<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 23 Oct 2026 13:07:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 23 Oct 2026 13:07:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برآمدات میں اضافے کے لیے توانائی اخراجات، ٹیکسوں اور تجارتی رکاوٹوں پر تجاویز وزیراعظم کو پیش کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292956/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارت تجارت نے پاکستانی برآمدات کی مسابقت بہتر بنانے کے لیے توانائی کے اخراجات، ٹیکسوں، ضابطہ جاتی فیسوں اور عالمی منڈیوں تک رسائی سے متعلق برآمد کنندگان کی تجاویز یکجا کرکے وزیراعظم کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ جمعرات کو وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں کیا گیا، جس میں وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی، اعلیٰ سرکاری حکام اور ممتاز برآمد کنندگان نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں گزشتہ مشاورت کے دوران اٹھائے گئے مسائل پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور متعلقہ سرکاری اداروں کے جوابات پر غور کیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ صنعتی توانائی کی بلند قیمتیں، ٹیکسوں کا بوجھ، مالی معاونت کی مشکلات، ضابطہ جاتی طریقہ کار، سرٹیفکیشن فیس اور عالمی منڈیوں تک محدود رسائی برآمدات کی راہ میں رکاوٹیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال خان نے کہا کہ نجی شعبے سے مشاورت کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ضروری ہے، کیونکہ معمولی ضابطہ جاتی اخراجات اور پیچیدہ طریقہ کار بھی پاکستانی مصنوعات کی عالمی مسابقت متاثر کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پاکستان چین، جنوبی کوریا، ترکیہ، جاپان اور ویتنام سمیت اہم تجارتی شراکت داروں سے پاکستانی برآمدات کے لیے بہتر ترجیحی سہولتیں حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ترکیہ کو پاکستانی ٹائروں کی برآمدات کے حوالے سے بھی مسائل کا جائزہ لیا گیا اور برآمد کنندگان سے متعلقہ مصنوعات کی تفصیلات اور ایچ ایس کوڈز فراہم کرنے کو کہا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں صنعتی گیس لیوی، پنجاب انفرااسٹرکچر سیس، برآمدی مراعات کے لیے اہلیت کی شرائط، سپر ٹیکس میں ممکنہ رعایت اور سیلز ٹیکس و ریفنڈز کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ ان تجاویز پر وزارتِ خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے مشاورت کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدی سہولت اسکیم میں طریقہ کار آسان بنانے، برآمدات بڑھانے کے لیے مراعات بہتر کرنے اور محکمہ تحفظِ نباتات کی سرٹیفکیشن فیس اور دستاویزات میں تبدیلی کے اضافی اخراجات پر نظرثانی کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکا نے کاروباری ویزوں، بیرونِ ملک سفر سے متعلق پابندیوں اور انشورنس اخراجات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ حکام کے مطابق تصدیق شدہ برآمد کنندگان کے لیے ویزا کارروائی تیز کرنے کے امکانات تلاش کیے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں مویشیوں اور ڈیری مصنوعات کی برآمدات بڑھانے اور یورپی منڈی تک ترجیحی رسائی برقرار رکھنے کے لیے جی ایس پی پلس شرائط پر عمل درآمد کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ تجارت تمام تجاویز کو یکجا کرکے وزیراعظم کے سامنے پیش کرے گی۔ جام کمال خان نے برآمد کنندگان سے مسائل، مجوزہ حل اور مطلوبہ حکومتی اقدامات پر مشتمل تحریری سفارشات دینے کی اپیل بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارت تجارت نے پاکستانی برآمدات کی مسابقت بہتر بنانے کے لیے توانائی کے اخراجات، ٹیکسوں، ضابطہ جاتی فیسوں اور عالمی منڈیوں تک رسائی سے متعلق برآمد کنندگان کی تجاویز یکجا کرکے وزیراعظم کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ فیصلہ جمعرات کو وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں کیا گیا، جس میں وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی، اعلیٰ سرکاری حکام اور ممتاز برآمد کنندگان نے شرکت کی۔</p>
<p>اجلاس میں گزشتہ مشاورت کے دوران اٹھائے گئے مسائل پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور متعلقہ سرکاری اداروں کے جوابات پر غور کیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ صنعتی توانائی کی بلند قیمتیں، ٹیکسوں کا بوجھ، مالی معاونت کی مشکلات، ضابطہ جاتی طریقہ کار، سرٹیفکیشن فیس اور عالمی منڈیوں تک محدود رسائی برآمدات کی راہ میں رکاوٹیں ہیں۔</p>
<p>جام کمال خان نے کہا کہ نجی شعبے سے مشاورت کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ضروری ہے، کیونکہ معمولی ضابطہ جاتی اخراجات اور پیچیدہ طریقہ کار بھی پاکستانی مصنوعات کی عالمی مسابقت متاثر کرسکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پاکستان چین، جنوبی کوریا، ترکیہ، جاپان اور ویتنام سمیت اہم تجارتی شراکت داروں سے پاکستانی برآمدات کے لیے بہتر ترجیحی سہولتیں حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ترکیہ کو پاکستانی ٹائروں کی برآمدات کے حوالے سے بھی مسائل کا جائزہ لیا گیا اور برآمد کنندگان سے متعلقہ مصنوعات کی تفصیلات اور ایچ ایس کوڈز فراہم کرنے کو کہا گیا۔</p>
<p>اجلاس میں صنعتی گیس لیوی، پنجاب انفرااسٹرکچر سیس، برآمدی مراعات کے لیے اہلیت کی شرائط، سپر ٹیکس میں ممکنہ رعایت اور سیلز ٹیکس و ریفنڈز کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ ان تجاویز پر وزارتِ خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے مشاورت کی جائے گی۔</p>
<p>برآمدی سہولت اسکیم میں طریقہ کار آسان بنانے، برآمدات بڑھانے کے لیے مراعات بہتر کرنے اور محکمہ تحفظِ نباتات کی سرٹیفکیشن فیس اور دستاویزات میں تبدیلی کے اضافی اخراجات پر نظرثانی کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔</p>
<p>شرکا نے کاروباری ویزوں، بیرونِ ملک سفر سے متعلق پابندیوں اور انشورنس اخراجات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ حکام کے مطابق تصدیق شدہ برآمد کنندگان کے لیے ویزا کارروائی تیز کرنے کے امکانات تلاش کیے جارہے ہیں۔</p>
<p>اجلاس میں مویشیوں اور ڈیری مصنوعات کی برآمدات بڑھانے اور یورپی منڈی تک ترجیحی رسائی برقرار رکھنے کے لیے جی ایس پی پلس شرائط پر عمل درآمد کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔</p>
<p>وزارتِ تجارت تمام تجاویز کو یکجا کرکے وزیراعظم کے سامنے پیش کرے گی۔ جام کمال خان نے برآمد کنندگان سے مسائل، مجوزہ حل اور مطلوبہ حکومتی اقدامات پر مشتمل تحریری سفارشات دینے کی اپیل بھی کی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292956</guid>
      <pubDate>Fri, 23 Oct 2026 09:44:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/23094236aaf5d0c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/23094236aaf5d0c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
