<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 24 Oct 2026 18:22:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 24 Oct 2026 18:22:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میر رضا قتل کیس، پولیس کی مبینہ غفلت کی تحقیقات کا حکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293021/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ حکومت نے نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کی عدالتی کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں دوبارہ تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے جبکہ پولیس کی مبینہ غفلت اور واقعے کو چھپانے کی ممکنہ کوششوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک الگ کمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج نیوز کے مطابق وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ جے آئی ٹی کی سربراہی سندھ پولیس کے ڈی آئی جی عرفان بلوچ  کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی وزیر داخلہ کے مطابق جے آئی ٹی میں رینجرز، وفاقی انٹیلی جنس اداروں اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ محکمہ داخلہ سندھ نے رینجرز کو 18ویں گریڈ کے افسر کو ٹیم میں نامزد کرنے کے لیے خط لکھ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے میر رضا قتل کیس کے ابتدائی 10 روز کے دوران پولیس کی جانب سے سامنے آنے والی مبینہ غفلت، کوتاہی اور حقائق کی پردہ پوشی کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی اور صوبائی افسران پر مشتمل ایک اور اعلیٰ سطح تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق یہ کمیٹی واقعے کے فوری بعد پولیس کے مجموعی کردار اور تفتیشی عمل کے دوران ہونے والی بے ضابطگیوں کی جامع تحقیقات کرے گی تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی تشکیل دی گئی اس کمیٹی میں سینئر پولیس افسر نعیم شیخ اور ڈی آئی جی عرفان بلوچ کو شامل کیا گیا ہے جبکہ اس کی سربراہی کے لیے گریڈ 20 یا اس سے سینئر افسر کو نامزد کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے گریڈ 20 کے افسر کی شمولیت کے لیے محکمہ داخلہ سندھ نے وفاقی وزارت داخلہ کو خط ارسال کر دیا ہے تاکہ ایک ہفتے کے اندر متعلقہ افسر کو باقاعدہ نامزد کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ حکومت کا یہ اقدام عدالتی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے تحت قتل کے ابتدائی دنوں میں مقامی پولیس کی جانب سے کیس کو خودکشی کا رنگ دینے اور شواہد کی مبینہ منتقلی یا تلفی کی کوششوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقاتی کمیٹی اپنی رپورٹ مکمل کر کے سندھ حکومت کو پیش کرے گی جس کی روشنی میں غفلت کے مرتکب افسران اور اہلکاروں کے خلاف مزید قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ نے  بتایا کہ جے آئی ٹی کو مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کرنے کا اختیار بھی دیا جائے گا جس کے لیے قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عدالتی کمیشن کی رپورٹ پر نئی کارروائی شروع&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;25 سالہ میر رضا علی 28 جولائی 2026 کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے لاپتا ہوگئے تھے۔ دو روز بعد ان کی لاش گلستانِ جوہر سے ملی جس پر تشدد کے نشانات اور گولیوں کے زخم موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے ابتدائی طور پر خودکشی کا شبہ ظاہر کیا، تاہم اہل خانہ کا مؤقف تھا کہ انہیں اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہل خانہ کے تحفظات کے بعد عدالتی حکم پر 8 اگست کو لاش قبر سے نکال کر دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ بعد ازاں مقدمے کی تفتیش زمان ٹاؤن تھانے منتقل کردی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی حکومت نے ڈی آئی جی ذوالفقار لارک کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے، جو پولیس کے تفتیشی نظام، کرائم سین یونٹ اور دیگر متعلقہ شعبوں کا جائزہ لے کر عدالتی کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں