<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 19 Oct 2026 01:37:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 19 Oct 2026 01:37:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترکیہ کو امریکا، روس سپلائی معاہدے کے تحت کچھ ڈیزل ملے گا، وزیر توانائی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292736/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ترکیہ کے وزیر توانائی الپ ارسلان بایراکتار نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاہدے کے تحت عالمی منڈیوں کو فراہم کیے جانے والے روسی ڈیزل میں سے کچھ حصہ حاصل کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اتوار کو ٹی وی چینل کنال 7 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور روس کے درمیان ڈیزل سپلائی کا معاہدہ ترکیہ کے توانائی تحفظ کے لیے اہم ہے۔ انقرہ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے روس، ایران اور آذربائیجان سمیت مختلف ممالک پر انحصار کرتا ہے اور اب امریکا سمیت دیگر شراکت داروں کے ساتھ معاہدوں کے ذریعے ذرائع متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بایراکتار کے مطابق روس نے حالیہ مہینوں میں ڈیزل کی برآمدات پر پابندیاں عائد کی تھیں، تاہم ٹرمپ کے ساتھ معاہدے کے بعد ترکیہ کو بھی اس سپلائی میں سے کچھ حصہ ملے گا۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی، یورپی عہدیداروں اور ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کے بعض رہنماؤں نے اس معاہدے پر تنقید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر توانائی نے بتایا کہ ترکیہ 2028 کی پہلی سہ ماہی میں گیس کی پیداوار کے لیے دوسرا تیرتا ہوا پلیٹ فارم فعال کرے گا، جس سے بحیرہ اسود میں یومیہ پیداوار 4 کروڑ 50 لاکھ مکعب میٹر تک پہنچ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کو ترکیہ نے اپنا پہلا تیرتا ہوا گیس پیداواری پلیٹ فارم ’’عثمان غازی‘‘ بحیرہ اسود روانہ کیا تھا۔ اس سے ساکاریا گیس فیلڈ کی یومیہ پیداوار موجودہ 95 لاکھ مکعب میٹر سے بڑھ کر 2 کروڑ مکعب میٹر ہونے کی توقع ہے۔ دوسرے پلیٹ فارم سے مزید ڈھائی کروڑ مکعب میٹر گیس یومیہ حاصل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بایراکتار کے مطابق اس اضافے کے بعد ترکیہ کے ہر چار میں سے تین گھرانوں کو مقامی گیس فراہم کی جاسکے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایران جنگ کے علاقائی اثرات کے باعث پاکستان کے ساحل کے قریب ہائیڈروکاربن کی تلاش کے منصوبے تقریباً چھ ماہ تاخیر کا شکار ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ترکیہ کے وزیر توانائی الپ ارسلان بایراکتار نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاہدے کے تحت عالمی منڈیوں کو فراہم کیے جانے والے روسی ڈیزل میں سے کچھ حصہ حاصل کرے گا۔</strong></p>
<p>انہوں نے اتوار کو ٹی وی چینل کنال 7 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور روس کے درمیان ڈیزل سپلائی کا معاہدہ ترکیہ کے توانائی تحفظ کے لیے اہم ہے۔ انقرہ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے روس، ایران اور آذربائیجان سمیت مختلف ممالک پر انحصار کرتا ہے اور اب امریکا سمیت دیگر شراکت داروں کے ساتھ معاہدوں کے ذریعے ذرائع متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p>بایراکتار کے مطابق روس نے حالیہ مہینوں میں ڈیزل کی برآمدات پر پابندیاں عائد کی تھیں، تاہم ٹرمپ کے ساتھ معاہدے کے بعد ترکیہ کو بھی اس سپلائی میں سے کچھ حصہ ملے گا۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی، یورپی عہدیداروں اور ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کے بعض رہنماؤں نے اس معاہدے پر تنقید کی ہے۔</p>
<p>وزیر توانائی نے بتایا کہ ترکیہ 2028 کی پہلی سہ ماہی میں گیس کی پیداوار کے لیے دوسرا تیرتا ہوا پلیٹ فارم فعال کرے گا، جس سے بحیرہ اسود میں یومیہ پیداوار 4 کروڑ 50 لاکھ مکعب میٹر تک پہنچ جائے گی۔</p>
<p>ہفتے کو ترکیہ نے اپنا پہلا تیرتا ہوا گیس پیداواری پلیٹ فارم ’’عثمان غازی‘‘ بحیرہ اسود روانہ کیا تھا۔ اس سے ساکاریا گیس فیلڈ کی یومیہ پیداوار موجودہ 95 لاکھ مکعب میٹر سے بڑھ کر 2 کروڑ مکعب میٹر ہونے کی توقع ہے۔ دوسرے پلیٹ فارم سے مزید ڈھائی کروڑ مکعب میٹر گیس یومیہ حاصل ہوگی۔</p>
<p>بایراکتار کے مطابق اس اضافے کے بعد ترکیہ کے ہر چار میں سے تین گھرانوں کو مقامی گیس فراہم کی جاسکے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایران جنگ کے علاقائی اثرات کے باعث پاکستان کے ساحل کے قریب ہائیڈروکاربن کی تلاش کے منصوبے تقریباً چھ ماہ تاخیر کا شکار ہوگئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292736</guid>
      <pubDate>Sun, 18 Oct 2026 19:57:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/18195422ce80765.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/18195422ce80765.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
