<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 22 Oct 2026 19:36:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 22 Oct 2026 19:36:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مصنوعی ذہانت امیر اور غریب ممالک کے درمیان خلیج بڑھا سکتی ہے، آئی ایم ایف، او ای سی ڈی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292940/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مصنوعی ذہانت (اے آئی) عالمی معاشی ترقی کو فروغ دے سکتی ہے، تاہم بجلی، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور مہارتوں تک رسائی بہتر نہ ہونے کی صورت میں غریب ممالک، چھوٹی کمپنیوں اور نوجوان ملازمین کے پیچھے رہ جانے کا خطرہ ہے۔ یہ انتباہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کے حکام نے دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چِپس اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری عالمی ترقی اور اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی کا سبب بنی ہے لیکن بڑھتے ہوئے قرضوں  کی لاگت کے باعث خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ کمپنیاں اس بھاری سرمایہ کاری سے مناسب منافع حاصل کر سکیں گی یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے مطابق مصنوعی ذہانت کا مؤثر استعمال درمیانی مدت میں سالانہ عالمی ترقی میں 0.5 فیصد تک اضافہ کرسکتا ہے، جبکہ او ای سی ڈی کا تخمینہ ہے کہ رکن ممالک میں سالانہ پیداواری نمو 0.4 سے 1.2 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او ای سی ڈی کے چیف اکانومسٹ اسٹیفانو اسکارپیٹا کے مطابق کاروباری اداروں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال عام صارفین کے مقابلے میں محدود ہے اور اس کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے میں نمایاں فرق موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 40 فیصد ملازمتیں مصنوعی ذہانت سے متاثر ہوسکتی ہیں۔ بارکلیز نے ٹیکنالوجی کے ذریعے اخراجات کم کرنے کے لیے رواں سال تقریباً 5 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے  جبکہ ای بے اور کوالکوم میں بھی ملازمین کی تعداد کم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مصنوعی ذہانت (اے آئی) عالمی معاشی ترقی کو فروغ دے سکتی ہے، تاہم بجلی، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور مہارتوں تک رسائی بہتر نہ ہونے کی صورت میں غریب ممالک، چھوٹی کمپنیوں اور نوجوان ملازمین کے پیچھے رہ جانے کا خطرہ ہے۔ یہ انتباہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کے حکام نے دیا ہے۔</strong></p>
<p>چِپس اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری عالمی ترقی اور اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی کا سبب بنی ہے لیکن بڑھتے ہوئے قرضوں  کی لاگت کے باعث خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ کمپنیاں اس بھاری سرمایہ کاری سے مناسب منافع حاصل کر سکیں گی یا نہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے مطابق مصنوعی ذہانت کا مؤثر استعمال درمیانی مدت میں سالانہ عالمی ترقی میں 0.5 فیصد تک اضافہ کرسکتا ہے، جبکہ او ای سی ڈی کا تخمینہ ہے کہ رکن ممالک میں سالانہ پیداواری نمو 0.4 سے 1.2 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔</p>
<p>او ای سی ڈی کے چیف اکانومسٹ اسٹیفانو اسکارپیٹا کے مطابق کاروباری اداروں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال عام صارفین کے مقابلے میں محدود ہے اور اس کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے میں نمایاں فرق موجود ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 40 فیصد ملازمتیں مصنوعی ذہانت سے متاثر ہوسکتی ہیں۔ بارکلیز نے ٹیکنالوجی کے ذریعے اخراجات کم کرنے کے لیے رواں سال تقریباً 5 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے  جبکہ ای بے اور کوالکوم میں بھی ملازمین کی تعداد کم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292940</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Oct 2026 17:56:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/22174310cade2e4.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/22174310cade2e4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
