<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 27 Oct 2026 17:35:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 27 Oct 2026 17:35:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کاروبار برادری نے شرح سود میں اضافہ مسترد کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293121/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تاجروصنعتی برادری نے اسٹیٹ بینک کی شرحِ سود میں اضافے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ قرضوں کی بلند لاگت صنعتی ترقی کو متاثر کررہی ہے، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کررہی ہے اور معاشی سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ میں مزید 0.5 فیصد اضافے کے فیصلے پر گہری تشویش، مایوسی اور شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس اضافے کے بعد بنیادی پالیسی ریٹ بڑھ کر 12 فیصد ہوگیا ہے، جو علاقائی ممالک کے مقابلے میں پاکستانی معیشت کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی نے اس اقدام کو معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق مانیٹری پالیسی میں مزید سختی سے معاشی استحکام کی جاری کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا، صنعتی ترقی کی رفتار متاثر ہوگی اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی برآمدی مسابقت مزید کمزور ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے اسٹیٹ بینک کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب مقامی صنعتکار اور کاروباری ادارے پہلے ہی غیر معمولی پیداواری اخراجات، یوٹیلیٹی ٹیرف میں اضافے اور شدید مالیاتی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، قرضوں کی لاگت میں مزید اضافہ ایک نامناسب فیصلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کاروباری شعبے کو سستے قرضوں اور معاشی مراعات کی اشد ضرورت ہے؛ تاکہ مقامی پیداوار میں اضافہ، کاروباری سرگرمیوں کا تسلسل اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکیں۔ اس کے برعکس، سخت مانیٹری پالیسی نجی شعبے کی ترقی کو محدود اور سرمایہ کاری کے رجحان کو شدید متاثر کرتی ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے نشاندہی کی کہ مسلسل بلند شرحِ سود نے قرض لینے کو کاروبار کے لیے سہولت کے بجائے ایک ناقابلِ برداشت مالی بوجھ بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی بڑی وجوہات رسد کے نظام میں ساختی رکاوٹیں، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مالیاتی بے ضابطگیاں ہیں، نہ کہ محض مجموعی طلب میں اضافہ۔ ایسے حالات میں سخت مانیٹری پالیسی نے مقامی صنعتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ مہنگائی کے بنیادی اسباب غیر مالیاتی نوعیت کے ہونے کے باعث پیداواری لاگت میں اضافے سے جنم لینے والی مہنگائی بدستور برقرار ہے۔ نتیجتاً، شرحِ سود میں اضافہ قیمتوں کو مستحکم کرنے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے بجائے پیداواری صنعتوں پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے، جس سے باضابطہ کاروباری اداروں کو اپنی سرگرمیاں بند کرنے یا محدود کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اکرام شیخ نے ایف پی سی سی آئی کے دیرینہ اور واضح مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے حکومت اور مرکزی بینک پر زور دیا کہ وہ اپنی مانیٹری پالیسی پر فوری نظرثانی کریں اور پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لے کرآئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تجارت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) اور بڑی صنعتی پیداوار کے لیے قرضوں کو قابلِ برداشت بنانے کی خاطر شرحِ سود کو سنگل ڈیجٹ پر لانا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ مناسب شرحِ سود کے بغیر مقامی کاروباری ادارے جدید ٹیکنالوجی اختیار کرنے، مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن اور علاقائی حریفوں کا مؤثر مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہوسکتے، کیونکہ کئی علاقائی ممالک میں قرض لینے کی لاگت پاکستان کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے خبردار کیا کہ بلند شرحِ سود قومی خزانے اور نجی قرض داروں پر قرضوں کی ادائیگی کا ناقابلِ برداشت بوجھ ڈالتی ہے جس سے مالیاتی مشکلات اور سست معاشی نمو کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جنم لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی مرکزی