<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 20 Oct 2026 01:01:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 20 Oct 2026 01:01:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے کا منتخب بوئنگ 777 طیاروں کے کیبن جدید بنانے کا منصوبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292794/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے منتخب بوئنگ 777 طیاروں کے کیبن کو جدید بنانے کے پروگرام کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کو پیر کے روز اس پیش رفت کا علم ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئرلائن سپلائرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ پروگرام طویل فاصلے کی پروازوں میں پی آئی اے کی سفری سہولتوں کو مزید بہتر بنانے اور مسافروں کے دورانِ پرواز تجربے کو بہتر بنانے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ ایروٹیک گروپ کے ذیلی ادارے ایوی ایشن اسکاؤٹس اس پروگرام میں معاونت فراہم کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایروٹیک گروپ ہوا بازی کی خدمات فراہم کرنے والا ادارہ ہے، جو طیاروں کے مکمل دورانیۂ استعمال کے دوران ایئرلائنز، طیارے لیز پر دینے والی کمپنیوں اور ہوا بازی کے شعبے سے وابستہ شراکت داروں کی معاونت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق، معاہدے میں پانچ بوئنگ 777 طیاروں کی تزئین و آرائش کی تصدیق شدہ گنجائش شامل ہے، جبکہ مزید چار طیاروں کے لیے بھی اختیار رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تزئین و آرائش کے منصوبے میں بزنس کلاس کے لیے مکمل طور پر افقی ہو جانے والی نشستوں کی تنصیب، موجودہ اکانومی کلاس نشستوں کی مرمت و تجدید، پورے کیبن میں 60 واٹ کی نئی ان سیٹ پاور سپلائی (آئی ایس پی ایس) اور مسافروں کی خدمات کا نیا نظام (پی ایس ایس) نصب کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ نئے قالین، برانڈنگ سے متعلق عناصر اور کیبن کے اندرونی حصے میں دیگر منتخب تبدیلیاں بھی کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیبن میں تبدیلیوں کے علاوہ اس پروگرام میں انجینئرنگ معاونت، سرٹیفکیشن کے مراحل، سامان کی خریداری اور ترسیل، منصوبے کا انتظام اور تکنیکی رابطہ کاری بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’اس پروگرام پر عمل درآمد پی آئی اے کی بیڑے سے متعلق منصوبہ بندی، دیکھ بھال کے شیڈول اور آپریشنل ضروریات کے مطابق کیا جائے گا تاکہ کام مؤثر انداز میں مکمل ہو سکے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد عامر حیات کے حوالے سے کہا گیا ہے، ’’نجکاری کا عمل مکمل ہونے اور نئے کنسورشیم کی قیادت میں بورڈ اور انتظامیہ کی تشکیل کے بعد پی آئی اے نے ایک نئے سفر کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد مسافروں کے سفری تجربے کو بہتر بنانا اور دورانِ پرواز فراہم کی جانے والی سہولتوں کا معیار بلند کرنا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد عامر حیات نے کہا ہے، ’’ایگزیکٹو اکانومی کلاس میں فلیٹ بیڈ نشستوں کا تعارف طویل فاصلے کی پروازوں میں ہماری سہولتوں میں ایک اہم اضافہ ہوگا، جس سے مسافروں کو زیادہ آرام اور سفر کے دوران بہتر انداز میں آرام کرنے کا موقع ملے گا۔ اسی طرح، اکانومی کلاس کے کیبن کی تجدید اور نشستوں پر چارجنگ کی سہولت فراہم کرنے سے ہمارے قابلِ قدر مسافروں کو مزید آسانی اور رابطے کی بہتر سہولت میسر آئے گی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ’’یہ تبدیلی مرحلہ وار عمل میں لائی جا رہی ہے۔ منصوبے پر پیش رفت کے ساتھ مسافروں کو کیبن کے آرام، سہولتوں کی فعالیت اور دورانِ پرواز مجموعی ماحول میں واضح بہتری محسوس ہوگی۔ ہم اس بات کے لیے پُرعزم ہیں کہ پی آئی اے کی طویل فاصلے کی پروازوں میں سہولتوں کو جدید ہوا بازی کے معیار اور مسافروں کی توقعات کے مطابق مسلسل بہتر بنایا جاتا رہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایروٹیک گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فرینک کُسرو نے کہا، ’’ہمیں اس اہم کیبن جدیدکاری پروگرام میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی معاونت کرنے پر فخر ہے۔ طویل فاصلے کی پروازوں میں مسافروں کے آرام اور سفری تجربے کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے پی آئی اے کی سرمایہ کاری کا فیصلہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ایروٹیک گروپ اپنی بعد از فروخت خدمات اور طیاروں کی تجدید کی مشترکہ صلاحیتوں کے ذریعے اس منصوبے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال حکومتِ پاکستان نے قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے 75 فیصد حصص 135 ارب روپے میں فروخت کرنے کا عمل مکمل کیا تھا، جس سے خسارے میں چلنے والی ایئرلائن کی نجکاری کی برسوں سے تعطل کا شکار کوششیں انجام کو پہنچی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب کنسورشیم نے قومی ایئرلائن کے انتظامی اختیارات کے ساتھ اکثریتی حصص خریدے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال اپریل میں عارف حبیب کنسورشیم نے حکومت سے پی آئی اے کے بقیہ 25 فیصد حصص بھی حاصل کر لیے، جس کے بعد قومی ایئرلائن میں نجی شعبے کی ملکیت بڑھ کر 100 فیصد ہوگئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے منتخب بوئنگ 777 طیاروں کے کیبن کو جدید بنانے کے پروگرام کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کو پیر کے روز اس پیش رفت کا علم ہوا ہے۔</strong></p>
