<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 27 Oct 2026 23:36:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 27 Oct 2026 23:36:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک سے مذاکرات کے بعد ایرانی سلامتی کونسل کے سربراہ کی سپریم لیڈر سے ملاقات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293144/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے منگل کے روز سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے، جو مارچ میں اپنے والد کے قتل کے بعد ان کی جانشینی سنبھالنے کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔ یہ ملاقات پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے نمائندوں سے مذاکرات کے ایک روز بعد ہوئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے مفادات کے تحفظ اور اپنی شرائط برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں پیر کے روز تہران کا دورہ کیا۔ خطے میں یہ تنازع فروری میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مذاکرات ایران اور ان تینوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر پہلا رابطہ تھے، جنہوں نے اگست میں مکہ باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ جنگ کے باعث سعودی عرب اور یمن کی حوثی تحریک بھی براہِ راست تصادم میں آ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، منگل کے روز بتایا گیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اور محسن رضائی کے درمیان ہونے والی بات چیت میں ’’آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھ کر قومی اور علاقائی سلامتی کا تحفظ اور پڑوسی ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا‘‘ بھی زیرِ بحث آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے ایک عہدیدار نے پیر کے روز رائٹرز کو بتایا تھا کہ مکہ معاہدے کے رکن ممالک کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوگی اور اس معاملے پر اس وقت تک گفتگو نہیں کی جائے گی جب تک تہران کے جنگ کے خاتمے سے متعلق مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔ ایران اس حوالے سے مغربی ممالک کے ان خدشات کو مسترد کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام فوجی مقاصد کے لیے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی شرائط میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی اور ایرانی تیل کی برآمدات پر امریکی پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تین ہفتے قبل کہا تھا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کو یورینیم کی افزودگی کم کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے منگل کے روز سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے، جو مارچ میں اپنے والد کے قتل کے بعد ان کی جانشینی سنبھالنے کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔ یہ ملاقات پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے نمائندوں سے مذاکرات کے ایک روز بعد ہوئی ہے۔</strong></p>
<p>ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے مفادات کے تحفظ اور اپنی شرائط برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔</p>
<p>پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں پیر کے روز تہران کا دورہ کیا۔ خطے میں یہ تنازع فروری میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔</p>
<p>یہ مذاکرات ایران اور ان تینوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر پہلا رابطہ تھے، جنہوں نے اگست میں مکہ باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ جنگ کے باعث سعودی عرب اور یمن کی حوثی تحریک بھی براہِ راست تصادم میں آ چکی ہے۔</p>
<p>ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، منگل کے روز بتایا گیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اور محسن رضائی کے درمیان ہونے والی بات چیت میں ’’آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھ کر قومی اور علاقائی سلامتی کا تحفظ اور پڑوسی ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا‘‘ بھی زیرِ بحث آیا۔</p>
<p>ایران کے ایک عہدیدار نے پیر کے روز رائٹرز کو بتایا تھا کہ مکہ معاہدے کے رکن ممالک کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوگی اور اس معاملے پر اس وقت تک گفتگو نہیں کی جائے گی جب تک تہران کے جنگ کے خاتمے سے متعلق مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔ ایران اس حوالے سے مغربی ممالک کے ان خدشات کو مسترد کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام فوجی مقاصد کے لیے ہے۔</p>
<p>ایران کی شرائط میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی اور ایرانی تیل کی برآمدات پر امریکی پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تین ہفتے قبل کہا تھا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کو یورینیم کی افزودگی کم کرنا ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293144</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Oct 2026 20:15:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/2720074212a7623.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/2720074212a7623.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
