<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 27 Oct 2026 18:28:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 27 Oct 2026 18:28:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بینکوں پر قبضے کا الزام، قانون اور حقائق کی روشنی میں ۔ ( حصہ اول)</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293139/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈاکٹر ندیم الحق کے مضامین ’’کس نے میدان بنایا؟‘‘ اور ’’بچت کرنے والا قیمت چکاتا ہے‘‘ کے جواب میں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر ندیم الحق اپنے دو حصوں پر مشتمل مضامین کے ساتھ ایک بار پھر ان صفحات پر واپس آئے ہیں اور حسبِ معمول ان کے دلائل غور و فکر کے لائق ہیں۔ ان کے مضامین کے جواب میں یہ تحریر جلد سامنے آ گئی، اور اس تیزی کے پیچھے بھی ایک چھوٹی سی کہانی ہے کہ کام کرنے کا انداز کس طرح بدل چکا ہے۔ میرے دلائل برسوں کے عملی تجربے اور مطالعے کی بدولت پہلے ہی ذہن میں ترتیب پا چکے تھے، جبکہ مصنوعی ذہانت نے ایک ہی شام میں وہ تحقیقی کام انجام دے دیا جس کے لیے پہلے محققین کی ایک ٹیم کو دو ہفتے درکار ہوتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شواہد جمع کرنے کے لیے دوسروں کی مدد پر میرا انحصار کم ہوتا جا رہا ہے۔ اب اصل کمی درست سوالات پوچھنے کی صلاحیت اور ہر جواب کو شائع ہونے سے پہلے جانچنے کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے ان نکات کا ذکر ضروری ہے جن سے ڈاکٹر ندیم الحق نے اتفاق کیا ہے، کیونکہ ان کی ابتدائی تحریر کے مقابلے میں یہ بظاہر چھوٹی مگر اہم رعایتیں ہیں۔ اب وہ کارٹیل کی اصطلاح استعمال نہیں کرتے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ محفوظ اجارہ دارانہ غلبے کے لیے خفیہ اجلاس ضروری نہیں۔ راست کام کر رہا ہے، بینکوں کی بیلنس شیٹس مستحکم ہیں، ٹیکسوں کا بوجھ زیادہ ہے اور تعمیل کے ضوابط کراچی میں نہیں بنائے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ان کی تازہ تحریروں میں ایک ہی نیا دعویٰ باقی رہ گیا ہے، جس پر ان کے دونوں مضامین کی بنیاد ہے: بینکاروں نے پورا نظام اپنے ہاتھوں سے تشکیل دیا، تقریباً پچیس برس تک وزارتِ خزانہ چلائی، مرکزی بینک کے بورڈ میں بیٹھے اور ضابطہ کار اداروں میں اپنے افراد تعینات کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جسے دستیاب شواہد سے پرکھا جا سکتا ہے، مگر ان کے مضامین میں تین اہم چیزوں سے رجوع نہیں کیا گیا: قانون، تقرریوں کا ریکارڈ اور خود ان کے پیش کردہ اعداد و شمار۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="قانون-کیا-کہتا-ہے" href="#قانون-کیا-کہتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;قانون کیا کہتا ہے؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے اس جگہ کا جائزہ لیتے ہیں جہاں ڈاکٹر ندیم الحق کے بقول بینکار بیٹھتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ کی دفعہ 13 (ایف)، جس میں 2022 میں ترمیم کی گئی، کے تحت کسی بینک یا اسٹیٹ بینک کے زیرِ انتظام کسی ادارے کا ڈائریکٹر، افسر یا ملازم اسٹیٹ بینک کا گورنر، ڈپٹی گورنر، بورڈ کا غیر انتظامی ڈائریکٹر یا مانیٹری پالیسی کمیٹی کا بیرونی رکن مقرر نہیں ہو سکتا۔ دفعہ 13 (جی) اس پابندی کو مزید وسیع کرتے ہوئے کسی بینک کے حصص یافتہ کو بھی نااہل قرار دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ کوئی حاضر سروس بینکار یا بینک کا سرپرست اسٹیٹ بینک کے بورڈ یا مانیٹری پالیسی کمیٹی کا رکن نہیں بن سکتا۔ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا اور اس پابندی کی وجہ بھی وہی ہے جس پر ڈاکٹر ندیم الحق تشویش ظاہر کرتے ہیں، یعنی مفادات کا ٹکراؤ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے دعوے میں جس اہم ادارے کا ذکر ہے، وہاں قانون نے راستہ بند کر رکھا ہے۔ اگر ان کا باقی ماندہ اعتراض یہ ہے کہ سابق بینکار بعد میں عوامی عہدوں پر فائز ہوتے ہیں تو یہی بات سابق ماہرینِ معاشیات، ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ کسی شخص کا پیشہ ورانہ پس منظر کسی سازش کا ثبوت نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملازمت چھوڑنے کے بعد کچھ عرصے تک متعلقہ شعبے سے وابستگی پر پابندی کا جو حل وہ تجویز کرتے ہیں، وہ پہلے ہی قانون میں موجود ہے۔ اسی ایکٹ کی دفعہ 16 اے کے تحت متعلقہ عہدے داروں کو عہدہ چھوڑنے کے بعد دو سال تک اسٹیٹ بینک کے زیرِ انتظام کسی ادارے میں ملازمت اختیار کرنے سے روکا گیا ہے۔ دستیاب ریکارڈ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس پابندی پر عمل درآمد کے معاملے میں کوئی سمجھوتا نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس قانون کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تو میں پوری طرح اس کی حمایت کرتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="تقرریوں-کا-ریکارڈ" href="#تقرریوں-کا-ریکارڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;تقرریوں کا ریکارڈ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اب خود وزارتِ خزانہ کی سربراہی کا جائزہ لیتے ہیں۔ اگست 1947 سے اب تک 31 افراد وزیرِ خزانہ، نگراں وزیر یا متعلقہ قلم دان رکھنے والے مشیر کی حیثیت سے یہ ذمہ داری سنبھال چکے ہیں۔ ان میں صرف تین کمرشل بینکار تھے، جنہوں نے مجموعی طور پر 79 برسوں میں سے 13 برس یہ عہدہ سنبھالا، یعنی تقریباً ہر چھ میں سے ایک سال۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باقی افراد میں سے چھ ماہرینِ معاشیات تھے، جنہوں نے مجموعی طور پر تقریباً 12 برس یہ ذمہ داری نبھائی، یعنی ہر سات میں سے لگ بھگ ایک سال۔ جبکہ مختلف دیگر پیشہ ورانہ پس منظر رکھنے والے 22 افراد تقریباً 54 برس تک اس عہدے پر فائز رہے، جو مجموعی مدت کا لگ بھگ 70 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں ایک تقابل قابلِ ذکر ہے: ماہرینِ معاشیات، جن کے شعبے سے یہ الزام سامنے آیا ہے، نے وزارتِ خزانہ کا قلم دان بینکاروں کے مقابلے میں معمولی کم عرصے تک سنبھالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کا ریکارڈ بھی یہی تصویر پیش کرتا ہے۔ 