں چل سکے گی۔</strong></p>
<p>تھرپارکر سے شمال مشرق کی جانب تقریباً 1,432 کلومیٹر دور اسلام آباد ہے، جہاں خاندانوں کو بجلی کی دستیابی کا بالکل مختلف تجربہ ہوتا ہے۔ دارالحکومت میں بہت سے گھروں کی چھتیں سولر پینلز سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ گرم اور دھوپ بھرے دوپہروں میں یہ پینلز بظاہر گھر کی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرتے ہیں۔ یہ اضافی بجلی استعمال نہیں ہو پاتی، حالانکہ چند میٹر کے فاصلے پر رہنے والا کوئی دوسرا خاندان اپنے گھر پر سولر پینلز لگانے کی استطاعت نہ ہونے کے باعث بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے پریشان ہو سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں توانائی کی منصفانہ اور مساوی منتقلی کے بنیادی سوالات انہی دو صورتِ حال سے جنم لیتے ہیں، خصوصاً حالیہ برسوں میں سولر توانائی کے تیزی سے فروغ کے تناظر میں۔ بعض گھرانوں کو ضرورت سے بہت کم بجلی میسر ہے، جبکہ دوسرے اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس اضافی بجلی کا کیا کیا جائے؟ ملک میں توانائی کی محرومی کی موجودہ صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے مناسب یہی ہوگا کہ یہ اضافی بجلی ان لوگوں تک پہنچائی جائے اور ان کے ساتھ بانٹی جائے جنہیں اس کی ضرورت ہے۔</p>
<p>2024 میں پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکوئٹیبل ڈیولپمنٹ (پرائیڈ) نے پاکستان میں چھتوں پر نصب سولر پینلز کی پیداواری صلاحیت کا تخمینہ تقریباً 33 گیگاواٹ لگایا تھا، جبکہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے پر کام کرنے والے ادارے رینیوایبلز فرسٹ کے حالیہ تخمینے کے مطابق تقسیم شدہ سولر توانائی کی صلاحیت تقریباً 38 گیگاواٹ ہے، جس میں سے تقریباً 8 گیگاواٹ نیٹ میٹرنگ کے تحت باضابطہ طور پر رجسٹرڈ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک میں چھتوں پر نصب سولر پینلز کی مجموعی صلاحیت کا 78 فیصد سے زیادہ حصہ نیٹ میٹرنگ کے نظام سے باہر ہے۔ لوگوں نے محض سولر پینلز نصب کیے اور ان سے بجلی استعمال کرنا شروع کر دی، کیونکہ قومی گرڈ سے بجلی حاصل کرنا ناقابلِ برداشت حد تک مہنگا ہو گیا تھا۔</p>
<p>2015 میں گرڈ سے حاصل ہونے والی بجلی کے ایک یونٹ کی قیمت تقریباً 9 روپے تھی، جو 2024 تک بڑھ کر 42 روپے فی یونٹ سے تجاوز کر گئی۔ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے ساتھ بہت سے گھرانوں کے لیے سولر توانائی سستا متبادل بن گئی۔ سادہ الفاظ میں، لوگوں نے سولر توانائی اس لیے اختیار نہیں کی کہ یہ انتہائی سستی تھی، بلکہ اس لیے کہ انہیں گرڈ کی بجلی سے کم خرچ والا کوئی متبادل درکار تھا۔</p>
<p>شہری علاقوں میں سولر توانائی کا پھیلاؤ</p>
