<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 15 Oct 2026 23:56:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 15 Oct 2026 23:56:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اصلاحات میں تیزی، پاکستان کا مالی سال 2027 میں 4 فیصد معاشی نمو کا ہدف، محمد اورنگزیب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292628/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کو توقع ہے کہ مالی سال 2026-27 میں اس کی معیشت تقریباً 4 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی، جسے صنعتی اور زرعی شعبوں میں بحالی سے تقویت ملے گی۔ حکومت معاشی استحکام کے مرحلے سے آگے بڑھتے ہوئے پائیدار، سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب پیش قدمی کرنا چاہتی ہے۔ یہ بات وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں 2026 کے موقع پر بنکاک میں اٹلانٹک کونسل کے مائیکل کوگل مین سے گفتگو کرتے ہوئے اورنگزیب نے کہا ہے کہ مالی سال 2026 میں پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جبکہ اس سے گزشتہ مالی سال میں یہ شرح 3.2 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Financegovpk/status/2110729912982339842'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Financegovpk/status/2110729912982339842"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے رواں مالی سال کے لیے معاشی نمو 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ اس کی وجوہ میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بحالی اور زرعی شعبے، بالخصوص مویشی بانی، کی بہتر کارکردگی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے مہنگائی اور معاشی نمو پر اثرات کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ ان کے مطابق، بیرونی دھچکوں نے گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی کے دوران معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان کا دوہرا خسارہ، جو مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 12.5 فیصد کے برابر تھا، کم ہو کر 2.6 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو توقع ہے کہ جاری کھاتے کا توازن جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات اور سرمایہ کاری پر توجہ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان ماضی کے اس اتار چڑھاؤ سے بچنا چاہتا ہے جس میں کھپت پر مبنی معاشی نمو کے باعث درآمدات کی طلب بڑھتی اور بالآخر توازنِ ادائیگی پر دباؤ پیدا ہوتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’اس بار ہماری توجہ پوری طرح پائیدار ترقی پر ہے۔‘‘ ان کے مطابق، معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا ہے کہ حکومت نے برآمدات کو مسابقتی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں برآمد کنندگان پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا، درآمدی خام مال اور درمیانی اشیا کی لاگت گھٹانا اور رعایتی شرح پر مالی معاونت فراہم کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اورنگزیب نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) خدمات کی برآمدات سے 4.6 ارب ڈالر حاصل ہوئے، جبکہ حکومت کو توقع ہے کہ مالی سال 2027 میں یہ رقم بڑھ کر تقریباً 5.5 ارب ڈالر ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس وصولیوں اور نجکاری میں اصلاحات&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ گزشتہ دو مالی برسوں کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ حکومت کی اصلاحاتی مہم شروع ہونے کے وقت جی ڈی پی کے 9 فیصد سے کم رہنے والی ٹیکس وصولیوں کی شرح بڑھ کر تقریباً 10.3 فیصد ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بہتری کا سبب ٹیکس قوانین پر سختی سے عمل درآمد، ڈیجیٹل نگرانی، الیکٹرانک انوائسنگ اور محصولات میں رساؤ کم کرنے کے اقدامات کو قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ حکومت مربوط ڈیٹا بیس اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ٹیکس تخمینوں اور آڈٹ کے عمل کو بہتر بنا کر ٹیکس انتظامیہ کے صوابدیدی اختیارات محدود کرنے پر بھی کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کے حوالے سے اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بیمہ کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے متعلق مزید معاملات بھی زیر غور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مقامی سرمایہ کاروں نے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جبکہ ترکیہ کی تین کمپنیاں نجکاری کے لیے زیر غور بجلی کی پہلی تین تقسیم کار کمپنیوں کی جانچ پڑتال کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غربت میں کمی اور ڈیجیٹلائزیشن&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے مستحق گھرانوں کی معاونت کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے 838 ارب روپے مختص کیے ہیں، جبکہ اس کے کفالت پروگرام کے تحت نقد امداد میں اضافہ جنوری میں کرنے کا منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور سستے گھروں کی تعمیر کے لیے مالی معاونت کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، سستے گھروں کی تعمیر کے لیے تقریباً 80 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ بینکاری نظام 430 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دے چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت مستحق افراد کے لیے ایندھن پر ہدفی سبسڈی کا دائرہ بھی بڑھا رہی ہے اور شفافیت بہتر بنانے اور رقوم کے ضیاع کو روکنے کے لیے سماجی امداد کی ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کرنے کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرونی مالی معاونت کے حوالے سے اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان نے 2.5 فیصد شرح سود پر پانڈا بانڈ جاری کرکے چین کی کیپٹل مارکیٹ تک رسائی حاصل کی ہے اور ستمبر میں یورو بانڈ مارکیٹ میں بھی واپسی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت مالی معاونت کے ذرائع متنوع بنانا، جہاں ممکن ہو مہنگے بیرونی قرضوں کی جگہ نسبتاً کم لاگت کے قرضے حاصل کرنا اور بیرونی قرضوں کی مجموعی مالیت بڑھانے کے بجائے ان کی ادائیگی کی مدت میں توسیع کرنا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اورنگزیب نے مزید کہا کہ پاکستان یکم نومبر سے جی 24 کی صدارت سنبھالے گا، جس سے اسے بین الاقوامی مالیاتی نظام سے متعلق مذاکرات میں ترقی پذیر معیشتوں کے تحفظات اجاگر کرنے کا موقع ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ غربت اور دیگر ساختی مسائل کا دیرپا حل پائیدار معاشی نمو، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، تعلیم، صحت کی سہولتوں اور مہارتوں کی ترقی میں مضمر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کو توقع ہے کہ مالی سال 2026-27 میں اس کی معیشت تقریباً 4 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی، جسے صنعتی اور زرعی شعبوں میں بحالی سے تقویت ملے گی۔ حکومت معاشی استحکام کے مرحلے سے آگے بڑھتے ہوئے پائیدار، سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب پیش قدمی کرنا چاہتی ہے۔ یہ بات وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہی ہے۔</strong></p>
<p>آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں 2026 کے موقع پر بنکاک میں اٹلانٹک کونسل کے مائیکل کوگل مین سے گفتگو کرتے ہوئے اورنگزیب نے کہا ہے کہ مالی سال 2026 میں پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جبکہ اس سے گزشتہ مالی سال میں یہ شرح 3.2 فیصد تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Financegovpk/status/2110729912982339842'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Financegovpk/status/2110729912982339842"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے رواں مالی سال کے لیے معاشی نمو 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ اس کی وجوہ میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بحالی اور زرعی شعبے، بالخصوص مویشی بانی، کی بہتر کارکردگی شامل ہیں۔</p>
<p>اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے مہنگائی اور معاشی نمو پر اثرات کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ ان کے مطابق، بیرونی دھچکوں نے گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی کے دوران معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان کا دوہرا خسارہ، جو مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 12.5 فیصد کے برابر تھا، کم ہو کر 2.6 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو توقع ہے کہ جاری کھاتے کا توازن جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہے گا۔</p>
<p>برآمدات اور سرمایہ کاری پر توجہ</p>
