<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 23 Oct 2026 18:14:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 23 Oct 2026 18:14:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک کے 24 شہروں میں فائیو جی کی 1,782 سائٹس نصب کردی گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292984/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے 24 شہروں میں فائیو جی نیٹ ورک کی 1,782 سائٹس نصب کی جاچکی ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ جاز نے قائم کی  ہیں۔ تاہم مقامی مارکیٹ میں دستیاب فائیو جی ٹیکنالوجی سے مطابقت رکھنے والے سستے ترین موبائل فون کی قیمت تقریباً 36 ہزار روپے ہے، جو جدید موبائل سروسز کے وسیع پیمانے پر استعمال کی راہ میں ایک بڑا چیلنج ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق جاز نے 1,015، چائنا موبائل پاکستان (زونگ) نے 640 جبکہ یوفون نے 127 مقامات پر  فائیو جی نیٹ ورک قائم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر مملکت کے مطابق ملک میں ملٹی بینڈ اسپیکٹرم کی نیلامی کے بعد  فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی، جبکہ لائسنسوں پر 19 مارچ 2026 کو دستخط کیے گئے۔ نئی نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز (این جی ایم ایس) لائسنسوں میں شامل شرائط کے تحت مرحلہ وار فائیو جی سروسز متعارف کرانے کے ساتھ موجودہ فور جی خدمات کو بھی بہتر بنانا مقصود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت کے منظور کردہ چار مرحلوں پر مشتمل منصوبے کے تحت  فائیو جی نیٹ ورک کی تنصیب کا آغاز 20 مارچ 2026 کو ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن 24 شہروں میں فائیو جی سروسز شروع کی گئی ہیں یا نیٹ ورک کو وسعت دی جا رہی ہے، ان میں اسلام آباد، کراچی، لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، پشاور، کوئٹہ، ملتان، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، شیخوپورہ، حیدرآباد، ایبٹ آباد، اٹک، جہلم، قصور، کوہاٹ، مردان، رحیم یار خان، ساہیوال، سکھر، صوابی، چترال اور گجرات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں سب سے زیادہ 385 مقامات پر فائیو جی نیٹ ورک کےلیے سائٹس نصب کی گئی ہیں  جبکہ لاہور 373 اور اسلام آباد 276 مقامات کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ اسی طرح فیصل آباد میں 144، پشاور میں 122، راولپنڈی میں 108، ملتان میں 103، سیالکوٹ میں 87، کوئٹہ میں 65 اور شیخوپورہ میں 55 مقامات پرفائیو جی نیٹ ورک موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی، لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں جاز کو نیٹ ورک کی تنصیب میں برتری حاصل ہے جبکہ پشاور، کوئٹہ، شیخوپورہ اور سیالکوٹ میں زونگ کی موجودگی زیادہ نمایاں ہے۔ یوفون کی پیش رفت نسبتاً محدود ہے اور اس نے 24 شہروں میں مجموعی طور پر 127 مقامات پر نیٹ ورک قائم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر مملکت کے مطابق تمام سیلولر موبائل آپریٹرز نے 2020 سے 2025 کے دوران ملک بھر میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے تکنیکی تجربات کیے تھے۔ نیٹ ورک کی تنصیب سے متعلق شرائط کے تحت پہلے مرحلے میں وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں سروسز کی فراہمی لازمی ہے، جبکہ دیگر شہروں میں توسیع کا فیصلہ آپریٹرز اپنے کاروباری ماڈلز کے مطابق کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے اپنے جواب میں عام صارفین کے لیے فائیو جی سروسز کو قابلِ برداشت بنانے کی کوئی حتمی مدت نہیں بتائی، تاہم مقامی طور پر اسمبل کیے جانے والے فائیو جی سے مطابقت رکھنے والے اسمارٹ فونز کی بڑھتی ہوئی دستیابی کو رسائی کی لاگت کم کرنے میں معاون قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر مملکت کے مطابق جنوری سے اگست 2026 کے دوران مقامی سطح پرفائیو جی ٹیکنالوجی سے مطابقت رکھنے والے 607,093 موبائل فون اسمبل کیے گئے، جبکہ اس وقت دستیاب سستا ترین موزوں فون تقریباً 36 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر مملکت نے واضح کیا کہ فور جی ٹیکنالوجی سے مطابقت رکھنے والے موجودہ سم کارڈز کوفائیو جی سروسز استعمال کرنے کے لیے تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں لیکن اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لیے صارفین کے پاس فائیو جی سے مطابقت رکھنے والا موبائل فون اور ایسے علاقے میں نیٹ ورک کی کوریج ہونا ضروری ہے جہاں فائیو جی سروس دستیاب ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی سطح پر موبائل فونز کی اسمبلنگ کے بڑھتے ہوئے نظام سے توقع ہے کہ موزوں فونز کی دستیابی میں اضافہ ہوگا اور وقت کے ساتھ صارفین کے لیے اس ٹیکنالوجی تک رسائی زیادہ قابلِ برداشت بن سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائیو جی نیٹ ورک کی تنصیب پاکستان میں تیز رفتار موبائل براڈبینڈ رابطوں کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ تاہم نیٹ ورک کی محدود جغرافیائی رسائی اورفائیو جی سے مطابقت رکھنے والے اسمارٹ فونز کی قیمتیں اب بھی بڑے شہری مراکز سے باہر اس سروس کو وسعت دینے اور آبادی کے وسیع تر طبقے تک پہنچانے میں اہم رکاوٹیں ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے 24 شہروں میں فائیو جی نیٹ ورک کی 1,782 سائٹس نصب کی جاچکی ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ جاز نے قائم کی  ہیں۔ تاہم مقامی مارکیٹ میں دستیاب فائیو جی ٹیکنالوجی سے مطابقت رکھنے والے سستے ترین موبائل فون کی قیمت تقریباً 36 ہزار روپے ہے، جو جدید موبائل سروسز کے وسیع پیمانے پر استعمال کی راہ میں ایک بڑا چیلنج ہے۔</strong></p>
