<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 16 Oct 2026 00:45:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 16 Oct 2026 00:45:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس ای سی پی کی کسانوں کو قرضوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے قومی اسپاٹ مارکیٹ قائم کرنے کی تجویز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292631/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کسانوں کو گوداموں، بینکوں اور خریداروں سے منسلک کرنے کے لیے قومی زرعی اسپاٹ مارکیٹ قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جہاں ڈیجیٹل تجارتی پلیٹ فارم کے ذریعے فصلوں کی خرید و فروخت ہو سکے گی۔ اس اقدام کا مقصد کھیت کی سطح پر فصلوں کی بہتر قیمتیں یقینی بنانا، کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کم کرنا اور کسانوں کے لیے مالی معاونت تک رسائی بڑھانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد صدیقی نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی بین الاقوامی کانفرنس ’’مشن 100 بلین ڈالر‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے یہ تجویز پیش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مجوزہ مارکیٹ کے تحت زرعی تجارت کو جدید بنانے کے لیے معیار کے یکساں پیمانے، شفاف بولی اور الیکٹرانک گودام رسیدوں کو ایک نظام میں شامل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدیقی کے مطابق، زرعی منڈیوں کی نگرانی اور ضابطہ کاری کا اختیار صوبائی حکام کے پاس برقرار رہے گا، جبکہ ایس ای سی پی اس نظام کے لیے تکنیکی ڈھانچہ فراہم کرنے میں معاونت کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں زراعت کا حصہ 23.44 فیصد ہے، جبکہ ملک کی فصلوں کی تخمینی مالیت تقریباً 8.8 ٹریلین روپے ہے۔ یہ اعداد و شمار ذخیرہ کرنے، فصلوں کی دیکھ بھال اور ان کی فروخت کے لیے بہتر بنیادی ڈھانچے کی معاشی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کٹائی کے بعد فصلوں کے 20 سے 40 فیصد تک ضائع ہونے کے تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے صدیقی نے کہا کہ فصلوں کے نقصان میں ہر ایک فیصد اضافے سے تقریباً 88 ارب روپے مالیت کی پیداوار ضائع ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، ذخیرہ اندوزی، ہینڈلنگ اور تقسیم کے بہتر انتظامات سے نہ صرف اس بڑے معاشی نقصان کو روکا جا سکتا ہے بلکہ کسانوں کی آمدن بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے منظور شدہ گوداموں کی موجودہ گنجائش اور زرعی پیداوار کے درمیان نمایاں فرق کی نشاندہی بھی کی۔ منظور شدہ گوداموں کی مجموعی گنجائش تقریباً 3 لاکھ 26 ہزار میٹرک ٹن ہے، جبکہ روایتی طریقوں سے ذخیرہ کی جا سکنے والی خشک زرعی اجناس کی سالانہ پیداوار تقریباً 5 کروڑ 57 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدیقی نے کہا کہ جدید گوداموں، کولڈ اسٹوریج کی سہولتوں اور مؤثر سپلائی چین میں سرمایہ کاری سے فصلوں کا ضیاع کم کیا جا سکتا ہے، منڈیوں تک رسائی بہتر بنائی جا سکتی ہے اور کسانوں کو برآمدی خریداروں سے منسلک کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ نظام کے تحت کسان منظور شدہ گوداموں میں ذخیرہ شدہ اپنی پیداوار کے عوض الیکٹرانک گودام رسیدوں کی بنیاد پر بینکوں سے قرض حاصل کر سکیں گے۔ اس سے کسانوں پر فصل کی کٹائی کے فوراً بعد اسے فروخت کرنے کا دباؤ کم ہوگا اور انہیں یہ فیصلہ کرنے میں زیادہ سہولت ملے گی کہ اپنی پیداوار کب منڈی میں لانی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپاٹ مارکیٹ میں ابتدائی طور پر گندم، چاول، مکئی، کپاس اور چینی کو مرحلہ وار شامل کرنے کی تجویز ہے، جس کے لیے معیار کے یکساں پیمانے مقرر کیے جائیں گے۔ وزن، معیار کی جانچ اور درجہ بندی کے یکساں اصولوں کے ساتھ شفاف بولی کا نظام قیمتوں کے تعین کو بہتر بنا سکتا ہے اور کسانوں کو اپنی پیداوار کے زیادہ مسابقتی نرخ حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی کے چیئرمین نے تاجروں اور کمیشن ایجنٹوں کی رجسٹریشن اور لین دین و ذخیرہ شدہ اجناس کا ڈیجیٹل ریکارڈ برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق، ادائیگیوں کی بروقت تکمیل کا قابلِ اعتماد نظام جواب دہی بہتر بنانے اور کسانوں و خریداروں کے مفادات کے تحفظ میں مددگار ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زرعی منڈیوں سے متعلق ضوابط، لائسنسنگ کے انتظامات، فیسوں اور اجناس کی نقل و حرکت کے طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا تاکہ زرعی تجارت کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ جاتی منڈیوں میں اصلاحات&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الگ سے صدیقی نے ایس ای سی پی کے سرمایہ جاتی منڈیوں میں اصلاحات کے وسیع تر ایجنڈے کا بھی ذکر کیا، جس میں اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھا کر 25 لاکھ تک پہنچانے کا ہدف شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کمیشن نوجوانوں کو سرمایہ جاتی منڈیوں میں شرکت کی ترغیب دینے کے لیے مالیاتی آگاہی کی ایک وسیع مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق، مالیاتی خواندگی بہتر بنانے سے ممکنہ سرمایہ کاروں کو مختلف مالیاتی مصنوعات سمجھنے اور باخبر سرمایہ کاری کے فیصلے کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں اکاؤنٹ کھولنے کا عمل آسان بنانے سے شرکت کی راہ میں حائل رکاوٹیں کم ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدیقی نے کہا کہ علاقائی غیر یقینی صورت حال کے باوجود پاکستان اسٹاک ایکسچینج سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مضبوط مالیاتی منڈیوں کے لیے صارفین کا تحفظ اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے آڈٹ کی نگرانی کے نظام میں بہتری کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ مالیاتی گوشواروں کی قابلِ اعتماد رپورٹنگ حصص کی قدر کے درست تعین اور باخبر سرمایہ کاری کے فیصلوں کے لیے ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈٹ فرموں کی نگرانی کے لیے ایک الگ اور آزاد قانونی ڈھانچے کی حمایت کرتے ہوئے صدیقی نے کہا کہ نگران نظام کو جدید مالیاتی منڈیوں کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، مؤثر نگرانی سے کمپنیوں کے افشا کردہ مالیاتی معلومات پر اعتماد بڑھے گا اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو مزید تقویت ملے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کسانوں کو گوداموں، بینکوں اور خریداروں سے منسلک کرنے کے لیے قومی زرعی اسپاٹ مارکیٹ قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جہاں ڈیجیٹل تجارتی پلیٹ فارم کے ذریعے فصلوں کی خرید و فروخت ہو سکے گی۔ اس اقدام کا مقصد کھیت کی سطح پر فصلوں کی بہتر قیمتیں یقینی بنانا، کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کم کرنا اور کسانوں کے لیے مالی معاونت تک رسائی بڑھانا ہے۔</strong></p>
<p>ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد صدیقی نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی بین الاقوامی کانفرنس ’’مشن 100 بلین ڈالر‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے یہ تجویز پیش کی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مجوزہ مارکیٹ کے تحت زرعی تجارت کو جدید بنانے کے لیے معیار کے یکساں پیمانے، شفاف بولی اور الیکٹرانک گودام رسیدوں کو ایک نظام میں شامل کیا جائے گا۔</p>
<p>صدیقی کے مطابق، زرعی منڈیوں کی نگرانی اور ضابطہ کاری کا اختیار صوبائی حکام کے پاس برقرار رہے گا، جبکہ ایس ای سی پی اس نظام کے لیے تکنیکی ڈھانچہ فراہم کرنے میں معاونت کرے گا۔</p>
<p>پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں زراعت کا حصہ 23.44 فیصد ہے، جبکہ ملک کی فصلوں کی تخمینی مالیت تقریباً 8.8 ٹریلین روپے ہے۔ یہ اعداد و شمار ذخیرہ کرنے، فصلوں کی دیکھ بھال اور ان کی فروخت کے لیے بہتر بنیادی ڈھانچے کی معاشی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔</p>
