<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 15 Oct 2026 23:13:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 15 Oct 2026 23:13:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی اقتصادی فورم نومبر میں ہی لیگارڈ کو سربراہ مقرر کرسکتا ہے، ذرائع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292626/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) آئندہ ماہ ہی کرسٹین لیگارڈ کو اپنا نیا چیئرپرسن مقرر کرسکتا ہے۔ ادارے سے قریبی تعلق رکھنے والے چار افراد نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ اس تقرری کے نتیجے میں لیگارڈ یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) کی سربراہ کے عہدے سے قبل از وقت مستعفی ہوجائیں گی، جس کے بعد بینک کی اعلیٰ قیادت میں بھی بڑے پیمانے پر ردوبدل ہوسکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیگارڈ کی ای سی بی میں مدتِ صدارت اکتوبر 2027 میں ختم ہونا طے ہے۔ تاہم، قبل از وقت عہدہ چھوڑنے سے یورپی یونین کے رہنماؤں کو فرانس میں موسمِ بہار کے صدارتی انتخابات سے پہلے ای سی بی کا نیا صدر منتخب کرنے کا موقع مل جائے گا۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ان انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ اس پیش رفت سے ای سی بی کے دو دیگر اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں کے حوالے سے بھی کسی سمجھوتے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے سے قریبی تعلق رکھنے والے افراد نے بتایا ہے کہ ڈبلیو ای ایف کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا اجلاس 2 نومبر کو ہوگا، جس میں لیگارڈ کو اگلا چیئرپرسن منتخب کیا جاسکتا ہے۔ لیگارڈ خود بھی بورڈ کی رکن ہیں۔ معاملے کی حساسیت کے باعث ان افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے دو افراد نے بتایا ہے کہ بورڈ اس اجلاس میں ووٹنگ کے لیے کسی تاریخ کا تعین بھی کرسکتا ہے، تاکہ جنوری میں ڈیووس میں ہونے والے ڈبلیو ای ایف کے سالانہ اجلاس کے موقع پر لیگارڈ کو نامزد چیئرپرسن کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ اس اجلاس میں دنیا بھر کے سیاسی اور کاروباری رہنما عالمی معیشت اور مالیاتی امور پر تبادلۂ خیال کے لیے جمع ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا ہے کہ لیگارڈ کا انتخاب یقینی نہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ فرانس کی سابق وزیرِ خزانہ، 70 سالہ لیگارڈ کو بورڈ کے ارکان کی وسیع حمایت حاصل ہے۔ ڈبلیو ای ایف کی ویب سائٹ پر بورڈ کے 27 ارکان کے نام درج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، جبکہ ڈبلیو ای ایف نے بھی فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="فرانسیسی-انتخابات-سے-پہلے-جانشین-کی-تلاش" href="#فرانسیسی-انتخابات-سے-پہلے-جانشین-کی-تلاش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فرانسیسی انتخابات سے پہلے جانشین کی تلاش&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;دونوں میں سے کسی بھی مجوزہ شیڈول کے تحت نئے ای سی بی صدر کے لیے یورپی یونین میں تقرری سے متعلق تمام رسمی مراحل مکمل کرنے کا مناسب وقت دستیاب ہوگا، اور یہ عمل فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی مدتِ صدارت مئی میں ختم ہونے سے کافی پہلے مکمل ہوسکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے سے واقف پانچویں شخص نے بتایا ہے کہ لیگارڈ کی خواہش بھی تقرری کے وقت کے تعین میں ایک اہم عامل رہی ہے، کیونکہ وہ چاہتی ہیں کہ میکرون کو اپنے جانشین کے انتخاب میں رائے دینے کا موقع ملے۔ یورپی سیاسی حلقوں میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ اگر انتہائی دائیں بازو کی رہنما میرین لی پین فرانس کی صدر منتخب ہوگئیں تو لیگارڈ کے جانشین کے انتخاب کے لیے مذاکرات مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنیوا میں قائم ڈبلیو ای ایف کے بورڈ کی مشترکہ سربراہی اس وقت بلیک راک کے چیف ایگزیکٹو لیری فنک اور روش کے وائس چیئرمین آندرے ہوفمین کررہے ہیں۔ ہوفمین نے گزشتہ سال ادارے کے بانی کلاؤس شواب کے عہدہ چھوڑنے کے بعد یہ ذمہ داری سنبھالی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈ میں سرکاری شعبے کی اہم شخصیات بھی شامل ہیں، جن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا اور اردن کی ملکہ رانیا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیلز فورس کے مارک بینیوف اور سیمنز کے جم ہیگمن شنیبے جیسے نمایاں کاروباری رہنما بھی بورڈ کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیگارڈ اس ہفتے بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کررہی ہیں۔ وہ کہہ چکی ہیں کہ اگلے سال تک ای سی بی میں اپنے عہدے پر برقرار رہیں گی، تاہم انہوں نے اکتوبر میں اپنی مدتِ صدارت باضابطہ طور پر مکمل ہونے تک عہدے پر رہنے کا حتمی وعدہ نہیں کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیگارڈ کی علیحدگی سے ای سی بی کے چھ رکنی ایگزیکٹو بورڈ میں ایک اور عہدہ خالی ہوجائے گا۔ گزشتہ ماہ ازابیل شنابیل کے استعفے کے بعد ایک نشست پہلے ہی خالی ہوچکی ہے، جبکہ بینک کے چیف اکانومسٹ فلپ لین مئی میں عہدہ چھوڑنے والے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کے حکام کا کہنا ہے کہ ان تینوں عہدوں پر تقرریوں کے لیے رکن ممالک کے درمیان ایک مشترکہ پیکیج معاہدہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیدرلینڈز اور اسپین کے مرکزی بینکوں کے سابق گورنرز کلاز نوٹ اور پابلو ہرنانڈیز دے کوس کو ای سی بی کی صدارت کے لیے نمایاں امیدوار سمجھا جارہا ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق فرانس چیف اکانومسٹ کا عہدہ حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا ہے کہ جرمنی، شنابیل کی جگہ اپنا امیدوار نامزد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ شنابیل ای سی بی میں مارکیٹ آپریشنز کی نگران تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) آئندہ ماہ ہی کرسٹین لیگارڈ کو اپنا نیا چیئرپرسن مقرر کرسکتا ہے۔ ادارے سے قریبی تعلق رکھنے والے چار افراد نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ اس تقرری کے نتیجے میں لیگارڈ یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) کی سربراہ کے عہدے سے قبل از وقت مستعفی ہوجائیں گی، جس کے بعد بینک کی اعلیٰ قیادت میں بھی بڑے پیمانے پر ردوبدل ہوسکتا ہے۔</strong></p>
<p>لیگارڈ کی ای سی بی میں مدتِ صدارت اکتوبر 2027 میں ختم ہونا طے ہے۔ تاہم، قبل از وقت عہدہ چھوڑنے سے یورپی یونین کے رہنماؤں کو فرانس میں موسمِ بہار کے صدارتی انتخابات سے پہلے ای سی بی کا نیا صدر منتخب کرنے کا موقع مل جائے گا۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ان انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ اس پیش رفت سے ای سی بی کے دو دیگر اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں کے حوالے سے بھی کسی سمجھوتے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔</p>
<p>ادارے سے قریبی تعلق رکھنے والے افراد نے بتایا ہے کہ ڈبلیو ای ایف کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا اجلاس 2 نومبر کو ہوگا، جس میں لیگارڈ کو اگلا چیئرپرسن منتخب کیا جاسکتا ہے۔ لیگارڈ خود بھی بورڈ کی رکن ہیں۔ معاملے کی حساسیت کے باعث ان افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔</p>
