<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 22 Oct 2026 14:01:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 22 Oct 2026 14:01:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے آئی سے پاکستان کی ملازمتوں کا منظرنامہ بدلنے کا امکان، خدمات کا شعبہ زیادہ متاثر ہوسکتا ہے، عالمی بینک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292913/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پاکستان میں روزگار کے ڈھانچے کو نمایاں طور پر تبدیل کرسکتی ہے۔ خدمات کے شعبے میں کام کرنے والے 61 فیصد افراد ایسے پیشوں سے وابستہ ہیں جن پر اے آئی کے اثرات اوسط سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ اس صورتحال سے جہاں پیداواری صلاحیت بڑھانے کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں وہیں بعض ملازمتوں کے متبادل بننے اور کارکنوں کے روزگار متاثر ہونے کے خدشات بھی موجود ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کی رپورٹ ’’پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ‘‘ میں پاکستان کی افرادی قوت پر اے آئی کے ممکنہ اثرات اور انسانی صلاحیتوں کے ساتھ اس ٹیکنالوجی کی معاونت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اے آئی کے اثرات مختلف معاشی شعبوں میں یکساں نہیں ہوں گے۔ خدمات کا شعبہ اس سے زیادہ متاثر ہوسکتا ہے جبکہ زراعت میں اس کے فوری اثرات نسبتاً محدود رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ پاکستان میں روزگار کے مواقع اور مصنوعی ذہانت کے مطابق سال 2024 میں پاکستان میں پیشوں پر اے آئی کے اثرات کا اوسط اسکور درمیانی درجے کے پیشے کے مقابلے میں 0.48 معیاری انحراف کم تھا۔ پاکستان میں اے آئی کے اثرات کی مجموعی سطح ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر معیشتوں کی اوسط کے تقریباً مطابق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے مختلف شعبوں میں اے آئی کے ممکنہ اثرات کے نمایاں فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ خدمات کے شعبے میں 61 فیصد کارکن ایسے پیشوں سے وابستہ ہیں جن پر اے آئی کے اثرات اوسط سے زیادہ ہوسکتے ہیں، اس کے برعکس مینوفیکچرنگ میں یہ شرح 7 فیصد، دیگر صنعتی شعبوں میں 5 فیصد اور زراعت میں ایک فیصد سے بھی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھوک و پرچون تجارت، مالیاتی و بیمہ جاتی سرگرمیاں، رئیل اسٹیٹ اور تعلیم ایسے خدماتی شعبے ہیں جہاں 80 فیصد سے زائد کارکن ایسے پیشوں میں کام کرتے ہیں جن پر اے آئی کے اثرات نمایاں ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق معلومات کی پراسیسنگ، انتظامی امور اور دیگر علمی نوعیت کی سرگرمیوں سے وابستہ ملازمتوں میں اس ٹیکنالوجی کے باعث نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اے آئی سے متاثر ہونے کا لازمی مطلب ملازمت ختم ہونا نہیں۔ یہ ٹیکنالوجی انسانی صلاحیتوں کی معاون بن کر کام کی رفتار اور معیار بہتر بنانے کے ساتھ پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے ایسے پیشوں میں فرق کیا ہے جہاں اے آئی کارکنوں کی مدد کرسکتی ہے اور جہاں وہ انسانی محنت کا متبادل بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان کے برسرِ روزگار افراد میں سے تقریباً 18 فیصد ایسے پیشوں سے وابستہ تھے جہاں اے آئی کے اثرات زیادہ ہونے کے ساتھ انسانی صلاحیتوں کی معاونت کے امکانات بھی نمایاں تھے۔ اس کے برعکس 8 فیصد کارکن ایسے پیشوں میں کام کررہے تھے جہاں اے آئی کے اثرات زیادہ، مگر انسانی محنت کے ساتھ اس کی معاونت کے امکانات کم تھے۔ عالمی بینک کے مطابق، پہلی قسم کے پیشوں میں اے آئی کے ذریعے کارکنوں کی صلاحیتیں بڑھانے اور پیداواری فوائد حاصل کرنے کے امکانات زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رئیل اسٹیٹ اور تعلیم کے شعبوں میں اے آئی کے انسانی صلاحیتوں کی معاون بننے کے امکانات زیادہ ہیں جس سے کام کی استعداد اور پیداواری صلاحیت بہتر ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب تھوک و پرچون تجارت میں روزگار کا بڑا حصہ ہونے کے ساتھ اے آئی کے اثرات بھی نمایاں ہیں، اس لیے اس شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال روزگار کے ڈھانچے میں تبدیلی کا اہم سبب بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کے مطابق، اے آئی کے اثرات کی معاشی اہمیت کا تعین صرف اس بات سے نہیں ہوتا کہ کسی پیشے پر ٹیکنالوجی کے اثرات کتنے زیادہ ہیں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ متعلقہ شعبے میں کتنے افراد روزگار سے وابستہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ بعض شعبوں میں اے آئی کے اثرات نمایاں ہونے کے باوجود، اگر وہاں کام کرنے والوں کی تعداد کم ہو تو مجموعی معیشت پر اس کے اثرات محدود رہ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں تھوک و پرچون تجارت کو خاص اہمیت دی گئی ہے، کیونکہ اس شعبے میں ایسی ملازمتوں کا نمایاں حصہ موجود ہے جن میں اے آئی انسانی کارکنوں کی معاونت بھی کرسکتی ہے اور بعض کاموں میں ان کی جگہ بھی لے سکتی ہے، اس لیے پاکستان میں اے آئی کے پھیلاؤ کے نتیجے میں روزگار کے مواقع اور ملازمتوں کی نوعیت میں آنے والی تبدیلیوں کا انحصار اس شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زراعت جو پاکستان کی افرادی قوت کے ایک بڑے حصے کو روزگار فراہم کرتی ہے، زیادہ تر ایسے پیشوں پر مشتمل ہے جن پر اے آئی کے فوری اثرات محدود رہنے کا امکان ہے۔ تاہم، عالمی بینک کے مطابق جدید ٹیکنالوجی زرعی پیداوار بہتر بنانے کے مواقع فراہم کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے زور دیا ہے کہ اے آئی کے حقیقی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کاروباری ادارے اور کارکن اس ٹیکنالوجی کو کس حد تک اپناتے ہیں، متعلقہ مہارتیں کتنی دستیاب ہیں اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے کتنی معاون سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے نتائج پاکستان کے لیے اس ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں کہ کارکنوں کو بدلتے ہوئے پیشہ ورانہ تقاضوں کے مطابق تربیت دی جائے اور کاروباری اداروں کو اے آئی کے ذریعے پیداواری صلاحیت بڑھانے کے قابل بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پاکستان میں روزگار کے ڈھانچے کو نمایاں طور پر تبدیل کرسکتی ہے۔ خدمات کے شعبے میں کام کرنے والے 61 فیصد افراد ایسے پیشوں سے وابستہ ہیں جن پر اے آئی کے اثرات اوسط سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ اس صورتحال سے جہاں پیداواری صلاحیت بڑھانے کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں وہیں بعض ملازمتوں کے متبادل بننے اور کارکنوں کے روزگار متاثر ہونے کے خدشات بھی موجود ہیں۔</strong></p>
<p>عالمی بینک کی رپورٹ ’’پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ‘‘ میں پاکستان کی افرادی قوت پر اے آئی کے ممکنہ اثرات اور انسانی صلاحیتوں کے ساتھ اس ٹیکنالوجی کی معاونت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اے آئی کے اثرات مختلف معاشی شعبوں میں یکساں نہیں ہوں گے۔ خدمات کا شعبہ اس سے زیادہ متاثر ہوسکتا ہے جبکہ زراعت میں اس کے فوری اثرات نسبتاً محدود رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>رپورٹ پاکستان میں روزگار کے مواقع اور مصنوعی ذہانت کے مطابق سال 2024 میں پاکستان میں پیشوں پر اے آئی کے اثرات کا اوسط اسکور درمیانی درجے کے پیشے کے مقابلے میں 0.48 معیاری انحراف کم تھا۔ پاکستان میں اے آئی کے اثرات کی مجموعی سطح ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر معیشتوں کی اوسط کے تقریباً مطابق ہے۔</p>
<p>عالمی بینک نے مختلف شعبوں میں اے آئی کے ممکنہ اثرات کے نمایاں فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ خدمات کے شعبے میں 61 فیصد کارکن ایسے پیشوں سے وابستہ ہیں جن پر اے آئی کے اثرات اوسط سے زیادہ ہوسکتے ہیں، اس کے برعکس مینوفیکچرنگ میں یہ شرح 7 فیصد، دیگر صنعتی شعبوں میں 5 فیصد اور زراعت میں ایک فیصد سے بھی کم ہے۔</p>
