<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 18 Oct 2026 13:10:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 18 Oct 2026 13:10:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا ازبکستان اور بھارت کا دورہ، معدنی وسائل اور تجارتی معاہدوں پر بات چیت ہوگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292708/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اتوار کو ازبکستان پہنچیں گے، جہاں وہ وسطی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران جنگ، سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی اور امریکا و یوکرین کے تعلقات میں اختلافات نمایاں ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبیو سمرقند میں امریکا اور پانچ وسطی ایشیائی ممالک پر مشتمل گروپ سی 5 پلس ون کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس گروپ میں ازبکستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ترکمانستان شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کے مطابق قدرتی وسائل سے مالا مال وسطی ایشیا واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال نومبر میں ان ممالک کے رہنماؤں کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کی تھی، جہاں قازقستان نے ابراہام معاہدوں میں شمولیت پر اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورے کے دوران روس پر عائد پابندیوں سے بچنے کے لیے تجارتی سرگرمیوں، نایاب معدنیات تک رسائی اور ممکنہ تجارتی معاہدوں پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق 200 سے زائد کاروباری شخصیات بھی مارکو روبیو کے ہمراہ ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ازبکستان کے بعد امریکی وزیر خارجہ ممبئی اور جام نگر جائیں گے، جہاں وہ ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی سمیت کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اتوار کو ازبکستان پہنچیں گے، جہاں وہ وسطی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران جنگ، سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی اور امریکا و یوکرین کے تعلقات میں اختلافات نمایاں ہیں۔</strong></p>
<p>روبیو سمرقند میں امریکا اور پانچ وسطی ایشیائی ممالک پر مشتمل گروپ سی 5 پلس ون کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس گروپ میں ازبکستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ترکمانستان شامل ہیں۔</p>
<p>امریکی حکام کے مطابق قدرتی وسائل سے مالا مال وسطی ایشیا واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال نومبر میں ان ممالک کے رہنماؤں کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کی تھی، جہاں قازقستان نے ابراہام معاہدوں میں شمولیت پر اتفاق کیا تھا۔</p>
<p>دورے کے دوران روس پر عائد پابندیوں سے بچنے کے لیے تجارتی سرگرمیوں، نایاب معدنیات تک رسائی اور ممکنہ تجارتی معاہدوں پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق 200 سے زائد کاروباری شخصیات بھی مارکو روبیو کے ہمراہ ہوں گی۔</p>
<p>ازبکستان کے بعد امریکی وزیر خارجہ ممبئی اور جام نگر جائیں گے، جہاں وہ ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی سمیت کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292708</guid>
      <pubDate>Sun, 18 Oct 2026 10:38:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/181034025c3cfae.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/181034025c3cfae.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
