<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 22 Oct 2026 16:18:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 22 Oct 2026 16:18:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیز تر اصلاحات سے 2050ء تک پاکستان کی آمدنی تین گنا ہو سکتی ہے، عالمی بینک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292924/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ورلڈ بینک گروپ نے اپنی تازہ رپورٹ پاکستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ: ترقی کی تیز رفتار راہ کا حصول میں کہا ہے کہ ساختی اصلاحات کا عمل تیز کرکے 2050 تک پاکستان کی فی کس آمدن تین گنا کی جا سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق معاشی استحکام کیلئے ہونے والی پیشرفت کے بعد پاکستان کے پاس اب تیز رفتار اور پائیدار اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا موقع موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے جمعرات کو کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بہتر معاشی پالیسیوں نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے اثرات کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھنے اور ترقی کی رفتار برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے کہا کہ مالی سال 2026 میں پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو مالی سال 2025 کے 3.2 فیصد سے بڑھ کر 3.7 فیصد ہوگئی۔ محصولات میں اضافے اور اخراجات پر قابو پانے کے اقدامات کے نتیجے میں بنیادی مالیاتی سرپلس ریکارڈ 2.9 فیصد جی ڈی پی تک پہنچ گیا جبکہ ترسیلاتِ زر میں اضافے سے زرمبادلہ ذخائر دوبارہ بڑھانے میں مدد ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان بہتریوں کا اعتراف دو بڑی عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، ایس اینڈ پی اور موڈیز کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری کی صورت میں کیا گیا۔ ان پیش رفت کے باعث پاکستان کو بین الاقوامی قرض مارکیٹ میں دوبارہ واپسی کا موقع ملا اور اس نے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار نے کہا کہ پاکستان نے معاشی استحکام بحال کرنے میں حقیقی پیشرفت کی ہے اور اس کا عالمی منڈیوں نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تاہم فی کس حقیقی آمدن میں اضافہ، یعنی اوسط پاکستانی کی آمدن بڑھنے کی شرح، اب بھی تقریباً 1.6 فیصد پر رکی ہوئی ہے۔ تیز رفتار اقتصادی ترقی کے لیے اصلاحات اب فوری طور پر ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان معاشی اصلاحات کے حوالے سے دیگر کامیاب ممالک کی راہ اختیار کرے تو تیز رفتار اقتصادی ترقی کا ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ پالیسیوں اور اداروں کو اوسط درمیانی آمدن والے ملک کے معیار تک بہتر بنانے والی اصلاحات سے سالانہ 6.2 سے 6.9 فیصد تک پائیدار اقتصادی ترقی ممکن ہے جس کے نتیجے میں پاکستان 2050 تک ویت نام کی موجودہ فی کس آمدن کی سطح تک پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مرکزی مصنف سیبسٹین ایسِل نے کہا کہ معاشی استحکام حاصل ہونے کے باوجود مالی وسائل اور زرمبادلہ کی دستیابی اب بھی سخت محدود ہے، اس لیے عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنے کی جانب اگلا ضروری قدم نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ساختی اصلاحات کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی قیادت میں اس نوعیت کی ترقی کے حصول کے لیے منصوبہ بندی، رابطہ کاری اور اصلاحات پر مستقل اور پُرعزم عمل درآمد ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں ایسی جامع اصلاحات کی نشاندہی کی گئی جن کی مدد سے پاکستان 2050 تک ان ممالک کی فی کس آمدن کی سطح تک پہنچ سکتا ہے جو اس وقت بالائی درمیانی آمدن والے ممالک کے درجے میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کئی اصلاحات پر پہلے ہی کام جاری ہے۔ ان اقدامات میں بجلی کے نرخوں میں بروقت ردوبدل شامل ہے جس کے نتیجے میں توانائی کی سبسڈی مالی سال 2025 کے جی ڈی پی کے 1.1 فیصد سے کم ہوکر مالی سال 2026 میں 0.8 فیصد رہ گئی۔ اس کے علاوہ قومی ٹیرف پالیسی کے تحت تجارتی لبرلائزیشن کا مسلسل نفاذ اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی حالیہ نجکاری بھی ان اقدامات کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے کہا کہ ان بنیادوں کو مزید مضبوط بناتے ہوئے پائیدار پیشرفت کے لیے کاروباری ماحول بہتر بنانے، ٹیکس نظام میں اصلاحات، معیشت میں ریاستی کردار محدود کرنے اور مالی وسائل تک رسائی بڑھانے کے اقدامات جاری رکھنا ضروری ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ورلڈ بینک گروپ نے اپنی تازہ رپورٹ پاکستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ: ترقی کی تیز رفتار راہ کا حصول میں کہا ہے کہ ساختی اصلاحات کا عمل تیز کرکے 2050 تک پاکستان کی فی کس آمدن تین گنا کی جا سکتی ہے۔</strong></p>