1948 سے اب تک اس کے چھ گورنر کمرشل بینکاری کے شعبے سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے تقریباً 78 برسوں میں سے 12 برس اس عہدے پر گزارے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں اداروں کے ادوارِ سربراہی کو جمع کیا جائے تو واقعی 25 برس بنتے ہیں، لیکن دونوں اداروں کی مجموعی مدتِ سربراہی 150 برس سے زیادہ ہے۔ یوں بینکاروں کا حصہ تقریباً ہر چھ میں سے ایک سال بنتا ہے۔ یہی موجودگی اور ادارے پر قبضے کے درمیان بنیادی فرق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حساب میں تیسرے اہم ادارے، پلاننگ کمیشن، کو بھی شامل نہیں کیا گیا، جو ماہرینِ معاشیات کا اپنا مضبوط گڑھ اور کئی دہائیوں تک معاشی پالیسی سازی کا مرکزی ادارہ رہا۔ بعدازاں تحقیق اور فکری رہنمائی کی کمی کے باعث یہ کردار آئی ایم ایف کے پاس چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحث کی خاطر ڈاکٹر ندیم الحق کے اختیار کردہ محدود ترین دائرے، یعنی گزشتہ تقریباً 25 برسوں، کو بھی تسلیم کر لیا جائے، جسے انہوں نے اپنے استدلال کے لیے خود منتخب کیا ہے اور جس میں بینکاروں کے تمام ادوارِ سربراہی شامل ہیں، تب بھی بینکار تقریباً نصف وقت ہی ان عہدوں پر فائز رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرضوں کے پورے سلسلے میں مسلسل اضافے کا ایک نمایاں دور بھی بینکار کی سربراہی میں آیا، جبکہ طویل گراوٹ کسی ایک پیشے سے تعلق نہیں رکھتی، بلکہ اس کی بنیادی وجہ مالیاتی خسارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ان-کے-اپنے-اعداد-و-شمار-کیا-بتاتے-ہیں" href="#ان-کے-اپنے-اعداد-و-شمار-کیا-بتاتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ان کے اپنے اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اگر بینکاروں نے ایسا نظام بنایا ہوتا جو نجی شعبے کو قرض دینے میں رکاوٹیں پیدا کرتا، تو ان کے ادوار میں اس کا اثر اعداد و شمار میں نظر آنا چاہیے تھا۔ لیکن اعداد و شمار اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، بینکاروں کے آٹھ برسوں کے دوران نجی شعبے کو قرضوں کا حجم بڑھتا رہا اور 2008 میں مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 24 فیصد کی جدید دور کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اس کے بعد اگلے 15 برسوں میں، جب مختلف دوسرے پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے یہ ذمہ داری سنبھالی، یہ شرح گھٹ کر آج تقریباً 11 فیصد رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سلسلہ اس بات سے مطابقت نہیں رکھتا کہ وزیرِ خزانہ کا تعلق کس پیشے سے تھا۔ اس کا تعلق مالیاتی خسارے سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی شعبے کے لیے قرضوں کی دستیابی اس وقت بڑھی جب مالیاتی خسارہ قابلِ برداشت حدود میں تھا، اور اس وقت سکڑ گئی جب حکومت کے قرضوں نے مالیاتی نظام کے وسائل اپنی طرف کھینچ لیے۔ یہی مؤقف میں نے اپنی تحریر ’’ایک جیسے بینک، مختلف میدان‘‘ میں پیش کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="حساب-کتاب" href="#حساب-کتاب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حساب کتاب&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;چونکہ ڈاکٹر ندیم الحق نے شخصیات کے پیشہ ورانہ پس منظر کو اپنے استدلال کی بنیاد بنایا ہے، اس لیے اس ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہیں، تاہم ناموں کے بجائے عہدوں پر توجہ دیتے ہیں، کیونکہ بحث افراد کے بجائے ان عہدوں کے بارے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکاری کے شعبے سے تعلق رکھنے والے پہلے وزیرِ خزانہ کے دور میں، 1999 سے 2007 تک، نجکاری کا وہ عمل مکمل ہوا جس کی حمایت ڈاکٹر ندیم الحق خود کرتے رہے ہیں۔ اسی دور میں پیرس کلب کے قرضوں کی تنظیمِ نو، قرضوں کی وصولی کے ادارے سی آئی آر سی کے ذریعے خراب قرضوں کی صفائی اور 2005 کا مالیاتی ذمہ داری کا قانون بھی سامنے آیا۔ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی اسی دور میں بلند ترین سطح پر پہنچی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے بینکار نے 2008 سے 2010 اور پھر 2021 سے 2022 تک ذمہ داریاں سنبھالیں۔ انہوں نے 2008 میں معاشی استحکام کے اقدامات کی نگرانی کی اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے دور میں ذمہ داری نبھائی، جو 1973 کے بعد وسائل کی سب سے بڑی مالیاتی منتقلی تھی۔ ان کی پہلی مدت کا اختتام اس وقت استعفے پر ہوا جب وسیع البنیاد سیلز ٹیکس منظور نہیں ہو سکا۔ اگر کوئی شخص کسی صنعت کے قبضے میں ہو تو ٹیکس نیٹ وسیع کرنے میں ناکامی پر استعفا نہیں دیتا۔ ان کی دوسری مدت میں ٹیکس وصولی ریکارڈ سطح پر پہنچی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 سے وزارتِ خزانہ کی ذمہ داری سنبھالنے والے تیسرے بینکار نے ٹیکسوں اور مجموعی قومی پیداوار کے تناسب میں ایک فیصد سے زیادہ اضافہ کیا۔ 2025 میں چاروں صوبوں میں زرعی آمدن پر ٹیکس کو یقینی بنایا، جو 78 برسوں میں پہلی بار ہوا۔ یہ بالکل وہی اصلاح تھی جس کے بارے میں ڈاکٹر ندیم الحق کے تازہ مضمون میں کہا گیا ہے کہ بینکاروں کا نیٹ ورک اسے آگے بڑھانے کی مناسب پوزیشن میں نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دور میں وفاقی ملازمین کی نئی پنشن اسکیم کو متعین کنٹری بیوشن کی بنیاد پر منتقل کیا گیا، محصولات کے نظام میں محصولات کی شرحوں اور ٹیرف کی پیچیدگیوں کو معقول بنایا گیا اور تینوں عالمی کریڈٹ ریٹنگ اداروں سے درجہ بندی میں بہتری حاصل کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اقدامات کا کریڈٹ کس کو دیا جائے، اس پر اختلاف ہو سکتا ہے، کیونکہ وزرا حکومتوں، پالیسی پروگراموں اور معاشی ادوار کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ تاہم اگر پیشہ ورانہ پس منظر ہی پیمانہ ہے تو یہ ریکارڈ بینکاروں کے حق میں جاتا ہے۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک کی سب سے زیادہ قابلِ قدر گورنرشپس ماہرینِ معاشیات کے حصے میں آئیں۔ صلاحیت کسی ایک پیشے کی میراث نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اصل سوال یہ رہ جاتا ہے کہ بینکار ان عہدوں پر فائز ہی کیوں ہوئے اور وہ بھی حالیہ برسوں میں؟ اس کی وجہ کسی نیٹ ورک کی پشت پناہی نہیں بلکہ مشکل حالات سے دوچار حکومت کی ضرورت تھی۔ جب دوسرے شعبوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے تو انتخاب محدود ہو کر ان افراد تک رہ گیا جنہوں نے پہلے نتائج دیے تھے، اور انہی ناموں کو بار بار واپس بلایا گیا۔ یہ کسی دوسرے فریق کی جانب سے کیا گیا فیصلہ تھا، نہ کہ کسی عہدے پر زبردستی قبضہ۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ایڈوانس-ٹو-ڈپازٹ-تناسب-کے-معاملے-کا-ازسرِنو-جائزہ" href="#ایڈوانس-ٹو-ڈپازٹ-تناسب-کے-معاملے-کا-ازسرِنو-جائزہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ایڈوانس ٹو ڈپازٹ تناسب کے معاملے کا ازسرِنو جائزہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر ندیم الحق کے پہلے مضمون کا مرکزی نکتہ 2024 میں ایڈوانس ٹو ڈپازٹ تناسب پر عائد کیا گیا محصول ہے۔ ان کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دباؤ ڈالنے پر بینک قرض دے سکتے ہیں۔ لیکن یہ دیکھنا چاہیے کہ اس دباؤ کے نتیجے میں حقیقتاً کیا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ 2022 کے تحت بینکوں کی سرکاری سیکیورٹیز سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس کی شرح میں 16 فیصد پوائنٹس تک اضافہ کیا گیا تھا، جہاں سال کے اختتام پر ایڈوانس ٹو ڈپازٹ تناسب مقررہ حد سے کم رہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;31 دسمبر تک مقررہ حد پوری کرنے کے لیے بینکوں نے ان شعبوں میں قرض دیا جہاں چند ہفتوں میں رقم فراہم کی جا سکتی تھی۔ چار ماہ کے دوران فنانس کمپنیوں کو ایک کھرب روپے سے زیادہ کے قرضے دیے گئے۔ ان قرضوں کا مجموعی حجم 1.46 کھرب روپے تھا، جس کا حوالہ خود ڈاکٹر ندیم الحق نے دیا ہے۔ اس کے علاوہ بڑی اور مستحکم کمپنیوں کے خزانہ جاتی شعبوں کو مختصر مدت کے قرضے بھی دیے گئے، جن کی شرحِ سود کائبور کے برابر اور بعض دستاویزی معاملات میں اس سے تقریباً 12 فیصد پوائنٹس کم تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی دوسری تصویر بھی سامنے آئی۔ تناسب کے مخرج کو کم کرنے کے لیے کئی بڑے بینکوں نے اپنے بڑے کھاتوں میں موجود رقوم پر ماہانہ فیس عائد کرنے کے نوٹس جاری کیے، تاہم ضابطہ کار ادارے کی ناراضی کے بعد دو ہفتوں کے اندر یہ فیس واپس لے لی گئی۔ حالیہ دور میں بچت کرنے والوں سے رقم نکالنے کے لیے فیس وصول کرنے کا یہ واحد واقعہ تھا، اور اسے اسی محصول نے جنم دیا جسے ڈاکٹر ندیم الحق کامیابی قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد یہ مصنوعی اضافہ ختم ہو گیا۔ ایڈوانس ٹو ڈپازٹ تناسب اگست میں 38 فیصد تھا، جو 31 دسمبر کو 52 فیصد تک پہنچا، مارچ میں دوبارہ 43 فیصد اور جون میں 38 فیصد پر آ گیا۔ سال کے اختتام کے صرف دس ہفتوں کے اندر 1.4 کھرب روپے سے زیادہ کے قرضے واپس ہو گئے۔ اسٹیٹ بینک کے ششماہی جائزے میں یہ تناسب 2014 کے بعد کم ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اس پہلو کو بھی دیکھنا چاہیے جسے ڈاکٹر ندیم الحق نے اپنے تجزیے میں شامل نہیں کیا: ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ٹیکس سال کے لیے یہ ضابطہ ماضی سے لاگو کرتے ہوئے ختم کر دیا گیا، دوسرے سال تقریباً 200 ارب روپے کے مطالبات ہائی کورٹ میں زیرِ التوا رہے، جبکہ فیصلہ کن سال کے اختتام پر بینکوں نے مقررہ حد پوری کر لی۔ پھر دسمبر 2024 کے آخری دنوں میں اس محصول کو کسی حتمی تعین کے بغیر ختم کر دیا گیا اور اس کی جگہ بینکوں کی پوری آمدن پر 44 فیصد کی یکساں شرح مقرر کی گئی، جسے بعدازاں 42 فیصد تک لایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تناسب پر ٹیکس لگایا گیا تو تناسب بدل گیا، لیکن آمدن نہ ہونے کے برابر حاصل ہوئی۔ منافع پر ٹیکس لگایا گیا تو رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور پوری آمدن وصول ہوئی۔ گزشتہ مالی سال بینکوں نے ایک کھرب روپے سے زیادہ ٹیکس ادا کیا، جو وفاقی حکومت کی مجموعی وصولیوں کا تقریباً دسواں حصہ تھا۔ یہ وہی 54.5 فیصد ٹیکس بوجھ ہے جس کا حوالہ خود ڈاکٹر ندیم الحق دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے سے حاصل ہونے والا سبق میرے مؤقف کی تائید کرتا ہے، ان کے مؤقف کی نہیں۔ جب بینکوں کو 90 دن میں قرض دینے کا پابند کیا گیا تو وہ صرف ایسے قرض دار تلاش کر سکے جن کا ریکارڈ پہلے سے موجود تھا۔ محض ڈیڈ لائن مقرر کرنے سے بیلنس شیٹس وجود میں نہیں آتیں؛ اس کے لیے ڈیٹا اور پورا مالیاتی نظام درکار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلون روتھ کو مارکیٹ ڈیزائن پر نوبیل انعام ملا تھا۔ ان کی کتاب ’’کسے کیا ملتا ہے اور کیوں: میل جول اور مارکیٹ ڈیزائن کی نئی معاشیات‘‘ بنیادی طور پر اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ جب مارکیٹ کے قواعد ناقص ہوں تو کیا ہوتا ہے: شرکا ان قواعد کے مطابق چلنے کے بجائے ان سے بچ نکلنے کے راستے تلاش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 کے اختتام کا یہ واقعہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ دوسری جانب قرضوں کے پائیدار رجحانات کو آگے بڑھانے کے لیے اس محصول کی ضرورت نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قرضوں کا حجم تقریباً دوگنا ہو کر ایک کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ زرعی قرض لینے والوں کی تعداد 27 لاکھ سے بڑھ کر 33 لاکھ ہو گئی ہے۔ ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں، جہاں اس سے پہلے آٹھ برسوں کے دوران مجموعی طور پر بمشکل 225 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے تھے، رواں سال کی ایک سہ ماہی میں 103 ارب روپے کے قرضے دیے گئے۔ یہ اس شعبے کے مجموعی قرضوں کا ایک تہائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 71,690 درخواستوں کی منظوری دی گئی، کیونکہ اس سے پہلے پورا نظام تشکیل دیا گیا تھا: مخصوص سبسڈی، قابلِ عمل طریقۂ ضبطی اور قرضوں کی وصولی کا انتظام، اور قرض فراہم کرنے کے لیے 31 ادارے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام پیش رفت کسی ڈیڈ لائن کے بغیر ہوئی اور اس محصول کے خاتمے کے بعد بھی جاری رہی۔ یہی فرق حقیقی قرضوں کی فراہمی اور محض اعداد و شمار بہتر دکھانے کے درمیان ہے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہوا جب وزارتِ خزانہ کی سربراہی ایک بینکار کے پاس تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بچت-کرنے-والے-کے-معاملے-کا-ازسرِنو-جائزہ" href="#بچت-کرنے-والے-کے-معاملے-کا-ازسرِنو-جائزہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بچت کرنے والے کے معاملے کا ازسرِنو جائزہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر ندیم الحق کے دوسرے مضمون میں الزام لگایا گیا ہے کہ بچت کرنے والا قیمت چکاتا ہے۔ سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ بچت پر کم از کم منافع کی شرح کس نے مقرر کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچت کھاتوں پر کم از کم شرحِ منافع اس لیے موجود ہے کہ ضابطہ کار ادارے نے 2008 میں اسے لازم قرار دیا تھا اور گزشتہ 18 برسوں سے برقرار رکھا ہے۔ کسی صنعت پر ضابطے کے ذریعے قیمت کی کم از کم حد نافذ کرنا اس کے برعکس ہے کہ اس صنعت نے خود نظام پر قبضہ کر رکھا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 اور 2026 میں تبدیلی اصول کی نہیں بلکہ اس کے دائرۂ کار کی تھی۔ جنوری 2025 سے مالیاتی اداروں، سرکاری کاروباری اداروں اور اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ کمپنیوں کے لیے یہ کم از کم شرح ختم کر دی گئی۔ اگست 2026 سے انفرادی بچت کرنے والوں کے دس ملین روپے تک کے کھاتوں پر بھی اس کا اطلاق ختم کیا گیا۔ یوں وہ رقوم جن کے مالکان اپنے منافع کی شرح پر گفت و شنید کر سکتے ہیں، اس پابندی سے آزاد ہو گئیں، جبکہ عام بچت کرنے والوں کے لیے کم از کم شرح برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلامی بینکاری کے کھاتوں پر یہ کم از کم شرح ابتدا ہی سے لاگو نہیں تھی، کیونکہ منافع اور نقصان میں شراکت کا تعین اسٹیٹ بینک کے پول سے متعلق قواعد کے تحت ہوتا ہے۔ تاہم جنوری 2025 سے اسلامی بینکاری کے بچت کھاتوں کے لیے بھی کم از کم شرح مقرر کی گئی، جو متعلقہ پول کی مجموعی آمدن کے کم از کم تین چوتھائی کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ سال جب بچت کرنے والوں کو حقیقی معنوں میں نقصان اٹھانا پڑا، 2023 تھا۔ اس وقت مہنگائی تقریباً 38 فیصد تھی، جبکہ پالیسی ریٹ 21 فیصد تھا۔ یہ مہنگائی کے ذریعے عائد ہونے والا ٹیکس تھا، جسے حکومت کے مالیاتی خسارے نے جنم دیا اور جس کا بوجھ ملک میں ہر قسم کی روپے میں سرمایہ کاری پر پڑا، خواہ وہ بینک ڈپازٹس ہوں، بچت سرٹیفکیٹس یا نقد رقم۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال بینکوں کے منافع کا فرق 17 فیصد پوائنٹس تک نہیں بڑھا تھا۔ یہ فرق اس واحد قرض دار نے حاصل کیا جو اپنی ہی جاری کردہ کرنسی میں قرض واپس کرتا ہے، یعنی ریاست۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی دیکھیے کہ ڈاکٹر ندیم الحق کے مطابق بچت کرنے والے اپنا پیسہ کہاں لے گئے: نقد رقم، پلاٹ، سونا اور ڈالر۔ ان میں سے کوئی بھی اثاثہ باقاعدہ منافع نہیں دیتا۔ کوئی شخص کم شرحِ منافع سے نکل کر ایسی چیزوں میں سرمایہ کاری نہیں کرتا جو کوئی آمدن نہیں دیتیں؛ وہ دستاویزی تقاضوں سے بچنے کے لیے ایسا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گردش میں موجود 12 کھرب روپے وہ ٹیکس بنیاد ہیں جو نظروں سے اوجھل ہے۔ جہاں تک انویسٹ پاکستان کا تعلق ہے تو اس اقدام کو سراہا جانا چاہیے، نہ کہ اس میں کوئی نقص نکالا جائے۔ حکومت کی جاری کردہ سیکیورٹیز میں عام شہریوں کو براہِ راست سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرنا وہی مطالبہ ہے جس پر اس بحث کے دونوں فریق متفق رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="تحفظ-کی-نوعیت-اور-اس-کے-مستفید-ہونے-والے" href="#تحفظ-کی-نوعیت-اور-اس-کے-مستفید-ہونے-والے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;تحفظ کی نوعیت اور اس کے مستفید ہونے والے&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر ندیم الحق کا آخری الزام ایک مفروضہ شدہ سمجھوتے پر مبنی ہے: ریاست کو سستی مالی اعانت ملتی ہے اور ’’بینکوں کو تحفظ‘‘ دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئیے اس تحفظ کی تفصیل دیکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکوں کو لائسنس دینے اور ان کے لیے کم از کم سرمائے کی شرط مقرر کرنے کا مقصد بینکوں کو تحفظ دینا نہیں بلکہ کھاتہ داروں کی رقم محفوظ بنانا ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں عوام سے ڈپازٹس لینے کے کاروبار کو ضابطوں کا پابند بنایا گیا ہے، کیونکہ اس میں دوسروں کی رقم استعمال ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکوں کے انضمام کے ذریعے ان کے مسائل حل کرنے کا مقصد بھی کھاتہ داروں کا تحفظ تھا۔ کے اے ایس بی بینک کو مجموعی طور پر صرف ایک ہزار روپے میں فروخت کیا گیا، جبکہ سلک بینک کے حصص یافتگان کے حصص منفی ایکویٹی کے مقابلے میں تقریباً بے وقعت ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپازٹ پروٹیکشن فنڈ کے اخراجات بینک خود اپنے ادا کردہ پریمیم سے پورے کرتے ہیں۔ بچت کھاتوں پر کم از کم شرحِ منافع 18 برس تک بینکاری صنعت کے خلاف نافذ رہی، جبکہ مرکزی بینک سے حاصل ہونے والی مالی اعانت کی قیمت بھی مقررہ اصولوں اور ضمانتوں کے تحت طے ہوتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے لندن میں ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک مالکان کو حقیقی تحفظ کی جو مثالیں دوسرے ممالک میں ملتی ہیں، وہ ٹیکس دہندگان کے پیسے سے بینکوں کو بچانے کی ہیں۔ برطانیہ میں آر بی ایس سے لے کر امریکا میں سلیکون ویلی بینک کے ایسے کھاتہ داروں تک جن کے ڈپازٹس بیمہ شدہ نہیں تھے، مختلف مواقع پر ایسا تحفظ فراہم کیا گیا۔ لیکن پاکستان کے نجکاری کے دور میں ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کسی صنعت کو واقعی تحفظ حاصل ہو تو وہ معیشت میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا نہیں کرتی، اپنی مرضی سے چار عالمی بینکنگ اداروں کو ملک سے باہر نہیں جانے دیتی اور ناکام بینک مالکان کے حصص بے قدر ہوتے نہیں دیکھتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فہرست کے ہر نکتے کا جائزہ لینے سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد کسی کو بینکوں سے تحفظ دینا نہیں بلکہ بینکوں سے دوسروں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;(اس بحث کے دوسرے حصے میں، جس کا عنوان ’’غلط دروازہ، درست ایجنڈا‘‘ ہے، متبادل تجاویز، قابلِ اتفاق ایجنڈے اور اس دروازے پر دستک دینے کے بارے میں بات کی جائے گی جس پر ہم سب کو توجہ دینی چاہیے۔ مقصد یہ ہے کہ بحث اصل مسئلے سے نہ بھٹکے اور اس نتیجے پر ختم ہو جہاں میرے خیال میں ڈاکٹر ندیم الحق اور میں پہلے ہی متفق ہیں: درست ایجنڈے پر۔)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;(مصنف ترقیاتی اہداف اور مثبت اثرات پر توجہ مرکوز رکھنے والے بینکار ہیں۔ اس مضمون کا دوسرا اور آخری حصہ کل کے شمارے میں شائع کیا جائے گا۔)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026ء&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈاکٹر ندیم الحق کے مضامین ’’کس نے میدان بنایا؟‘‘ اور ’’بچت کرنے والا قیمت چکاتا ہے‘‘ کے جواب میں</strong></p>
<p>ڈاکٹر ندیم الحق اپنے دو حصوں پر مشتمل مضامین کے ساتھ ایک بار پھر ان صفحات پر واپس آئے ہیں اور حسبِ معمول ان کے دلائل غور و فکر کے لائق ہیں۔ ان کے مضامین کے جواب میں یہ تحریر جلد سامنے آ گئی، اور اس تیزی کے پیچھے بھی ایک چھوٹی سی کہانی ہے کہ کام کرنے کا انداز کس طرح بدل چکا ہے۔ میرے دلائل برسوں کے عملی تجربے اور مطالعے کی بدولت پہلے ہی ذہن میں ترتیب پا چکے تھے، جبکہ مصنوعی ذہانت نے ایک ہی شام میں وہ تحقیقی کام انجام دے دیا جس کے لیے پہلے محققین کی ایک ٹیم کو دو ہفتے درکار ہوتے تھے۔</p>
<p>شواہد جمع کرنے کے لیے دوسروں کی مدد پر میرا انحصار کم ہوتا جا رہا ہے۔ اب اصل کمی درست سوالات پوچھنے کی صلاحیت اور ہر جواب کو شائع ہونے سے پہلے جانچنے کی ہے۔</p>
<p>سب سے پہلے ان نکات کا ذکر ضروری ہے جن سے ڈاکٹر ندیم الحق نے اتفاق کیا ہے، کیونکہ ان کی ابتدائی تحریر کے مقابلے میں یہ بظاہر چھوٹی مگر اہم رعایتیں ہیں۔ اب وہ کارٹیل کی اصطلاح استعمال نہیں کرتے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ محفوظ اجارہ دارانہ غلبے کے لیے خفیہ اجلاس ضروری نہیں۔ راست کام کر رہا ہے، بینکوں کی بیلنس شیٹس مستحکم ہیں، ٹیکسوں کا بوجھ زیادہ ہے اور تعمیل کے ضوابط کراچی میں نہیں بنائے گئے تھے۔</p>
<p>اب ان کی تازہ تحریروں میں ایک ہی نیا دعویٰ باقی رہ گیا ہے، جس پر ان کے دونوں مضامین کی بنیاد ہے: بینکاروں نے پورا نظام اپنے ہاتھوں سے تشکیل دیا، تقریباً پچیس برس تک وزارتِ خزانہ چلائی، مرکزی بینک کے بورڈ میں بیٹھے اور ضابطہ کار اداروں میں اپنے افراد تعینات کیے۔</p>
<p>یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جسے دستیاب شواہد سے پرکھا جا سکتا ہے، مگر ان کے مضامین میں تین اہم چیزوں سے رجوع نہیں کیا گیا: قانون، تقرریوں کا ریکارڈ اور خود ان کے پیش کردہ اعداد و شمار۔</p>
<h3><a id="قانون-کیا-کہتا-ہے" href="#قانون-کیا-کہتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>قانون کیا کہتا ہے؟</h3>
<p>سب سے پہلے اس جگہ کا جائزہ لیتے ہیں جہاں ڈاکٹر ندیم الحق کے بقول بینکار بیٹھتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ کی دفعہ 13 (ایف)، جس میں 2022 میں ترمیم کی گئی، کے تحت کسی بینک یا اسٹیٹ بینک کے زیرِ انتظام کسی ادارے کا ڈائریکٹر، افسر یا ملازم اسٹیٹ بینک کا گورنر، ڈپٹی گورنر، بورڈ کا غیر انتظامی ڈائریکٹر یا مانیٹری پالیسی کمیٹی کا بیرونی رکن مقرر نہیں ہو سکتا۔ دفعہ 13 (جی) اس پابندی کو مزید وسیع کرتے ہوئے کسی بینک کے حصص یافتہ کو بھی نااہل قرار دیتی ہے۔</p>
<p>چنانچہ کوئی حاضر سروس بینکار یا بینک کا سرپرست اسٹیٹ بینک کے بورڈ یا مانیٹری پالیسی کمیٹی کا رکن نہیں بن سکتا۔ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا اور اس پابندی کی وجہ بھی وہی ہے جس پر ڈاکٹر ندیم الحق تشویش ظاہر کرتے ہیں، یعنی مفادات کا ٹکراؤ۔</p>
<p>ان کے دعوے میں جس اہم ادارے کا ذکر ہے، وہاں قانون نے راستہ بند کر رکھا ہے۔ اگر ان کا باقی ماندہ اعتراض یہ ہے کہ سابق بینکار بعد میں عوامی عہدوں پر فائز ہوتے ہیں تو یہی بات سابق ماہرینِ معاشیات، ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ کسی شخص کا پیشہ ورانہ پس منظر کسی سازش کا ثبوت نہیں ہوتا۔</p>
<p>ملازمت چھوڑنے کے بعد کچھ عرصے تک متعلقہ شعبے سے وابستگی پر پابندی کا جو حل وہ تجویز کرتے ہیں، وہ پہلے ہی قانون میں موجود ہے۔ اسی ایکٹ کی دفعہ 16 اے کے تحت متعلقہ عہدے داروں کو عہدہ چھوڑنے کے بعد دو سال تک اسٹیٹ بینک کے زیرِ انتظام کسی ادارے میں ملازمت اختیار کرنے سے روکا گیا ہے۔ دستیاب ریکارڈ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس پابندی پر عمل درآمد کے معاملے میں کوئی سمجھوتا نہیں کیا گیا۔</p>
<p>اگر اس قانون کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تو میں پوری طرح اس کی حمایت کرتا ہوں۔</p>
<h3><a id="تقرریوں-کا-ریکارڈ" href="#تقرریوں-کا-ریکارڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>تقرریوں کا ریکارڈ</h3>
<p>اب خود وزارتِ خزانہ کی سربراہی کا جائزہ لیتے ہیں۔ اگست 1947 سے اب تک 31 افراد وزیرِ خزانہ، نگراں وزیر یا متعلقہ قلم دان رکھنے والے مشیر کی حیثیت سے یہ ذمہ داری سنبھال چکے ہیں۔ ان میں صرف تین کمرشل بینکار تھے، جنہوں نے مجموعی طور پر 79 برسوں میں سے 13 برس یہ عہدہ سنبھالا، یعنی تقریباً ہر چھ میں سے ایک سال۔</p>
<p>باقی افراد میں سے چھ ماہرینِ معاشیات تھے، جنہوں نے مجموعی طور پر تقریباً 12 برس یہ ذمہ داری نبھائی، یعنی ہر سات میں سے لگ بھگ ایک سال۔ جبکہ مختلف دیگر پیشہ ورانہ پس منظر رکھنے والے 22 افراد تقریباً 54 برس تک اس عہدے پر فائز رہے، جو مجموعی مدت کا لگ بھگ 70 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p>یہاں ایک تقابل قابلِ ذکر ہے: ماہرینِ معاشیات، جن کے شعبے سے یہ الزام سامنے آیا ہے، نے وزارتِ خزانہ کا قلم دان بینکاروں کے مقابلے میں معمولی کم عرصے تک سنبھالا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کا ریکارڈ بھی یہی تصویر پیش کرتا ہے۔ 1948 سے اب تک اس کے چھ گورنر کمرشل بینکاری کے شعبے سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے تقریباً 78 برسوں میں سے 12 برس اس عہدے پر گزارے۔</p>