<p>وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق جاز نے 1,015، چائنا موبائل پاکستان (زونگ) نے 640 جبکہ یوفون نے 127 مقامات پر  فائیو جی نیٹ ورک قائم کیا ہے۔</p>
<p>وزیر مملکت کے مطابق ملک میں ملٹی بینڈ اسپیکٹرم کی نیلامی کے بعد  فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی، جبکہ لائسنسوں پر 19 مارچ 2026 کو دستخط کیے گئے۔ نئی نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز (این جی ایم ایس) لائسنسوں میں شامل شرائط کے تحت مرحلہ وار فائیو جی سروسز متعارف کرانے کے ساتھ موجودہ فور جی خدمات کو بھی بہتر بنانا مقصود ہے۔</p>
<p>وفاقی حکومت کے منظور کردہ چار مرحلوں پر مشتمل منصوبے کے تحت  فائیو جی نیٹ ورک کی تنصیب کا آغاز 20 مارچ 2026 کو ہوا۔</p>
<p>جن 24 شہروں میں فائیو جی سروسز شروع کی گئی ہیں یا نیٹ ورک کو وسعت دی جا رہی ہے، ان میں اسلام آباد، کراچی، لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، پشاور، کوئٹہ، ملتان، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، شیخوپورہ، حیدرآباد، ایبٹ آباد، اٹک، جہلم، قصور، کوہاٹ، مردان، رحیم یار خان، ساہیوال، سکھر، صوابی، چترال اور گجرات شامل ہیں۔</p>
<p>کراچی میں سب سے زیادہ 385 مقامات پر فائیو جی نیٹ ورک کےلیے سائٹس نصب کی گئی ہیں  جبکہ لاہور 373 اور اسلام آباد 276 مقامات کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ اسی طرح فیصل آباد میں 144، پشاور میں 122، راولپنڈی میں 108، ملتان میں 103، سیالکوٹ میں 87، کوئٹہ میں 65 اور شیخوپورہ میں 55 مقامات پرفائیو جی نیٹ ورک موجود ہے۔</p>
<p>کراچی، لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں جاز کو نیٹ ورک کی تنصیب میں برتری حاصل ہے جبکہ پشاور، کوئٹہ، شیخوپورہ اور سیالکوٹ میں زونگ کی موجودگی زیادہ نمایاں ہے۔ یوفون کی پیش رفت نسبتاً محدود ہے اور اس نے 24 شہروں میں مجموعی طور پر 127 مقامات پر نیٹ ورک قائم کیا ہے۔</p>
<p>وزیر مملکت کے مطابق تمام سیلولر موبائل آپریٹرز نے 2020 سے 2025 کے دوران ملک بھر میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے تکنیکی تجربات کیے تھے۔ نیٹ ورک کی تنصیب سے متعلق شرائط کے تحت پہلے مرحلے میں وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں سروسز کی فراہمی لازمی ہے، جبکہ دیگر شہروں میں توسیع کا فیصلہ آپریٹرز اپنے کاروباری ماڈلز کے مطابق کر سکتے ہیں۔</p>
<p>حکومت نے اپنے جواب میں عام صارفین کے لیے فائیو جی سروسز کو قابلِ برداشت بنانے کی کوئی حتمی مدت نہیں بتائی، تاہم مقامی طور پر اسمبل کیے جانے والے فائیو جی سے مطابقت رکھنے والے اسمارٹ فونز کی بڑھتی ہوئی دستیابی کو رسائی کی لاگت کم کرنے میں معاون قرار دیا ہے۔</p>
<p>وزیر مملکت کے مطابق جنوری سے اگست 2026 کے دوران مقامی سطح پرفائیو جی ٹیکنالوجی سے مطابقت رکھنے والے 607,093 موبائل فون اسمبل کیے گئے، جبکہ اس وقت دستیاب سستا ترین موزوں فون تقریباً 36 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔</p>
<p>وزیر مملکت نے واضح کیا کہ فور جی ٹیکنالوجی سے مطابقت رکھنے والے موجودہ سم کارڈز کوفائیو جی سروسز استعمال کرنے کے لیے تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں لیکن اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لیے صارفین کے پاس فائیو جی سے مطابقت رکھنے والا موبائل فون اور ایسے علاقے میں نیٹ ورک کی کوریج ہونا ضروری ہے جہاں فائیو جی سروس دستیاب ہو۔</p>
<p>مقامی سطح پر موبائل فونز کی اسمبلنگ کے بڑھتے ہوئے نظام سے توقع ہے کہ موزوں فونز کی دستیابی میں اضافہ ہوگا اور وقت کے ساتھ صارفین کے لیے اس ٹیکنالوجی تک رسائی زیادہ قابلِ برداشت بن سکے گی۔</p>
<p>فائیو جی نیٹ ورک کی تنصیب پاکستان میں تیز رفتار موبائل براڈبینڈ رابطوں کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ تاہم نیٹ ورک کی محدود جغرافیائی رسائی اورفائیو جی سے مطابقت رکھنے والے اسمارٹ فونز کی قیمتیں اب بھی بڑے شہری مراکز سے باہر اس سروس کو وسعت دینے اور آبادی کے وسیع تر طبقے تک پہنچانے میں اہم رکاوٹیں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292984</guid>
      <pubDate>Fri, 23 Oct 2026 15:14:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/23144206511efe9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/23144206511efe9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
