<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 25 Oct 2026 13:20:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 25 Oct 2026 13:20:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گندم کی امدادی قیمت میں اضافے سے کاشت کاروں کو پیداوار بڑھانے میں مدد ملے گی، ماہرین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293046/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زرعی ماہرین نے ہفتے کو کہا کہ حکومت کی جانب سے 2027 کی گندم کی فصل کے لیے 4,500 روپے فی من امدادی قیمت مقرر کرنے کے فیصلے سے کاشت کاروں کو گندم کی کاشت بڑھانے کی ترغیب ملے گی اور ملک میں غذائی تحفظ مضبوط ہوگا۔ گزشتہ سال گندم کی امدادی قیمت 3,500 روپے فی من تھی، جس میں اس سال 1,000 روپے اضافہ کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ امدادی قیمت میں اضافے سے کاشت کاروں کو زرعی مداخل کی بڑھتی ہوئی لاگت اور مہنگائی کے دباؤ کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی، ان کی آمدنی بہتر ہوگی اور گندم کی پیداوار بڑھانے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے سابق سیکریٹری خان فراز نے کہا کہ کاشت کاروں کو گندم کی کاشت کے لیے زیادہ رقبہ مختص کرنے، ملکی پیداوار بڑھانے اور دیہی معیشت کو سہارا دینے کی ترغیب دینے کے لیے مناسب امدادی قیمت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ کسانوں کی بڑی تنظیموں نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے کاشت کاروں کو ان کی پیداوار کا مناسب معاوضہ دلانے اور ملک میں غذائی تحفظ مضبوط بنانے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>زرعی ماہرین نے ہفتے کو کہا کہ حکومت کی جانب سے 2027 کی گندم کی فصل کے لیے 4,500 روپے فی من امدادی قیمت مقرر کرنے کے فیصلے سے کاشت کاروں کو گندم کی کاشت بڑھانے کی ترغیب ملے گی اور ملک میں غذائی تحفظ مضبوط ہوگا۔ گزشتہ سال گندم کی امدادی قیمت 3,500 روپے فی من تھی، جس میں اس سال 1,000 روپے اضافہ کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ امدادی قیمت میں اضافے سے کاشت کاروں کو زرعی مداخل کی بڑھتی ہوئی لاگت اور مہنگائی کے دباؤ کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی، ان کی آمدنی بہتر ہوگی اور گندم کی پیداوار بڑھانے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔</p>
<p>پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے سابق سیکریٹری خان فراز نے کہا کہ کاشت کاروں کو گندم کی کاشت کے لیے زیادہ رقبہ مختص کرنے، ملکی پیداوار بڑھانے اور دیہی معیشت کو سہارا دینے کی ترغیب دینے کے لیے مناسب امدادی قیمت ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ کسانوں کی بڑی تنظیموں نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے کاشت کاروں کو ان کی پیداوار کا مناسب معاوضہ دلانے اور ملک میں غذائی تحفظ مضبوط بنانے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293046</guid>
      <pubDate>Sun, 25 Oct 2026 10:31:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/2510301412b1502.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/2510301412b1502.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
