<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 23 Oct 2026 15:20:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 23 Oct 2026 15:20:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایل پی جی کی قیمت 600 روپے کلو تک پہنچنے پر تشویش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292971/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم (پی بی آئی ایف) اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین اور ایف پی سی سی آئی کی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے سربراہ میاں زاہد حسین نے ملک کی مختلف مارکیٹوں میں ایل پی جی کی قیمت 500 سے 600 روپے فی کلوگرام تک پہنچنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ اوگرا کی جانب سے اکتوبر کے لیے مقرر کردہ قیمت 279.34 روپے فی کلوگرام ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ جغرافیائی سیاسی بحران کے باعث درآمدی ایل این جی کی فراہمی میں پہلے ہی تعطل اور غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ اکتوبر میں ایل این جی کا ایک جہاز پہنچنے سے اگرچہ کچھ ریلیف ملا، تاہم موسمِ سرما کے دوران بلاتعطل فراہمی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پائپ لائنوں کے ذریعے گیس کی فراہمی میں تعطل کے باعث گھریلو اور تجارتی صارفین ایل پی جی استعمال کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، ایسے میں اس متبادل ایندھن کی قلت اور بے تحاشا قیمتیں توانائی کے تحفظ کے لیے مزید خطرہ بن جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ایل پی جی کی مقررہ اور مارکیٹ قیمتوں کے درمیان بڑے فرق کے پیشِ نظر رسد، تقسیم اور نگرانی کے نظام میں فوری بہتری لانے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے کہا کہ ایل پی جی کی سرکاری قیمت ستمبر میں 258.65 روپے فی کلوگرام سے تقریباً 8 فیصد اضافے کے بعد اکتوبر میں 279.34 روپے فی کلوگرام ہوگئی، اس کے برعکس مارکیٹ میں قیمت 500 سے 600 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی جو اکتوبر کے لیے مقررہ قیمت سے تقریباً 79 سے 114.8 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اس قدر فرق کی وضاحت صرف سرکاری نرخ میں ماہانہ اضافے سے نہیں کی جاسکتی۔ رسد کے سلسلے میں رکاوٹوں، درآمد اور نقل وحمل کے اخراجات، نیز تقسیم کے مختلف مراحل پر وصول کیے جانے والے منافع کا الگ سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ 11.8 کلوگرام کے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی مقررہ قیمت ستمبر کے 3,052.09 روپے سے صرف 244.14 روپے اضافے کے بعد اکتوبر میں 3,296.23 روپے ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، مارکیٹ میں 500 سے 600 روپے فی کلوگرام کے نرخ کے حساب سے اسی وزن کے سلنڈر کی قیمت 5,900 سے 7,080 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح صارفین فی سلنڈر تقریباً 2,600 سے 3,800 روپے اضافی ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے یہ اضافی خرچ خوراک، بچوں کی تعلیم یا طبی علاج کے بجٹ میں کٹوتی کا سبب بنتا ہے جبکہ موسمِ سرما میں کھپت بڑھنے سے مالی بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے کہا کہ پلاننگ کمیشن کے سالانہ منصوبے 2025-26 کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران ملک میں ایل پی جی کی مقامی فراہمی 7 لاکھ 30 ہزار ٹن رہی، جو یومیہ اوسطاً 2 ہزار ٹن بنتی ہے، جبکہ درآمدات کا حجم 15 لاکھ ٹن تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کسی اہم تجارتی راستے میں رکاوٹ، عالمی قیمتوں میں اضافہ یا نقل و حمل میں تاخیر پاکستان میں ایل پی جی کی رسد کو تیزی سے متاثر کر سکتی ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ 19 ستمبر کو ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کی معطلی سے ایل پی جی کی دستیابی متاثر ہوئی جبکہ علاقائی تنازع اور سمندری نقل و حمل کو لاحق خطرات متبادل ذرائع سے درآمدات کو بھی مہنگا کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ اوگرا کی 2023-24 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کی یومیہ فروخت بھی تقریباً 5 ہزار ٹن تھی۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ سکیورٹی تقاضوں کے مطابق قانونی طور پر درآمد کیے گئے مال کی کلیئرنس یقینی بنانے کے لیے محفوظ انتظامات کیے جائیں اور متبادل ذرائع سے رسد کا بندوبست کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم ڈویژن، وزارتِ تجارت، اوگرا اور کسٹمز کے درمیان مؤثر رابطہ کاری سے قومی سلامتی پر سمجھوتہ کیے بغیر غیر ضروری تاخیر