<p>اپنے خرچ پر سولر پینلز لگانے کے اس رجحان نے اب بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) اور سولر توانائی نصب کرنے کی استطاعت نہ رکھنے والے صارفین کے لیے نئے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ دھوپ کے اوقات میں بہت سے گھرانے اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرتے ہیں اور یہ اضافی بجلی ایسے گرڈ میں چلی جاتی ہے جسے دونوں سمتوں میں بجلی کی ترسیل کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا۔ بجلی گھر سے گھروں تک بجلی پہنچانے کے لیے نصب کی گئی تاروں اور حفاظتی آلات سے اب الٹی سمت میں بھی بجلی گزارنے کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔ پھر سورج غروب ہوتے ہی یہی گھرانے دوبارہ گرڈ سے بجلی لینے لگتے ہیں، جس سے طلب میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ ڈسکوز کو کم بجلی فروخت ہونے کے باوجود اپنے مستقل اخراجات پورے کرنا ہوتے ہیں۔ نتیجتاً، اخراجات کا بوجھ اکثر ان گھرانوں پر پڑتا ہے جو سولر پینلز نصب کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔</p>
<p>شہروں کو ایک مختلف حل درکار ہے، کیونکہ وہاں مسئلہ بھی مختلف ہے۔ اسلام آباد جیسے شہر میں زیادہ تر گھر پہلے ہی بجلی کے گرڈ سے منسلک ہیں۔ یہاں چیلنج بجلی تک رسائی نہیں بلکہ مختلف ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ شہروں کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جو چھتوں پر نصب ہزاروں چھوٹے، الگ الگ سولر سسٹمز اور بیٹریوں کو یکجا کر سکے، تاکہ وہ بجلی پیدا کرنے والے ہزاروں غیر یقینی چھوٹے ذرائع کے بجائے ایک بڑے اور بہتر انداز میں چلائے جانے والے بجلی گھر کی طرح اجتماعی طور پر کام کریں۔ اسے ورچوئل پاور پلانٹ (وی پی پی) کہا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ نظام دنیا کے دوسرے حصوں میں پہلے ہی بڑے پیمانے پر کام کر رہا ہے۔ برطانیہ میں آکٹوپس انرجی نامی کمپنی کا پلیٹ فارم ’کریکن‘ پانچ لاکھ سے زیادہ منسلک آلات سے 2 گیگاواٹ سے زائد لچکدار بجلی کی طلب و رسد کا انتظام کرتا ہے۔ ان آلات میں صرف برقی گاڑیوں سے حاصل ہونے والی کم از کم ایک گیگاواٹ بجلی بھی شامل ہے۔ ’انٹیلی جنٹ آکٹوپس گو‘ نامی ٹیرف کے ذریعے یہ نظام بیٹریوں اور برقی گاڑیوں کو اس وقت چارج کرتا ہے جب گرڈ سے بجلی کی قیمت کم ہو اور نیٹ ورک میں بجلی کی اضافی پیداوار دستیاب ہو۔ اس وقت بجلی کی قیمت تقریباً 0.08 پاؤنڈ فی یونٹ ہوتی ہے۔ اس سہولت سے برقی گاڑی چلانے کی لاگت کم ہو کر تقریباً 0.02 پاؤنڈ فی میل رہ جاتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کے گرڈ پر دباؤ ڈالنے والے یہی چھتوں پر نصب سولر پینلز اور بیٹریاں برطانیہ میں ایسا وسیلہ سمجھی جاتی ہیں جسے استعمال کرنے کے لیے گرڈ صارفین کو ادائیگی کر سکتا ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں ہے۔ کمی ایسے نظام کی ہے جو بجلی کے ان منتشر ذرائع کی نشاندہی کرے، ان کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے اور گھرانوں کو اپنی اضافی بجلی دستیاب کرنے کے عوض معاوضہ دے۔</p>
<p>دیہی علاقوں کا تناظر</p>
<p>پاکستان کے غریب اور دور دراز دیہات میں مسئلہ مختلف نوعیت کا ہے۔ یہاں گھرانوں کے پاس اکثر صرف ایک چھوٹا سولر پینل اور چھوٹی بیٹری ہوتی ہے، جو پنکھا اور ایک دو بلب چلانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ کسی بھی دن ایک گھر کا سولر پینل ضرورت سے کچھ زیادہ بجلی پیدا کر رہا ہو سکتا ہے، جبکہ پڑوسی گھرانے کی بیٹری پہلے ہی خالی ہو چکی ہوتی ہے۔</p>
