<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 21 Oct 2026 01:38:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 21 Oct 2026 01:38:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ کا سعودی عرب کی حدود میں دفاعی فضائی مشن انجام دینے کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292851/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانوی وزارتِ دفاع نے منگل کے روز بتایا ہے کہ برطانیہ سعودی عرب کے شہروں اور اہم قومی بنیادی ڈھانچے کو حوثیوں کے فضائی حملوں سے بچانے میں مدد کے لیے، دفاعی مشنوں پر ’رائل ایئر فورس‘ کے ’ٹائفون‘ لڑاکا طیارے تعینات کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے مطابق، یہ طیارے صرف دفاعی کردار ادا کریں گے اور حوثیوں کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی نہیں کریں گے۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے یہ حملے علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور ان کی وجہ سے توانائی کی ترسیل اور تجارتی راستوں میں خلل پڑنے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ دفاع ویس اسٹریٹنگ نے ایک بیان میں کہا، ”ہمارے اتحادی ملک سعودی عرب پر حوثیوں کے مسلسل حملے انتہائی قابلِ مذمت ہیں۔ خاص طور پر ریاض کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حوثی خطے میں صورتحال کو مزید کشیدہ کرنے کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”یہی وجہ ہے کہ آج میں نے برطانیہ کی جانب سے مزید فوجی معاونت کی منظوری دی ہے۔ رائل ایئر فورس ( آر اے ایف) کے ’ٹائفون‘ طیارے دفاعی فضائی مشن انجام دیں گے، تاکہ سعودی فضائی حدود کو ڈرونز اور میزائلوں سے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکے۔“&lt;br&gt;یہ اضافی معاونت سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے کی گئی ایک درخواست کے بعد فراہم کی جا رہی ہے؛ جس کے بارے میں وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے اس ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ برطانیہ اس پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ ایک اٹلس A400M ٹرانسپورٹ ہوائی جہاز اور فوجی مشیر بھی تعینات کرے گا، جس کا اعلان ستمبر میں کیا گیا امداد میں توسیع کی جائے گی جس میں آراے ایف وائجر ایئر ٹو ایئر ایندھن بھرنے والے طیارے شامل ہیں لیکن لڑاکا طیارے نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی تیل کی تنصیبات اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے خلاف حوثیوں کے حملوں میں حالیہ ہفتوں میں شدت آئی ہے کیونکہ یمن میں تنازعہ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یمن کے اندر، حکام نے بتایا کہ پیر کو یمن کی سرکاری سکیورٹی فورسز کے تربیتی کیمپ پر حوثی باغیوں کے حملے میں 58 افراد ہلاک ہو گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانوی وزارتِ دفاع نے منگل کے روز بتایا ہے کہ برطانیہ سعودی عرب کے شہروں اور اہم قومی بنیادی ڈھانچے کو حوثیوں کے فضائی حملوں سے بچانے میں مدد کے لیے، دفاعی مشنوں پر ’رائل ایئر فورس‘ کے ’ٹائفون‘ لڑاکا طیارے تعینات کرے گا۔</strong></p>
<p>وزارت کے مطابق، یہ طیارے صرف دفاعی کردار ادا کریں گے اور حوثیوں کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی نہیں کریں گے۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے یہ حملے علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور ان کی وجہ سے توانائی کی ترسیل اور تجارتی راستوں میں خلل پڑنے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>وزیرِ دفاع ویس اسٹریٹنگ نے ایک بیان میں کہا، ”ہمارے اتحادی ملک سعودی عرب پر حوثیوں کے مسلسل حملے انتہائی قابلِ مذمت ہیں۔ خاص طور پر ریاض کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حوثی خطے میں صورتحال کو مزید کشیدہ کرنے کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں۔“</p>
<p>”یہی وجہ ہے کہ آج میں نے برطانیہ کی جانب سے مزید فوجی معاونت کی منظوری دی ہے۔ رائل ایئر فورس ( آر اے ایف) کے ’ٹائفون‘ طیارے دفاعی فضائی مشن انجام دیں گے، تاکہ سعودی فضائی حدود کو ڈرونز اور میزائلوں سے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکے۔“<br>یہ اضافی معاونت سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے کی گئی ایک درخواست کے بعد فراہم کی جا رہی ہے؛ جس کے بارے میں وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے اس ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ برطانیہ اس پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>برطانیہ ایک اٹلس A400M ٹرانسپورٹ ہوائی جہاز اور فوجی مشیر بھی تعینات کرے گا، جس کا اعلان ستمبر میں کیا گیا امداد میں توسیع کی جائے گی جس میں آراے ایف وائجر ایئر ٹو ایئر ایندھن بھرنے والے طیارے شامل ہیں لیکن لڑاکا طیارے نہیں۔</p>
<p>سعودی تیل کی تنصیبات اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے خلاف حوثیوں کے حملوں میں حالیہ ہفتوں میں شدت آئی ہے کیونکہ یمن میں تنازعہ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>یمن کے اندر، حکام نے بتایا کہ پیر کو یمن کی سرکاری سکیورٹی فورسز کے تربیتی کیمپ پر حوثی باغیوں کے حملے میں 58 افراد ہلاک ہو گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292851</guid>
      <pubDate>Tue, 20 Oct 2026 23:19:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/2023040182cb48e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/2023040182cb48e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
