<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 17 Oct 2026 15:53:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 17 Oct 2026 15:53:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیجیٹل دور میں جرائم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292691/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک وقت تھا جب مسافروں کو کھلی سڑکوں پر سفر کے دوران ڈاکوؤں کا خوف رہتا تھا۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں لٹیرے قافلوں کو لوٹتے تھے۔ پھر سڑکوں پر راہ زنوں کا دور آیا، جن کا اصل ہدف بٹوے اور نقدی ہوتے تھے۔ اس کے بعد موبائل فون چوروں کا اگلا نشانہ بن گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدیاں گزر گئیں، لیکن اصول نہیں بدلا، صرف لوٹ مار کے مقامات بدل گئے ہیں۔آج کی سڑکیں نظر نہیں آتیں۔ یہ ہمارے موبائل فونز میں موجود بینکنگ ایپس، ڈیجیٹل بٹوے اور آن لائن خریداری کی ویب سائٹس ہیں۔ ہر روز اربوں روپے کی مالی لین دین ان راستوں سے گزرتی ہے اور ماضی کی طرح آج بھی لٹیرے ان راستوں پر گھات لگائے بیٹھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب وہ نہ شالیں اوڑھتے ہیں اور نہ ہی چھریاں اٹھاتے ہیں۔ وہ قابلِ یقین فون کالز، ٹیکسٹ پیغامات اور ای میلز کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں۔ اب وہ آپ کی گاڑی نہیں روکتے، بلکہ آپ کو اس طرح قائل کرتے ہیں کہ آپ خود ہی ان کے لیے دروازہ کھول دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جرائم کتنی تیزی سے بڑھے ہیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق پاکستان میں 2025 کے دوران سائبر جرائم سے متعلق شکایات میں تقریباً 35 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ کے مطابق اس سے ایک سال قبل ڈیجیٹل بینکاری فراڈ کے واقعات 62 فیصد بڑھ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویزا کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2024 تک پاکستان میں تقریباً ہر دو میں سے ایک شخص کسی نہ کسی قسم کے آن لائن مالی فراڈ کا سامنا کرچکا تھا، جبکہ ہر پانچ میں سے ایک شخص کو ایک سے زائد مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں عام طور پر فراڈ کے دو طریقے بار بار سامنے آتے ہیں۔ پہلے طریقے میں فون کرنے والا خود کو پولیس یا ایف آئی اے کے سائبر ونگ کا اہلکار ظاہر کرتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ آپ کے خلاف مقدمہ درج ہے۔ پھر مقدمہ ختم کرانے کے لیے رقم کا مطالبہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے طریقے میں پیغام بھیج کر بتایا جاتا ہے کہ کسٹم کلیئرنس فیس ادا نہ ہونے کے باعث آپ کا کوریئر پارسل روک لیا گیا ہے۔ پیغام میں ایک لنک دیا جاتا ہے، جو ادائیگی کی کوشش کے دوران خاموشی سے آپ کے کارڈ کی تفصیلات چوری کرلیتا ہے، جب تک آپ کو فراڈ کا علم ہوتا ہے، بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ایسے واقعات صرف لاپروا افراد کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ دھوکے باز اپنے ممکنہ شکار کے بارے میں معلومات حاصل کرتے اور اسی کے مطابق اپنا طریقہ واردات اختیار کرتے ہیں۔ مجھے خود بھی مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک کانفرنس میں شرکت کی مسلسل دعوتیں موصول ہوتی رہتی ہیں، جس کا مقام کبھی زیورخ، کبھی ہانگ کانگ اور کبھی امریکا بتایا جاتا ہے۔ ان دعوتوں میں میرے ایسے کام کی غیر معمولی تعریف کی جاتی ہے جس میں، میں نے کبھی مہارت کا دعویٰ ہی نہیں کیا۔ اس فراڈ سے اب تک محفوظ رہنے کی واحد وجہ یہ ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ مجھے کن چیزوں کا علم نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک اپنے صارفین کو بار بار یاد دلاتے ہیں کہ وہ غیر متوقع فون کالز، ای میلز یا پیغامات کے ذریعے کبھی پاس ورڈ، پن یا ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) طلب نہیں کرتے۔ اس کے باوجود دھوکے باز کامیاب ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ ایسی عجلت پیدا کرتے ہیں جو انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ وہ خود کو بینک کا نمائندہ، سرکاری اہلکار، کوریئر کمپنی کا ملازم یا حتیٰ کہ خاندان کا فرد ظاہر کرتے ہیں۔ ان کا مقصد ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے، پہلے اعتماد حاصل کرنا اور پھر رقم ہتھیانا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی ادارے بھی اس خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔ فراڈ کی روک تھام کے لیے مخصوص ٹیمیں چوبیس گھنٹے کام کرتی ہیں، جو مصنوعی ذہانت اور حقیقی وقت میں لین دین کی نگرانی کے ذریعے چند سیکنڈ میں مشکوک ٹرانزیکشنز کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یہ ٹیمیں منظم فراڈ میں ملوث گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے متعلقہ ریگولیٹری اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھی تعاون کرتی ہیں۔ صارفین کو دستیاب ذرائع ابلاغ کے ذریعے خبردار بھی کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سب سے قابلِ اعتماد تحفظ اب بھی انسان کی اپنی سمجھ بوجھ اور احتیاط ہے۔ مضبوط پاس ورڈز کا استعمال، ملٹی فیکٹر تصدیق، بینک اکاؤنٹس کی باقاعدگی سے نگرانی اور موصول ہونے والے پیغامات کی سرکاری ذرائع سے تصدیق اب محض اچھی عادات نہیں رہیں بلکہ آج کے مالیاتی نظام میں محفوظ رہنے کے لیے ناگزیر احتیاطی تدابیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ میرے ساتھ ایسا نہیں ہوگا۔ یہی حد سے زیادہ خود اعتمادی پر مبنی سوچ دھوکے بازوں کو لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سڑکیں ہمیشہ لوگوں کو مواقع سے جوڑتی رہی ہیں اور اس صدی کی ڈیجیٹل شاہراہیں بھی اس سے مختلف نہیں لیکن ہر شاہراہ پر ہر قسم کے لوگ سفر کرتے ہیں اور ایمانداری سے سفر کرنے والوں کے درمیان ہمیشہ ایسے افراد بھی موجود رہتے ہیں جو دوسروں کا فائدہ اٹھانے کے منتظر ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اصل چیلنج شاہراہ سے خوفزدہ ہونا نہیں، بلکہ سمجھ داری اور احتیاط کے ساتھ سفر کرنا ہے۔ چنانچہ اگلی بار جب آپ کے فون کی گھنٹی بجے اور کوئی شخص فوری کارروائی کا مطالبہ کرے تو خود سے ضرور پوچھیے گا : کیا یہ واقعی کوئی راہ زن ہے جو آپ کو روک کر مال و اسباب حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک وقت تھا جب مسافروں کو کھلی سڑکوں پر سفر کے دوران ڈاکوؤں کا خوف رہتا تھا۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں لٹیرے قافلوں کو لوٹتے تھے۔ پھر سڑکوں پر راہ زنوں کا دور آیا، جن کا اصل ہدف بٹوے اور نقدی ہوتے تھے۔ اس کے بعد موبائل فون چوروں کا اگلا نشانہ بن گئے۔</strong></p>
<p>صدیاں گزر گئیں، لیکن اصول نہیں بدلا، صرف لوٹ مار کے مقامات بدل گئے ہیں۔آج کی سڑکیں نظر نہیں آتیں۔ یہ ہمارے موبائل فونز میں موجود بینکنگ ایپس، ڈیجیٹل بٹوے اور آن لائن خریداری کی ویب سائٹس ہیں۔ ہر روز اربوں روپے کی مالی لین دین ان راستوں سے گزرتی ہے اور ماضی کی طرح آج بھی لٹیرے ان راستوں پر گھات لگائے بیٹھے ہیں۔</p>
<p>اب وہ نہ شالیں اوڑھتے ہیں اور نہ ہی چھریاں اٹھاتے ہیں۔ وہ قابلِ یقین فون کالز، ٹیکسٹ پیغامات اور ای میلز کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں۔ اب وہ آپ کی گاڑی نہیں روکتے، بلکہ آپ کو اس طرح قائل کرتے ہیں کہ آپ خود ہی ان کے لیے دروازہ کھول دیتے ہیں۔</p>
<p>اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جرائم کتنی تیزی سے بڑھے ہیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق پاکستان میں 2025 کے دوران سائبر جرائم سے متعلق شکایات میں تقریباً 35 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ کے مطابق اس سے ایک سال قبل ڈیجیٹل بینکاری فراڈ کے واقعات 62 فیصد بڑھ گئے تھے۔</p>
<p>ویزا کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2024 تک پاکستان میں تقریباً ہر دو میں سے ایک شخص کسی نہ کسی قسم کے آن لائن مالی فراڈ کا سامنا کرچکا تھا، جبکہ ہر پانچ میں سے ایک شخص کو ایک سے زائد مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>پاکستان میں عام طور پر فراڈ کے دو طریقے بار بار سامنے آتے ہیں۔ پہلے طریقے میں فون کرنے والا خود کو پولیس یا ایف آئی اے کے سائبر ونگ کا اہلکار ظاہر کرتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ آپ کے خلاف مقدمہ درج ہے۔ پھر مقدمہ ختم کرانے کے لیے رقم کا مطالبہ کرتا ہے۔</p>
