<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 18 Oct 2026 22:22:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 18 Oct 2026 22:22:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانس میں مہنگائی کے خلاف احتجاج، ہنگاموں میں ایک شخص ہلاک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292733/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فرانس میں اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں اور عوامی خدمات کی خراب صورت حال کے خلاف احتجاج کے نتیجے میں کئی برسوں کے بدترین ہنگاموں کے بعد اتوار کو ملک بھر میں تباہی کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ مظاہروں کے دوران ایک شخص ہلاک، سیکڑوں پولیس اہلکار زخمی اور تقریباً 1,800 افراد گرفتار کر لیے گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کو ملک بھر میں ہونے والے مظاہرے ہنگاموں میں تبدیل ہوگئے۔ مختلف شہروں میں پرتشدد گروہوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، ایک ٹاؤن ہال کو آگ لگا دی گئی، دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی جبکہ عمارتوں پر نعرے تحریر کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیرس میں مظاہروں کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ایک شخص ہلاک ہوگیا، جہاں پولیس نے ریکارڈ 855 افراد کو گرفتار کیا۔ وزیر داخلہ کے مطابق فرانس بھر میں 500 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈچ کاروباری شخصیت تیجے ڈی بوئر نے کہا کہ یہاں جنگ زدہ علاقے جیسی صورت حال ہے۔ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایک دوست سے ملنے پیرس آئے تھے۔ ان کے مطابق مظاہروں کے باعث انہیں پلیس دے لا ریپبلک میں واقع ہوٹل خالی کرنا پڑا، جسے ہفتے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے درجنوں شہروں میں ہونے والے مارچوں میں پانچ لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ ان مظاہروں میں ایک ماہ سے جاری طلبہ تحریک اور مہنگائی، عوامی خدمات میں کمی اور معیارِ زندگی سے متعلق وسیع تر عوامی بے چینی یکجا ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ایمانوئل میکرون اتوار کو مقامی وقت کے مطابق رات 8 بجے (گرینچ معیاری وقت کے مطابق شام 6 بجے) قوم سے خطاب کریں گے، صدارتی دفتر نے بتایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیکڑوں دکانوں کو نقصان&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں لاکھوں افراد نے پُرامن احتجاج کیا، وہیں پرتشدد عناصر نے سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا، مہنگے برانڈز کی دکانوں اور سپر مارکیٹوں میں لوٹ مار کی اور پولیس کی گاڑیوں اور اہلکاروں پر حملے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمال میں للی سے جنوب میں مارسیلے اور مشرق میں اسٹراسبرگ سے جنوب مغرب میں بورڈو تک مختلف شہروں میں صفائی اور بحالی کا کام شروع کردیا گیا۔ بورڈو میں نقاب پوش ہجوم نے مقامی پریفیکٹ کی رہائش گاہ میں دھاوا بول دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ لاراں نونیز نے بتایا کہ ہفتے کو کئی سو دکانوں کو نقصان پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیرس میں دکانوں کے ٹوٹے ہوئے شیشے، جلی ہوئی سائیکلیں اور دیواروں پر اسپرے سے لکھے گئے نعرے اس دن کی تباہی کی گواہی دے رہے تھے، جس کا آغاز زیادہ تر پُرامن مظاہروں سے ہوا تھا لیکن بعد میں صورت حال پرتشدد ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوب مغربی فرانس کے شہر لیموژ میں میئر گیوم گوراں نے بدامنی کی مذمت کی۔ ہفتے کو آتش زنی کے واقعے میں شہر کے 143 سال پرانے ٹاؤن ہال کو آگ لگا دی گئی، جس سے عمارت کا ایک حصہ تباہ ہوگیا۔ اس واقعے کا موازنہ 2019 میں پیرس کے نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل میں لگنے والی آگ سے کیا گیا، جس نے تاریخی عمارت کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوراں نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹاؤن ہال کو جلانے کی واضح اور پہلے سے طے شدہ کوشش کی گئی، جبکہ عمارت کے اندر موجود افراد کو اپنی جانوں کا خطرہ محسوس ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دھمکی دی کہ اگر شہر کو ٹاؤن ہال کی مرمت کے لیے درکار 10 لاکھ یورو فراہم نہ کیے گئے تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ہنگاموں سے صدر میکرون اور ان کی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جبکہ اگلے سال صدارتی انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔ وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے بدامنی کا ذمہ دار ’’انتہائی بائیں بازو‘‘ کے عناصر اور جرائم پیشہ افراد کو ٹھہرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر معیشت رولان لیسکیور نے اتوار کو اعلان کیا کہ نقصان اٹھانے والے کاروباری مالکان کی مدد کی جائے گی۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ توڑ پھوڑ کرنے والوں کو نقصان کا ازالہ کرنا ہوگا اور افراتفری پھیلانے کی کوشش پر جواب دہ ہونا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈو کے میئر تھوما کازناو نے بتایا کہ شہر میں 100 تک دکانوں کو لوٹا گیا، جبکہ مارسیلے کے میئر بنوا پایاں نے تشدد سے متاثرہ کاروباروں کی مدد کے لیے ہنگامی مالی امداد کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی ریٹیل کمپنی کیریفور کے چیف ایگزیکٹو الیگزاندر بومپار نے ٹی وی چینل بی ایف ایم ٹی وی کو بتایا کہ کمپنی کی 50 دکانوں کو نقصان پہنچا، جن میں سے 20 میں لوٹ مار کی گئی۔ نقصان کی مالیت کروڑوں یورو تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہروں کا آغاز گزشتہ ماہ محنت کش طبقے کے علاقوں میں اسکولوں کی صورت حال اور اساتذہ کی کمی کے خلاف احتجاج سے ہوا تھا، تاہم بعد میں یہ تحریک عدم مساوات، سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف وسیع تر احتجاج میں تبدیل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فرانس میں اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں اور عوامی خدمات کی خراب صورت حال کے خلاف احتجاج کے نتیجے میں کئی برسوں کے بدترین ہنگاموں کے بعد اتوار کو ملک بھر میں تباہی کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ مظاہروں کے دوران ایک شخص ہلاک، سیکڑوں پولیس اہلکار زخمی اور تقریباً 1,800 افراد گرفتار کر لیے گئے۔</strong></p>
<p>ہفتے کو ملک بھر میں ہونے والے مظاہرے ہنگاموں میں تبدیل ہوگئے۔ مختلف شہروں میں پرتشدد گروہوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، ایک ٹاؤن ہال کو آگ لگا دی گئی، دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی جبکہ عمارتوں پر نعرے تحریر کیے گئے۔</p>
<p>پیرس میں مظاہروں کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ایک شخص ہلاک ہوگیا، جہاں پولیس نے ریکارڈ 855 افراد کو گرفتار کیا۔ وزیر داخلہ کے مطابق فرانس بھر میں 500 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔</p>
<p>ڈچ کاروباری شخصیت تیجے ڈی بوئر نے کہا کہ یہاں جنگ زدہ علاقے جیسی صورت حال ہے۔ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایک دوست سے ملنے پیرس آئے تھے۔ ان کے مطابق مظاہروں کے باعث انہیں پلیس دے لا ریپبلک میں واقع ہوٹل خالی کرنا پڑا، جسے ہفتے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔</p>
<p>ملک کے درجنوں شہروں میں ہونے والے مارچوں میں پانچ لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ ان مظاہروں میں ایک ماہ سے جاری طلبہ تحریک اور مہنگائی، عوامی خدمات میں کمی اور معیارِ زندگی سے متعلق وسیع تر عوامی بے چینی یکجا ہوگئی۔</p>
