<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 20 Oct 2026 15:57:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 20 Oct 2026 15:57:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی چیمبر اور یورپی سفیر کے درمیان تجارتی روابط بڑھانے پر بات چیت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292831/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر نے کراچی میں ایف پی سی سی آئی کے ہیڈ آفس کا دورہ کیا، جہاں تجارتی مواقع کو وسعت دینے، صنعتی روابط کو مضبوط بنانے اور جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس کے آئندہ مرحلے کے لیے نجی شعبے کی تیاریوں کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ اس اعلیٰ سطح ملاقات میں سفارتی نمائندوں اور پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی ادارے ایف پی سی سی آئی کے ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان کی برآمدات میں تنوع لانے، ملکی معیشت کے اہم شعبوں میں یورپی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور بین الاقوامی پائیداری کے معاہدوں پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنانے کے لیے حکمت عملیوں کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کے سفیر Raimundas Karoblis نے پالیسی اقدامات اور تجارتی سرگرمیوں کے درمیان روابط قائم کرنے میں ایف پی سی سی آئی کے اہم کردار کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان کی پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے یورپی یونین کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جی ایس پی پلس اقتصادی ترقی کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔یورپی یونین کے سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو روایتی ٹیکسٹائل مصنوعات سے آگے بڑھ کر انجینئرنگ کی ویلیو ایڈڈ مصنوعات، آئی ٹی سروسز، چمڑے کی مصنوعات اور غذائی اشیا سمیت دیگر شعبوں میں موجود نئے تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان میں انسانی حقوق اور مزدوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ مقامی صنعت کو تجارتی معاہدوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور عالمی سپلائی چین میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے عملی معاشی اقدامات کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کے صنعتی شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، تاہم یورپی منڈیوں میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے تجارت میں سہولت کاری، ضابطہ جاتی ہم آہنگی اور کاروباری اخراجات میں کمی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی کے پاک۔یورپی یونین بزنس فورم کے سربراہ زبیر باویجہ نے کاروباری اداروں کے درمیان دیرپا روابط اور براہِ راست کاروباری شراکت داری کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر نے کراچی میں ایف پی سی سی آئی کے ہیڈ آفس کا دورہ کیا، جہاں تجارتی مواقع کو وسعت دینے، صنعتی روابط کو مضبوط بنانے اور جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس کے آئندہ مرحلے کے لیے نجی شعبے کی تیاریوں کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔</strong></p>
<p>عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ اس اعلیٰ سطح ملاقات میں سفارتی نمائندوں اور پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی ادارے ایف پی سی سی آئی کے ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان کی برآمدات میں تنوع لانے، ملکی معیشت کے اہم شعبوں میں یورپی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور بین الاقوامی پائیداری کے معاہدوں پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنانے کے لیے حکمت عملیوں کا جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>یورپی یونین کے سفیر Raimundas Karoblis نے پالیسی اقدامات اور تجارتی سرگرمیوں کے درمیان روابط قائم کرنے میں ایف پی سی سی آئی کے اہم کردار کو سراہا۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان کی پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے یورپی یونین کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جی ایس پی پلس اقتصادی ترقی کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔یورپی یونین کے سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو روایتی ٹیکسٹائل مصنوعات سے آگے بڑھ کر انجینئرنگ کی ویلیو ایڈڈ مصنوعات، آئی ٹی سروسز، چمڑے کی مصنوعات اور غذائی اشیا سمیت دیگر شعبوں میں موجود نئے تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان میں انسانی حقوق اور مزدوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ مقامی صنعت کو تجارتی معاہدوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور عالمی سپلائی چین میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے عملی معاشی اقدامات کی ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کے صنعتی شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، تاہم یورپی منڈیوں میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے تجارت میں سہولت کاری، ضابطہ جاتی ہم آہنگی اور کاروباری اخراجات میں کمی ناگزیر ہے۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی کے پاک۔یورپی یونین بزنس فورم کے سربراہ زبیر باویجہ نے کاروباری اداروں کے درمیان دیرپا روابط اور براہِ راست کاروباری شراکت داری کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292831</guid>
      <pubDate>Tue, 20 Oct 2026 14:00:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/2013562371e020d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/2013562371e020d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
