<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 21 Oct 2026 01:38:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 21 Oct 2026 01:38:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عدالتی کمیشن کی میر رضا قتل کیس کی پولیس تحقیقات پر کڑی تنقید، ’بدترین ناکامی‘ قرار دے دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292850/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے تاجر میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے قرار دیا ہے کہ انہیں قتل کیا گیا تھا، جبکہ کیس کی پولیس تحقیقات کو ’’بدترین ناکامی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تفتیشی افسران نے طریقۂ کار کے تمام لازمی تقاضوں کی خلاف ورزی کی، جس کے باعث مقدمہ عدالتی جانچ پر پورا اترنے کے قابل نہ رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;62 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’’یہ کیس پولیس کی جانب سے تحقیقات میں بدترین ناکامی کا عکاس ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، ’’پولیس نے عدالتی جانچ پر پورا اترنے اور کامیاب استغاثہ کے لیے ضروری تمام طریقۂ کار کی خلاف ورزی کی، خواہ یہ دانستہ طور پر کی گئی ہو یا نادانستہ۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ کابینہ نے منگل کے روز وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت اجلاس میں عدالتی کمیشن کی رپورٹ منظرِ عام پر لانے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی حکومت کی جانب سے اگست میں قائم کیے گئے ایک رکنی کمیشن نے 15 سماعتوں کے دوران 49 گواہوں کے بیانات قلم بند کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’’یہ قتل تھا۔‘‘ اس کے مطابق، گولی کی سمت، زخم کا غیر معمولی مقام، خون کا نہ ہونا، لاش کی حالت، تیزاب سے جلنے کے نشانات اور خون میں بے ہوشی کی دوا کی موجودگی، ان تمام شواہد نے ’’خودکشی کے امکان کو واضح طور پر مسترد کر دیا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;25 سالہ علی انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے فارغ التحصیل تھے اور وافل کا کاروبار چلاتے تھے۔ وہ 28 جولائی کو پی ای سی ایچ ایس میں واقع اپنے گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے۔ اگلی صبح ان کی لاش گلستانِ جوہر سے ملی، جس پر گولی لگنے کے زخم تھے۔ پولیس نے ابتدائی طور پر پوسٹ مارٹم کی پہلی رپورٹ کی بنیاد پر مقدمے کو خودکشی کا معاملہ قرار دیا، تاہم پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے اس رپورٹ کے نتائج سے اختلاف کیا۔ 8 اگست کو لاش قبر سے نکال کر دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ موت پشت پر گولی لگنے سے ہوئی تھی۔ بعد ازاں ایف آئی آر میں قتل اور شواہد تلف کرنے سے متعلق دفعات بھی شامل کر دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے کیس سے نمٹنے کے پولیس کے طریقۂ کار کو ’’ایسے بے سمت جہاز سے تشبیہ دی جسے اپنی منزل کا علم نہ ہو‘‘، جبکہ تحقیقات کو ’’غفلت سے لے کر مجرمانہ غفلت، ناقابلِ فہم طرزِ عمل، غیر سنجیدگی اور غیر پیشہ ورانہ رویے‘‘ تک قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ درجنوں مجاز اور غیر مجاز پولیس اہلکاروں نے اپنے اقدامات کا ریکارڈ مرتب کیے بغیر شواہد جمع کیے اور اہم افراد سے پوچھ گچھ کی۔ مزید یہ کہ سینئر افسران نے انا اور ’’محدود زاویۂ نظر‘‘ کے باعث مزید تحقیقات کرنے کے بجائے خودکشی کے مؤقف پر اصرار جاری رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں اہم طور پر کہا گیا کہ ابتدائی مراحل میں شواہد چھپانے کی منظم کوشش کے امکان کو ’’یقینی طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا‘‘۔ کمیشن کے مطابق، سینئر افسران نے تحقیقات میں ہونے والی سنگین کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا، ’’پولیس تحقیقات اپنے بنیادی ترین فرض، یعنی حقیقت کا تعین کرنے میں ناکام رہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے سفارش کی کہ اہلِ خانہ کی جانب سے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی درخواست منظور کی جائے۔ اس ٹیم میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو، پاکستان رینجرز (سندھ) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سینئر نمائندے بھی شامل ہوں۔ کمیشن نے عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اسے ’’سب سے قابلِ عمل راستہ‘‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، جائے وقوعہ اور دیگر ذرائع سے حاصل کیے گئے مادی شواہد کا ایک بڑا حصہ متاثر ہو چکا ہے، اس لیے اب اس کیس کو صرف جامع اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی تحقیقات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے یہ تجویز بھی دی کہ ترجیحاً وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائے، جو اس بات کا جائزہ لے کہ ابتدائی 10 روز کی تحقیقات میں شامل پولیس افسران نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 201، 166(2) اور 218 کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔ رپورٹ میں ذمہ دار پائے جانے والے اہلکاروں کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں پولیس پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی کوتاہیوں کا سرِعام اعتراف کرے اور معذرت کرے۔ اس کے علاوہ تفتیشی طریقۂ کار میں اصلاحات کی سفارش کرتے ہوئے یہ عمل تین ماہ میں مکمل کرنے کی تجویز دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے رپورٹ پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے چار رکنی ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے، جس میں وزیرِ داخلہ ضیا الحسن لنجار، وزیرِ بلدیات ناصر حسین شاہ، وزیرِ محنت سعید غنی اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے تاجر میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے قرار دیا ہے کہ انہیں قتل کیا گیا تھا، جبکہ کیس کی پولیس تحقیقات کو ’’بدترین ناکامی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تفتیشی افسران نے طریقۂ کار کے تمام لازمی تقاضوں کی خلاف ورزی کی، جس کے باعث مقدمہ عدالتی جانچ پر پورا اترنے کے قابل نہ رہا۔</strong></p>