<p>عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق معاشی استحکام کیلئے ہونے والی پیشرفت کے بعد پاکستان کے پاس اب تیز رفتار اور پائیدار اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا موقع موجود ہے۔</p>
<p>عالمی بینک نے جمعرات کو کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بہتر معاشی پالیسیوں نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے اثرات کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھنے اور ترقی کی رفتار برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔</p>
<p>عالمی بینک نے کہا کہ مالی سال 2026 میں پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو مالی سال 2025 کے 3.2 فیصد سے بڑھ کر 3.7 فیصد ہوگئی۔ محصولات میں اضافے اور اخراجات پر قابو پانے کے اقدامات کے نتیجے میں بنیادی مالیاتی سرپلس ریکارڈ 2.9 فیصد جی ڈی پی تک پہنچ گیا جبکہ ترسیلاتِ زر میں اضافے سے زرمبادلہ ذخائر دوبارہ بڑھانے میں مدد ملی۔</p>
<p>ان بہتریوں کا اعتراف دو بڑی عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، ایس اینڈ پی اور موڈیز کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری کی صورت میں کیا گیا۔ ان پیش رفت کے باعث پاکستان کو بین الاقوامی قرض مارکیٹ میں دوبارہ واپسی کا موقع ملا اور اس نے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے۔</p>
<p>پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار نے کہا کہ پاکستان نے معاشی استحکام بحال کرنے میں حقیقی پیشرفت کی ہے اور اس کا عالمی منڈیوں نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تاہم فی کس حقیقی آمدن میں اضافہ، یعنی اوسط پاکستانی کی آمدن بڑھنے کی شرح، اب بھی تقریباً 1.6 فیصد پر رکی ہوئی ہے۔ تیز رفتار اقتصادی ترقی کے لیے اصلاحات اب فوری طور پر ناگزیر ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان معاشی اصلاحات کے حوالے سے دیگر کامیاب ممالک کی راہ اختیار کرے تو تیز رفتار اقتصادی ترقی کا ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ پالیسیوں اور اداروں کو اوسط درمیانی آمدن والے ملک کے معیار تک بہتر بنانے والی اصلاحات سے سالانہ 6.2 سے 6.9 فیصد تک پائیدار اقتصادی ترقی ممکن ہے جس کے نتیجے میں پاکستان 2050 تک ویت نام کی موجودہ فی کس آمدن کی سطح تک پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مرکزی مصنف سیبسٹین ایسِل نے کہا کہ معاشی استحکام حاصل ہونے کے باوجود مالی وسائل اور زرمبادلہ کی دستیابی اب بھی سخت محدود ہے، اس لیے عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنے کی جانب اگلا ضروری قدم نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ساختی اصلاحات کرنا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی قیادت میں اس نوعیت کی ترقی کے حصول کے لیے منصوبہ بندی، رابطہ کاری اور اصلاحات پر مستقل اور پُرعزم عمل درآمد ضروری ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں ایسی جامع اصلاحات کی نشاندہی کی گئی جن کی مدد سے پاکستان 2050 تک ان ممالک کی فی کس آمدن کی سطح تک پہنچ سکتا ہے جو اس وقت بالائی درمیانی آمدن والے ممالک کے درجے میں شامل ہیں۔</p>
<p>ان میں سے کئی اصلاحات پر پہلے ہی کام جاری ہے۔ ان اقدامات میں بجلی کے نرخوں میں بروقت ردوبدل شامل ہے جس کے نتیجے میں توانائی کی سبسڈی مالی سال 2025 کے جی ڈی پی کے 1.1 فیصد سے کم ہوکر مالی سال 2026 میں 0.8 فیصد رہ گئی۔ اس کے علاوہ قومی ٹیرف پالیسی کے تحت تجارتی لبرلائزیشن کا مسلسل نفاذ اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی حالیہ نجکاری بھی ان اقدامات کا حصہ ہیں۔</p>
<p>عالمی بینک نے کہا کہ ان بنیادوں کو مزید مضبوط بناتے ہوئے پائیدار پیشرفت کے لیے کاروباری ماحول بہتر بنانے، ٹیکس نظام میں اصلاحات، معیشت میں ریاستی کردار محدود کرنے اور مالی وسائل تک رسائی بڑھانے کے اقدامات جاری رکھنا ضروری ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292924</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Oct 2026 14:04:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/22134909d22ac74.webp" type="image/webp" medium="image" height="858" width="1426">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/22134909d22ac74.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