<p>دونوں اداروں کے ادوارِ سربراہی کو جمع کیا جائے تو واقعی 25 برس بنتے ہیں، لیکن دونوں اداروں کی مجموعی مدتِ سربراہی 150 برس سے زیادہ ہے۔ یوں بینکاروں کا حصہ تقریباً ہر چھ میں سے ایک سال بنتا ہے۔ یہی موجودگی اور ادارے پر قبضے کے درمیان بنیادی فرق ہے۔</p>
<p>اس حساب میں تیسرے اہم ادارے، پلاننگ کمیشن، کو بھی شامل نہیں کیا گیا، جو ماہرینِ معاشیات کا اپنا مضبوط گڑھ اور کئی دہائیوں تک معاشی پالیسی سازی کا مرکزی ادارہ رہا۔ بعدازاں تحقیق اور فکری رہنمائی کی کمی کے باعث یہ کردار آئی ایم ایف کے پاس چلا گیا۔</p>
<p>بحث کی خاطر ڈاکٹر ندیم الحق کے اختیار کردہ محدود ترین دائرے، یعنی گزشتہ تقریباً 25 برسوں، کو بھی تسلیم کر لیا جائے، جسے انہوں نے اپنے استدلال کے لیے خود منتخب کیا ہے اور جس میں بینکاروں کے تمام ادوارِ سربراہی شامل ہیں، تب بھی بینکار تقریباً نصف وقت ہی ان عہدوں پر فائز رہے۔</p>
<p>قرضوں کے پورے سلسلے میں مسلسل اضافے کا ایک نمایاں دور بھی بینکار کی سربراہی میں آیا، جبکہ طویل گراوٹ کسی ایک پیشے سے تعلق نہیں رکھتی، بلکہ اس کی بنیادی وجہ مالیاتی خسارہ ہے۔</p>
<h3><a id="ان-کے-اپنے-اعداد-و-شمار-کیا-بتاتے-ہیں" href="#ان-کے-اپنے-اعداد-و-شمار-کیا-بتاتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>ان کے اپنے اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟</h3>
<p>اگر بینکاروں نے ایسا نظام بنایا ہوتا جو نجی شعبے کو قرض دینے میں رکاوٹیں پیدا کرتا، تو ان کے ادوار میں اس کا اثر اعداد و شمار میں نظر آنا چاہیے تھا۔ لیکن اعداد و شمار اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔</p>
<p>عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، بینکاروں کے آٹھ برسوں کے دوران نجی شعبے کو قرضوں کا حجم بڑھتا رہا اور 2008 میں مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 24 فیصد کی جدید دور کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اس کے بعد اگلے 15 برسوں میں، جب مختلف دوسرے پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے یہ ذمہ داری سنبھالی، یہ شرح گھٹ کر آج تقریباً 11 فیصد رہ گئی ہے۔</p>
<p>یہ سلسلہ اس بات سے مطابقت نہیں رکھتا کہ وزیرِ خزانہ کا تعلق کس پیشے سے تھا۔ اس کا تعلق مالیاتی خسارے سے ہے۔</p>
<p>نجی شعبے کے لیے قرضوں کی دستیابی اس وقت بڑھی جب مالیاتی خسارہ قابلِ برداشت حدود میں تھا، اور اس وقت سکڑ گئی جب حکومت کے قرضوں نے مالیاتی نظام کے وسائل اپنی طرف کھینچ لیے۔ یہی مؤقف میں نے اپنی تحریر ’’ایک جیسے بینک، مختلف میدان‘‘ میں پیش کیا تھا۔</p>
<h3><a id="حساب-کتاب" href="#حساب-کتاب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>حساب کتاب</h3>
<p>چونکہ ڈاکٹر ندیم الحق نے شخصیات کے پیشہ ورانہ پس منظر کو اپنے استدلال کی بنیاد بنایا ہے، اس لیے اس ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہیں، تاہم ناموں کے بجائے عہدوں پر توجہ دیتے ہیں، کیونکہ بحث افراد کے بجائے ان عہدوں کے بارے میں ہے۔</p>
<p>بینکاری کے شعبے سے تعلق رکھنے والے پہلے وزیرِ خزانہ کے دور میں، 1999 سے 2007 تک، نجکاری کا وہ عمل مکمل ہوا جس کی حمایت ڈاکٹر ندیم الحق خود کرتے رہے ہیں۔ اسی دور میں پیرس کلب کے قرضوں کی تنظیمِ نو، قرضوں کی وصولی کے ادارے سی آئی آر سی کے ذریعے خراب قرضوں کی صفائی اور 2005 کا مالیاتی ذمہ داری کا قانون بھی سامنے آیا۔ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی اسی دور میں بلند ترین سطح پر پہنچی۔</p>
<p>دوسرے بینکار نے 2008 سے 2010 اور پھر 2021 سے 2022 تک ذمہ داریاں سنبھالیں۔ انہوں نے 2008 میں معاشی استحکام کے اقدامات کی نگرانی کی اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے دور میں ذمہ داری نبھائی، جو 1973 کے بعد وسائل کی سب سے بڑی مالیاتی منتقلی تھی۔ ان کی پہلی مدت کا اختتام اس وقت استعفے پر ہوا جب وسیع البنیاد سیلز ٹیکس منظور نہیں ہو سکا۔ اگر کوئی شخص کسی صنعت کے قبضے میں ہو تو ٹیکس نیٹ وسیع کرنے میں ناکامی پر استعفا نہیں دیتا۔ ان کی دوسری مدت میں ٹیکس وصولی ریکارڈ سطح پر پہنچی۔</p>
<p>2024 سے وزارتِ خزانہ کی ذمہ داری سنبھالنے والے تیسرے بینکار نے ٹیکسوں اور مجموعی قومی پیداوار کے تناسب میں ایک فیصد سے زیادہ اضافہ کیا۔ 2025 میں چاروں صوبوں میں زرعی آمدن پر ٹیکس کو یقینی بنایا، جو 78 برسوں میں پہلی بار ہوا۔ یہ بالکل وہی اصلاح تھی جس کے بارے میں ڈاکٹر ندیم الحق کے تازہ مضمون میں کہا گیا ہے کہ بینکاروں کا نیٹ ورک اسے آگے بڑھانے کی مناسب پوزیشن میں نہیں۔</p>
<p>اسی دور میں وفاقی ملازمین کی نئی پنشن اسکیم کو متعین کنٹری بیوشن کی بنیاد پر منتقل کیا گیا، محصولات کے نظام میں محصولات کی شرحوں اور ٹیرف کی پیچیدگیوں کو معقول بنایا گیا اور تینوں عالمی کریڈٹ ریٹنگ اداروں سے درجہ بندی میں بہتری حاصل کی گئی۔</p>
<p>ان اقدامات کا کریڈٹ کس کو دیا جائے، اس پر اختلاف ہو سکتا ہے، کیونکہ وزرا حکومتوں، پالیسی پروگراموں اور معاشی ادوار کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ تاہم اگر پیشہ ورانہ پس منظر ہی پیمانہ ہے تو یہ ریکارڈ بینکاروں کے حق میں جاتا ہے۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک کی سب سے زیادہ قابلِ قدر گورنرشپس ماہرینِ معاشیات کے حصے میں آئیں۔ صلاحیت کسی ایک پیشے کی میراث نہیں۔</p>
<p>اب اصل سوال یہ رہ جاتا ہے کہ بینکار ان عہدوں پر فائز ہی کیوں ہوئے اور وہ بھی حالیہ برسوں میں؟ اس کی وجہ کسی نیٹ ورک کی پشت پناہی نہیں بلکہ مشکل حالات سے دوچار حکومت کی ضرورت تھی۔ جب دوسرے شعبوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے تو انتخاب محدود ہو کر ان افراد تک رہ گیا جنہوں نے پہلے نتائج دیے تھے، اور انہی ناموں کو بار بار واپس بلایا گیا۔ یہ کسی دوسرے فریق کی جانب سے کیا گیا فیصلہ تھا، نہ کہ کسی عہدے پر زبردستی قبضہ۔</p>
