<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 19 Oct 2026 22:53:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 19 Oct 2026 22:53:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں تقریباً دو سال بعد پولیو کا پہلا کیس رپورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292785/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی شرقی سے رواں سال پولیو کا ساتواں کیس سامنے آیا ہے، جس کے بعد شہر میں تقریباً دو سال بعد اس بیماری کا نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیو کے خاتمے کے لیے قائم نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) نے پیر کے روز بتایا ہے کہ نئے کیس کے بعد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی ضرورت پر دوبارہ زور دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ بچہ سندھ کے ضلع کراچی شرقی کی یونین کونسل جمالی کالونی کا رہائشی چھ ماہ کا لڑکا ہے۔ پولیو کی نگرانی کے نظام کے ذریعے کیس کی نشاندہی ہوئی، جس کی تصدیق اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری برائے انسدادِ پولیو نے کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ای او سی نے بتایا ہے کہ کراچی سے پولیو کا آخری کیس دسمبر 2024ء میں رپورٹ ہوا تھا۔ ادارے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگرچہ ملک بھر میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد میں کمی آئی ہے، تاہم وائرس کی منتقلی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ کیس کے بعد جامع تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ انسدادِ پولیو پروگرام (پی ای آئی) صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان اقدامات میں خطرے سے دوچار علاقوں میں ہدفی بنیادوں پر ویکسین پلانے اور بچوں کی معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی کوششیں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ای او سی کے مطابق، کراچی میں 2026ء کے دوران ماحولیاتی نمونوں میں جنگلی پولیو وائرس کی موجودگی مسلسل سامنے آتی رہی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شہر میں بچوں کو وائرس سے لاحق خطرہ بدستور برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں رواں سال رپورٹ ہونے والے پولیو کے سات کیسز میں سے پانچ خیبر پختونخوا میں سامنے آئے ہیں، جن میں چار کیسز صوبے کے جنوبی اضلاع میں رپورٹ ہوئے، جبکہ سندھ میں اب تک دو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلسل ویکسینیشن مہمات کے نتیجے میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ 1990ء کی دہائی کے اوائل میں ملک میں پولیو کے اندازاً 20 ہزار کیسز رپورٹ ہوتے تھے، جو 2025ء میں کم ہو کر 31 رہ گئے، جبکہ 2026ء کے دوران اب تک سات کیسز سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں 2026ء کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی چار ملک گیر مہمات چلائی جا چکی ہیں، جن کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو متعدد مرتبہ ویکسین پلائی گئی۔ اس کے علاوہ، زیادہ خطرے سے دوچار علاقوں میں منہ کے ذریعے قطرے پلانے اور انجیکشن کے ذریعے ویکسین لگانے کی خصوصی مہمات بھی چلائی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں چلائی گئی ذیلی قومی مہم کے دوران 2 کروڑ 93 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔ اگلی مہم 2 سے 8 نومبر تک چلائی جائے گی، جس کا مقصد 97 اضلاع میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو سے محفوظ بنانا ہے۔ ان اضلاع میں کراچی کے تمام اضلاع بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے، جو مستقل فالج اور بعض صورتوں میں موت کا سبب بن سکتی ہے۔ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں، تاہم محفوظ اور مؤثر ویکسین کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ای او سی نے والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہر پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو ویکسین کے قطرے ضرور پلوائیں اور ان کی معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کا کورس بھی مکمل کرائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے نے عوام، مذہبی رہنماؤں اور ذرائع ابلاغ سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ پولیو ویکسین سے متعلق غلط معلومات کا مقابلہ کریں اور بچوں کو اس بیماری سے محفوظ بنانے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی شرقی سے رواں سال پولیو کا ساتواں کیس سامنے آیا ہے، جس کے بعد شہر میں تقریباً دو سال بعد اس بیماری کا نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔</strong></p>
<p>پولیو کے خاتمے کے لیے قائم نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) نے پیر کے روز بتایا ہے کہ نئے کیس کے بعد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی ضرورت پر دوبارہ زور دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>متاثرہ بچہ سندھ کے ضلع کراچی شرقی کی یونین کونسل جمالی کالونی کا رہائشی چھ ماہ کا لڑکا ہے۔ پولیو کی نگرانی کے نظام کے ذریعے کیس کی نشاندہی ہوئی، جس کی تصدیق اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری برائے انسدادِ پولیو نے کی ہے۔</p>
<p>این ای او سی نے بتایا ہے کہ کراچی سے پولیو کا آخری کیس دسمبر 2024ء میں رپورٹ ہوا تھا۔ ادارے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگرچہ ملک بھر میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد میں کمی آئی ہے، تاہم وائرس کی منتقلی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔</p>
<p>حالیہ کیس کے بعد جامع تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ انسدادِ پولیو پروگرام (پی ای آئی) صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان اقدامات میں خطرے سے دوچار علاقوں میں ہدفی بنیادوں پر ویکسین پلانے اور بچوں کی معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی کوششیں شامل ہیں۔</p>
<p>این ای او سی کے مطابق، کراچی میں 2026ء کے دوران ماحولیاتی نمونوں میں جنگلی پولیو وائرس کی موجودگی مسلسل سامنے آتی رہی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شہر میں بچوں کو وائرس سے لاحق خطرہ بدستور برقرار ہے۔</p>
<p>پاکستان میں رواں سال رپورٹ ہونے والے پولیو کے سات کیسز میں سے پانچ خیبر پختونخوا میں سامنے آئے ہیں، جن میں چار کیسز صوبے کے جنوبی اضلاع میں رپورٹ ہوئے، جبکہ سندھ میں اب تک دو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔</p>
<p>مسلسل ویکسینیشن مہمات کے نتیجے میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ 1990ء کی دہائی کے اوائل میں ملک میں پولیو کے اندازاً 20 ہزار کیسز رپورٹ ہوتے تھے، جو 2025ء میں کم ہو کر 31 رہ گئے، جبکہ 2026ء کے دوران اب تک سات کیسز سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں 2026ء کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی چار ملک گیر مہمات چلائی جا چکی ہیں، جن کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو متعدد مرتبہ ویکسین پلائی گئی۔ اس کے علاوہ، زیادہ خطرے سے دوچار علاقوں میں منہ کے ذریعے قطرے پلانے اور انجیکشن کے ذریعے ویکسین لگانے کی خصوصی مہمات بھی چلائی گئیں۔</p>
<p>ستمبر میں چلائی گئی ذیلی قومی مہم کے دوران 2 کروڑ 93 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔ اگلی مہم 2 سے 8 نومبر تک چلائی جائے گی، جس کا مقصد 97 اضلاع میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو سے محفوظ بنانا ہے۔ ان اضلاع میں کراچی کے تمام اضلاع بھی شامل ہیں۔</p>
<p>پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے، جو مستقل فالج اور بعض صورتوں میں موت کا سبب بن سکتی ہے۔ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں، تاہم محفوظ اور مؤثر ویکسین کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔</p>
<p>این ای او سی نے والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہر پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو ویکسین کے قطرے ضرور پلوائیں اور ان کی معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کا کورس بھی مکمل کرائیں۔</p>
<p>ادارے نے عوام، مذہبی رہنماؤں اور ذرائع ابلاغ سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ پولیو ویکسین سے متعلق غلط معلومات کا مقابلہ کریں اور بچوں کو اس بیماری سے محفوظ بنانے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292785</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Oct 2026 18:33:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/1918174954345c3.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="498">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/1918174954345c3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