<p>ایئرلائن سپلائرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ پروگرام طویل فاصلے کی پروازوں میں پی آئی اے کی سفری سہولتوں کو مزید بہتر بنانے اور مسافروں کے دورانِ پرواز تجربے کو بہتر بنانے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ ایروٹیک گروپ کے ذیلی ادارے ایوی ایشن اسکاؤٹس اس پروگرام میں معاونت فراہم کریں گے۔</p>
<p>ایروٹیک گروپ ہوا بازی کی خدمات فراہم کرنے والا ادارہ ہے، جو طیاروں کے مکمل دورانیۂ استعمال کے دوران ایئرلائنز، طیارے لیز پر دینے والی کمپنیوں اور ہوا بازی کے شعبے سے وابستہ شراکت داروں کی معاونت کرتا ہے۔</p>
<p>تفصیلات کے مطابق، معاہدے میں پانچ بوئنگ 777 طیاروں کی تزئین و آرائش کی تصدیق شدہ گنجائش شامل ہے، جبکہ مزید چار طیاروں کے لیے بھی اختیار رکھا گیا ہے۔</p>
<p>تزئین و آرائش کے منصوبے میں بزنس کلاس کے لیے مکمل طور پر افقی ہو جانے والی نشستوں کی تنصیب، موجودہ اکانومی کلاس نشستوں کی مرمت و تجدید، پورے کیبن میں 60 واٹ کی نئی ان سیٹ پاور سپلائی (آئی ایس پی ایس) اور مسافروں کی خدمات کا نیا نظام (پی ایس ایس) نصب کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ نئے قالین، برانڈنگ سے متعلق عناصر اور کیبن کے اندرونی حصے میں دیگر منتخب تبدیلیاں بھی کی جائیں گی۔</p>
<p>کیبن میں تبدیلیوں کے علاوہ اس پروگرام میں انجینئرنگ معاونت، سرٹیفکیشن کے مراحل، سامان کی خریداری اور ترسیل، منصوبے کا انتظام اور تکنیکی رابطہ کاری بھی شامل ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’اس پروگرام پر عمل درآمد پی آئی اے کی بیڑے سے متعلق منصوبہ بندی، دیکھ بھال کے شیڈول اور آپریشنل ضروریات کے مطابق کیا جائے گا تاکہ کام مؤثر انداز میں مکمل ہو سکے۔‘‘</p>
<p>رپورٹ میں پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد عامر حیات کے حوالے سے کہا گیا ہے، ’’نجکاری کا عمل مکمل ہونے اور نئے کنسورشیم کی قیادت میں بورڈ اور انتظامیہ کی تشکیل کے بعد پی آئی اے نے ایک نئے سفر کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد مسافروں کے سفری تجربے کو بہتر بنانا اور دورانِ پرواز فراہم کی جانے والی سہولتوں کا معیار بلند کرنا ہے۔‘‘</p>
<p>پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد عامر حیات نے کہا ہے، ’’ایگزیکٹو اکانومی کلاس میں فلیٹ بیڈ نشستوں کا تعارف طویل فاصلے کی پروازوں میں ہماری سہولتوں میں ایک اہم اضافہ ہوگا، جس سے مسافروں کو زیادہ آرام اور سفر کے دوران بہتر انداز میں آرام کرنے کا موقع ملے گا۔ اسی طرح، اکانومی کلاس کے کیبن کی تجدید اور نشستوں پر چارجنگ کی سہولت فراہم کرنے سے ہمارے قابلِ قدر مسافروں کو مزید آسانی اور رابطے کی بہتر سہولت میسر آئے گی۔‘‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ’’یہ تبدیلی مرحلہ وار عمل میں لائی جا رہی ہے۔ منصوبے پر پیش رفت کے ساتھ مسافروں کو کیبن کے آرام، سہولتوں کی فعالیت اور دورانِ پرواز مجموعی ماحول میں واضح بہتری محسوس ہوگی۔ ہم اس بات کے لیے پُرعزم ہیں کہ پی آئی اے کی طویل فاصلے کی پروازوں میں سہولتوں کو جدید ہوا بازی کے معیار اور مسافروں کی توقعات کے مطابق مسلسل بہتر بنایا جاتا رہے۔‘‘</p>
<p>ایروٹیک گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فرینک کُسرو نے کہا، ’’ہمیں اس اہم کیبن جدیدکاری پروگرام میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی معاونت کرنے پر فخر ہے۔ طویل فاصلے کی پروازوں میں مسافروں کے آرام اور سفری تجربے کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے پی آئی اے کی سرمایہ کاری کا فیصلہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ایروٹیک گروپ اپنی بعد از فروخت خدمات اور طیاروں کی تجدید کی مشترکہ صلاحیتوں کے ذریعے اس منصوبے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔‘‘</p>
<p>گزشتہ سال حکومتِ پاکستان نے قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے 75 فیصد حصص 135 ارب روپے میں فروخت کرنے کا عمل مکمل کیا تھا، جس سے خسارے میں چلنے والی ایئرلائن کی نجکاری کی برسوں سے تعطل کا شکار کوششیں انجام کو پہنچی تھیں۔</p>
<p>عارف حبیب کنسورشیم نے قومی ایئرلائن کے انتظامی اختیارات کے ساتھ اکثریتی حصص خریدے تھے۔</p>
<p>رواں سال اپریل میں عارف حبیب کنسورشیم نے حکومت سے پی آئی اے کے بقیہ 25 فیصد حصص بھی حاصل کر لیے، جس کے بعد قومی ایئرلائن میں نجی شعبے کی ملکیت بڑھ کر 100 فیصد ہوگئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292794</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Oct 2026 23:32:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/19232748a5c085f.webp" type="image/webp" medium="image" height="344" width="514">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/19232748a5c085f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