اور اضافی اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم (پی بی آئی ایف) اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین اور ایف پی سی سی آئی کی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے سربراہ میاں زاہد حسین نے ملک کی مختلف مارکیٹوں میں ایل پی جی کی قیمت 500 سے 600 روپے فی کلوگرام تک پہنچنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ اوگرا کی جانب سے اکتوبر کے لیے مقرر کردہ قیمت 279.34 روپے فی کلوگرام ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ جغرافیائی سیاسی بحران کے باعث درآمدی ایل این جی کی فراہمی میں پہلے ہی تعطل اور غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ اکتوبر میں ایل این جی کا ایک جہاز پہنچنے سے اگرچہ کچھ ریلیف ملا، تاہم موسمِ سرما کے دوران بلاتعطل فراہمی ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پائپ لائنوں کے ذریعے گیس کی فراہمی میں تعطل کے باعث گھریلو اور تجارتی صارفین ایل پی جی استعمال کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، ایسے میں اس متبادل ایندھن کی قلت اور بے تحاشا قیمتیں توانائی کے تحفظ کے لیے مزید خطرہ بن جاتی ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ایل پی جی کی مقررہ اور مارکیٹ قیمتوں کے درمیان بڑے فرق کے پیشِ نظر رسد، تقسیم اور نگرانی کے نظام میں فوری بہتری لانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے کہا کہ ایل پی جی کی سرکاری قیمت ستمبر میں 258.65 روپے فی کلوگرام سے تقریباً 8 فیصد اضافے کے بعد اکتوبر میں 279.34 روپے فی کلوگرام ہوگئی، اس کے برعکس مارکیٹ میں قیمت 500 سے 600 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی جو اکتوبر کے لیے مقررہ قیمت سے تقریباً 79 سے 114.8 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اس قدر فرق کی وضاحت صرف سرکاری نرخ میں ماہانہ اضافے سے نہیں کی جاسکتی۔ رسد کے سلسلے میں رکاوٹوں، درآمد اور نقل وحمل کے اخراجات، نیز تقسیم کے مختلف مراحل پر وصول کیے جانے والے منافع کا الگ سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ 11.8 کلوگرام کے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی مقررہ قیمت ستمبر کے 3,052.09 روپے سے صرف 244.14 روپے اضافے کے بعد اکتوبر میں 3,296.23 روپے ہوئی۔</p>
<p>تاہم، مارکیٹ میں 500 سے 600 روپے فی کلوگرام کے نرخ کے حساب سے اسی وزن کے سلنڈر کی قیمت 5,900 سے 7,080 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح صارفین فی سلنڈر تقریباً 2,600 سے 3,800 روپے اضافی ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے یہ اضافی خرچ خوراک، بچوں کی تعلیم یا طبی علاج کے بجٹ میں کٹوتی کا سبب بنتا ہے جبکہ موسمِ سرما میں کھپت بڑھنے سے مالی بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے کہا کہ پلاننگ کمیشن کے سالانہ منصوبے 2025-26 کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران ملک میں ایل پی جی کی مقامی فراہمی 7 لاکھ 30 ہزار ٹن رہی، جو یومیہ اوسطاً 2 ہزار ٹن بنتی ہے، جبکہ درآمدات کا حجم 15 لاکھ ٹن تھا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ کسی اہم تجارتی راستے میں رکاوٹ، عالمی قیمتوں میں اضافہ یا نقل و حمل میں تاخیر پاکستان میں ایل پی جی کی رسد کو تیزی سے متاثر کر سکتی ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ 19 ستمبر کو ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کی معطلی سے ایل پی جی کی دستیابی متاثر ہوئی جبکہ علاقائی تنازع اور سمندری نقل و حمل کو لاحق خطرات متبادل ذرائع سے درآمدات کو بھی مہنگا کر سکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ اوگرا کی 2023-24 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کی یومیہ فروخت بھی تقریباً 5 ہزار ٹن تھی۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ سکیورٹی تقاضوں کے مطابق قانونی طور پر درآمد کیے گئے مال کی کلیئرنس یقینی بنانے کے لیے محفوظ انتظامات کیے جائیں اور متبادل ذرائع سے رسد کا بندوبست کیا جائے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم ڈویژن، وزارتِ تجارت، اوگرا اور کسٹمز کے درمیان مؤثر رابطہ کاری سے قومی سلامتی پر سمجھوتہ کیے بغیر غیر ضروری تاخیر اور اضافی اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292971</guid>
      <pubDate>Fri, 23 Oct 2026 12:31:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/2312282704bab26.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/2312282704bab26.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
