<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 17 Oct 2026 15:53:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 17 Oct 2026 15:53:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف اسٹیئرنگ کمیٹی اجلاس، روسی عہدیدار کی تقریر پر مندوبین کا واک آؤٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292695/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تین ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں ہفتے کو اس وقت متعدد مندوبین واک آؤٹ کر گئے جب روسی وزیرِ خزانہ انتون سیلوانوف نے گروپ سے روسی زبان میں خطاب کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے بین الاقوامی مالیاتی و فنانشل کمیٹی (آئی ایم ایف سی) میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں جس کے باعث گزشتہ برسوں کے دوران کمیٹی اتفاقِ رائے پر مبنی بیانات جاری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس ہفتے بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے دوران بھی گہری تقسیم دیکھنے میں آئی جہاں امریکا اور یوکرین کے درمیان نئی کشیدگی نے بھی سر اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ یورپی یونین کے ارکان سمیت کئی ممالک کے وفود اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں موجود ایک دوسرے عہدیدار نے بتایا کہ روسی عہدیدار کی تقریر شروع ہوتے ہی تقریباً ایک درجن مندوبین کمرے سے باہر چلے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار کے مطابق اجلاس سے واک آؤٹ کرنے والوں میں ڈنمارک، سویڈن، فن لینڈ، ناروے، لتھوانیا، لٹویا اور ایسٹونیا کے مندوبین بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک یورپی سفارت کار نے کہا کہ یوکرین کی جنگ یورپ کے لیے بقا کا مسئلہ ہے۔ ہم روس کے ساتھ تعلقات کو معمول پر نہیں لا سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی نے جمعرات کو روس کو دوبارہ عالمی سطح پر فعال کردار دینے کی کوششوں کے خلاف خبردار کیا۔ یہ بیان روسی وزیرِ خزانہ انتون سیلوانوف کی جی 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے سربراہان کے اجلاس میں شرکت کے بعد سامنے آیا۔ اس سے صرف ایک ماہ سے کچھ زائد عرصہ قبل امریکا نے شمالی کیرولائنا کے شہر ایشویل میں ہونے والے اجلاس میں سیلوانوف کی میزبانی کی تھی، جو یوکرین پر روسی حملے کے بعد جی 20 کے کسی اجلاس میں ان کی پہلی بالمشافہ شرکت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خزانہ کی انڈر سیکریٹری ایرن براؤن نے اسی روز رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جی 20 ممالک کی موجودہ سربراہ امریکا، یورپی ممالک کے تحفظات کے باوجود روس کی اجلاس میں شرکت کی حمایت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ اگر آپ کسی بحران کا حل چاہتے ہیں تو کھلے مکالمے اور بات چیت کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اگر کوئی ایک دوسرے سے بات ہی نہیں کرے گا تو نہ مکالمہ ممکن ہے اور نہ ہی تنازع کا حل نکالا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تین ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں ہفتے کو اس وقت متعدد مندوبین واک آؤٹ کر گئے جب روسی وزیرِ خزانہ انتون سیلوانوف نے گروپ سے روسی زبان میں خطاب کیا۔</strong></p>
<p>فروری 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے بین الاقوامی مالیاتی و فنانشل کمیٹی (آئی ایم ایف سی) میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں جس کے باعث گزشتہ برسوں کے دوران کمیٹی اتفاقِ رائے پر مبنی بیانات جاری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس ہفتے بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے دوران بھی گہری تقسیم دیکھنے میں آئی جہاں امریکا اور یوکرین کے درمیان نئی کشیدگی نے بھی سر اٹھایا۔</p>
<p>ایک ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ یورپی یونین کے ارکان سمیت کئی ممالک کے وفود اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔</p>
<p>اجلاس میں موجود ایک دوسرے عہدیدار نے بتایا کہ روسی عہدیدار کی تقریر شروع ہوتے ہی تقریباً ایک درجن مندوبین کمرے سے باہر چلے گئے۔</p>
<p>عہدیدار کے مطابق اجلاس سے واک آؤٹ کرنے والوں میں ڈنمارک، سویڈن، فن لینڈ، ناروے، لتھوانیا، لٹویا اور ایسٹونیا کے مندوبین بھی شامل تھے۔</p>
<p>ایک یورپی سفارت کار نے کہا کہ یوکرین کی جنگ یورپ کے لیے بقا کا مسئلہ ہے۔ ہم روس کے ساتھ تعلقات کو معمول پر نہیں لا سکتے۔</p>
<p>جرمنی نے جمعرات کو روس کو دوبارہ عالمی سطح پر فعال کردار دینے کی کوششوں کے خلاف خبردار کیا۔ یہ بیان روسی وزیرِ خزانہ انتون سیلوانوف کی جی 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے سربراہان کے اجلاس میں شرکت کے بعد سامنے آیا۔ اس سے صرف ایک ماہ سے کچھ زائد عرصہ قبل امریکا نے شمالی کیرولائنا کے شہر ایشویل میں ہونے والے اجلاس میں سیلوانوف کی میزبانی کی تھی، جو یوکرین پر روسی حملے کے بعد جی 20 کے کسی اجلاس میں ان کی پہلی بالمشافہ شرکت تھی۔</p>
<p>امریکی محکمہ خزانہ کی انڈر سیکریٹری ایرن براؤن نے اسی روز رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جی 20 ممالک کی موجودہ سربراہ امریکا، یورپی ممالک کے تحفظات کے باوجود روس کی اجلاس میں شرکت کی حمایت کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ اگر آپ کسی بحران کا حل چاہتے ہیں تو کھلے مکالمے اور بات چیت کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اگر کوئی ایک دوسرے سے بات ہی نہیں کرے گا تو نہ مکالمہ ممکن ہے اور نہ ہی تنازع کا حل نکالا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292695</guid>
      <pubDate>Sat, 17 Oct 2026 13:48:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/1713433760ccd8c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/1713433760ccd8c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
