<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 19 Oct 2026 17:26:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 19 Oct 2026 17:26:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیرونی کھاتے کا استحکام : شرحِ مبادلہ کے دفاع کی حکمتِ عملی کمزور کڑی ثابت ہوسکتی ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292765/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ترسیلاتِ زر اور خدمات کی برآمدات نے تیل کی بلند قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔ تاہم حقیقی شرحِ مبادلہ میں اضافہ اور روپے کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنے سے گریز، جنگ طویل ہونے کی صورت میں ملکی مسابقت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے بیرونی کھاتے نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے جھٹکے کا غیر معمولی طور پر بہتر مقابلہ کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہوئے سات ماہ گزرنے کے باوجود بیرونی مالیاتی دباؤ کے ایسے شواہد کم ہیں جو ماضی میں توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے دوران سامنے آتے رہے ہیں۔ ملکی کھپت محدود ہورہی ہے، توانائی کی درآمدات کا حجم کم ہے، جبکہ ترسیلاتِ زر اور خدمات کی برآمدات میں اضافے نے درآمدی بل میں اضافے کے اثرات بڑی حد تک زائل کردیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار اس صورت حال کی وضاحت کرتے ہیں۔ مارچ سے ستمبر 2026 کے دوران جاری کھاتے کو 46 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے خسارے کا سامنا رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 68 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس طرح 1.15 ارب ڈالر کی تنزلی ہوئی، جو عالمی سطح پر تیل کی اوسط قیمتوں میں 46 فیصد اضافے کے تناظر میں محدود ہے۔ ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اس سے بھی زیادہ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اشیا اور خدمات کی درآمدات میں 4.7 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جس میں پٹرولیم کا حصہ صرف 1.5 ارب ڈالر تھا۔ باقی اضافے کا بڑا حصہ ٹرانسپورٹ، مشینری، دھاتوں اور دیگر غیر توانائی درآمدات سے متعلق تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اضافے کے مقابلے میں زرمبادلہ کی آمدنی میں نمایاں بہتری آئی۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں 2.1 ارب ڈالر جبکہ خدمات کی برآمدات میں 1.2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ان دونوں ذرائع سے حاصل ہونے والی اضافی آمدنی نے پٹرولیم کی درآمدات پر ہونے والے اضافی اخراجات سے زیادہ رقم فراہم کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی بیرونی مالیاتی مضبوطی میں روایتی اشیا کی برآمدات کے علاوہ دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ کا کردار بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں اشیا کی درآمدات کا بل 13.2 فیصد اضافے سے 19.2 ارب ڈالر ہوگیا۔ پٹرولیم درآمدات میں صرف 6.5 فیصد جبکہ غیر پٹرولیم درآمدات میں 15.1 فیصد اضافہ ہوا۔ ٹرانسپورٹ، مشینری اور دھاتوں کی درآمدات میں تقریباً 20 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔ زیادہ قیمتوں کے باعث کھپت میں کمی کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی درآمدی مقدار 21 فیصد اور خام تیل کی مقدار 7 فیصد گھٹ گئی، جبکہ مقامی ریفائنریاں نسبتاً بلند پیداواری صلاحیت پر کام کرتی رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل این جی کی درآمدات میں اس سے بھی زیادہ کمی آئی۔ مارچ سے ستمبر کے دوران پاکستان کو ایل این جی کے صرف 18 جہاز موصول ہوئے، جن میں سات اسپاٹ خریداری کے تحت تھے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 64 جہاز آئے تھے۔ عالمی منڈی میں موجودہ قیمتوں کے مطابق اس کمی سے درآمدی اخراجات میں ممکنہ طور پر تقریباً 2 ارب ڈالر کی بچت ہوئی۔ تاہم اس کی ایک وجہ قطر سے طے شدہ معاہدوں کے تحت سپلائی میں تعطل بھی ہے، نہ کہ صرف ملکی طلب میں کمی۔ درآمدی بل کم ہونے کے باوجود گیس کی قلت اور رسد میں رکاوٹوں نے معیشت کو حاصل ہونے والے فائدے کو محدود کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر پٹرولیم درآمدات میں اضافہ لازماً تشویش کا باعث نہیں۔ مکمل تیار شدہ گاڑیوں کی درآمدات 40 فیصد بڑھ کر 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہوگئیں، جبکہ مقامی اسمبلنگ کے لیے گاڑیوں کی کٹس کی درآمدات 31 فیصد اضافے سے 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس اضافے کی ایک وجہ گزشتہ طلب کا پورا ہونا ہوسکتی ہے لیکن گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے ذخائر اور ثانوی منڈی میں رعایتی قیمتیں اس رجحان کے زیادہ دیر برقرار رہنے کے امکانات محدود کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موبائل فون کی درآمدات میں کمی کے باوجود مشینری کی درآمدات بڑھ رہی ہیں، جو درآمدات کی ساخت میں ممکنہ طور پر مثبت تبدیلی ہے۔ دھاتوں کی درآمدات میں اضافہ تعمیراتی سرگرمیوں میں کچھ بحالی کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ مہینوں میں درآمدی طلب میں کمی آنے کی وجوہات بھی موجود ہیں۔ مہنگائی اب بھی بلند سطح پر ہے، جنگ سے متعلق غیر یقینی صورت حال صارفین اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کررہی ہے، جبکہ ثانوی منڈی میں شرحِ سود جنگ سے پہلے کی کم ترین سطح کے مقابلے میں تقریباً 200 بیسس پوائنٹس بڑھ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی ریٹ میں مزید اضافے کے بغیر بھی مالیاتی حالات سخت ہورہے ہیں، جس سے درآمدی صارف اشیا اور دیگر غیر ضروری خریداریوں کی طلب محدود ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ترسیلاتِ زر توقعات سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ اس اضافے کا کچھ حصہ جنگ سے بھی منسلک ہوسکتا ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورت حال کے باعث بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنی بچتیں وطن منتقل کررہے ہوں گے۔ خدمات کی برآمدات کو بھی نسبتاً سازگار ٹیکس نظام اور اس شعبے کے پھیلتے ہوئے دائرہ کار سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔ یہ آمدن بیرونی کھاتے کو سہارا دے رہی ہے، جبکہ اشیا کی برآمدات اکیلے یہ کردار ادا کرنے میں مشکلات کا شکار رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تشویش ناک پیش رفت شرحِ مبادلہ کے محاذ پر سامنے آرہی ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کی شرح تجارتی شراکت دار ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے، جبکہ روپے اور ڈالر کی برائے نام شرحِ مبادلہ بڑی حد تک مستحکم رہی ہے۔ اس صورت حال میں حقیقی مؤثر شرحِ مبادلہ بڑھ کر 108.93 ہوگئی ہے، جو مئی 2018 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران اس اشاریے میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورت حال بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ روپیہ اپنی حقیقی قدر سے زیادہ مضبوط ہے، تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی منڈی میں پاکستان کی قیمتوں کے لحاظ سے مسابقت بتدریج کم ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے پاس اپنے مؤقف کے حق میں معقول دلائل موجود ہیں۔ مرکزی بینک روپے کو سہارا دینے کے لیے انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر فروخت کرنے کے بجائے خرید رہا ہے، جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوری طور پر نہ تو ڈالر کی قلت کے شواہد ہیں اور نہ ہی بیرونی مالیاتی بحران کا خطرہ دکھائی دیتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ شرحِ مبادلہ کو غیر معینہ مدت تک بڑی حد تک مستحکم رکھا جاسکتا ہے، خصوصاً اس وقت جب ملکی مہنگائی پاکستان کے تجارتی شراکت دار ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے روپے کی قدر میں کمی کی اجازت دینے سے گریز قابلِ فہم ہے۔ شرحِ مبادلہ سیاسی طور پر ایک حساس معاملہ ہے اور ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ معمولی کمی بھی روپے کی قدر میں مزید گراوٹ کی توقعات پیدا کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی سازوں کو خدشہ ہے کہ اس سے مہنگائی بڑھے گی اور روپے کی قدر میں کمی کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے جو خود کو مزید تقویت دے۔ اسی لیے روپے کی برائے نام شرحِ مبادلہ کو مستحکم رکھنے اور طلب کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی پر انحصار کرنے کا رجحان موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ شرحِ سود میں محتاط اضافے کا امکان شرحِ مبادلہ میں دانستہ ردوبدل کے مقابلے میں زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اگلا اجلاس 26 اکتوبر کو شیڈول ہے، جبکہ ثانوی منڈی میں شرحِ منافع پہلے ہی بڑھ چکی ہے۔ تاہم شرحِ سود میں اضافہ اور شرحِ مبادلہ میں لچک دو مختلف مقاصد پورے کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلند شرحِ سود طلب کو محدود اور مہنگائی کے دباؤ کو کم کرسکتی ہے، لیکن صرف اسی اقدام سے حقیقی شرحِ مبادلہ مضبوط ہونے کے باعث بیرونی مسابقت میں آنے والی کمی کو دور نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بہت کچھ جنگ کے دورانیے پر منحصر ہے۔ اگر تنازع طویل ہوتا ہے تو ترسیلاتِ زر کمزور پڑسکتی ہیں، خدمات کی برآمدات محدود ہوسکتی ہیں اور توانائی کی درآمدات کے بل پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کشیدگی میں کمی آتی ہے، امریکا میں تیل کی پیداوار بڑھتی ہے اور عالمی طلب نرم پڑتی ہے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان چونکہ ایندھن کی بلند قیمتوں کا بوجھ بڑی حد تک صارفین تک منتقل کررہا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے سے ملکی مہنگائی کو بھی کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔فی الحال پاکستان کا بیرونی کھاتہ قابلِ انتظام ہے اور فوری طور پر ادائیگیوں کے توازن کے بحران کی توقع کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل خطرہ یہ ہے کہ پالیسی ساز فوری دباؤ کی عدم موجودگی کو اس بات کا ثبوت سمجھ لیں کہ شرحِ مبادلہ سے متعلق موجودہ حکمتِ عملی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھی جاسکتی ہے۔ توانائی کی کھپت میں کمی اور زرمبادلہ کی بہتر آمدنی نے پاکستان کو کچھ مہلت فراہم کی ہے۔ اس فائدے کو ضائع کرنے کے بجائے ضروری ہے کہ مسابقت میں بتدریج کمی کو بیرونی کھاتے کے ایک نئے مسئلے میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ترسیلاتِ زر اور خدمات کی برآمدات نے تیل کی بلند قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔ تاہم حقیقی شرحِ مبادلہ میں اضافہ اور روپے کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنے سے گریز، جنگ طویل ہونے کی صورت میں ملکی مسابقت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان کے بیرونی کھاتے نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے جھٹکے کا غیر معمولی طور پر بہتر مقابلہ کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہوئے سات ماہ گزرنے کے باوجود بیرونی مالیاتی دباؤ کے ایسے شواہد کم ہیں جو ماضی میں توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے دوران سامنے آتے رہے ہیں۔ ملکی کھپت محدود ہورہی ہے، توانائی کی درآمدات کا حجم کم ہے، جبکہ ترسیلاتِ زر اور خدمات کی برآمدات میں اضافے نے درآمدی بل میں اضافے کے اثرات بڑی حد تک زائل کردیے ہیں۔</p>
<p>اعداد و شمار اس صورت حال کی وضاحت کرتے ہیں۔ مارچ سے ستمبر 2026 کے دوران جاری کھاتے کو 46 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے خسارے کا سامنا رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 68 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس طرح 1.15 ارب ڈالر کی تنزلی ہوئی، جو عالمی سطح پر تیل کی اوسط قیمتوں میں 46 فیصد اضافے کے تناظر میں محدود ہے۔ ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اس سے بھی زیادہ رہا۔</p>
<p>اشیا اور خدمات کی درآمدات میں 4.7 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جس میں پٹرولیم کا حصہ صرف 1.5 ارب ڈالر تھا۔ باقی اضافے کا بڑا حصہ ٹرانسپورٹ، مشینری، دھاتوں اور دیگر غیر توانائی درآمدات سے متعلق تھا۔</p>