<p>اگر ان چھوٹے نظاموں کو ایک دوسرے سے منسلک کیا جا سکے تو ایک گھر کی اضافی بجلی ضائع ہونے یا گرڈ میں واپس جانے کے بجائے پڑوسی گھر تک پہنچ سکتی ہے۔ اسے ’سوارم گرڈ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ روایتی بجلی گھر کی طرح اوپر سے نیچے کی جانب قائم کرنے کے بجائے نچلی سطح سے، یعنی ایک ایک گھر کو جوڑ کر بتدریج تشکیل پاتا ہے۔ تھرپارکر کے صحرائی دیہات میں، جہاں ہم نے خود میدانی سروے کیا، بعض پڑوسی گھرانے پہلے ہی غیر رسمی طور پر بجلی بانٹ رہے ہیں۔ سروے میں تقریباً نصف گھرانوں نے کہا کہ وہ ایسے نیٹ ورک کا باقاعدہ حصہ بننے کے لیے تیار ہوں گے، خصوصاً اگر اس سے آمدنی کا ایک چھوٹا ذریعہ بھی پیدا ہو سکے۔</p>
<p>توانائی کی محرومی کم کرنے کے لیے دنیا کے دوسرے حصوں میں اس تصور کو عملی طور پر آزمایا جا چکا ہے۔ بنگلہ دیش میں ’سول شیئر‘ نامی کمپنی 120 باہمی بجلی کی ترسیل والے مائیکرو گرڈز کے ذریعے 80 ہزار سے زیادہ افراد کو بجلی فراہم کر رہی ہے۔ اس نظام میں اسمارٹ میٹر ضرورت کے وقت ایک عمارت کی اضافی سولر بجلی خودکار طریقے سے دوسری عمارت تک پہنچاتے ہیں، جبکہ صارفین موبائل منی کے ذریعے بجلی کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔ بعد ازاں یہ نظام ایک بڑے توانائی کے اشتراکی نیٹ ورک میں تبدیل ہو گیا، جس میں صارفین کے درمیان بجلی کی خرید و فروخت، برقی رکشوں کی بیٹریاں لیز پر دینے اور چھوٹے کاروباروں، مثلاً کریانے کی دکانوں، کے لیے چھتوں پر سولر پینلز نصب کرنے کی سہولتیں بھی شامل ہیں۔ اضافی سولر بجلی ضائع کرنے کے بجائے استعمال کرنے سے اس نظام نے مقامی سطح پر کاربن کے اخراج میں 30 فیصد تک کمی لانے میں مدد دی ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں شامل گھرانوں، چھوٹے کاروباروں اور برقی رکشے چلانے والوں کی آمدنی میں بھی 25 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>ورچوئل پاور پلانٹ اور سوارم گرڈ، دونوں ہی پاکستان میں بجلی کے موجودہ انتظام کے مقابلے میں تمام فریقوں کے لیے زیادہ مالی طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ ملک میں نافذ نیٹ بلنگ کے موجودہ قواعد کے تحت، گرڈ کو اضافی بجلی فراہم کرنے والے سولر صارف کو فی یونٹ صرف 11 سے 13 روپے ملتے ہیں، جبکہ سولر سہولت سے محروم صارف زیادہ مہنگے ٹیرف کے درجوں میں آنے پر فی یونٹ 40 سے 55 روپے تک ادا کر سکتا ہے۔ سوارم گرڈ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک راستہ فراہم کرتا ہے۔ سولر صارف اپنی اضافی بجلی پڑوسی کو تقریباً 20 روپے فی یونٹ کے حساب سے فروخت کر سکتا ہے، جو گرڈ کی جانب سے ملنے والے معاوضے سے تقریباً دوگنا ہے۔ اس کے باوجود پڑوسی صارف گرڈ کے مقابلے میں نصف سے بھی کم قیمت ادا کرے گا۔ اس طرح دونوں فریق فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور کسی ادارے کو قیمتوں کے فرق پر سبسڈی بھی نہیں دینا پڑے گی۔</p>