<p>صدر ایمانوئل میکرون اتوار کو مقامی وقت کے مطابق رات 8 بجے (گرینچ معیاری وقت کے مطابق شام 6 بجے) قوم سے خطاب کریں گے، صدارتی دفتر نے بتایا۔</p>
<p><strong>سیکڑوں دکانوں کو نقصان</strong></p>
<p>جہاں لاکھوں افراد نے پُرامن احتجاج کیا، وہیں پرتشدد عناصر نے سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا، مہنگے برانڈز کی دکانوں اور سپر مارکیٹوں میں لوٹ مار کی اور پولیس کی گاڑیوں اور اہلکاروں پر حملے کیے۔</p>
<p>شمال میں للی سے جنوب میں مارسیلے اور مشرق میں اسٹراسبرگ سے جنوب مغرب میں بورڈو تک مختلف شہروں میں صفائی اور بحالی کا کام شروع کردیا گیا۔ بورڈو میں نقاب پوش ہجوم نے مقامی پریفیکٹ کی رہائش گاہ میں دھاوا بول دیا۔</p>
<p>وزیر داخلہ لاراں نونیز نے بتایا کہ ہفتے کو کئی سو دکانوں کو نقصان پہنچا۔</p>
<p>پیرس میں دکانوں کے ٹوٹے ہوئے شیشے، جلی ہوئی سائیکلیں اور دیواروں پر اسپرے سے لکھے گئے نعرے اس دن کی تباہی کی گواہی دے رہے تھے، جس کا آغاز زیادہ تر پُرامن مظاہروں سے ہوا تھا لیکن بعد میں صورت حال پرتشدد ہوگئی۔</p>
<p>جنوب مغربی فرانس کے شہر لیموژ میں میئر گیوم گوراں نے بدامنی کی مذمت کی۔ ہفتے کو آتش زنی کے واقعے میں شہر کے 143 سال پرانے ٹاؤن ہال کو آگ لگا دی گئی، جس سے عمارت کا ایک حصہ تباہ ہوگیا۔ اس واقعے کا موازنہ 2019 میں پیرس کے نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل میں لگنے والی آگ سے کیا گیا، جس نے تاریخی عمارت کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔</p>
<p>گوراں نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹاؤن ہال کو جلانے کی واضح اور پہلے سے طے شدہ کوشش کی گئی، جبکہ عمارت کے اندر موجود افراد کو اپنی جانوں کا خطرہ محسوس ہوا۔</p>
<p>انہوں نے دھمکی دی کہ اگر شہر کو ٹاؤن ہال کی مرمت کے لیے درکار 10 لاکھ یورو فراہم نہ کیے گئے تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔</p>
<p>ان ہنگاموں سے صدر میکرون اور ان کی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جبکہ اگلے سال صدارتی انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔ وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے بدامنی کا ذمہ دار ’’انتہائی بائیں بازو‘‘ کے عناصر اور جرائم پیشہ افراد کو ٹھہرایا۔</p>
<p>وزیر معیشت رولان لیسکیور نے اتوار کو اعلان کیا کہ نقصان اٹھانے والے کاروباری مالکان کی مدد کی جائے گی۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ توڑ پھوڑ کرنے والوں کو نقصان کا ازالہ کرنا ہوگا اور افراتفری پھیلانے کی کوشش پر جواب دہ ہونا پڑے گا۔</p>
<p>بورڈو کے میئر تھوما کازناو نے بتایا کہ شہر میں 100 تک دکانوں کو لوٹا گیا، جبکہ مارسیلے کے میئر بنوا پایاں نے تشدد سے متاثرہ کاروباروں کی مدد کے لیے ہنگامی مالی امداد کا اعلان کیا۔</p>
<p>فرانسیسی ریٹیل کمپنی کیریفور کے چیف ایگزیکٹو الیگزاندر بومپار نے ٹی وی چینل بی ایف ایم ٹی وی کو بتایا کہ کمپنی کی 50 دکانوں کو نقصان پہنچا، جن میں سے 20 میں لوٹ مار کی گئی۔ نقصان کی مالیت کروڑوں یورو تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>مظاہروں کا آغاز گزشتہ ماہ محنت کش طبقے کے علاقوں میں اسکولوں کی صورت حال اور اساتذہ کی کمی کے خلاف احتجاج سے ہوا تھا، تاہم بعد میں یہ تحریک عدم مساوات، سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف وسیع تر احتجاج میں تبدیل ہوگئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292733</guid>
      <pubDate>Sun, 18 Oct 2026 19:37:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/18193119d2d3ac5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/18193119d2d3ac5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