<p>کٹائی کے بعد فصلوں کے 20 سے 40 فیصد تک ضائع ہونے کے تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے صدیقی نے کہا کہ فصلوں کے نقصان میں ہر ایک فیصد اضافے سے تقریباً 88 ارب روپے مالیت کی پیداوار ضائع ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، ذخیرہ اندوزی، ہینڈلنگ اور تقسیم کے بہتر انتظامات سے نہ صرف اس بڑے معاشی نقصان کو روکا جا سکتا ہے بلکہ کسانوں کی آمدن بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے منظور شدہ گوداموں کی موجودہ گنجائش اور زرعی پیداوار کے درمیان نمایاں فرق کی نشاندہی بھی کی۔ منظور شدہ گوداموں کی مجموعی گنجائش تقریباً 3 لاکھ 26 ہزار میٹرک ٹن ہے، جبکہ روایتی طریقوں سے ذخیرہ کی جا سکنے والی خشک زرعی اجناس کی سالانہ پیداوار تقریباً 5 کروڑ 57 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔</p>
<p>صدیقی نے کہا کہ جدید گوداموں، کولڈ اسٹوریج کی سہولتوں اور مؤثر سپلائی چین میں سرمایہ کاری سے فصلوں کا ضیاع کم کیا جا سکتا ہے، منڈیوں تک رسائی بہتر بنائی جا سکتی ہے اور کسانوں کو برآمدی خریداروں سے منسلک کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>مجوزہ نظام کے تحت کسان منظور شدہ گوداموں میں ذخیرہ شدہ اپنی پیداوار کے عوض الیکٹرانک گودام رسیدوں کی بنیاد پر بینکوں سے قرض حاصل کر سکیں گے۔ اس سے کسانوں پر فصل کی کٹائی کے فوراً بعد اسے فروخت کرنے کا دباؤ کم ہوگا اور انہیں یہ فیصلہ کرنے میں زیادہ سہولت ملے گی کہ اپنی پیداوار کب منڈی میں لانی ہے۔</p>
<p>اسپاٹ مارکیٹ میں ابتدائی طور پر گندم، چاول، مکئی، کپاس اور چینی کو مرحلہ وار شامل کرنے کی تجویز ہے، جس کے لیے معیار کے یکساں پیمانے مقرر کیے جائیں گے۔ وزن، معیار کی جانچ اور درجہ بندی کے یکساں اصولوں کے ساتھ شفاف بولی کا نظام قیمتوں کے تعین کو بہتر بنا سکتا ہے اور کسانوں کو اپنی پیداوار کے زیادہ مسابقتی نرخ حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔</p>
<p>ایس ای سی پی کے چیئرمین نے تاجروں اور کمیشن ایجنٹوں کی رجسٹریشن اور لین دین و ذخیرہ شدہ اجناس کا ڈیجیٹل ریکارڈ برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق، ادائیگیوں کی بروقت تکمیل کا قابلِ اعتماد نظام جواب دہی بہتر بنانے اور کسانوں و خریداروں کے مفادات کے تحفظ میں مددگار ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے زرعی منڈیوں سے متعلق ضوابط، لائسنسنگ کے انتظامات، فیسوں اور اجناس کی نقل و حرکت کے طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا تاکہ زرعی تجارت کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔</p>
<p>سرمایہ جاتی منڈیوں میں اصلاحات</p>
<p>الگ سے صدیقی نے ایس ای سی پی کے سرمایہ جاتی منڈیوں میں اصلاحات کے وسیع تر ایجنڈے کا بھی ذکر کیا، جس میں اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھا کر 25 لاکھ تک پہنچانے کا ہدف شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کمیشن نوجوانوں کو سرمایہ جاتی منڈیوں میں شرکت کی ترغیب دینے کے لیے مالیاتی آگاہی کی ایک وسیع مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق، مالیاتی خواندگی بہتر بنانے سے ممکنہ سرمایہ کاروں کو مختلف مالیاتی مصنوعات سمجھنے اور باخبر سرمایہ کاری کے فیصلے کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں اکاؤنٹ کھولنے کا عمل آسان بنانے سے شرکت کی راہ میں حائل رکاوٹیں کم ہوں گی۔</p>
<p>صدیقی نے کہا کہ علاقائی غیر یقینی صورت حال کے باوجود پاکستان اسٹاک ایکسچینج سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مضبوط مالیاتی منڈیوں کے لیے صارفین کا تحفظ اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے آڈٹ کی نگرانی کے نظام میں بہتری کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ مالیاتی گوشواروں کی قابلِ اعتماد رپورٹنگ حصص کی قدر کے درست تعین اور باخبر سرمایہ کاری کے فیصلوں کے لیے ضروری ہے۔</p>
<p>آڈٹ فرموں کی نگرانی کے لیے ایک الگ اور آزاد قانونی ڈھانچے کی حمایت کرتے ہوئے صدیقی نے کہا کہ نگران نظام کو جدید مالیاتی منڈیوں کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، مؤثر نگرانی سے کمپنیوں کے افشا کردہ مالیاتی معلومات پر اعتماد بڑھے گا اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو مزید تقویت ملے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292631</guid>
      <pubDate>Thu, 15 Oct 2026 23:12:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/15230508ce667d4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/15230508ce667d4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
