<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 28 Oct 2026 02:12:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 28 Oct 2026 02:12:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایڈیسن اور پاکستانی گیس خریداروں کو قطر انرجی کی ایل این جی فراہمی سال کے آخر تک معطل رہنے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293149/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اٹلی کی توانائی کمپنی ایڈیسن اور قطر انرجی کے بعض پاکستانی خریداروں کو خلیجی سپلائر سے رواں سال کے آخر تک مائع قدرتی گیس (ایل این جی) موصول نہیں ہوگی۔ اطالوی توانائی کمپنی اور مارکیٹ کے ایک ذریعے نے منگل کے روز یہ بتایا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹلی کی توانائی مارکیٹس کے منتظم جی ایم ای کے پلیٹ فارم پر جاری پیغام میں ایڈیسن نے بتایا کہ قطر انرجی نے ایل این جی کی فراہمی معطل رکھنے کے لیے فورس میجر کی مدت میں توسیع کردی ہے، جس کے تحت اب یہ معطلی دسمبر کے اوائل کے بجائے دسمبر کے آخر تک برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیسن کے مطابق، اس معطلی سے ایل این جی کی مزید تین کھیپیں متاثر ہوں گی، جن کی فراہمی اطالوی کمپنی کو کی جانی تھی۔ ایڈیسن یورپ میں قطر انرجی کے بڑے خریداروں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملے سے آگاہ ایک شخص نے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان میں خریداروں کو بھی مطلع کردیا گیا ہے کہ فورس میجر کے نوٹسز کی مدت رواں سال کے آخر تک بڑھا دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر انرجی نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی سپلائر نے فروری کے آخر میں شروع ہونے والی ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے سبب اپریل سے ایڈیسن کو ایل این جی کی فراہمی منسوخ کر رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیسن کا قطر انرجی کے ساتھ اٹلی کو سالانہ 6.4 ارب مکعب میٹر قدرتی گیس فراہم کرنے کا طویل مدتی معاہدہ ہے، جو ملک کی سالانہ کھپت کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ 2009 سے نافذ العمل ہے اور اس کی مجموعی مدت 25 سال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر سے گیس کی فراہمی میں تعطل، یورپ میں گیس کے ذخائر کی کم سطح اور موسم بتدریج سرد ہونے کے باعث اس ہفتے گیس کی قیمتوں کے لیے اہم معیار سمجھی جانے والی ڈچ قیمت 95 یورو فی میگاواٹ گھنٹہ سے تجاوز کر گئی ہے، جو دسمبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اٹلی کی توانائی کمپنی ایڈیسن اور قطر انرجی کے بعض پاکستانی خریداروں کو خلیجی سپلائر سے رواں سال کے آخر تک مائع قدرتی گیس (ایل این جی) موصول نہیں ہوگی۔ اطالوی توانائی کمپنی اور مارکیٹ کے ایک ذریعے نے منگل کے روز یہ بتایا ہے۔</strong></p>
<p>اٹلی کی توانائی مارکیٹس کے منتظم جی ایم ای کے پلیٹ فارم پر جاری پیغام میں ایڈیسن نے بتایا کہ قطر انرجی نے ایل این جی کی فراہمی معطل رکھنے کے لیے فورس میجر کی مدت میں توسیع کردی ہے، جس کے تحت اب یہ معطلی دسمبر کے اوائل کے بجائے دسمبر کے آخر تک برقرار رہے گی۔</p>
<p>ایڈیسن کے مطابق، اس معطلی سے ایل این جی کی مزید تین کھیپیں متاثر ہوں گی، جن کی فراہمی اطالوی کمپنی کو کی جانی تھی۔ ایڈیسن یورپ میں قطر انرجی کے بڑے خریداروں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>معاملے سے آگاہ ایک شخص نے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان میں خریداروں کو بھی مطلع کردیا گیا ہے کہ فورس میجر کے نوٹسز کی مدت رواں سال کے آخر تک بڑھا دی گئی ہے۔</p>
<p>قطر انرجی نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔</p>
<p>خلیجی سپلائر نے فروری کے آخر میں شروع ہونے والی ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے سبب اپریل سے ایڈیسن کو ایل این جی کی فراہمی منسوخ کر رکھی ہے۔</p>
<p>ایڈیسن کا قطر انرجی کے ساتھ اٹلی کو سالانہ 6.4 ارب مکعب میٹر قدرتی گیس فراہم کرنے کا طویل مدتی معاہدہ ہے، جو ملک کی سالانہ کھپت کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p>یہ معاہدہ 2009 سے نافذ العمل ہے اور اس کی مجموعی مدت 25 سال ہے۔</p>
<p>قطر سے گیس کی فراہمی میں تعطل، یورپ میں گیس کے ذخائر کی کم سطح اور موسم بتدریج سرد ہونے کے باعث اس ہفتے گیس کی قیمتوں کے لیے اہم معیار سمجھی جانے والی ڈچ قیمت 95 یورو فی میگاواٹ گھنٹہ سے تجاوز کر گئی ہے، جو دسمبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح کے قریب ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293149</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Oct 2026 22:35:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/2722261158ad84d.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/2722261158ad84d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
