<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 18 Oct 2026 12:13:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 18 Oct 2026 12:13:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر خزانہ کی مشرق وسطیٰ کے بینکوں سے سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل فنانس پر بات چیت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292707/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے ہفتے کو مشرق وسطیٰ کے بینکوں کے وفود کے ساتھ متعدد مالیاتی امور پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں 2026 کے موقع پر ابوظہبی کمرشل بینک کے وفد سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کے معاشی منظرنامے، مالی معاونت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت، مالیاتی استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کے لیے حکومتی عزم کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات میں سرمایہ منڈی کے ذریعے قرض کے اجرا اور قرضوں کے انتظام سے متعلق امور زیر بحث آئے، جن کا مقصد مہنگی قلیل مدتی قرض گیری کی جگہ متبادل ذرائع اختیار کرنا، قرضوں کی مدت میں اضافہ اور ادائیگیوں کے بوجھ کو مخصوص ادوار میں جمع ہونے سے روکنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے متعدد مالیاتی معاملات میں بینک کی دلچسپی کا خیرمقدم کیا، جن میں پاکستان کے لیے کریڈٹ حدود کی بحالی، انٹرنیشنل اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن (آئی ٹی ایف سی) کی مالی معاونت میں شرکت، ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی (میگا) کی ضمانت پر مبنی مالی معاونت اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کی معاونت سے ڈائیورسفائیڈ پیمنٹ رائٹس (ڈی پی آر) کے تحت مالیاتی لین دین شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن، نجکاری، ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے، بجلی کی ترسیل اور ایم ایل ون ریلوے منصوبے میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی اجاگر کیے۔ دونوں فریقوں نے ڈیٹا سینٹرز کی مالی معاونت اور ڈیجیٹل فنانس پر بھی غور کیا، جس میں بجلی کی مسابقتی قیمتوں اور مؤثر ضابطہ جاتی نظام کی اہمیت پر زور دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں علاقائی تنازع کے معاشی اثرات، توانائی کے تحفظ اور ہدفی ریلیف اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان امور پر مزید رابطہ کاری وزارت خزانہ کے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کے ذریعے کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے عجمان بینک کے وفد سے بھی ملاقات کی، جس میں معاشی منظرنامے اور مالی معاونت میں شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے مالیاتی اور بیرونی شعبے کے اشاریوں میں بہتری کو اجاگر کرتے ہوئے معاشی استحکام اور اصلاحات کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ مذاکرات میں ممکنہ سکوک کے اجرا، روپے میں مالیت مگر ڈالر میں ادائیگی والے مالیاتی ذرائع اور فنڈز کے حصول کے ذرائع میں تنوع لانے پر گفتگو ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مہنگے قلیل مدتی قرضوں کی جگہ متبادل ذرائع اختیار کرنے، قرضوں کی مدت بڑھانے اور مجموعی بیرونی قرضوں میں اضافہ کیے بغیر ادائیگیوں کے بوجھ کو مخصوص ادوار میں جمع ہونے سے روکنے پر زور دیا۔ وزیر خزانہ نے تعاون بڑھانے میں عجمان بینک کی دلچسپی کو سراہا اور مستقبل کے مالیاتی معاملات میں اس کی شرکت اور مشاورت کا خیرمقدم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقوں نے علاقائی تنازع کے معاشی اثرات، بینکاری شعبے کی مضبوطی اور مالیاتی نظم و ضبط سے ہم آہنگ ہدفی ایندھن سبسڈی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں اور کھاد کی دستیابی کا بھی ذکر کیا گیا، جس نے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، محمد اورنگزیب نے بنکاک، تھائی لینڈ میں عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں 2026 کے موقع پر شارجہ اسلامک بینک کے وفد سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معاشی پیش رفت اور مالی معاونت میں شراکت داری پر گفتگو ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے مالیاتی اور بیرونی شعبے کے اشاریوں میں بہتری، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے، کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت کو اجاگر کیا۔ مذاکرات میں ممکنہ سکوک کے اجرا، روپے میں مالیت مگر ڈالر میں ادائیگی والے مالیاتی ذرائع، مزید پانڈا بانڈز کے اجرا اور یورو بانڈز کو ڈیجیٹل ٹوکنز میں تبدیل کرنے کے امکانات پر غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مجموعی بیرونی قرضوں میں اضافہ کیے بغیر مہنگے قلیل مدتی قرضوں کی جگہ متبادل ذرائع اختیار کرنے، قرضوں کی مدت بڑھانے اور ادائیگیوں کے بوجھ کو مخصوص ادوار میں جمع ہونے سے روکنے کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی بیان کیے۔ فریقین نے مالیاتی اداروں کی جانب سے قرض کے اجرا کے ذریعے سرمایہ منڈی کے لیے معیاری اشاریے تشکیل دینے اور کاروباری اداروں، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) اور زرعی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے ہفتے کو مشرق وسطیٰ کے بینکوں کے وفود کے ساتھ متعدد مالیاتی امور پر تبادلہ خیال کیا۔</strong></p>
