<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Stocks</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 15 Oct 2026 13:02:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 15 Oct 2026 13:02:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس 900 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292592/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں خریداری کا رجحان برقرار رہا، جمعرات کو کاروبار کے آغاز پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 900 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبح 9 بج کر 55 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 912.83 پوائنٹس یا 0.55 فیصد اضافے کے ساتھ 166,330.33 پوائنٹس پر ٹریڈ کررہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو موبائل اسمبلرز، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ انڈیکس پر نمایاں اثر رکھنے والے حصص، جن میں حبکو، او جی ڈی سی، پاکستان آئل فیلڈز (پی او ایل)، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک شامل ہیں، مثبت زون میں کاروبار کررہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بحالی دیکھی گئی، کیونکہ ریفائنری کمپنیوں، بالخصوص پاکستان ریفائنری لمیٹڈ اور توانائی سے متعلق دیگر حصص میں خریداری نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ تاہم نئی مثبت محرکات کی عدم موجودگی اور مسلسل جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 641.07 پوائنٹس یا 0.39 فیصد اضافے کے بعد 165,417.51 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیائی منڈیوں میں کاروبار کے آغاز پر حصص کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا۔ امریکا میں صارفین کی قیمتوں میں توقعات سے زیادہ تیزی سے اضافے نے رواں سال کے دوران فیڈرل ریزرو کی جانب سے اقدامات کیے جانے کے امکانات بڑھا دیے، جس کے نتیجے میں حصص کی قیمتیں نیچے آگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کی وسیع تر نمائندگی کرنے والا ایم ایس سی آئی انڈیکس 1.2 فیصد گر گیا، جس کی قیادت جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 5.6 فیصد کی شدید کمی نے کی، جبکہ نکی 225 انڈیکس بھی 1.3 فیصد نیچے آگیا۔ ایس اینڈ پی 500 کے ای منی فیوچرز میں 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ شب وال اسٹریٹ میں حصص کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ ستمبر میں امریکا میں صارفین کی قیمتوں میں افراط زر توقعات سے زیادہ تیز ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 1.1 فیصد گر گیا، نیسڈیک کمپوزٹ میں 1.9 فیصد کمی ہوئی، جبکہ سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص کی نمائندگی کرنے والے انڈیکس میں مسلسل چھٹے روز کمی کا سلسلہ جاری رہا۔ شرح سود میں اضافے کے امکان نے اوریکل، کور ویو اور مصنوعی ذہانت سے متعلق دیگر کمپنیوں کے حصص کو متاثر کیا، کیونکہ یہ کمپنیاں قرض لینے کی زیادہ لاگت سے حساس ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کی قیمتوں کے اشاریے (سی پی آئی) کے اعدادوشمار سے آئندہ سال کے دوران فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے امکانات میں اضافہ ہوا، اور یہ اقدام رواں ماہ کے اواخر میں بھی کیا جاسکتا ہے۔ سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق، فیڈرل ریزرو کے 28 اکتوبر کو شروع ہونے والے دو روزہ اجلاس میں شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافے کا امکان اب 31.6 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جبکہ ایک روز قبل یہ امکان 22.1 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انٹرا ڈے اپ ڈیٹ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں خریداری کا رجحان برقرار رہا، جمعرات کو کاروبار کے آغاز پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 900 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>صبح 9 بج کر 55 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 912.83 پوائنٹس یا 0.55 فیصد اضافے کے ساتھ 166,330.33 پوائنٹس پر ٹریڈ کررہا تھا۔</p>
<p>آٹو موبائل اسمبلرز، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ انڈیکس پر نمایاں اثر رکھنے والے حصص، جن میں حبکو، او جی ڈی سی، پاکستان آئل فیلڈز (پی او ایل)، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک شامل ہیں، مثبت زون میں کاروبار کررہے تھے۔</p>
<p>بدھ کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بحالی دیکھی گئی، کیونکہ ریفائنری کمپنیوں، بالخصوص پاکستان ریفائنری لمیٹڈ اور توانائی سے متعلق دیگر حصص میں خریداری نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ تاہم نئی مثبت محرکات کی عدم موجودگی اور مسلسل جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے۔</p>
<p>گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 641.07 پوائنٹس یا 0.39 فیصد اضافے کے بعد 165,417.51 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیائی منڈیوں میں کاروبار کے آغاز پر حصص کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا۔ امریکا میں صارفین کی قیمتوں میں توقعات سے زیادہ تیزی سے اضافے نے رواں سال کے دوران فیڈرل ریزرو کی جانب سے اقدامات کیے جانے کے امکانات بڑھا دیے، جس کے نتیجے میں حصص کی قیمتیں نیچے آگئیں۔</p>
<p>جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کی وسیع تر نمائندگی کرنے والا ایم ایس سی آئی انڈیکس 1.2 فیصد گر گیا، جس کی قیادت جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 5.6 فیصد کی شدید کمی نے کی، جبکہ نکی 225 انڈیکس بھی 1.3 فیصد نیچے آگیا۔ ایس اینڈ پی 500 کے ای منی فیوچرز میں 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>گزشتہ شب وال اسٹریٹ میں حصص کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ ستمبر میں امریکا میں صارفین کی قیمتوں میں افراط زر توقعات سے زیادہ تیز ہوگیا۔</p>
<p>ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 1.1 فیصد گر گیا، نیسڈیک کمپوزٹ میں 1.9 فیصد کمی ہوئی، جبکہ سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص کی نمائندگی کرنے والے انڈیکس میں مسلسل چھٹے روز کمی کا سلسلہ جاری رہا۔ شرح سود میں اضافے کے امکان نے اوریکل، کور ویو اور مصنوعی ذہانت سے متعلق دیگر کمپنیوں کے حصص کو متاثر کیا، کیونکہ یہ کمپنیاں قرض لینے کی زیادہ لاگت سے حساس ہیں۔</p>
<p>صارفین کی قیمتوں کے اشاریے (سی پی آئی) کے اعدادوشمار سے آئندہ سال کے دوران فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے امکانات میں اضافہ ہوا، اور یہ اقدام رواں ماہ کے اواخر میں بھی کیا جاسکتا ہے۔ سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق، فیڈرل ریزرو کے 28 اکتوبر کو شروع ہونے والے دو روزہ اجلاس میں شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافے کا امکان اب 31.6 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جبکہ ایک روز قبل یہ امکان 22.1 فیصد تھا۔</p>
<p>یہ انٹرا ڈے اپ ڈیٹ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292592</guid>
      <pubDate>Thu, 15 Oct 2026 11:57:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/151100023b8468e.webp" type="image/webp" medium="image" height="525" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/151100023b8468e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
