<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 17 Oct 2026 14:48:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 17 Oct 2026 14:48:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے معدنی ذخائر 7 ہزار ارب ڈالر، عالمی سرمایہ کاری کے لیے کوشاں ہیں، دفتر خارجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292686/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دفتر خارجہ نے  کہا ہے کہ پاکستان کے معدنی ذخائر کی مالیت کا تقریباً 7 ٹریلین ڈالر تخمینہ لگایا گیا ہے اور حکومت دنیا بھر سے سرمایہ کاری راغب کرنے کی کوششیں کررہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفتر خارجہ  سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والی کسی بھی کمپنی یا ملک کا خیرمقدم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) قائم کی گئی ہے۔ کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری ایک معمول کی سرگرمی ہے جو اس کی مجموعی ترقی میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ معدنی ذخائر کا موجود ہونا ایک بات ہے، لیکن ان کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے اور ان سے معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے ان کی تلاش اور ترقی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان دنیا بھر سے اپنے معدنی ذخائر میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری راغب کرنے کا خواہاں ہے، ہماری کوششیں کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہیں۔ ہم امریکا سمیت ان تمام ممالک کا خیرمقدم کرتے ہیں جو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی صلاحیت، خواہش اور وسائل رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارت کو کسی بھی فوجی جارحیت سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تحمل اور امن کے عزم کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہ پاکستان کے لیے بدستور ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کے مقابلے میں اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال مئی میں ہونے والی فوجی کشیدگی کو بھارت کے لیے سبق قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کو جارحانہ طرزِ عمل اور اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ ہم بھارتی وزیر دفاع کے ان اشتعال انگیز بیانات کو مسترد اور ان کی مذمت کرتے ہیں جن میں پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت کی دھمکی دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو گزشتہ سال کے تجربے سے مناسب سبق سیکھنا چاہیے اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان سے جنم لینے والے سیکیورٹی چیلنجز کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کا سامنا ہے جس کا بڑا حصہ افغان سرزمین سے جنم لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان خطرات کی نشاندہی کرتا رہا ہے اور اس حوالے سے متعلقہ معلومات اپنے بین الاقوامی اور دوطرفہ شراکت داروں کے ساتھ بھی شیئر کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دفتر خارجہ نے  کہا ہے کہ پاکستان کے معدنی ذخائر کی مالیت کا تقریباً 7 ٹریلین ڈالر تخمینہ لگایا گیا ہے اور حکومت دنیا بھر سے سرمایہ کاری راغب کرنے کی کوششیں کررہی ہے۔</strong></p>
<p>ترجمان دفتر خارجہ  سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والی کسی بھی کمپنی یا ملک کا خیرمقدم کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) قائم کی گئی ہے۔ کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری ایک معمول کی سرگرمی ہے جو اس کی مجموعی ترقی میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ معدنی ذخائر کا موجود ہونا ایک بات ہے، لیکن ان کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے اور ان سے معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے ان کی تلاش اور ترقی ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان دنیا بھر سے اپنے معدنی ذخائر میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری راغب کرنے کا خواہاں ہے، ہماری کوششیں کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہیں۔ ہم امریکا سمیت ان تمام ممالک کا خیرمقدم کرتے ہیں جو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی صلاحیت، خواہش اور وسائل رکھتے ہیں۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارت کو کسی بھی فوجی جارحیت سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تحمل اور امن کے عزم کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہ پاکستان کے لیے بدستور ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج ہیں۔</p>
<p>سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کے مقابلے میں اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال مئی میں ہونے والی فوجی کشیدگی کو بھارت کے لیے سبق قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کو جارحانہ طرزِ عمل اور اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ ہم بھارتی وزیر دفاع کے ان اشتعال انگیز بیانات کو مسترد اور ان کی مذمت کرتے ہیں جن میں پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت کی دھمکی دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو گزشتہ سال کے تجربے سے مناسب سبق سیکھنا چاہیے اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔</p>
<p>افغانستان سے جنم لینے والے سیکیورٹی چیلنجز کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کا سامنا ہے جس کا بڑا حصہ افغان سرزمین سے جنم لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان خطرات کی نشاندہی کرتا رہا ہے اور اس حوالے سے متعلقہ معلومات اپنے بین الاقوامی اور دوطرفہ شراکت داروں کے ساتھ بھی شیئر کرتا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292686</guid>
      <pubDate>Sat, 17 Oct 2026 12:51:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/17124945347789e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/17124945347789e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
