<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 26 Oct 2026 13:17:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 26 Oct 2026 13:17:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شاداب کی سنچری، پاکستان ایک وکٹ سے جیت کر سہ ملکی سیریز کے فائنل میں پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293074/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شاداب خان کی پہلی سنچری نے پاکستان کو مشکل صورت حال سے نکال کر اتوار کو لاہور میں انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں ایک وکٹ سے سنسنی خیز فتح دلادی، جس کے ساتھ ہی میزبان ٹیم نے سہ ملکی سیریز کے فائنل میں جگہ بنالی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;242 رنز کے  ہدف کا دفاع کرتے ہوئے انگلینڈ فتح کے قریب پہنچ گیا تھا، کیونکہ پاکستان کی ٹیم 154 رنز پر 9 وکٹیں گنوا چکی تھی۔ تاہم شاداب خان کی ناقابلِ شکست 113 رنز کی اننگز نے ہیری بروک کی ٹیم کو سیریز میں پانچ روز کے دوران تیسری شکست سے دوچار کردیا۔ اس سہ ملکی سیریز میں سری لنکا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگلینڈ کو جمعرات کو سری لنکا کے خلاف 430 رنز کا ہدف دینے کے باوجود شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اتوار کو بھی اسے اس وقت شدید مایوسی ہوئی جب نمبر 11 کے بلے باز حارث رؤف نے 17 گیندیں باقی رہتے ہوئے فاتحانہ چوکا لگا دیا، جس پر پاکستانی ڈریسنگ روم میں جشن شروع ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناقابلِ شکست 7 رنز بنانے والے حارث رؤف نے آخری وکٹ کے لیے شاداب خان کے ساتھ 89 رنز کی فیصلہ کن شراکت قائم کرکے اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاداب نے اپنی اننگز میں 5 چھکے اور 13 چوکے لگائے۔ انہیں گس ایٹکنسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار دیا گیا، جبکہ پاکستان کو جیت کے لیے 20 رنز درکار تھے۔ تاہم پویلین کی جانب مایوسی کے عالم میں بڑھتے ہوئے شاداب نے ریویو لینے کا فیصلہ کیا، جس پر امپائر کا فیصلہ تبدیل ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 سالہ شاداب دوبارہ کریز پر واپس آئے اور پاکستان کو فتح سے ہمکنار کرکے اگلے ہفتے  کو ہونے والے فائنل میں پہنچا دیا۔ ان کے 113 رنز کسی بھی ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے سب سے بڑا انفرادی اسکور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس غیر معمولی کامیابی پر پاکستانی کپتان شاہین شاہ آفریدی بھی اپنے جذبات کا اظہار کرنے سے قاصر دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہین نے کہا کہ میں زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔ شاداب اور حارث نے جس طرح میچ ختم کیا اور 89 رنز کی شراکت قائم کی، وہ حیران کن ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسا کبھی نہیں دیکھا۔ بطور کپتان بہت خوش ہوں، ٹیم نے شاندار کارکردگی دکھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے میچ ختم نہ کر پانے کے باوجود اپنے بولرز کو موردِ الزام ٹھہرانے سے گریز کیا۔ چند روز قبل سری لنکا کے خلاف بھی انگلینڈ کو اسی نوعیت کی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروک نے کہا کہ سچ کہوں تو مجھے نہیں لگتا کہ ہم نے بولنگ میں کوئی غلطی کی۔ میرے خیال میں ہم نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی، لیکن شاید اسکور بورڈ پر کافی رنز نہیں بنا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی اننگز کا آغاز مایوس کن رہا۔ فخر زمان اور بابر اعظم 10، 10 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ صائم ایوب صرف 6 رنز بنا سکے۔ اس کے بعد سعد بیگ نے 32 اور سلمان آغا نے 26 رنز بنا کر اننگز کو سنبھالنے کی مختصر کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاداب خان 24ویں اوور میں اس وقت بیٹنگ کے لیے آئے جب پاکستان کا اسکور 103 رنز پر 6 وکٹیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شاہین کی شاندار بولنگ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکست کے بعد انگلینڈ کے 31 اکتوبر کو ہونے والے فائنل میں پہنچنے کے امکانات غیر یقینی ہوگئے ہیں۔ فائنل تک رسائی کے لیے اسے امید کرنا ہوگی کہ پاکستان منگل کو سری لنکا کو شکست دے، جس کے بعد انگلینڈ کو جمعرات کو خود بھی سری لنکا کے خلاف کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل انگلینڈ کی پوری ٹیم 46.4 اوورز میں 241 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ اوپنر بین ڈکٹ نے 105 رنز کی سنچری اسکور کرکے اننگز کو سہارا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈکٹ اور سیم کرن نے پانچویں وکٹ کے لیے 93 رنز کی شراکت قائم کی۔ کرن نے 42 رنز بنائے، جس سے انگلینڈ کو 19 رنز پر 3 وکٹیں گرنے کے بعد سنبھلنے کا موقع ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایٹکنسن نے اننگز کے آخری حصے میں ناقابلِ شکست 36 رنز بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے 46 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ اپنے پہلے ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں رضا اللہ نے 38 رنز کے عوض 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈکٹ نے اپنی اننگز میں 10 چوکے اور 2 چھکے لگائے، تاہم اسپنر عرفات منہاس کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ عرفات نے 26 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کرنے والے پاکستانی کپتان شاہین آفریدی نے اننگز کے پہلے ہی اوور میں ٹام بینٹن کو 4 رنز پر آؤٹ کیا۔ یہ شاہین کی ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں 150ویں وکٹ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ پاکستان کی جانب سے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں 150 یا اس سے زیادہ وکٹیں لینے والے 13ویں بولر بن گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہین نے اپنے اگلے اوور میں جو روٹ کو 5 رنز پر آؤٹ کیا۔ روٹ شارٹ گیند کو کٹ کرنے کی کوشش میں کیچ دے بیٹھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد انگلینڈ کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا جب ہیری بروک صرف ایک رن بنا کر رن آؤٹ ہوگئے۔ بروک نے سری لنکا کے خلاف گزشتہ میچ میں ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین ڈبل سنچری اسکور کی تھی، لیکن ان کی ٹیم کو اس میچ میں حیران کن شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈکٹ کی پانچویں ایک روزہ بین الاقوامی سنچری اور کرن کی مزاحمتی بیٹنگ نے انگلینڈ کی اننگز کو کچھ دیر کے لیے سہارا دیا، تاہم شاہین نے مزید دو وکٹیں حاصل کرکے انگلینڈ کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شاداب خان کی پہلی سنچری نے پاکستان کو مشکل صورت حال سے نکال کر اتوار کو لاہور میں انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں ایک وکٹ سے سنسنی خیز فتح دلادی، جس کے ساتھ ہی میزبان ٹیم نے سہ ملکی سیریز کے فائنل میں جگہ بنالی۔</strong></p>
<p>242 رنز کے  ہدف کا دفاع کرتے ہوئے انگلینڈ فتح کے قریب پہنچ گیا تھا، کیونکہ پاکستان کی ٹیم 154 رنز پر 9 وکٹیں گنوا چکی تھی۔ تاہم شاداب خان کی ناقابلِ شکست 113 رنز کی اننگز نے ہیری بروک کی ٹیم کو سیریز میں پانچ روز کے دوران تیسری شکست سے دوچار کردیا۔ اس سہ ملکی سیریز میں سری لنکا بھی شامل ہے۔</p>
<p>انگلینڈ کو جمعرات کو سری لنکا کے خلاف 430 رنز کا ہدف دینے کے باوجود شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اتوار کو بھی اسے اس وقت شدید مایوسی ہوئی جب نمبر 11 کے بلے باز حارث رؤف نے 17 گیندیں باقی رہتے ہوئے فاتحانہ چوکا لگا دیا، جس پر پاکستانی ڈریسنگ روم میں جشن شروع ہوگیا۔</p>
<p>ناقابلِ شکست 7 رنز بنانے والے حارث رؤف نے آخری وکٹ کے لیے شاداب خان کے ساتھ 89 رنز کی فیصلہ کن شراکت قائم کرکے اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>شاداب نے اپنی اننگز میں 5 چھکے اور 13 چوکے لگائے۔ انہیں گس ایٹکنسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار دیا گیا، جبکہ پاکستان کو جیت کے لیے 20 رنز درکار تھے۔ تاہم پویلین کی جانب مایوسی کے عالم میں بڑھتے ہوئے شاداب نے ریویو لینے کا فیصلہ کیا، جس پر امپائر کا فیصلہ تبدیل ہوگیا۔</p>
<p>28 سالہ شاداب دوبارہ کریز پر واپس آئے اور پاکستان کو فتح سے ہمکنار کرکے اگلے ہفتے  کو ہونے والے فائنل میں پہنچا دیا۔ ان کے 113 رنز کسی بھی ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے سب سے بڑا انفرادی اسکور ہے۔</p>