بینک، وفاقی حکومت اور معاشی پالیسی سازوں پر زور دیتی ہے کہ وہ ترقی پر مبنی، مستقبل شناس اور کاروبار دوست مانیٹری پالیسی اختیار کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر عبدالہادی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس اضافے کو بزنس کمیونٹی کے لیے انتہائی مشکل اور ناقابلِ قبول فیصلہ قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ کو 12 فیصد کی بلند سطح پر لے جانے سے صنعتی شعبے کے مسائل مزید گمبیر ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبدالہادی نے کہا کہ حکومت اور مرکزی بینک بخوبی واقف ہیں کہ پاکستانی صنعتیں پہلے ہی زائد پیداواری لاگت، مہنگی بجلی و گیس، اور عالمی معاشی منظرنامے میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کی وجہ سے سنگین بحران کا شکار ہیں۔ اکثر صنعتیں اپنی پیداواری صلاحیت کے انتہائی کم لیول پر بمشکل چل رہی ہیں۔ ایسے نازک مرحلے پر پالیسی ریٹ میں مزید اضافہ صنعتکاروں کے لیے نئی مشکلات پیدا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے بزنس کمیونٹی کے پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ پر لانے کے مطالبے کو یکسر نظرانداز کر دیا جو باعث تشویش ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صنعتی شعبے کی حقیقی مشکلات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبدالہادی نے مزید کہا کہ 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ نہ صرف نئی فنڈنگ حاصل کرنا مشکل بنا دے گا بلکہ موجودہ قرضوں پر سود کی ادائیگی بھی کاروباری اداروں پر اضافی بوجھ ڈالے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اضافے سے صنعتی ترقی کے امکانات مزید کمزور پڑیں گے اور نئی سرمایہ کاری متاثر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر سائٹ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک صنعتکاروں کے مسائل کو ترجیح دیں اور پالیسی ریٹ کو جلد از جلد سنگل ڈیجٹ سطح پر لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں تاکہ صنعتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے اور روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تاجروصنعتی برادری نے اسٹیٹ بینک کی شرحِ سود میں اضافے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ قرضوں کی بلند لاگت صنعتی ترقی کو متاثر کررہی ہے، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کررہی ہے اور معاشی سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔</strong></p>
<p>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ میں مزید 0.5 فیصد اضافے کے فیصلے پر گہری تشویش، مایوسی اور شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس اضافے کے بعد بنیادی پالیسی ریٹ بڑھ کر 12 فیصد ہوگیا ہے، جو علاقائی ممالک کے مقابلے میں پاکستانی معیشت کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔</p>
<p>عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی نے اس اقدام کو معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق مانیٹری پالیسی میں مزید سختی سے معاشی استحکام کی جاری کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا، صنعتی ترقی کی رفتار متاثر ہوگی اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی برآمدی مسابقت مزید کمزور ہوگی۔</p>
<p>صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے اسٹیٹ بینک کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب مقامی صنعتکار اور کاروباری ادارے پہلے ہی غیر معمولی پیداواری اخراجات، یوٹیلیٹی ٹیرف میں اضافے اور شدید مالیاتی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، قرضوں کی لاگت میں مزید اضافہ ایک نامناسب فیصلہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کاروباری شعبے کو سستے قرضوں اور معاشی مراعات کی اشد ضرورت ہے؛ تاکہ مقامی پیداوار میں اضافہ، کاروباری سرگرمیوں کا تسلسل اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکیں۔ اس کے برعکس، سخت مانیٹری پالیسی نجی شعبے کی ترقی کو محدود اور سرمایہ کاری کے رجحان کو شدید متاثر کرتی ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے نشاندہی کی کہ مسلسل بلند شرحِ سود نے قرض لینے کو کاروبار کے لیے سہولت کے بجائے ایک ناقابلِ برداشت مالی بوجھ بنا دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی بڑی وجوہات رسد کے نظام میں ساختی رکاوٹیں، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مالیاتی بے ضابطگیاں ہیں، نہ کہ محض مجموعی طلب میں اضافہ۔ ایسے حالات میں سخت مانیٹری پالیسی نے مقامی صنعتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ مہنگائی کے بنیادی اسباب غیر مالیاتی نوعیت کے ہونے کے باعث پیداواری لاگت میں اضافے سے جنم لینے والی مہنگائی بدستور برقرار ہے۔ نتیجتاً، شرحِ سود میں اضافہ قیمتوں کو مستحکم کرنے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے بجائے پیداواری صنعتوں پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے، جس سے باضابطہ کاروباری اداروں کو اپنی سرگرمیاں بند کرنے یا محدود کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>عاطف اکرام شیخ نے ایف پی سی سی آئی کے دیرینہ اور واضح مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے حکومت اور مرکزی بینک پر زور دیا کہ وہ اپنی مانیٹری پالیسی پر فوری نظرثانی کریں اور پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لے کرآئیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تجارت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) اور بڑی صنعتی پیداوار کے لیے قرضوں کو قابلِ برداشت بنانے کی خاطر شرحِ سود کو سنگل ڈیجٹ پر لانا ناگزیر ہے۔</p>
<p>صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ مناسب شرحِ سود کے بغیر مقامی کاروباری ادارے جدید ٹیکنالوجی اختیار کرنے، مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن اور علاقائی حریفوں کا مؤثر مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہوسکتے، کیونکہ کئی علاقائی ممالک میں قرض لینے کی لاگت پاکستان کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔</p>
<p>صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے خبردار کیا کہ بلند شرحِ سود قومی خزانے اور نجی قرض داروں پر قرضوں کی ادائیگی کا ناقابلِ برداشت بوجھ ڈالتی ہے جس سے مالیاتی مشکلات اور سست معاشی نمو کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جنم لیتا ہے۔</p>
<p>عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی مرکزی بینک، وفاقی حکومت اور معاشی پالیسی سازوں پر زور دیتی ہے کہ وہ ترقی پر مبنی، مستقبل شناس اور کاروبار دوست مانیٹری پالیسی اختیار کریں۔</p>
<p>سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر عبدالہادی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس اضافے کو بزنس کمیونٹی کے لیے انتہائی مشکل اور ناقابلِ قبول فیصلہ قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ کو 12 فیصد کی بلند سطح پر لے جانے سے صنعتی شعبے کے مسائل مزید گمبیر ہو جائیں گے۔</p>
<p>عبدالہادی نے کہا کہ حکومت اور مرکزی بینک بخوبی واقف ہیں کہ پاکستانی صنعتیں پہلے ہی زائد پیداواری لاگت، مہنگی بجلی و گیس، اور عالمی معاشی منظرنامے میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کی وجہ سے سنگین بحران کا شکار ہیں۔ اکثر صنعتیں اپنی پیداواری صلاحیت کے انتہائی کم لیول پر بمشکل چل رہی ہیں۔ ایسے نازک مرحلے پر پالیسی ریٹ میں مزید اضافہ صنعتکاروں کے لیے نئی مشکلات پیدا کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے بزنس کمیونٹی کے پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ پر لانے کے مطالبے کو یکسر نظرانداز کر دیا جو باعث تشویش ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صنعتی شعبے کی حقیقی مشکلات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔</p>
<p>عبدالہادی نے مزید کہا کہ 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ نہ صرف نئی فنڈنگ حاصل کرنا مشکل بنا دے گا بلکہ موجودہ قرضوں پر سود کی ادائیگی بھی کاروباری اداروں پر اضافی بوجھ ڈالے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اضافے سے صنعتی ترقی کے امکانات مزید کمزور پڑیں گے اور نئی سرمایہ کاری متاثر ہوگی۔</p>
<p>صدر سائٹ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک صنعتکاروں کے مسائل کو ترجیح دیں اور پالیسی ریٹ کو جلد از جلد سنگل ڈیجٹ سطح پر لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں تاکہ صنعتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے اور روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293121</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Oct 2026 12:41:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/2712382528bb5c8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/2712382528bb5c8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
