<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 16 Oct 2026 10:58:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 16 Oct 2026 10:58:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کا غذائی تحفظ یقینی بنانے کیلئے زرعی شعبے میں جدت لانے پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292638/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے سائنسی تحقیق، تکنیکی جدت اور کسانوں کی بہتر معاونت کے ذریعے پاکستان کے زرعی اور غذائی شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی یوم خوراک کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن 16 اکتوبر کو ’’آج جدت لائیں، کل کو غذا فراہم کریں‘‘ کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، زمین کی زرخیزی میں کمی، پیداواری لاگت میں اضافہ اور غذائی رسد کے نظام میں رکاوٹیں غذائی تحفظ کے لیے اہم چیلنجز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے زور دیا کہ مضبوط اور بدلتے حالات کا مقابلہ کرنے والے زرعی نظام کی تشکیل اور موجودہ و آئندہ نسلوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدت اور جدید ٹیکنالوجی ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت زرعی پیداوار بہتر بنانے کے لیے سائنسی تحقیق اور تکنیکی ترقی کو کسانوں کے روایتی علم اور عملی تجربات کے ساتھ مربوط کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے قومی زرعی و غذائی تحفظ کونسل کے قیام کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد بہتر بیجوں پر تحقیق، زرعی مشینری کے استعمال، ڈیجیٹل نظام، آب پاشی کے مؤثر طریقوں اور کسانوں کے منڈیوں سے روابط مضبوط بنانے سمیت قومی سطح پر مربوط کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نجی بینکوں کے تعاون سے چھوٹے کسانوں کو سستے قرضوں کی فراہمی کو بھی ترجیح دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ غذائی تحفظ کا تعلق صرف خوراک کی دستیابی سے نہیں بلکہ اس کی غذائیت کے معیار سے بھی ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت ذخیرہ کرنے کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنا رہی ہے اور زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ کی سہولتوں میں اضافہ کر رہی ہے تاکہ پیداوار کا ضیاع کم کیا جاسکے، اس کی قدر میں اضافہ ہو اور برآمدات کے مواقع بہتر بنائے جاسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فصلوں، حلال گوشت اور ماہی گیری سمیت پاکستان کے زرعی وسائل سے بہتر استفادہ کرکے برآمدات بڑھانے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں، کسانوں، محققین، نجی شعبے، ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ ایک مضبوط، جامع اور پائیدار غذائی نظام کے قیام کے لیے مل کر کام کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے سائنسی تحقیق، تکنیکی جدت اور کسانوں کی بہتر معاونت کے ذریعے پاکستان کے زرعی اور غذائی شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>عالمی یوم خوراک کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن 16 اکتوبر کو ’’آج جدت لائیں، کل کو غذا فراہم کریں‘‘ کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، زمین کی زرخیزی میں کمی، پیداواری لاگت میں اضافہ اور غذائی رسد کے نظام میں رکاوٹیں غذائی تحفظ کے لیے اہم چیلنجز ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے زور دیا کہ مضبوط اور بدلتے حالات کا مقابلہ کرنے والے زرعی نظام کی تشکیل اور موجودہ و آئندہ نسلوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدت اور جدید ٹیکنالوجی ناگزیر ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت زرعی پیداوار بہتر بنانے کے لیے سائنسی تحقیق اور تکنیکی ترقی کو کسانوں کے روایتی علم اور عملی تجربات کے ساتھ مربوط کر رہی ہے۔</p>
<p>شہباز شریف نے قومی زرعی و غذائی تحفظ کونسل کے قیام کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد بہتر بیجوں پر تحقیق، زرعی مشینری کے استعمال، ڈیجیٹل نظام، آب پاشی کے مؤثر طریقوں اور کسانوں کے منڈیوں سے روابط مضبوط بنانے سمیت قومی سطح پر مربوط کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نجی بینکوں کے تعاون سے چھوٹے کسانوں کو سستے قرضوں کی فراہمی کو بھی ترجیح دے رہی ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ غذائی تحفظ کا تعلق صرف خوراک کی دستیابی سے نہیں بلکہ اس کی غذائیت کے معیار سے بھی ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت ذخیرہ کرنے کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنا رہی ہے اور زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ کی سہولتوں میں اضافہ کر رہی ہے تاکہ پیداوار کا ضیاع کم کیا جاسکے، اس کی قدر میں اضافہ ہو اور برآمدات کے مواقع بہتر بنائے جاسکیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ فصلوں، حلال گوشت اور ماہی گیری سمیت پاکستان کے زرعی وسائل سے بہتر استفادہ کرکے برآمدات بڑھانے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں، کسانوں، محققین، نجی شعبے، ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ ایک مضبوط، جامع اور پائیدار غذائی نظام کے قیام کے لیے مل کر کام کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292638</guid>
      <pubDate>Fri, 16 Oct 2026 09:32:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (این این آئی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/16093049351fe2a.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/16093049351fe2a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
