<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 14 Oct 2026 01:49:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 14 Oct 2026 01:49:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کی خیبر پختونخوا کی شوگر ملوں سے چینی کی برآمدات روکنے کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292525/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے منگل کو کمرشل بینکوں کو ہدایت کی کہ خیبر پختونخوا میں قائم شوگر ملوں کی جانب سے چینی کی برآمدات اس وقت تک روک دی جائیں، جب تک صوبائی انتظامیہ بیرونِ ملک چینی فروخت کرنے کی توثیق نہیں کردیتی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک نے ’2 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی برآمد سے متعلق نظرثانی شدہ ہدایات‘ کے عنوان سے جاری سرکلر میں کمرشل بینکوں سے کہا کہ پنجاب اور سندھ میں قائم اہل شوگر ملوں کی چینی کی برآمدی کارروائیوں پر عمل درآمد کیا جائے، کیونکہ دونوں صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے صوبوں میں قائم شوگر ملوں کے نظرثانی شدہ کوٹے کی توثیق کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکلر کے مطابق، ’’حکومتِ پنجاب اور حکومتِ سندھ نے اپنے اپنے صوبوں میں قائم شوگر ملوں کے نظرثانی شدہ کوٹے کی توثیق کردی ہے، تاہم حکومتِ خیبر پختونخوا کی توثیق تاحال موصول نہیں ہوئی۔ چنانچہ مجاز ڈیلر (کمرشل بینک) قابلِ اطلاق شرائط کے تحت پنجاب اور سندھ کی اہل شوگر ملوں کو ان کے نظرثانی شدہ کوٹے کے مطابق برآمدی کارروائیاں کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکلر میں مزید کہا گیا کہ ’’حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے نظرثانی شدہ کوٹے کی توثیق موصول ہونے پر وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق (ایم این ایف ایس آر) کے ذریعے اس سے آگاہ کردیا جائے گا۔ اس تصدیق کے بعد مجاز ڈیلر خیبر پختونخوا میں قائم اہل شوگر ملوں کی برآمدی کارروائیاں آگے بڑھا سکیں گے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے 9 اکتوبر 2026ء کو پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) سے موصول ہونے والے صوبہ وار اور شوگر مل وار نظرثانی شدہ برآمدی کوٹے سے آگاہ کیا تھا، جس میں تین شوگر ملوں کے ناموں کی تصحیح بھی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ستمبر 2026ء میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بعض شرائط کے ساتھ 2 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔ ای سی سی کے فیصلے کی وفاقی کابینہ نے بھی توثیق کردی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے منگل کو کمرشل بینکوں کو ہدایت کی کہ خیبر پختونخوا میں قائم شوگر ملوں کی جانب سے چینی کی برآمدات اس وقت تک روک دی جائیں، جب تک صوبائی انتظامیہ بیرونِ ملک چینی فروخت کرنے کی توثیق نہیں کردیتی۔</strong></p>
<p>مرکزی بینک نے ’2 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی برآمد سے متعلق نظرثانی شدہ ہدایات‘ کے عنوان سے جاری سرکلر میں کمرشل بینکوں سے کہا کہ پنجاب اور سندھ میں قائم اہل شوگر ملوں کی چینی کی برآمدی کارروائیوں پر عمل درآمد کیا جائے، کیونکہ دونوں صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے صوبوں میں قائم شوگر ملوں کے نظرثانی شدہ کوٹے کی توثیق کردی ہے۔</p>
<p>سرکلر کے مطابق، ’’حکومتِ پنجاب اور حکومتِ سندھ نے اپنے اپنے صوبوں میں قائم شوگر ملوں کے نظرثانی شدہ کوٹے کی توثیق کردی ہے، تاہم حکومتِ خیبر پختونخوا کی توثیق تاحال موصول نہیں ہوئی۔ چنانچہ مجاز ڈیلر (کمرشل بینک) قابلِ اطلاق شرائط کے تحت پنجاب اور سندھ کی اہل شوگر ملوں کو ان کے نظرثانی شدہ کوٹے کے مطابق برآمدی کارروائیاں کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔‘‘</p>
<p>سرکلر میں مزید کہا گیا کہ ’’حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے نظرثانی شدہ کوٹے کی توثیق موصول ہونے پر وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق (ایم این ایف ایس آر) کے ذریعے اس سے آگاہ کردیا جائے گا۔ اس تصدیق کے بعد مجاز ڈیلر خیبر پختونخوا میں قائم اہل شوگر ملوں کی برآمدی کارروائیاں آگے بڑھا سکیں گے۔‘‘</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے 9 اکتوبر 2026ء کو پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) سے موصول ہونے والے صوبہ وار اور شوگر مل وار نظرثانی شدہ برآمدی کوٹے سے آگاہ کیا تھا، جس میں تین شوگر ملوں کے ناموں کی تصحیح بھی شامل تھی۔</p>
<p>اس سے قبل ستمبر 2026ء میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بعض شرائط کے ساتھ 2 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔ ای سی سی کے فیصلے کی وفاقی کابینہ نے بھی توثیق کردی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292525</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Oct 2026 23:10:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/132304223a58a09.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/132304223a58a09.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
