<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 24 Oct 2026 18:44:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 24 Oct 2026 18:44:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صنعتی پیداواری لاگت کم کی جائے، سائٹ ایسوسی ایشن کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293027/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر عبد الہادی نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تجارتی معاہدوں اور ترجیحی تجارتی سہولتوں میں تبدیلیوں کے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات کو سخت مسابقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ ملک میں پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے نے بھی برآمدی صنعت کے مسائل بڑھا دیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ صنعتی پیداواری لاگت کم کرنے، کاروباری پالیسیوں میں استحکام لانے اور پاکستانی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان میں عبد الہادی نے کہا کہ پاکستان کی مجموعی برآمدات میں ٹیکسٹائل سیکٹر کا حصہ تقریباً 60 فیصد ہے، تاہم بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات اور عالمی منڈیوں میں سخت مقابلے کے باعث اس اہم شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ برآمدات میں پائیدار اضافہ اور صنعتی بنیاد کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور زیادہ قدر والی مصنوعات کی تیاری پر خصوصی توجہ دینا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات 18 ارب&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.urdupoint.com/daily/latest-news/dollar.html"&gt; ڈالر &lt;/a&gt;رہیں، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 8.5 فیصد ہیں، جبکہ یہ شعبہ ملک میں لگ بھگ 40 فیصد روزگار فراہم کرتا ہے۔ان کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکسٹائل برآمدات گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 5.26 فیصد اضافے کے ساتھ 5.026 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، تاہم پیداواری لاگت میں اضافے اور عالمی مسابقت کے پیش نظر اس رفتار کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر سائٹ ایسوسی ایشن نے نشاندہی کی کہ پاکستان اب بھی یارن، فیبرک اور ہوم ٹیکسٹائل جیسی نسبتاً کم ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات پر زیادہ انحصار کرتا ہے، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں زیادہ آمدنی حاصل کرنے کے مواقع محدود رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنیکل ٹیکسٹائل، برانڈڈ ملبوسات اور دیگر زیادہ منافع بخش مصنوعات کی تیاری و برآمدات بڑھانے کے لیے صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبد الہادی نے کہا کہ کپاس کی مقامی پیداوار میں کمی کے باعث ٹیکسٹائل صنعت کا درآمدی خام مال پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں کپاس کی درآمدات پر اخراجات میں 54.9 فیصد اضافہ ہوا، جس سے پیداواری لاگت پر مزید دباؤ پڑا۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ کپاس کی ملکی پیداوار بڑھانے، زرعی اور صنعتی شعبوں کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور صنعت کو معیاری خام مال مناسب قیمت پر فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی تجارتی معاہدوں اور ترجیحی سہولتوں میں تبدیلیاں پاکستانی برآمدکنندگان کی مسابقتی پوزیشن کو متاثر کر سکتی ہیں۔ان کے مطابق یورپی یونین اور برطانیہ کی منڈیوں تک ترجیحی رسائی پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کے لیے اہم سہارا رہی ہے، تاہم حریف ممالک کو بہتر تجارتی سہولتیں ملنے سے پاکستانی مصنوعات کی مسابقتی برتری کم ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر سائٹ ایسوسی ایشن نے کہاکہ یورپی یونین کے ساتھ جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کی برآمدی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے، جس کے تحت پاکستانی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تقریباً 89 فیصد برآمدات کو یورپی منڈی میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے۔تاہم، ان کے بقول، عالمی تجارتی ترجیحات میں تبدیلیوں کے باعث اس سہولت سے حاصل ہونے والی مسابقتی برتری کو دباؤ کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ یورپی یونین کے بھارت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے اور برطانیہ بھارت تجارتی معاہدے کے تناظر میں بھارتی ٹیکسٹائل مصنوعات کو یورپی اور برطانوی منڈیوں میں بہتر تجارتی رسائی ملنے سے پاکستانی برآمدکنندگان کے لیے مقابلہ مزید سخت ہو سکتا ہے۔اس صورت حال میں پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کی برآمدی صلاحیت اور عالمی منڈیوں میں حصے کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبد الہادی نے حکومت پر زور دیا کہ تجارتی سفارت کاری کو مؤثر بنایا جائے، نئی عالمی منڈیوں کی تلاش کی جائے اور موجودہ تجارتی سہولتوں کے تحفظ کے لیے فعال اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پالیسیوں میں تسلسل، توانائی سمیت پیداواری اخراجات میں کمی، جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری کے ذریعے ہی پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کی عالمی مسابقت کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر عبد الہادی نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تجارتی معاہدوں اور ترجیحی تجارتی سہولتوں میں تبدیلیوں کے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات کو سخت مسابقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ ملک میں پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے نے بھی برآمدی صنعت کے مسائل بڑھا دیے ہیں۔</strong></p>