اصلاحات تجویز کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ پولیس کمیشن کی تمام سفارشات پر عمل درآمد کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ داخلہ نے صوبائی پولیس سربراہ کو ہدایت کی ہے کہ سینئر افسران عامر فاروقی اور فرخ لنجار سے متعلق کمیشن کے مشاہدات متعلقہ ڈپٹی انسپکٹر جنرلز تک پہنچائے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ داخلہ نے ایس ایچ او عدیل افضل کو عہدے سے ہٹانے اور معطل کرنے کے ساتھ ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا بھی حکم دیا ہے جبکہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کو مزید پیشہ ورانہ تربیت دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایچ او کامران قریشی کے خلاف شواہد میں ردوبدل کے الزامات پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔ انسپکٹر شبیر لغاری اور انسپکٹر غوث کو بھی معطل کرنے اور ان کے خلاف محکمانہ تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب محکمہ داخلہ نے سیکریٹری صحت کو خط لکھ کر پوسٹ مارٹم اور میڈیکو لیگل کارروائیوں میں مبینہ کوتاہیوں پر ڈاکٹر اسامہ شیخ کو فوری معطل کرنے اور ان کے لیے مزید دو سالہ تربیت کا انتظام کرنے کی درخواست کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ داخلہ نے کارکردگی کی بنیاد پر ذیشان اور کانسٹیبل عارف کے لیے تعریفی اسناد کی سفارش بھی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ عدالتی کمیشن کی رپورٹ مقتول کے اہل خانہ کو فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ صوبائی وزرا پر مشتمل چار رکنی ذیلی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کرنے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کو یقینی بنائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں سندھ حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے ذریعے عدالتی کمیشن قائم کیا۔ کمیشن نے 15 اکتوبر کو اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کی جس کے بعد صوبائی کابینہ نے اسے سرکاری ویب سائٹ پر شائع کرکے عوام کے لیے جاری کردیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ حکومت نے نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کی عدالتی کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں دوبارہ تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے جبکہ پولیس کی مبینہ غفلت اور واقعے کو چھپانے کی ممکنہ کوششوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک الگ کمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔</strong></p>
<p>آج نیوز کے مطابق وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ جے آئی ٹی کی سربراہی سندھ پولیس کے ڈی آئی جی عرفان بلوچ  کریں گے۔</p>
<p>صوبائی وزیر داخلہ کے مطابق جے آئی ٹی میں رینجرز، وفاقی انٹیلی جنس اداروں اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ محکمہ داخلہ سندھ نے رینجرز کو 18ویں گریڈ کے افسر کو ٹیم میں نامزد کرنے کے لیے خط لکھ دیا ہے۔</p>
<p>حکومت نے میر رضا قتل کیس کے ابتدائی 10 روز کے دوران پولیس کی جانب سے سامنے آنے والی مبینہ غفلت، کوتاہی اور حقائق کی پردہ پوشی کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی اور صوبائی افسران پر مشتمل ایک اور اعلیٰ سطح تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق یہ کمیٹی واقعے کے فوری بعد پولیس کے مجموعی کردار اور تفتیشی عمل کے دوران ہونے والی بے ضابطگیوں کی جامع تحقیقات کرے گی تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔</p>
<p>نئی تشکیل دی گئی اس کمیٹی میں سینئر پولیس افسر نعیم شیخ اور ڈی آئی جی عرفان بلوچ کو شامل کیا گیا ہے جبکہ اس کی سربراہی کے لیے گریڈ 20 یا اس سے سینئر افسر کو نامزد کیا جائے گا۔</p>
<p>کمیٹی میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے گریڈ 20 کے افسر کی شمولیت کے لیے محکمہ داخلہ سندھ نے وفاقی وزارت داخلہ کو خط ارسال کر دیا ہے تاکہ ایک ہفتے کے اندر متعلقہ افسر کو باقاعدہ نامزد کیا جا سکے۔</p>