<p>اس اضافے کے مقابلے میں زرمبادلہ کی آمدنی میں نمایاں بہتری آئی۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں 2.1 ارب ڈالر جبکہ خدمات کی برآمدات میں 1.2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ان دونوں ذرائع سے حاصل ہونے والی اضافی آمدنی نے پٹرولیم کی درآمدات پر ہونے والے اضافی اخراجات سے زیادہ رقم فراہم کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی بیرونی مالیاتی مضبوطی میں روایتی اشیا کی برآمدات کے علاوہ دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ کا کردار بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں اشیا کی درآمدات کا بل 13.2 فیصد اضافے سے 19.2 ارب ڈالر ہوگیا۔ پٹرولیم درآمدات میں صرف 6.5 فیصد جبکہ غیر پٹرولیم درآمدات میں 15.1 فیصد اضافہ ہوا۔ ٹرانسپورٹ، مشینری اور دھاتوں کی درآمدات میں تقریباً 20 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔ زیادہ قیمتوں کے باعث کھپت میں کمی کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی درآمدی مقدار 21 فیصد اور خام تیل کی مقدار 7 فیصد گھٹ گئی، جبکہ مقامی ریفائنریاں نسبتاً بلند پیداواری صلاحیت پر کام کرتی رہیں۔</p>
<p>ایل این جی کی درآمدات میں اس سے بھی زیادہ کمی آئی۔ مارچ سے ستمبر کے دوران پاکستان کو ایل این جی کے صرف 18 جہاز موصول ہوئے، جن میں سات اسپاٹ خریداری کے تحت تھے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 64 جہاز آئے تھے۔ عالمی منڈی میں موجودہ قیمتوں کے مطابق اس کمی سے درآمدی اخراجات میں ممکنہ طور پر تقریباً 2 ارب ڈالر کی بچت ہوئی۔ تاہم اس کی ایک وجہ قطر سے طے شدہ معاہدوں کے تحت سپلائی میں تعطل بھی ہے، نہ کہ صرف ملکی طلب میں کمی۔ درآمدی بل کم ہونے کے باوجود گیس کی قلت اور رسد میں رکاوٹوں نے معیشت کو حاصل ہونے والے فائدے کو محدود کردیا ہے۔</p>
<p>غیر پٹرولیم درآمدات میں اضافہ لازماً تشویش کا باعث نہیں۔ مکمل تیار شدہ گاڑیوں کی درآمدات 40 فیصد بڑھ کر 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہوگئیں، جبکہ مقامی اسمبلنگ کے لیے گاڑیوں کی کٹس کی درآمدات 31 فیصد اضافے سے 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس اضافے کی ایک وجہ گزشتہ طلب کا پورا ہونا ہوسکتی ہے لیکن گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے ذخائر اور ثانوی منڈی میں رعایتی قیمتیں اس رجحان کے زیادہ دیر برقرار رہنے کے امکانات محدود کرتی ہیں۔</p>
<p>موبائل فون کی درآمدات میں کمی کے باوجود مشینری کی درآمدات بڑھ رہی ہیں، جو درآمدات کی ساخت میں ممکنہ طور پر مثبت تبدیلی ہے۔ دھاتوں کی درآمدات میں اضافہ تعمیراتی سرگرمیوں میں کچھ بحالی کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔</p>
<p>آئندہ مہینوں میں درآمدی طلب میں کمی آنے کی وجوہات بھی موجود ہیں۔ مہنگائی اب بھی بلند سطح پر ہے، جنگ سے متعلق غیر یقینی صورت حال صارفین اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کررہی ہے، جبکہ ثانوی منڈی میں شرحِ سود جنگ سے پہلے کی کم ترین سطح کے مقابلے میں تقریباً 200 بیسس پوائنٹس بڑھ چکی ہے۔</p>
<p>پالیسی ریٹ میں مزید اضافے کے بغیر بھی مالیاتی حالات سخت ہورہے ہیں، جس سے درآمدی صارف اشیا اور دیگر غیر ضروری خریداریوں کی طلب محدود ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ترسیلاتِ زر توقعات سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ اس اضافے کا کچھ حصہ جنگ سے بھی منسلک ہوسکتا ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورت حال کے باعث بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنی بچتیں وطن منتقل کررہے ہوں گے۔ خدمات کی برآمدات کو بھی نسبتاً سازگار ٹیکس نظام اور اس شعبے کے پھیلتے ہوئے دائرہ کار سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔ یہ آمدن بیرونی کھاتے کو سہارا دے رہی ہے، جبکہ اشیا کی برآمدات اکیلے یہ کردار ادا کرنے میں مشکلات کا شکار رہی ہیں۔</p>