<p>محمد اورنگزیب نے تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں 2026 کے موقع پر ابوظہبی کمرشل بینک کے وفد سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کے معاشی منظرنامے، مالی معاونت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو کی گئی۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت، مالیاتی استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کے لیے حکومتی عزم کو اجاگر کیا۔</p>
<p>مذاکرات میں سرمایہ منڈی کے ذریعے قرض کے اجرا اور قرضوں کے انتظام سے متعلق امور زیر بحث آئے، جن کا مقصد مہنگی قلیل مدتی قرض گیری کی جگہ متبادل ذرائع اختیار کرنا، قرضوں کی مدت میں اضافہ اور ادائیگیوں کے بوجھ کو مخصوص ادوار میں جمع ہونے سے روکنا ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے متعدد مالیاتی معاملات میں بینک کی دلچسپی کا خیرمقدم کیا، جن میں پاکستان کے لیے کریڈٹ حدود کی بحالی، انٹرنیشنل اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن (آئی ٹی ایف سی) کی مالی معاونت میں شرکت، ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی (میگا) کی ضمانت پر مبنی مالی معاونت اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کی معاونت سے ڈائیورسفائیڈ پیمنٹ رائٹس (ڈی پی آر) کے تحت مالیاتی لین دین شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن، نجکاری، ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے، بجلی کی ترسیل اور ایم ایل ون ریلوے منصوبے میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی اجاگر کیے۔ دونوں فریقوں نے ڈیٹا سینٹرز کی مالی معاونت اور ڈیجیٹل فنانس پر بھی غور کیا، جس میں بجلی کی مسابقتی قیمتوں اور مؤثر ضابطہ جاتی نظام کی اہمیت پر زور دیا گیا۔</p>
<p>اجلاس میں علاقائی تنازع کے معاشی اثرات، توانائی کے تحفظ اور ہدفی ریلیف اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان امور پر مزید رابطہ کاری وزارت خزانہ کے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کے ذریعے کی جائے گی۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے عجمان بینک کے وفد سے بھی ملاقات کی، جس میں معاشی منظرنامے اور مالی معاونت میں شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے مالیاتی اور بیرونی شعبے کے اشاریوں میں بہتری کو اجاگر کرتے ہوئے معاشی استحکام اور اصلاحات کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ مذاکرات میں ممکنہ سکوک کے اجرا، روپے میں مالیت مگر ڈالر میں ادائیگی والے مالیاتی ذرائع اور فنڈز کے حصول کے ذرائع میں تنوع لانے پر گفتگو ہوئی۔</p>
<p>انہوں نے مہنگے قلیل مدتی قرضوں کی جگہ متبادل ذرائع اختیار کرنے، قرضوں کی مدت بڑھانے اور مجموعی بیرونی قرضوں میں اضافہ کیے بغیر ادائیگیوں کے بوجھ کو مخصوص ادوار میں جمع ہونے سے روکنے پر زور دیا۔ وزیر خزانہ نے تعاون بڑھانے میں عجمان بینک کی دلچسپی کو سراہا اور مستقبل کے مالیاتی معاملات میں اس کی شرکت اور مشاورت کا خیرمقدم کیا۔</p>
<p>دونوں فریقوں نے علاقائی تنازع کے معاشی اثرات، بینکاری شعبے کی مضبوطی اور مالیاتی نظم و ضبط سے ہم آہنگ ہدفی ایندھن سبسڈی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں اور کھاد کی دستیابی کا بھی ذکر کیا گیا، جس نے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد دی۔</p>
<p>دریں اثنا، محمد اورنگزیب نے بنکاک، تھائی لینڈ میں عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں 2026 کے موقع پر شارجہ اسلامک بینک کے وفد سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معاشی پیش رفت اور مالی معاونت میں شراکت داری پر گفتگو ہوئی۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے مالیاتی اور بیرونی شعبے کے اشاریوں میں بہتری، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے، کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت کو اجاگر کیا۔ مذاکرات میں ممکنہ سکوک کے اجرا، روپے میں مالیت مگر ڈالر میں ادائیگی والے مالیاتی ذرائع، مزید پانڈا بانڈز کے اجرا اور یورو بانڈز کو ڈیجیٹل ٹوکنز میں تبدیل کرنے کے امکانات پر غور کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے مجموعی بیرونی قرضوں میں اضافہ کیے بغیر مہنگے قلیل مدتی قرضوں کی جگہ متبادل ذرائع اختیار کرنے، قرضوں کی مدت بڑھانے اور ادائیگیوں کے بوجھ کو مخصوص ادوار میں جمع ہونے سے روکنے کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی بیان کیے۔ فریقین نے مالیاتی اداروں کی جانب سے قرض کے اجرا کے ذریعے سرمایہ منڈی کے لیے معیاری اشاریے تشکیل دینے اور کاروباری اداروں، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) اور زرعی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292707</guid>
      <pubDate>Sun, 18 Oct 2026 10:29:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/18102656d9867c9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/18102656d9867c9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
