<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 25 Oct 2026 16:06:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 25 Oct 2026 16:06:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا ڈسکوز کے ٹیکس کا بوجھ بجلی صارفین پر منتقل کرنے کا منصوبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293055/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے انکم ٹیکس کو بجلی کے نرخوں میں شامل کرکے صارفین سے وصول کرنے کا معاملہ صنعتی شعبے کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ صنعتکاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ خسارے میں چلنے والی کمپنیوں کے ٹیکس کا بوجھ بھی بجلی صارفین کیوں برداشت کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی ذرائع کے مطابق، حکومت نے مبینہ طور پر ڈسکوز کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے انکم ٹیکس کی ادائیگی صارفین سے وصول کی جائے گی، خواہ متعلقہ کمپنی منافع کمائے یا خسارے میں ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے اس مد میں تقریباً 20 ارب روپے جبکہ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) نے تقریباً 15 ارب روپے کی ٹیکس ذمہ داری ظاہر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ کم از کم ٹرن اوور ٹیکس سے متعلق ہے، جس کے تحت ڈسکوز کو اپنے کاروباری حجم پر 1.25 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ یہ ٹیکس منافع کے بجائے کاروباری حجم پر عائد ہوتا ہے، اس لیے خسارے کی صورت میں بھی کمپنی پر ٹیکس واجب الادا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی نمائندوں کا تخمینہ ہے کہ 35 روپے فی یونٹ بجلی کے نرخ پر صرف یہ ٹیکس صارفین پر تقریباً 50 پیسے فی یونٹ اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے۔ کمپنی منافع میں ہو تو یہ بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی شعبے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو ڈسکوز کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے یا انہیں اپنی ٹیکس ذمہ داریاں صارفین کے بجائے اپنے وسائل سے پوری کرنے کا پابند بنایا جائے۔ صنعتکاروں کے مطابق، اخراجات صارفین کو منتقل کرنے سے کمپنیوں کے پاس کارکردگی بہتر بنانے اور اخراجات کم کرنے کی ترغیب محدود ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی نمائندوں نے نجکاری کے بعد بھی اس پالیسی کے تسلسل پر سوال اٹھاتے ہوئے وضاحت طلب کی ہے کہ آیا نجی ملکیت والی کمپنیوں کے ٹیکس بھی صارفین ادا کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، ذرائع کے مطابق، ایف بی آر نے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کو کم از کم ٹرن اوور ٹیکس کے حساب میں سرکاری سبسڈی شامل کرنے کی ہدایت کی ہے، جس کے بعد کمپنی کو تقریباً 3 ارب روپے کی اضافی ٹیکس طلب کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی شعبے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکس ذمہ داریوں، سبسڈی اور بجلی کے نرخوں میں اخراجات کی منتقلی سے متعلق واضح پالیسی وضع کی جائے، خصوصاً اس تناظر میں کہ ڈسکوز کی نجکاری کے بعد صارفین پر مالی بوجھ کس طرح عائد ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے انکم ٹیکس کو بجلی کے نرخوں میں شامل کرکے صارفین سے وصول کرنے کا معاملہ صنعتی شعبے کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ صنعتکاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ خسارے میں چلنے والی کمپنیوں کے ٹیکس کا بوجھ بھی بجلی صارفین کیوں برداشت کریں۔</strong></p>
<p>صنعتی ذرائع کے مطابق، حکومت نے مبینہ طور پر ڈسکوز کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے انکم ٹیکس کی ادائیگی صارفین سے وصول کی جائے گی، خواہ متعلقہ کمپنی منافع کمائے یا خسارے میں ہو۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے اس مد میں تقریباً 20 ارب روپے جبکہ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) نے تقریباً 15 ارب روپے کی ٹیکس ذمہ داری ظاہر کی ہے۔</p>
<p>یہ معاملہ کم از کم ٹرن اوور ٹیکس سے متعلق ہے، جس کے تحت ڈسکوز کو اپنے کاروباری حجم پر 1.25 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ یہ ٹیکس منافع کے بجائے کاروباری حجم پر عائد ہوتا ہے، اس لیے خسارے کی صورت میں بھی کمپنی پر ٹیکس واجب الادا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>صنعتی نمائندوں کا تخمینہ ہے کہ 35 روپے فی یونٹ بجلی کے نرخ پر صرف یہ ٹیکس صارفین پر تقریباً 50 پیسے فی یونٹ اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے۔ کمپنی منافع میں ہو تو یہ بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p>صنعتی شعبے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو ڈسکوز کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے یا انہیں اپنی ٹیکس ذمہ داریاں صارفین کے بجائے اپنے وسائل سے پوری کرنے کا پابند بنایا جائے۔ صنعتکاروں کے مطابق، اخراجات صارفین کو منتقل کرنے سے کمپنیوں کے پاس کارکردگی بہتر بنانے اور اخراجات کم کرنے کی ترغیب محدود ہو جاتی ہے۔</p>
<p>صنعتی نمائندوں نے نجکاری کے بعد بھی اس پالیسی کے تسلسل پر سوال اٹھاتے ہوئے وضاحت طلب کی ہے کہ آیا نجی ملکیت والی کمپنیوں کے ٹیکس بھی صارفین ادا کریں گے۔</p>
<p>دوسری جانب، ذرائع کے مطابق، ایف بی آر نے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کو کم از کم ٹرن اوور ٹیکس کے حساب میں سرکاری سبسڈی شامل کرنے کی ہدایت کی ہے، جس کے بعد کمپنی کو تقریباً 3 ارب روپے کی اضافی ٹیکس طلب کا سامنا ہے۔</p>
<p>صنعتی شعبے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکس ذمہ داریوں، سبسڈی اور بجلی کے نرخوں میں اخراجات کی منتقلی سے متعلق واضح پالیسی وضع کی جائے، خصوصاً اس تناظر میں کہ ڈسکوز کی نجکاری کے بعد صارفین پر مالی بوجھ کس طرح عائد ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026<br></p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293055</guid>
      <pubDate>Sun, 25 Oct 2026 13:31:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹاین این آئی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/251329548e6f3a6.webp" type="image/webp" medium="image" height="661" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/251329548e6f3a6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