<p>زیادہ تشویش ناک پیش رفت شرحِ مبادلہ کے محاذ پر سامنے آرہی ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کی شرح تجارتی شراکت دار ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے، جبکہ روپے اور ڈالر کی برائے نام شرحِ مبادلہ بڑی حد تک مستحکم رہی ہے۔ اس صورت حال میں حقیقی مؤثر شرحِ مبادلہ بڑھ کر 108.93 ہوگئی ہے، جو مئی 2018 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران اس اشاریے میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>یہ صورت حال بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ روپیہ اپنی حقیقی قدر سے زیادہ مضبوط ہے، تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی منڈی میں پاکستان کی قیمتوں کے لحاظ سے مسابقت بتدریج کم ہورہی ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے پاس اپنے مؤقف کے حق میں معقول دلائل موجود ہیں۔ مرکزی بینک روپے کو سہارا دینے کے لیے انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر فروخت کرنے کے بجائے خرید رہا ہے، جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔</p>
<p>فوری طور پر نہ تو ڈالر کی قلت کے شواہد ہیں اور نہ ہی بیرونی مالیاتی بحران کا خطرہ دکھائی دیتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ شرحِ مبادلہ کو غیر معینہ مدت تک بڑی حد تک مستحکم رکھا جاسکتا ہے، خصوصاً اس وقت جب ملکی مہنگائی پاکستان کے تجارتی شراکت دار ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہو۔</p>
<p>حکومت کی جانب سے روپے کی قدر میں کمی کی اجازت دینے سے گریز قابلِ فہم ہے۔ شرحِ مبادلہ سیاسی طور پر ایک حساس معاملہ ہے اور ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ معمولی کمی بھی روپے کی قدر میں مزید گراوٹ کی توقعات پیدا کرسکتی ہے۔</p>
<p>پالیسی سازوں کو خدشہ ہے کہ اس سے مہنگائی بڑھے گی اور روپے کی قدر میں کمی کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے جو خود کو مزید تقویت دے۔ اسی لیے روپے کی برائے نام شرحِ مبادلہ کو مستحکم رکھنے اور طلب کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی پر انحصار کرنے کا رجحان موجود ہے۔</p>
<p>یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ شرحِ سود میں محتاط اضافے کا امکان شرحِ مبادلہ میں دانستہ ردوبدل کے مقابلے میں زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اگلا اجلاس 26 اکتوبر کو شیڈول ہے، جبکہ ثانوی منڈی میں شرحِ منافع پہلے ہی بڑھ چکی ہے۔ تاہم شرحِ سود میں اضافہ اور شرحِ مبادلہ میں لچک دو مختلف مقاصد پورے کرتے ہیں۔</p>
<p>بلند شرحِ سود طلب کو محدود اور مہنگائی کے دباؤ کو کم کرسکتی ہے، لیکن صرف اسی اقدام سے حقیقی شرحِ مبادلہ مضبوط ہونے کے باعث بیرونی مسابقت میں آنے والی کمی کو دور نہیں کیا جاسکتا۔</p>
<p>اب بہت کچھ جنگ کے دورانیے پر منحصر ہے۔ اگر تنازع طویل ہوتا ہے تو ترسیلاتِ زر کمزور پڑسکتی ہیں، خدمات کی برآمدات محدود ہوسکتی ہیں اور توانائی کی درآمدات کے بل پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کشیدگی میں کمی آتی ہے، امریکا میں تیل کی پیداوار بڑھتی ہے اور عالمی طلب نرم پڑتی ہے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔</p>
<p>پاکستان چونکہ ایندھن کی بلند قیمتوں کا بوجھ بڑی حد تک صارفین تک منتقل کررہا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے سے ملکی مہنگائی کو بھی کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔فی الحال پاکستان کا بیرونی کھاتہ قابلِ انتظام ہے اور فوری طور پر ادائیگیوں کے توازن کے بحران کی توقع کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں۔</p>
<p>اصل خطرہ یہ ہے کہ پالیسی ساز فوری دباؤ کی عدم موجودگی کو اس بات کا ثبوت سمجھ لیں کہ شرحِ مبادلہ سے متعلق موجودہ حکمتِ عملی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھی جاسکتی ہے۔ توانائی کی کھپت میں کمی اور زرمبادلہ کی بہتر آمدنی نے پاکستان کو کچھ مہلت فراہم کی ہے۔ اس فائدے کو ضائع کرنے کے بجائے ضروری ہے کہ مسابقت میں بتدریج کمی کو بیرونی کھاتے کے ایک نئے مسئلے میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292765</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Oct 2026 13:21:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/19131016dc37e05.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/19131016dc37e05.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