<p>تھوک و پرچون تجارت، مالیاتی و بیمہ جاتی سرگرمیاں، رئیل اسٹیٹ اور تعلیم ایسے خدماتی شعبے ہیں جہاں 80 فیصد سے زائد کارکن ایسے پیشوں میں کام کرتے ہیں جن پر اے آئی کے اثرات نمایاں ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق معلومات کی پراسیسنگ، انتظامی امور اور دیگر علمی نوعیت کی سرگرمیوں سے وابستہ ملازمتوں میں اس ٹیکنالوجی کے باعث نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اے آئی سے متاثر ہونے کا لازمی مطلب ملازمت ختم ہونا نہیں۔ یہ ٹیکنالوجی انسانی صلاحیتوں کی معاون بن کر کام کی رفتار اور معیار بہتر بنانے کے ساتھ پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ کرسکتی ہے۔</p>
<p>عالمی بینک نے ایسے پیشوں میں فرق کیا ہے جہاں اے آئی کارکنوں کی مدد کرسکتی ہے اور جہاں وہ انسانی محنت کا متبادل بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان کے برسرِ روزگار افراد میں سے تقریباً 18 فیصد ایسے پیشوں سے وابستہ تھے جہاں اے آئی کے اثرات زیادہ ہونے کے ساتھ انسانی صلاحیتوں کی معاونت کے امکانات بھی نمایاں تھے۔ اس کے برعکس 8 فیصد کارکن ایسے پیشوں میں کام کررہے تھے جہاں اے آئی کے اثرات زیادہ، مگر انسانی محنت کے ساتھ اس کی معاونت کے امکانات کم تھے۔ عالمی بینک کے مطابق، پہلی قسم کے پیشوں میں اے آئی کے ذریعے کارکنوں کی صلاحیتیں بڑھانے اور پیداواری فوائد حاصل کرنے کے امکانات زیادہ ہیں۔</p>
<p>رئیل اسٹیٹ اور تعلیم کے شعبوں میں اے آئی کے انسانی صلاحیتوں کی معاون بننے کے امکانات زیادہ ہیں جس سے کام کی استعداد اور پیداواری صلاحیت بہتر ہوسکتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب تھوک و پرچون تجارت میں روزگار کا بڑا حصہ ہونے کے ساتھ اے آئی کے اثرات بھی نمایاں ہیں، اس لیے اس شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال روزگار کے ڈھانچے میں تبدیلی کا اہم سبب بن سکتا ہے۔</p>
<p>عالمی بینک کے مطابق، اے آئی کے اثرات کی معاشی اہمیت کا تعین صرف اس بات سے نہیں ہوتا کہ کسی پیشے پر ٹیکنالوجی کے اثرات کتنے زیادہ ہیں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ متعلقہ شعبے میں کتنے افراد روزگار سے وابستہ ہیں۔</p>
<p>چنانچہ بعض شعبوں میں اے آئی کے اثرات نمایاں ہونے کے باوجود، اگر وہاں کام کرنے والوں کی تعداد کم ہو تو مجموعی معیشت پر اس کے اثرات محدود رہ سکتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں تھوک و پرچون تجارت کو خاص اہمیت دی گئی ہے، کیونکہ اس شعبے میں ایسی ملازمتوں کا نمایاں حصہ موجود ہے جن میں اے آئی انسانی کارکنوں کی معاونت بھی کرسکتی ہے اور بعض کاموں میں ان کی جگہ بھی لے سکتی ہے، اس لیے پاکستان میں اے آئی کے پھیلاؤ کے نتیجے میں روزگار کے مواقع اور ملازمتوں کی نوعیت میں آنے والی تبدیلیوں کا انحصار اس شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی ہوگا۔</p>
<p>زراعت جو پاکستان کی افرادی قوت کے ایک بڑے حصے کو روزگار فراہم کرتی ہے، زیادہ تر ایسے پیشوں پر مشتمل ہے جن پر اے آئی کے فوری اثرات محدود رہنے کا امکان ہے۔ تاہم، عالمی بینک کے مطابق جدید ٹیکنالوجی زرعی پیداوار بہتر بنانے کے مواقع فراہم کرسکتی ہے۔</p>
<p>عالمی بینک نے زور دیا ہے کہ اے آئی کے حقیقی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کاروباری ادارے اور کارکن اس ٹیکنالوجی کو کس حد تک اپناتے ہیں، متعلقہ مہارتیں کتنی دستیاب ہیں اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے کتنی معاون سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے نتائج پاکستان کے لیے اس ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں کہ کارکنوں کو بدلتے ہوئے پیشہ ورانہ تقاضوں کے مطابق تربیت دی جائے اور کاروباری اداروں کو اے آئی کے ذریعے پیداواری صلاحیت بڑھانے کے قابل بنایا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292913</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Oct 2026 12:47:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/22122904c785e44.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/22122904c785e44.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