<p>اس غیر معمولی کامیابی پر پاکستانی کپتان شاہین شاہ آفریدی بھی اپنے جذبات کا اظہار کرنے سے قاصر دکھائی دیے۔</p>
<p>شاہین نے کہا کہ میں زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔ شاداب اور حارث نے جس طرح میچ ختم کیا اور 89 رنز کی شراکت قائم کی، وہ حیران کن ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسا کبھی نہیں دیکھا۔ بطور کپتان بہت خوش ہوں، ٹیم نے شاندار کارکردگی دکھائی۔</p>
<p>انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے میچ ختم نہ کر پانے کے باوجود اپنے بولرز کو موردِ الزام ٹھہرانے سے گریز کیا۔ چند روز قبل سری لنکا کے خلاف بھی انگلینڈ کو اسی نوعیت کی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>
<p>بروک نے کہا کہ سچ کہوں تو مجھے نہیں لگتا کہ ہم نے بولنگ میں کوئی غلطی کی۔ میرے خیال میں ہم نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی، لیکن شاید اسکور بورڈ پر کافی رنز نہیں بنا سکے۔</p>
<p>پاکستان کی اننگز کا آغاز مایوس کن رہا۔ فخر زمان اور بابر اعظم 10، 10 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ صائم ایوب صرف 6 رنز بنا سکے۔ اس کے بعد سعد بیگ نے 32 اور سلمان آغا نے 26 رنز بنا کر اننگز کو سنبھالنے کی مختصر کوشش کی۔</p>
<p>شاداب خان 24ویں اوور میں اس وقت بیٹنگ کے لیے آئے جب پاکستان کا اسکور 103 رنز پر 6 وکٹیں تھا۔</p>
<p><strong>شاہین کی شاندار بولنگ</strong></p>
<p>شکست کے بعد انگلینڈ کے 31 اکتوبر کو ہونے والے فائنل میں پہنچنے کے امکانات غیر یقینی ہوگئے ہیں۔ فائنل تک رسائی کے لیے اسے امید کرنا ہوگی کہ پاکستان منگل کو سری لنکا کو شکست دے، جس کے بعد انگلینڈ کو جمعرات کو خود بھی سری لنکا کے خلاف کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔</p>
<p>اس سے قبل انگلینڈ کی پوری ٹیم 46.4 اوورز میں 241 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ اوپنر بین ڈکٹ نے 105 رنز کی سنچری اسکور کرکے اننگز کو سہارا دیا۔</p>
<p>ڈکٹ اور سیم کرن نے پانچویں وکٹ کے لیے 93 رنز کی شراکت قائم کی۔ کرن نے 42 رنز بنائے، جس سے انگلینڈ کو 19 رنز پر 3 وکٹیں گرنے کے بعد سنبھلنے کا موقع ملا۔</p>
<p>ایٹکنسن نے اننگز کے آخری حصے میں ناقابلِ شکست 36 رنز بنائے۔</p>
<p>پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے 46 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ اپنے پہلے ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں رضا اللہ نے 38 رنز کے عوض 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔</p>
<p>ڈکٹ نے اپنی اننگز میں 10 چوکے اور 2 چھکے لگائے، تاہم اسپنر عرفات منہاس کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ عرفات نے 26 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔</p>
<p>ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کرنے والے پاکستانی کپتان شاہین آفریدی نے اننگز کے پہلے ہی اوور میں ٹام بینٹن کو 4 رنز پر آؤٹ کیا۔ یہ شاہین کی ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں 150ویں وکٹ تھی۔</p>
<p>وہ پاکستان کی جانب سے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں 150 یا اس سے زیادہ وکٹیں لینے والے 13ویں بولر بن گئے۔</p>
<p>شاہین نے اپنے اگلے اوور میں جو روٹ کو 5 رنز پر آؤٹ کیا۔ روٹ شارٹ گیند کو کٹ کرنے کی کوشش میں کیچ دے بیٹھے۔</p>
<p>اس کے بعد انگلینڈ کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا جب ہیری بروک صرف ایک رن بنا کر رن آؤٹ ہوگئے۔ بروک نے سری لنکا کے خلاف گزشتہ میچ میں ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین ڈبل سنچری اسکور کی تھی، لیکن ان کی ٹیم کو اس میچ میں حیران کن شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>
<p>ڈکٹ کی پانچویں ایک روزہ بین الاقوامی سنچری اور کرن کی مزاحمتی بیٹنگ نے انگلینڈ کی اننگز کو کچھ دیر کے لیے سہارا دیا، تاہم شاہین نے مزید دو وکٹیں حاصل کرکے انگلینڈ کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293074</guid>
      <pubDate>Mon, 26 Oct 2026 09:35:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/26093354b9ea960.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/26093354b9ea960.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