<p>دوسرے طریقے میں پیغام بھیج کر بتایا جاتا ہے کہ کسٹم کلیئرنس فیس ادا نہ ہونے کے باعث آپ کا کوریئر پارسل روک لیا گیا ہے۔ پیغام میں ایک لنک دیا جاتا ہے، جو ادائیگی کی کوشش کے دوران خاموشی سے آپ کے کارڈ کی تفصیلات چوری کرلیتا ہے، جب تک آپ کو فراڈ کا علم ہوتا ہے، بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔</p>
<p>شاید سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ایسے واقعات صرف لاپروا افراد کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ دھوکے باز اپنے ممکنہ شکار کے بارے میں معلومات حاصل کرتے اور اسی کے مطابق اپنا طریقہ واردات اختیار کرتے ہیں۔ مجھے خود بھی مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک کانفرنس میں شرکت کی مسلسل دعوتیں موصول ہوتی رہتی ہیں، جس کا مقام کبھی زیورخ، کبھی ہانگ کانگ اور کبھی امریکا بتایا جاتا ہے۔ ان دعوتوں میں میرے ایسے کام کی غیر معمولی تعریف کی جاتی ہے جس میں، میں نے کبھی مہارت کا دعویٰ ہی نہیں کیا۔ اس فراڈ سے اب تک محفوظ رہنے کی واحد وجہ یہ ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ مجھے کن چیزوں کا علم نہیں۔</p>
<p>بینک اپنے صارفین کو بار بار یاد دلاتے ہیں کہ وہ غیر متوقع فون کالز، ای میلز یا پیغامات کے ذریعے کبھی پاس ورڈ، پن یا ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) طلب نہیں کرتے۔ اس کے باوجود دھوکے باز کامیاب ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ ایسی عجلت پیدا کرتے ہیں جو انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ وہ خود کو بینک کا نمائندہ، سرکاری اہلکار، کوریئر کمپنی کا ملازم یا حتیٰ کہ خاندان کا فرد ظاہر کرتے ہیں۔ ان کا مقصد ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے، پہلے اعتماد حاصل کرنا اور پھر رقم ہتھیانا۔</p>
<p>مالیاتی ادارے بھی اس خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔ فراڈ کی روک تھام کے لیے مخصوص ٹیمیں چوبیس گھنٹے کام کرتی ہیں، جو مصنوعی ذہانت اور حقیقی وقت میں لین دین کی نگرانی کے ذریعے چند سیکنڈ میں مشکوک ٹرانزیکشنز کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یہ ٹیمیں منظم فراڈ میں ملوث گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے متعلقہ ریگولیٹری اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھی تعاون کرتی ہیں۔ صارفین کو دستیاب ذرائع ابلاغ کے ذریعے خبردار بھی کیا جاتا ہے۔</p>
<p>تاہم سب سے قابلِ اعتماد تحفظ اب بھی انسان کی اپنی سمجھ بوجھ اور احتیاط ہے۔ مضبوط پاس ورڈز کا استعمال، ملٹی فیکٹر تصدیق، بینک اکاؤنٹس کی باقاعدگی سے نگرانی اور موصول ہونے والے پیغامات کی سرکاری ذرائع سے تصدیق اب محض اچھی عادات نہیں رہیں بلکہ آج کے مالیاتی نظام میں محفوظ رہنے کے لیے ناگزیر احتیاطی تدابیر ہیں۔</p>
<p>بعض لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ میرے ساتھ ایسا نہیں ہوگا۔ یہی حد سے زیادہ خود اعتمادی پر مبنی سوچ دھوکے بازوں کو لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>سڑکیں ہمیشہ لوگوں کو مواقع سے جوڑتی رہی ہیں اور اس صدی کی ڈیجیٹل شاہراہیں بھی اس سے مختلف نہیں لیکن ہر شاہراہ پر ہر قسم کے لوگ سفر کرتے ہیں اور ایمانداری سے سفر کرنے والوں کے درمیان ہمیشہ ایسے افراد بھی موجود رہتے ہیں جو دوسروں کا فائدہ اٹھانے کے منتظر ہوتے ہیں۔</p>
<p>لہٰذا اصل چیلنج شاہراہ سے خوفزدہ ہونا نہیں، بلکہ سمجھ داری اور احتیاط کے ساتھ سفر کرنا ہے۔ چنانچہ اگلی بار جب آپ کے فون کی گھنٹی بجے اور کوئی شخص فوری کارروائی کا مطالبہ کرے تو خود سے ضرور پوچھیے گا : کیا یہ واقعی کوئی راہ زن ہے جو آپ کو روک کر مال و اسباب حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے؟</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292691</guid>
      <pubDate>Sat, 17 Oct 2026 13:27:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ضیاء الاسلام زبیری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/17130451055bdb0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/17130451055bdb0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