<p>ان میں سے دو افراد نے بتایا ہے کہ بورڈ اس اجلاس میں ووٹنگ کے لیے کسی تاریخ کا تعین بھی کرسکتا ہے، تاکہ جنوری میں ڈیووس میں ہونے والے ڈبلیو ای ایف کے سالانہ اجلاس کے موقع پر لیگارڈ کو نامزد چیئرپرسن کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ اس اجلاس میں دنیا بھر کے سیاسی اور کاروباری رہنما عالمی معیشت اور مالیاتی امور پر تبادلۂ خیال کے لیے جمع ہوتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا ہے کہ لیگارڈ کا انتخاب یقینی نہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ فرانس کی سابق وزیرِ خزانہ، 70 سالہ لیگارڈ کو بورڈ کے ارکان کی وسیع حمایت حاصل ہے۔ ڈبلیو ای ایف کی ویب سائٹ پر بورڈ کے 27 ارکان کے نام درج ہیں۔</p>
<p>یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، جبکہ ڈبلیو ای ایف نے بھی فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔</p>
<h3><a id="فرانسیسی-انتخابات-سے-پہلے-جانشین-کی-تلاش" href="#فرانسیسی-انتخابات-سے-پہلے-جانشین-کی-تلاش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>فرانسیسی انتخابات سے پہلے جانشین کی تلاش</h3>
<p>دونوں میں سے کسی بھی مجوزہ شیڈول کے تحت نئے ای سی بی صدر کے لیے یورپی یونین میں تقرری سے متعلق تمام رسمی مراحل مکمل کرنے کا مناسب وقت دستیاب ہوگا، اور یہ عمل فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی مدتِ صدارت مئی میں ختم ہونے سے کافی پہلے مکمل ہوسکے گا۔</p>
<p>اس معاملے سے واقف پانچویں شخص نے بتایا ہے کہ لیگارڈ کی خواہش بھی تقرری کے وقت کے تعین میں ایک اہم عامل رہی ہے، کیونکہ وہ چاہتی ہیں کہ میکرون کو اپنے جانشین کے انتخاب میں رائے دینے کا موقع ملے۔ یورپی سیاسی حلقوں میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ اگر انتہائی دائیں بازو کی رہنما میرین لی پین فرانس کی صدر منتخب ہوگئیں تو لیگارڈ کے جانشین کے انتخاب کے لیے مذاکرات مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>جنیوا میں قائم ڈبلیو ای ایف کے بورڈ کی مشترکہ سربراہی اس وقت بلیک راک کے چیف ایگزیکٹو لیری فنک اور روش کے وائس چیئرمین آندرے ہوفمین کررہے ہیں۔ ہوفمین نے گزشتہ سال ادارے کے بانی کلاؤس شواب کے عہدہ چھوڑنے کے بعد یہ ذمہ داری سنبھالی تھی۔</p>
<p>بورڈ میں سرکاری شعبے کی اہم شخصیات بھی شامل ہیں، جن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا اور اردن کی ملکہ رانیا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیلز فورس کے مارک بینیوف اور سیمنز کے جم ہیگمن شنیبے جیسے نمایاں کاروباری رہنما بھی بورڈ کا حصہ ہیں۔</p>
<p>لیگارڈ اس ہفتے بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کررہی ہیں۔ وہ کہہ چکی ہیں کہ اگلے سال تک ای سی بی میں اپنے عہدے پر برقرار رہیں گی، تاہم انہوں نے اکتوبر میں اپنی مدتِ صدارت باضابطہ طور پر مکمل ہونے تک عہدے پر رہنے کا حتمی وعدہ نہیں کیا ہے۔</p>
<p>لیگارڈ کی علیحدگی سے ای سی بی کے چھ رکنی ایگزیکٹو بورڈ میں ایک اور عہدہ خالی ہوجائے گا۔ گزشتہ ماہ ازابیل شنابیل کے استعفے کے بعد ایک نشست پہلے ہی خالی ہوچکی ہے، جبکہ بینک کے چیف اکانومسٹ فلپ لین مئی میں عہدہ چھوڑنے والے ہیں۔</p>
<p>یورپی یونین کے حکام کا کہنا ہے کہ ان تینوں عہدوں پر تقرریوں کے لیے رکن ممالک کے درمیان ایک مشترکہ پیکیج معاہدہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>نیدرلینڈز اور اسپین کے مرکزی بینکوں کے سابق گورنرز کلاز نوٹ اور پابلو ہرنانڈیز دے کوس کو ای سی بی کی صدارت کے لیے نمایاں امیدوار سمجھا جارہا ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق فرانس چیف اکانومسٹ کا عہدہ حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا ہے کہ جرمنی، شنابیل کی جگہ اپنا امیدوار نامزد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ شنابیل ای سی بی میں مارکیٹ آپریشنز کی نگران تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292626</guid>
      <pubDate>Thu, 15 Oct 2026 20:02:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/151957221f1b73c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/151957221f1b73c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