<p>بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں بھی ان دونوں طریقوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں، حالانکہ پاکستان کے بجلی کے مسائل کا ذمہ دار اکثر انہیں ٹھہرایا جاتا ہے۔ ورچوئل پاور پلانٹ اور سوارم گرڈ کے ذریعے اضافی سولر بجلی کو ایسے نیٹ ورک میں واپس بھیجنے سے پہلے مقامی سطح پر استعمال کیا جا سکے گا، جو دونوں سمتوں میں بجلی کی ترسیل کے لیے کبھی بنایا ہی نہیں گیا تھا۔ اس سے حفاظتی آلات کے بار بار ٹرپ ہونے اور ٹرانسفارمرز کو نقصان پہنچنے کے خطرات کم ہوں گے۔ ورچوئل پاور پلانٹ بجلی فراہم کرنے والے اداروں کو سولر توانائی کے باعث طلب میں ہونے والے تیز اتار چڑھاؤ کو متوازن کرنے کا طریقہ بھی دے گا، بالکل اسی طرح جیسے برطانیہ میں آکٹوپس انرجی کرتی ہے۔ اس طرح تقسیم کار کمپنیوں کو ہر شام طلب میں اچانک اضافے سے غیر متوقع صورتِ حال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔</p>
<p>اگر مناسب انداز میں انتظام کیا جائے تو چھتوں پر نصب سولر پینلز تقسیم کار کمپنیوں کے لیے خطرہ بننے کے بجائے ایسا وسیلہ بن سکتے ہیں جسے وہ مؤثر طور پر استعمال کر سکیں۔</p>
<p>تاہم، یہ سب کچھ خود بخود نہیں ہوگا۔ پاکستان کو توانائی کے نگران ادارے نیپرا کی جانب سے واضح قواعد درکار ہیں، جن کے تحت لوگ قانونی طور پر اپنی اضافی بجلی پڑوسیوں کو فروخت یا فراہم کر سکیں۔ اس کے ساتھ تقسیم کار کمپنیوں کو بھی چھتوں پر نصب سولر پینلز کو مسئلے کے بجائے حل کا حصہ سمجھنا ہوگا۔</p>
<p>ٹیکنالوجی پہلے ہی دستیاب ہے اور لوگ سولر توانائی استعمال کرنے میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔ پاکستانی گھرانوں نے ملک بھر میں چھتوں پر سولر پینلز نصب کرکے سب سے اہم ابتدائی قدم اٹھا لیا ہے۔ اب اگلا قدم ان نظاموں کو آسان اور منظم طریقے سے ایک دوسرے سے منسلک کرنا ہے، تاکہ ضرورت پڑنے پر تھرپارکر کا کوئی گھرانہ اپنے پڑوسی کی بیٹری میں موجود اضافی بجلی استعمال کر سکے، جبکہ اسلام آباد کا کوئی گھر دوپہر کے وقت پیدا ہونے والی اپنی اضافی سولر بجلی ضائع کرنے کے بجائے دوسروں کے ساتھ بانٹ سکے۔</p>
<p>پاکستان اپنی موجودہ سولر توانائی کو بہتر انداز میں استعمال کرکے ایسا مستقبل تشکیل دے سکتا ہے۔ ایسا مستقبل نہیں جس میں سولر پینلز لگانے کی استطاعت رکھنے والے لوگ گرڈ سے الگ ہو جائیں اور باقی صارفین بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ اٹھاتے رہیں، بلکہ ایسا نظام جس میں ملک بھر میں پیدا ہونے والی بجلی کو بانٹا، اس کی فراہمی میں ہم آہنگی پیدا کی اور اسے مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکے۔</p>
<p>یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے موقف کی عکاسی کرتا ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293152</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Oct 2026 23:30:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسامہ عثمان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/272318238fc4ffe.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/272318238fc4ffe.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