<p>سندھ حکومت کا یہ اقدام عدالتی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے تحت قتل کے ابتدائی دنوں میں مقامی پولیس کی جانب سے کیس کو خودکشی کا رنگ دینے اور شواہد کی مبینہ منتقلی یا تلفی کی کوششوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔</p>
<p>تحقیقاتی کمیٹی اپنی رپورٹ مکمل کر کے سندھ حکومت کو پیش کرے گی جس کی روشنی میں غفلت کے مرتکب افسران اور اہلکاروں کے خلاف مزید قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p>وزیر داخلہ سندھ نے  بتایا کہ جے آئی ٹی کو مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کرنے کا اختیار بھی دیا جائے گا جس کے لیے قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p><strong>عدالتی کمیشن کی رپورٹ پر نئی کارروائی شروع</strong></p>
<p>25 سالہ میر رضا علی 28 جولائی 2026 کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے لاپتا ہوگئے تھے۔ دو روز بعد ان کی لاش گلستانِ جوہر سے ملی جس پر تشدد کے نشانات اور گولیوں کے زخم موجود تھے۔</p>
<p>پولیس نے ابتدائی طور پر خودکشی کا شبہ ظاہر کیا، تاہم اہل خانہ کا مؤقف تھا کہ انہیں اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کردیا گیا۔</p>
<p>اہل خانہ کے تحفظات کے بعد عدالتی حکم پر 8 اگست کو لاش قبر سے نکال کر دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ بعد ازاں مقدمے کی تفتیش زمان ٹاؤن تھانے منتقل کردی گئی۔</p>
<p><strong>پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ</strong></p>
<p>صوبائی حکومت نے ڈی آئی جی ذوالفقار لارک کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے، جو پولیس کے تفتیشی نظام، کرائم سین یونٹ اور دیگر متعلقہ شعبوں کا جائزہ لے کر عدالتی کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں اصلاحات تجویز کرے گی۔</p>
<p>انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ پولیس کمیشن کی تمام سفارشات پر عمل درآمد کرے گی۔</p>
<p>محکمہ داخلہ نے صوبائی پولیس سربراہ کو ہدایت کی ہے کہ سینئر افسران عامر فاروقی اور فرخ لنجار سے متعلق کمیشن کے مشاہدات متعلقہ ڈپٹی انسپکٹر جنرلز تک پہنچائے جائیں۔</p>
<p>محکمہ داخلہ نے ایس ایچ او عدیل افضل کو عہدے سے ہٹانے اور معطل کرنے کے ساتھ ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا بھی حکم دیا ہے جبکہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کو مزید پیشہ ورانہ تربیت دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p>ایس ایچ او کامران قریشی کے خلاف شواہد میں ردوبدل کے الزامات پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔ انسپکٹر شبیر لغاری اور انسپکٹر غوث کو بھی معطل کرنے اور ان کے خلاف محکمانہ تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب محکمہ داخلہ نے سیکریٹری صحت کو خط لکھ کر پوسٹ مارٹم اور میڈیکو لیگل کارروائیوں میں مبینہ کوتاہیوں پر ڈاکٹر اسامہ شیخ کو فوری معطل کرنے اور ان کے لیے مزید دو سالہ تربیت کا انتظام کرنے کی درخواست کی ہے۔</p>
<p>محکمہ داخلہ نے کارکردگی کی بنیاد پر ذیشان اور کانسٹیبل عارف کے لیے تعریفی اسناد کی سفارش بھی کی ہے۔</p>
<p>وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ عدالتی کمیشن کی رپورٹ مقتول کے اہل خانہ کو فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ صوبائی وزرا پر مشتمل چار رکنی ذیلی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کرنے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کو یقینی بنائے گی۔</p>
<p>بعد ازاں سندھ حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے ذریعے عدالتی کمیشن قائم کیا۔ کمیشن نے 15 اکتوبر کو اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کی جس کے بعد صوبائی کابینہ نے اسے سرکاری ویب سائٹ پر شائع کرکے عوام کے لیے جاری کردیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293021</guid>
      <pubDate>Sat, 24 Oct 2026 14:13:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/2414103752f354f.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/2414103752f354f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
