<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 13 Oct 2026 17:12:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 13 Oct 2026 17:12:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا مقصد انسدادِ دہشت گردی کی یکساں پالیسی ہے، وفاقی حکومت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292502/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزرا نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور صوبائی حکومت کے ساتھ مشترکہ انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی پر اتفاق نہ ہونے کے باعث آئین کے تحت کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت سے تعاون حاصل کرنے کی متعدد کوششیں کیں، تاہم مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر ملک میں دو الگ پالیسیاں نہیں ہو سکتیں، اس لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان رابطہ اور معلومات کا تبادلہ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی نافذ کی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ سیاسی نہیں بلکہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں 2021 سے 2024 کے دوران دہشت گردی کے 2,911 واقعات پیش آئے، جبکہ بعد کے عرصے میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 8,600 ہوگئی۔ تاہم بریفنگ میں اس اضافے کے لیے زیرِ غور مدت کی مکمل وضاحت نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عطا اللہ تارڑ کے مطابق صوبے میں 2025 کے دوران دہشت گردی کے 3,774 واقعات میں 3,512 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ ستمبر 2026 تک کے پہلے نو ماہ میں 2,857 واقعات کے نتیجے میں 2,775 اموات ہوئیں۔ انہوں نے مارچ 2024 سے ستمبر 2026 کے دوران پولیس اہلکاروں پر حملوں میں 168 فیصد اضافے کا دعویٰ بھی کیا، تاہم ان اعدادوشمار کے تقابلی طریقہ کار کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزرا نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کے ذریعے سیاسی اختلافات دور کرنے کی کوشش بھی کی، لیکن حتمی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عطا اللہ تارڑ نے صوبائی انسدادِ دہشت گردی محکمے کو مضبوط بنانے، محفوظ شہر منصوبوں کے تحت نگرانی کے کیمرے نصب کرنے، فرانزک لیبارٹری قائم کرنے اور پولیس کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے افغانستان کی عبوری حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل کے نام سے نیا انتظامی و ترقیاتی ڈھانچہ قائم کیا گیا ہے، جس میں پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کو شامل کیا جائے گا۔ حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد صوبے میں سیکیورٹی اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزرا نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور صوبائی حکومت کے ساتھ مشترکہ انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی پر اتفاق نہ ہونے کے باعث آئین کے تحت کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت سے تعاون حاصل کرنے کی متعدد کوششیں کیں، تاہم مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔</strong></p>
<p>غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر ملک میں دو الگ پالیسیاں نہیں ہو سکتیں، اس لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان رابطہ اور معلومات کا تبادلہ ضروری ہے۔</p>
<p>اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی نافذ کی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ سیاسی نہیں بلکہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں 2021 سے 2024 کے دوران دہشت گردی کے 2,911 واقعات پیش آئے، جبکہ بعد کے عرصے میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 8,600 ہوگئی۔ تاہم بریفنگ میں اس اضافے کے لیے زیرِ غور مدت کی مکمل وضاحت نہیں کی گئی۔</p>
<p>عطا اللہ تارڑ کے مطابق صوبے میں 2025 کے دوران دہشت گردی کے 3,774 واقعات میں 3,512 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ ستمبر 2026 تک کے پہلے نو ماہ میں 2,857 واقعات کے نتیجے میں 2,775 اموات ہوئیں۔ انہوں نے مارچ 2024 سے ستمبر 2026 کے دوران پولیس اہلکاروں پر حملوں میں 168 فیصد اضافے کا دعویٰ بھی کیا، تاہم ان اعدادوشمار کے تقابلی طریقہ کار کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔</p>
<p>وفاقی وزرا نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کے ذریعے سیاسی اختلافات دور کرنے کی کوشش بھی کی، لیکن حتمی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔</p>
<p>عطا اللہ تارڑ نے صوبائی انسدادِ دہشت گردی محکمے کو مضبوط بنانے، محفوظ شہر منصوبوں کے تحت نگرانی کے کیمرے نصب کرنے، فرانزک لیبارٹری قائم کرنے اور پولیس کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے افغانستان کی عبوری حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔</p>
<p>وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل کے نام سے نیا انتظامی و ترقیاتی ڈھانچہ قائم کیا گیا ہے، جس میں پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کو شامل کیا جائے گا۔ حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد صوبے میں سیکیورٹی اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292502</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Oct 2026 13:44:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/_5Dbre98alA/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/_5Dbre98alA/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=_5Dbre98alA"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