<p>انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ صنعتی پیداواری لاگت کم کرنے، کاروباری پالیسیوں میں استحکام لانے اور پاکستانی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔</p>
<p>ایک بیان میں عبد الہادی نے کہا کہ پاکستان کی مجموعی برآمدات میں ٹیکسٹائل سیکٹر کا حصہ تقریباً 60 فیصد ہے، تاہم بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات اور عالمی منڈیوں میں سخت مقابلے کے باعث اس اہم شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ برآمدات میں پائیدار اضافہ اور صنعتی بنیاد کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور زیادہ قدر والی مصنوعات کی تیاری پر خصوصی توجہ دینا ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات 18 ارب<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.urdupoint.com/daily/latest-news/dollar.html"> ڈالر </a>رہیں، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 8.5 فیصد ہیں، جبکہ یہ شعبہ ملک میں لگ بھگ 40 فیصد روزگار فراہم کرتا ہے۔ان کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکسٹائل برآمدات گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 5.26 فیصد اضافے کے ساتھ 5.026 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، تاہم پیداواری لاگت میں اضافے اور عالمی مسابقت کے پیش نظر اس رفتار کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔</p>
<p>صدر سائٹ ایسوسی ایشن نے نشاندہی کی کہ پاکستان اب بھی یارن، فیبرک اور ہوم ٹیکسٹائل جیسی نسبتاً کم ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات پر زیادہ انحصار کرتا ہے، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں زیادہ آمدنی حاصل کرنے کے مواقع محدود رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنیکل ٹیکسٹائل، برانڈڈ ملبوسات اور دیگر زیادہ منافع بخش مصنوعات کی تیاری و برآمدات بڑھانے کے لیے صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>عبد الہادی نے کہا کہ کپاس کی مقامی پیداوار میں کمی کے باعث ٹیکسٹائل صنعت کا درآمدی خام مال پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں کپاس کی درآمدات پر اخراجات میں 54.9 فیصد اضافہ ہوا، جس سے پیداواری لاگت پر مزید دباؤ پڑا۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ کپاس کی ملکی پیداوار بڑھانے، زرعی اور صنعتی شعبوں کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور صنعت کو معیاری خام مال مناسب قیمت پر فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی تجارتی معاہدوں اور ترجیحی سہولتوں میں تبدیلیاں پاکستانی برآمدکنندگان کی مسابقتی پوزیشن کو متاثر کر سکتی ہیں۔ان کے مطابق یورپی یونین اور برطانیہ کی منڈیوں تک ترجیحی رسائی پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کے لیے اہم سہارا رہی ہے، تاہم حریف ممالک کو بہتر تجارتی سہولتیں ملنے سے پاکستانی مصنوعات کی مسابقتی برتری کم ہونے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>صدر سائٹ ایسوسی ایشن نے کہاکہ یورپی یونین کے ساتھ جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کی برآمدی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے، جس کے تحت پاکستانی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تقریباً 89 فیصد برآمدات کو یورپی منڈی میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے۔تاہم، ان کے بقول، عالمی تجارتی ترجیحات میں تبدیلیوں کے باعث اس سہولت سے حاصل ہونے والی مسابقتی برتری کو دباؤ کا سامنا ہے۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ یورپی یونین کے بھارت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے اور برطانیہ بھارت تجارتی معاہدے کے تناظر میں بھارتی ٹیکسٹائل مصنوعات کو یورپی اور برطانوی منڈیوں میں بہتر تجارتی رسائی ملنے سے پاکستانی برآمدکنندگان کے لیے مقابلہ مزید سخت ہو سکتا ہے۔اس صورت حال میں پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کی برآمدی صلاحیت اور عالمی منڈیوں میں حصے کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>عبد الہادی نے حکومت پر زور دیا کہ تجارتی سفارت کاری کو مؤثر بنایا جائے، نئی عالمی منڈیوں کی تلاش کی جائے اور موجودہ تجارتی سہولتوں کے تحفظ کے لیے فعال اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پالیسیوں میں تسلسل، توانائی سمیت پیداواری اخراجات میں کمی، جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری کے ذریعے ہی پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کی عالمی مسابقت کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293027</guid>
      <pubDate>Sat, 24 Oct 2026 14:59:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/24145218cfeb5b0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/24145218cfeb5b0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