<h3><a id="ایڈوانس-ٹو-ڈپازٹ-تناسب-کے-معاملے-کا-ازسرِنو-جائزہ" href="#ایڈوانس-ٹو-ڈپازٹ-تناسب-کے-معاملے-کا-ازسرِنو-جائزہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>ایڈوانس ٹو ڈپازٹ تناسب کے معاملے کا ازسرِنو جائزہ</h3>
<p>ڈاکٹر ندیم الحق کے پہلے مضمون کا مرکزی نکتہ 2024 میں ایڈوانس ٹو ڈپازٹ تناسب پر عائد کیا گیا محصول ہے۔ ان کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دباؤ ڈالنے پر بینک قرض دے سکتے ہیں۔ لیکن یہ دیکھنا چاہیے کہ اس دباؤ کے نتیجے میں حقیقتاً کیا ہوا۔</p>
<p>فنانس ایکٹ 2022 کے تحت بینکوں کی سرکاری سیکیورٹیز سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس کی شرح میں 16 فیصد پوائنٹس تک اضافہ کیا گیا تھا، جہاں سال کے اختتام پر ایڈوانس ٹو ڈپازٹ تناسب مقررہ حد سے کم رہتا۔</p>
<p>31 دسمبر تک مقررہ حد پوری کرنے کے لیے بینکوں نے ان شعبوں میں قرض دیا جہاں چند ہفتوں میں رقم فراہم کی جا سکتی تھی۔ چار ماہ کے دوران فنانس کمپنیوں کو ایک کھرب روپے سے زیادہ کے قرضے دیے گئے۔ ان قرضوں کا مجموعی حجم 1.46 کھرب روپے تھا، جس کا حوالہ خود ڈاکٹر ندیم الحق نے دیا ہے۔ اس کے علاوہ بڑی اور مستحکم کمپنیوں کے خزانہ جاتی شعبوں کو مختصر مدت کے قرضے بھی دیے گئے، جن کی شرحِ سود کائبور کے برابر اور بعض دستاویزی معاملات میں اس سے تقریباً 12 فیصد پوائنٹس کم تھی۔</p>
<p>اس کی دوسری تصویر بھی سامنے آئی۔ تناسب کے مخرج کو کم کرنے کے لیے کئی بڑے بینکوں نے اپنے بڑے کھاتوں میں موجود رقوم پر ماہانہ فیس عائد کرنے کے نوٹس جاری کیے، تاہم ضابطہ کار ادارے کی ناراضی کے بعد دو ہفتوں کے اندر یہ فیس واپس لے لی گئی۔ حالیہ دور میں بچت کرنے والوں سے رقم نکالنے کے لیے فیس وصول کرنے کا یہ واحد واقعہ تھا، اور اسے اسی محصول نے جنم دیا جسے ڈاکٹر ندیم الحق کامیابی قرار دیتے ہیں۔</p>
<p>اس کے بعد یہ مصنوعی اضافہ ختم ہو گیا۔ ایڈوانس ٹو ڈپازٹ تناسب اگست میں 38 فیصد تھا، جو 31 دسمبر کو 52 فیصد تک پہنچا، مارچ میں دوبارہ 43 فیصد اور جون میں 38 فیصد پر آ گیا۔ سال کے اختتام کے صرف دس ہفتوں کے اندر 1.4 کھرب روپے سے زیادہ کے قرضے واپس ہو گئے۔ اسٹیٹ بینک کے ششماہی جائزے میں یہ تناسب 2014 کے بعد کم ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>اب اس پہلو کو بھی دیکھنا چاہیے جسے ڈاکٹر ندیم الحق نے اپنے تجزیے میں شامل نہیں کیا: ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن۔</p>
<p>ایک ٹیکس سال کے لیے یہ ضابطہ ماضی سے لاگو کرتے ہوئے ختم کر دیا گیا، دوسرے سال تقریباً 200 ارب روپے کے مطالبات ہائی کورٹ میں زیرِ التوا رہے، جبکہ فیصلہ کن سال کے اختتام پر بینکوں نے مقررہ حد پوری کر لی۔ پھر دسمبر 2024 کے آخری دنوں میں اس محصول کو کسی حتمی تعین کے بغیر ختم کر دیا گیا اور اس کی جگہ بینکوں کی پوری آمدن پر 44 فیصد کی یکساں شرح مقرر کی گئی، جسے بعدازاں 42 فیصد تک لایا گیا۔</p>
<p>تناسب پر ٹیکس لگایا گیا تو تناسب بدل گیا، لیکن آمدن نہ ہونے کے برابر حاصل ہوئی۔ منافع پر ٹیکس لگایا گیا تو رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور پوری آمدن وصول ہوئی۔ گزشتہ مالی سال بینکوں نے ایک کھرب روپے سے زیادہ ٹیکس ادا کیا، جو وفاقی حکومت کی مجموعی وصولیوں کا تقریباً دسواں حصہ تھا۔ یہ وہی 54.5 فیصد ٹیکس بوجھ ہے جس کا حوالہ خود ڈاکٹر ندیم الحق دیتے ہیں۔</p>
<p>اس واقعے سے حاصل ہونے والا سبق میرے مؤقف کی تائید کرتا ہے، ان کے مؤقف کی نہیں۔ جب بینکوں کو 90 دن میں قرض دینے کا پابند کیا گیا تو وہ صرف ایسے قرض دار تلاش کر سکے جن کا ریکارڈ پہلے سے موجود تھا۔ محض ڈیڈ لائن مقرر کرنے سے بیلنس شیٹس وجود میں نہیں آتیں؛ اس کے لیے ڈیٹا اور پورا مالیاتی نظام درکار ہوتا ہے۔</p>
<p>ایلون روتھ کو مارکیٹ ڈیزائن پر نوبیل انعام ملا تھا۔ ان کی کتاب ’’کسے کیا ملتا ہے اور کیوں: میل جول اور مارکیٹ ڈیزائن کی نئی معاشیات‘‘ بنیادی طور پر اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ جب مارکیٹ کے قواعد ناقص ہوں تو کیا ہوتا ہے: شرکا ان قواعد کے مطابق چلنے کے بجائے ان سے بچ نکلنے کے راستے تلاش کرتے ہیں۔</p>
<p>2024 کے اختتام کا یہ واقعہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ دوسری جانب قرضوں کے پائیدار رجحانات کو آگے بڑھانے کے لیے اس محصول کی ضرورت نہیں تھی۔</p>
<p>چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قرضوں کا حجم تقریباً دوگنا ہو کر ایک کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ زرعی قرض لینے والوں کی تعداد 27 لاکھ سے بڑھ کر 33 لاکھ ہو گئی ہے۔ ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں، جہاں اس سے پہلے آٹھ برسوں کے دوران مجموعی طور پر بمشکل 225 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے تھے، رواں سال کی ایک سہ ماہی میں 103 ارب روپے کے قرضے دیے گئے۔ یہ اس شعبے کے مجموعی قرضوں کا ایک تہائی ہے۔</p>
<p>نئی ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 71,690 درخواستوں کی منظوری دی گئی، کیونکہ اس سے پہلے پورا نظام تشکیل دیا گیا تھا: مخصوص سبسڈی، قابلِ عمل طریقۂ ضبطی اور قرضوں کی وصولی کا انتظام، اور قرض فراہم کرنے کے لیے 31 ادارے۔</p>
<p>یہ تمام پیش رفت کسی ڈیڈ لائن کے بغیر ہوئی اور اس محصول کے خاتمے کے بعد بھی جاری رہی۔ یہی فرق حقیقی قرضوں کی فراہمی اور محض اعداد و شمار بہتر دکھانے کے درمیان ہے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہوا جب وزارتِ خزانہ کی سربراہی ایک بینکار کے پاس تھی۔</p>
<h3><a id="بچت-کرنے-والے-کے-معاملے-کا-ازسرِنو-جائزہ" href="#بچت-کرنے-والے-کے-معاملے-کا-ازسرِنو-جائزہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>بچت کرنے والے کے معاملے کا ازسرِنو جائزہ</h3>
<p>ڈاکٹر ندیم الحق کے دوسرے مضمون میں الزام لگایا گیا ہے کہ بچت کرنے والا قیمت چکاتا ہے۔ سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ بچت پر کم از کم منافع کی شرح کس نے مقرر کی تھی۔</p>
