<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 22 Oct 2026 17:49:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 22 Oct 2026 17:49:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نومبر میں خام پام آئل کی قیمت 1,128 ڈالر فی ٹن سے زائد رہنے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292925/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملائیشین پام آئل کونسل نے جمعرات کو کہا کہ نومبر میں خام پام آئل کی قیمتیں 4,600 رنگٹ (1,128 ڈالر) فی میٹرک ٹن سے اوپر رہنے کا امکان ہے۔ اس کی وجوہات میں برآمدی طلب میں اضافہ، بایو ڈیزل کی مسلسل کھپت اور موسم کے باعث پیداوار میں کمی شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونسل کے بیان کے مطابق پیداوار میں متوقع کمی سے پام آئل کے موجودہ ذخائر گھٹنے کا امکان ہے جبکہ ملائیشیا میں پام آئل کے ذخائر نومبر 2026 سے فروری 2027 تک مسلسل کم ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملائیشین پام آئل کونسل (ایم پی او سی) نے کہا کہ اس صورتِ حال سے 2026 کی آخری سہ ماہی میں پام آئل کی قیمتوں کو مزید سہارا ملنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونسل کے مطابق ستمبر میں پام آئل کی برآمدات میں کمزوری عارضی ثابت ہونے کا امکان ہے جبکہ اکتوبر سے دسمبر کے دوران ترسیلات میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم پی او سی نے کہا کہ آنے والے مہینوں میں بھارت اور چین کی جانب سے پام آئل کی درآمدات پر زیادہ انحصار کیے جانے کا امکان ہے کیونکہ سورج مکھی کے تیل اور سویا بین آئل کی رسد محدود ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونسل کے مطابق توانائی کی بلند قیمتیں خوردنی تیل کی عالمی منڈی کے لیے اہم معاون عنصر ہیں جو دنیا بھر میں بایو ڈیزل میں تیل کی آمیزش بڑھانے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، کونسل نے خبردار کیا کہ توانائی کی قیمتوں میں کمی اور مہنگائی و معاشی دباؤ کے باعث غذائی شعبے میں عالمی سطح پر خوردنی تیل کی توقع سے کم کھپت قیمتوں کے لیے بڑے منفی خطرات ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملائیشین پام آئل کونسل نے جمعرات کو کہا کہ نومبر میں خام پام آئل کی قیمتیں 4,600 رنگٹ (1,128 ڈالر) فی میٹرک ٹن سے اوپر رہنے کا امکان ہے۔ اس کی وجوہات میں برآمدی طلب میں اضافہ، بایو ڈیزل کی مسلسل کھپت اور موسم کے باعث پیداوار میں کمی شامل ہیں۔</strong></p>
<p>کونسل کے بیان کے مطابق پیداوار میں متوقع کمی سے پام آئل کے موجودہ ذخائر گھٹنے کا امکان ہے جبکہ ملائیشیا میں پام آئل کے ذخائر نومبر 2026 سے فروری 2027 تک مسلسل کم ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>ملائیشین پام آئل کونسل (ایم پی او سی) نے کہا کہ اس صورتِ حال سے 2026 کی آخری سہ ماہی میں پام آئل کی قیمتوں کو مزید سہارا ملنے کا امکان ہے۔</p>
<p>کونسل کے مطابق ستمبر میں پام آئل کی برآمدات میں کمزوری عارضی ثابت ہونے کا امکان ہے جبکہ اکتوبر سے دسمبر کے دوران ترسیلات میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔</p>
<p>ایم پی او سی نے کہا کہ آنے والے مہینوں میں بھارت اور چین کی جانب سے پام آئل کی درآمدات پر زیادہ انحصار کیے جانے کا امکان ہے کیونکہ سورج مکھی کے تیل اور سویا بین آئل کی رسد محدود ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>کونسل کے مطابق توانائی کی بلند قیمتیں خوردنی تیل کی عالمی منڈی کے لیے اہم معاون عنصر ہیں جو دنیا بھر میں بایو ڈیزل میں تیل کی آمیزش بڑھانے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں.</p>
<p>تاہم، کونسل نے خبردار کیا کہ توانائی کی قیمتوں میں کمی اور مہنگائی و معاشی دباؤ کے باعث غذائی شعبے میں عالمی سطح پر خوردنی تیل کی توقع سے کم کھپت قیمتوں کے لیے بڑے منفی خطرات ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292925</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Oct 2026 14:09:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/2214074291f0a3b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/2214074291f0a3b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
