<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 25 Oct 2026 00:17:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 25 Oct 2026 00:17:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کی امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز، انٹیلی جنس میمو میں انتباہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293041/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جبکہ امریکی شہریوں کے خلاف تہران کی مہلک سازشیں ’’اعلیٰ درجے کے مراحل‘‘ میں داخل ہو چکی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار نے رائٹرز کے مشاہدے میں آنے والے ایک میمو میں خبردار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس جے کلیٹن کی جانب سے یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے رواں ہفتے کے اوائل میں حوثی فورسز کے بڑھتے ہوئے حملوں کے ردعمل میں سعودی عرب میں اپنے سفارتی مشن کے عملے کی تعداد کم کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران جنگ کے نتیجے میں شروع ہونے والے تقریباً آٹھ ماہ پرانے علاقائی تنازع کے ایک محاذ پر حوثی حملوں میں اضافے کے ساتھ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ماہ کے اوائل میں ذرائع نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ اگر امریکا ایران کی سرزمین پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے دوبارہ شروع کرتا ہے تو تہران اس سے زیادہ سخت ردعمل دینے کی تیاری کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے کلیٹن نے 23 اکتوبر کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے نام اپنے پیغام میں لکھا، ’’خاص طور پر، ہمیں مختلف ذرائع سے ایسی انٹیلی جنس معلومات موصول ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں نمایاں طور پر تیز کر دی ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ’’ایرانیوں کی جانب سے امریکی شہریوں کے خلاف مہلک سازشوں کی کوششیں مشرقِ وسطیٰ اور بعض دیگر ممالک میں بھی اعلیٰ درجے کے مراحل میں پہنچ چکی ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر خفیہ نوعیت کے اس میمو کی نقل سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کو بھی بھیجی گئی تھی۔ اس میمو کی خبر سب سے پہلے امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ محکمہ خارجہ نے بدھ کے روز غیر ہنگامی سرکاری امور انجام دینے والے ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب میں امریکی سفارتی مشنز چھوڑنے کا حکم دیا تھا، جبکہ خطے میں دیگر کئی سفارتی مشنز سے بھی اہل خانہ کو واپس بلانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز خلیجی خطے اور مشرقِ وسطیٰ کے ایک درجن سے زائد ممالک کے لیے سفری ہدایات بھی اپ ڈیٹ کیں۔ ان میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، عراق اور اسرائیل شامل ہیں۔ اس اقدام کی وجہ حوثیوں کی جانب سے خطرے میں اضافہ بتائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک امریکی عہدیدار نے کہا، ’’سفارت خانوں میں عملے کی تعیناتی کے معاملے میں ہم سکیورٹی کی صورتِ حال سے متعلق نئی معلومات کا مسلسل جائزہ لیتے رہتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار نے مزید کہا، ’’حوثیوں کے حملوں اور امریکی حکام کو نشانہ بنانے کی ایرانی دہشت گردانہ سازشوں سے متعلق خطرات خطے میں محدود آپریشنز کی حیثیت (آر او اسٹیٹس) کے تحت کام کرنے والے سفارت خانوں کے عملے میں ردوبدل کے ہمارے فیصلوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محدود آپریشنز کی حیثیت کے تحت محکمہ خارجہ کو کسی سفارتی مشن کی حیثیت میں تبدیلی کا باضابطہ عوامی اعلان کیے بغیر عملے سے متعلق فیصلوں میں زیادہ لچک حاصل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران جنگ کو نویں ماہ میں داخل ہونے میں اب ایک ہفتہ باقی ہے۔ اس جنگ نے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی درجہ بندی کو بھی نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جبکہ امریکی شہریوں کے خلاف تہران کی مہلک سازشیں ’’اعلیٰ درجے کے مراحل‘‘ میں داخل ہو چکی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار نے رائٹرز کے مشاہدے میں آنے والے ایک میمو میں خبردار کیا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس جے کلیٹن کی جانب سے یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے رواں ہفتے کے اوائل میں حوثی فورسز کے بڑھتے ہوئے حملوں کے ردعمل میں سعودی عرب میں اپنے سفارتی مشن کے عملے کی تعداد کم کر دی تھی۔</p>
<p>ایران جنگ کے نتیجے میں شروع ہونے والے تقریباً آٹھ ماہ پرانے علاقائی تنازع کے ایک محاذ پر حوثی حملوں میں اضافے کے ساتھ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔</p>
<p>رواں ماہ کے اوائل میں ذرائع نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ اگر امریکا ایران کی سرزمین پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے دوبارہ شروع کرتا ہے تو تہران اس سے زیادہ سخت ردعمل دینے کی تیاری کر رہا ہے۔</p>
<p>جے کلیٹن نے 23 اکتوبر کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے نام اپنے پیغام میں لکھا، ’’خاص طور پر، ہمیں مختلف ذرائع سے ایسی انٹیلی جنس معلومات موصول ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں نمایاں طور پر تیز کر دی ہیں۔‘‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ’’ایرانیوں کی جانب سے امریکی شہریوں کے خلاف مہلک سازشوں کی کوششیں مشرقِ وسطیٰ اور بعض دیگر ممالک میں بھی اعلیٰ درجے کے مراحل میں پہنچ چکی ہیں۔‘‘</p>
<p>غیر خفیہ نوعیت کے اس میمو کی نقل سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کو بھی بھیجی گئی تھی۔ اس میمو کی خبر سب سے پہلے امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے دی تھی۔</p>
<p>امریکی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ محکمہ خارجہ نے بدھ کے روز غیر ہنگامی سرکاری امور انجام دینے والے ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب میں امریکی سفارتی مشنز چھوڑنے کا حکم دیا تھا، جبکہ خطے میں دیگر کئی سفارتی مشنز سے بھی اہل خانہ کو واپس بلانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔</p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز خلیجی خطے اور مشرقِ وسطیٰ کے ایک درجن سے زائد ممالک کے لیے سفری ہدایات بھی اپ ڈیٹ کیں۔ ان میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، عراق اور اسرائیل شامل ہیں۔ اس اقدام کی وجہ حوثیوں کی جانب سے خطرے میں اضافہ بتائی گئی۔</p>
<p>ایک امریکی عہدیدار نے کہا، ’’سفارت خانوں میں عملے کی تعیناتی کے معاملے میں ہم سکیورٹی کی صورتِ حال سے متعلق نئی معلومات کا مسلسل جائزہ لیتے رہتے ہیں۔‘‘</p>
<p>عہدیدار نے مزید کہا، ’’حوثیوں کے حملوں اور امریکی حکام کو نشانہ بنانے کی ایرانی دہشت گردانہ سازشوں سے متعلق خطرات خطے میں محدود آپریشنز کی حیثیت (آر او اسٹیٹس) کے تحت کام کرنے والے سفارت خانوں کے عملے میں ردوبدل کے ہمارے فیصلوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔‘‘</p>
<p>محدود آپریشنز کی حیثیت کے تحت محکمہ خارجہ کو کسی سفارتی مشن کی حیثیت میں تبدیلی کا باضابطہ عوامی اعلان کیے بغیر عملے سے متعلق فیصلوں میں زیادہ لچک حاصل ہوتی ہے۔</p>
<p>ایران جنگ کو نویں ماہ میں داخل ہونے میں اب ایک ہفتہ باقی ہے۔ اس جنگ نے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی درجہ بندی کو بھی نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293041</guid>
      <pubDate>Sat, 24 Oct 2026 22:31:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/24222525d98a494.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/24222525d98a494.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