<p>اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان ماضی کے اس اتار چڑھاؤ سے بچنا چاہتا ہے جس میں کھپت پر مبنی معاشی نمو کے باعث درآمدات کی طلب بڑھتی اور بالآخر توازنِ ادائیگی پر دباؤ پیدا ہوتا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’اس بار ہماری توجہ پوری طرح پائیدار ترقی پر ہے۔‘‘ ان کے مطابق، معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا ہے کہ حکومت نے برآمدات کو مسابقتی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں برآمد کنندگان پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا، درآمدی خام مال اور درمیانی اشیا کی لاگت گھٹانا اور رعایتی شرح پر مالی معاونت فراہم کرنا شامل ہے۔</p>
<p>اورنگزیب نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) خدمات کی برآمدات سے 4.6 ارب ڈالر حاصل ہوئے، جبکہ حکومت کو توقع ہے کہ مالی سال 2027 میں یہ رقم بڑھ کر تقریباً 5.5 ارب ڈالر ہو جائے گی۔</p>
<p>ٹیکس وصولیوں اور نجکاری میں اصلاحات</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ گزشتہ دو مالی برسوں کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ حکومت کی اصلاحاتی مہم شروع ہونے کے وقت جی ڈی پی کے 9 فیصد سے کم رہنے والی ٹیکس وصولیوں کی شرح بڑھ کر تقریباً 10.3 فیصد ہو گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس بہتری کا سبب ٹیکس قوانین پر سختی سے عمل درآمد، ڈیجیٹل نگرانی، الیکٹرانک انوائسنگ اور محصولات میں رساؤ کم کرنے کے اقدامات کو قرار دیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ حکومت مربوط ڈیٹا بیس اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ٹیکس تخمینوں اور آڈٹ کے عمل کو بہتر بنا کر ٹیکس انتظامیہ کے صوابدیدی اختیارات محدود کرنے پر بھی کام کر رہی ہے۔</p>
<p>نجکاری کے حوالے سے اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بیمہ کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے متعلق مزید معاملات بھی زیر غور ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مقامی سرمایہ کاروں نے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جبکہ ترکیہ کی تین کمپنیاں نجکاری کے لیے زیر غور بجلی کی پہلی تین تقسیم کار کمپنیوں کی جانچ پڑتال کر رہی ہیں۔</p>
<p>غربت میں کمی اور ڈیجیٹلائزیشن</p>
<p>اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے مستحق گھرانوں کی معاونت کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے 838 ارب روپے مختص کیے ہیں، جبکہ اس کے کفالت پروگرام کے تحت نقد امداد میں اضافہ جنوری میں کرنے کا منصوبہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور سستے گھروں کی تعمیر کے لیے مالی معاونت کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، سستے گھروں کی تعمیر کے لیے تقریباً 80 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ بینکاری نظام 430 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دے چکا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت مستحق افراد کے لیے ایندھن پر ہدفی سبسڈی کا دائرہ بھی بڑھا رہی ہے اور شفافیت بہتر بنانے اور رقوم کے ضیاع کو روکنے کے لیے سماجی امداد کی ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کرنے کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔</p>
<p>بیرونی مالی معاونت کے حوالے سے اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان نے 2.5 فیصد شرح سود پر پانڈا بانڈ جاری کرکے چین کی کیپٹل مارکیٹ تک رسائی حاصل کی ہے اور ستمبر میں یورو بانڈ مارکیٹ میں بھی واپسی کی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت مالی معاونت کے ذرائع متنوع بنانا، جہاں ممکن ہو مہنگے بیرونی قرضوں کی جگہ نسبتاً کم لاگت کے قرضے حاصل کرنا اور بیرونی قرضوں کی مجموعی مالیت بڑھانے کے بجائے ان کی ادائیگی کی مدت میں توسیع کرنا چاہتی ہے۔</p>
<p>اورنگزیب نے مزید کہا کہ پاکستان یکم نومبر سے جی 24 کی صدارت سنبھالے گا، جس سے اسے بین الاقوامی مالیاتی نظام سے متعلق مذاکرات میں ترقی پذیر معیشتوں کے تحفظات اجاگر کرنے کا موقع ملے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ غربت اور دیگر ساختی مسائل کا دیرپا حل پائیدار معاشی نمو، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، تعلیم، صحت کی سہولتوں اور مہارتوں کی ترقی میں مضمر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292628</guid>
      <pubDate>Thu, 15 Oct 2026 22:01:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/1521542929f2eaa.webp" type="image/webp" medium="image" height="563" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/1521542929f2eaa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