<p>62 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’’یہ کیس پولیس کی جانب سے تحقیقات میں بدترین ناکامی کا عکاس ہے۔‘‘</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، ’’پولیس نے عدالتی جانچ پر پورا اترنے اور کامیاب استغاثہ کے لیے ضروری تمام طریقۂ کار کی خلاف ورزی کی، خواہ یہ دانستہ طور پر کی گئی ہو یا نادانستہ۔‘‘</p>
<p>سندھ کابینہ نے منگل کے روز وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت اجلاس میں عدالتی کمیشن کی رپورٹ منظرِ عام پر لانے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>صوبائی حکومت کی جانب سے اگست میں قائم کیے گئے ایک رکنی کمیشن نے 15 سماعتوں کے دوران 49 گواہوں کے بیانات قلم بند کیے۔</p>
<p>رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’’یہ قتل تھا۔‘‘ اس کے مطابق، گولی کی سمت، زخم کا غیر معمولی مقام، خون کا نہ ہونا، لاش کی حالت، تیزاب سے جلنے کے نشانات اور خون میں بے ہوشی کی دوا کی موجودگی، ان تمام شواہد نے ’’خودکشی کے امکان کو واضح طور پر مسترد کر دیا۔‘‘</p>
<p>25 سالہ علی انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے فارغ التحصیل تھے اور وافل کا کاروبار چلاتے تھے۔ وہ 28 جولائی کو پی ای سی ایچ ایس میں واقع اپنے گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے۔ اگلی صبح ان کی لاش گلستانِ جوہر سے ملی، جس پر گولی لگنے کے زخم تھے۔ پولیس نے ابتدائی طور پر پوسٹ مارٹم کی پہلی رپورٹ کی بنیاد پر مقدمے کو خودکشی کا معاملہ قرار دیا، تاہم پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے اس رپورٹ کے نتائج سے اختلاف کیا۔ 8 اگست کو لاش قبر سے نکال کر دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ موت پشت پر گولی لگنے سے ہوئی تھی۔ بعد ازاں ایف آئی آر میں قتل اور شواہد تلف کرنے سے متعلق دفعات بھی شامل کر دی گئیں۔</p>
<p>کمیشن نے کیس سے نمٹنے کے پولیس کے طریقۂ کار کو ’’ایسے بے سمت جہاز سے تشبیہ دی جسے اپنی منزل کا علم نہ ہو‘‘، جبکہ تحقیقات کو ’’غفلت سے لے کر مجرمانہ غفلت، ناقابلِ فہم طرزِ عمل، غیر سنجیدگی اور غیر پیشہ ورانہ رویے‘‘ تک قرار دیا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ درجنوں مجاز اور غیر مجاز پولیس اہلکاروں نے اپنے اقدامات کا ریکارڈ مرتب کیے بغیر شواہد جمع کیے اور اہم افراد سے پوچھ گچھ کی۔ مزید یہ کہ سینئر افسران نے انا اور ’’محدود زاویۂ نظر‘‘ کے باعث مزید تحقیقات کرنے کے بجائے خودکشی کے مؤقف پر اصرار جاری رکھا۔</p>
<p>رپورٹ میں اہم طور پر کہا گیا کہ ابتدائی مراحل میں شواہد چھپانے کی منظم کوشش کے امکان کو ’’یقینی طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا‘‘۔ کمیشن کے مطابق، سینئر افسران نے تحقیقات میں ہونے والی سنگین کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔</p>
<p>رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا، ’’پولیس تحقیقات اپنے بنیادی ترین فرض، یعنی حقیقت کا تعین کرنے میں ناکام رہیں۔‘‘</p>
<p>کمیشن نے سفارش کی کہ اہلِ خانہ کی جانب سے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی درخواست منظور کی جائے۔ اس ٹیم میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو، پاکستان رینجرز (سندھ) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سینئر نمائندے بھی شامل ہوں۔ کمیشن نے عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اسے ’’سب سے قابلِ عمل راستہ‘‘ قرار دیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، جائے وقوعہ اور دیگر ذرائع سے حاصل کیے گئے مادی شواہد کا ایک بڑا حصہ متاثر ہو چکا ہے، اس لیے اب اس کیس کو صرف جامع اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی تحقیقات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>کمیشن نے یہ تجویز بھی دی کہ ترجیحاً وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائے، جو اس بات کا جائزہ لے کہ ابتدائی 10 روز کی تحقیقات میں شامل پولیس افسران نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 201، 166(2) اور 218 کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔ رپورٹ میں ذمہ دار پائے جانے والے اہلکاروں کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔</p>
<p>رپورٹ میں پولیس پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی کوتاہیوں کا سرِعام اعتراف کرے اور معذرت کرے۔ اس کے علاوہ تفتیشی طریقۂ کار میں اصلاحات کی سفارش کرتے ہوئے یہ عمل تین ماہ میں مکمل کرنے کی تجویز دی گئی۔</p>
<p>وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے رپورٹ پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے چار رکنی ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے، جس میں وزیرِ داخلہ ضیا الحسن لنجار، وزیرِ بلدیات ناصر حسین شاہ، وزیرِ محنت سعید غنی اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292850</guid>
      <pubDate>Tue, 20 Oct 2026 22:52:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/20224324cbbf8de.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/20224324cbbf8de.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