<p>بچت کھاتوں پر کم از کم شرحِ منافع اس لیے موجود ہے کہ ضابطہ کار ادارے نے 2008 میں اسے لازم قرار دیا تھا اور گزشتہ 18 برسوں سے برقرار رکھا ہے۔ کسی صنعت پر ضابطے کے ذریعے قیمت کی کم از کم حد نافذ کرنا اس کے برعکس ہے کہ اس صنعت نے خود نظام پر قبضہ کر رکھا ہو۔</p>
<p>2025 اور 2026 میں تبدیلی اصول کی نہیں بلکہ اس کے دائرۂ کار کی تھی۔ جنوری 2025 سے مالیاتی اداروں، سرکاری کاروباری اداروں اور اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ کمپنیوں کے لیے یہ کم از کم شرح ختم کر دی گئی۔ اگست 2026 سے انفرادی بچت کرنے والوں کے دس ملین روپے تک کے کھاتوں پر بھی اس کا اطلاق ختم کیا گیا۔ یوں وہ رقوم جن کے مالکان اپنے منافع کی شرح پر گفت و شنید کر سکتے ہیں، اس پابندی سے آزاد ہو گئیں، جبکہ عام بچت کرنے والوں کے لیے کم از کم شرح برقرار ہے۔</p>
<p>اسلامی بینکاری کے کھاتوں پر یہ کم از کم شرح ابتدا ہی سے لاگو نہیں تھی، کیونکہ منافع اور نقصان میں شراکت کا تعین اسٹیٹ بینک کے پول سے متعلق قواعد کے تحت ہوتا ہے۔ تاہم جنوری 2025 سے اسلامی بینکاری کے بچت کھاتوں کے لیے بھی کم از کم شرح مقرر کی گئی، جو متعلقہ پول کی مجموعی آمدن کے کم از کم تین چوتھائی کے برابر ہے۔</p>
<p>وہ سال جب بچت کرنے والوں کو حقیقی معنوں میں نقصان اٹھانا پڑا، 2023 تھا۔ اس وقت مہنگائی تقریباً 38 فیصد تھی، جبکہ پالیسی ریٹ 21 فیصد تھا۔ یہ مہنگائی کے ذریعے عائد ہونے والا ٹیکس تھا، جسے حکومت کے مالیاتی خسارے نے جنم دیا اور جس کا بوجھ ملک میں ہر قسم کی روپے میں سرمایہ کاری پر پڑا، خواہ وہ بینک ڈپازٹس ہوں، بچت سرٹیفکیٹس یا نقد رقم۔</p>
<p>اس سال بینکوں کے منافع کا فرق 17 فیصد پوائنٹس تک نہیں بڑھا تھا۔ یہ فرق اس واحد قرض دار نے حاصل کیا جو اپنی ہی جاری کردہ کرنسی میں قرض واپس کرتا ہے، یعنی ریاست۔</p>
<p>یہ بھی دیکھیے کہ ڈاکٹر ندیم الحق کے مطابق بچت کرنے والے اپنا پیسہ کہاں لے گئے: نقد رقم، پلاٹ، سونا اور ڈالر۔ ان میں سے کوئی بھی اثاثہ باقاعدہ منافع نہیں دیتا۔ کوئی شخص کم شرحِ منافع سے نکل کر ایسی چیزوں میں سرمایہ کاری نہیں کرتا جو کوئی آمدن نہیں دیتیں؛ وہ دستاویزی تقاضوں سے بچنے کے لیے ایسا کرتا ہے۔</p>
<p>گردش میں موجود 12 کھرب روپے وہ ٹیکس بنیاد ہیں جو نظروں سے اوجھل ہے۔ جہاں تک انویسٹ پاکستان کا تعلق ہے تو اس اقدام کو سراہا جانا چاہیے، نہ کہ اس میں کوئی نقص نکالا جائے۔ حکومت کی جاری کردہ سیکیورٹیز میں عام شہریوں کو براہِ راست سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرنا وہی مطالبہ ہے جس پر اس بحث کے دونوں فریق متفق رہے ہیں۔</p>
<h3><a id="تحفظ-کی-نوعیت-اور-اس-کے-مستفید-ہونے-والے" href="#تحفظ-کی-نوعیت-اور-اس-کے-مستفید-ہونے-والے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>تحفظ کی نوعیت اور اس کے مستفید ہونے والے</h3>
<p>ڈاکٹر ندیم الحق کا آخری الزام ایک مفروضہ شدہ سمجھوتے پر مبنی ہے: ریاست کو سستی مالی اعانت ملتی ہے اور ’’بینکوں کو تحفظ‘‘ دیا جاتا ہے۔</p>
<p>آئیے اس تحفظ کی تفصیل دیکھتے ہیں۔</p>
<p>بینکوں کو لائسنس دینے اور ان کے لیے کم از کم سرمائے کی شرط مقرر کرنے کا مقصد بینکوں کو تحفظ دینا نہیں بلکہ کھاتہ داروں کی رقم محفوظ بنانا ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں عوام سے ڈپازٹس لینے کے کاروبار کو ضابطوں کا پابند بنایا گیا ہے، کیونکہ اس میں دوسروں کی رقم استعمال ہوتی ہے۔</p>
<p>بینکوں کے انضمام کے ذریعے ان کے مسائل حل کرنے کا مقصد بھی کھاتہ داروں کا تحفظ تھا۔ کے اے ایس بی بینک کو مجموعی طور پر صرف ایک ہزار روپے میں فروخت کیا گیا، جبکہ سلک بینک کے حصص یافتگان کے حصص منفی ایکویٹی کے مقابلے میں تقریباً بے وقعت ہو گئے۔</p>
<p>ڈپازٹ پروٹیکشن فنڈ کے اخراجات بینک خود اپنے ادا کردہ پریمیم سے پورے کرتے ہیں۔ بچت کھاتوں پر کم از کم شرحِ منافع 18 برس تک بینکاری صنعت کے خلاف نافذ رہی، جبکہ مرکزی بینک سے حاصل ہونے والی مالی اعانت کی قیمت بھی مقررہ اصولوں اور ضمانتوں کے تحت طے ہوتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے لندن میں ہوتا ہے۔</p>
<p>بینک مالکان کو حقیقی تحفظ کی جو مثالیں دوسرے ممالک میں ملتی ہیں، وہ ٹیکس دہندگان کے پیسے سے بینکوں کو بچانے کی ہیں۔ برطانیہ میں آر بی ایس سے لے کر امریکا میں سلیکون ویلی بینک کے ایسے کھاتہ داروں تک جن کے ڈپازٹس بیمہ شدہ نہیں تھے، مختلف مواقع پر ایسا تحفظ فراہم کیا گیا۔ لیکن پاکستان کے نجکاری کے دور میں ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا۔</p>
<p>اگر کسی صنعت کو واقعی تحفظ حاصل ہو تو وہ معیشت میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا نہیں کرتی، اپنی مرضی سے چار عالمی بینکنگ اداروں کو ملک سے باہر نہیں جانے دیتی اور ناکام بینک مالکان کے حصص بے قدر ہوتے نہیں دیکھتی۔</p>
<p>اس فہرست کے ہر نکتے کا جائزہ لینے سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد کسی کو بینکوں سے تحفظ دینا نہیں بلکہ بینکوں سے دوسروں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>(اس بحث کے دوسرے حصے میں، جس کا عنوان ’’غلط دروازہ، درست ایجنڈا‘‘ ہے، متبادل تجاویز، قابلِ اتفاق ایجنڈے اور اس دروازے پر دستک دینے کے بارے میں بات کی جائے گی جس پر ہم سب کو توجہ دینی چاہیے۔ مقصد یہ ہے کہ بحث اصل مسئلے سے نہ بھٹکے اور اس نتیجے پر ختم ہو جہاں میرے خیال میں ڈاکٹر ندیم الحق اور میں پہلے ہی متفق ہیں: درست ایجنڈے پر۔)</p>
<p>(مصنف ترقیاتی اہداف اور مثبت اثرات پر توجہ مرکوز رکھنے والے بینکار ہیں۔ اس مضمون کا دوسرا اور آخری حصہ کل کے شمارے میں شائع کیا جائے گا۔)</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026ء</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293139</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Oct 2026 16:19:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ظفر مسعود)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/27161135769064e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/27161135769064e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
