<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 13 Oct 2026 18:18:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 13 Oct 2026 18:18:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے آئی میں سرمایہ کاری عالمی معاشی ترقی کی محرک، جنگ اور قرضوں سے عالمی معیشت کو خطرات لاحق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292495/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے منگل کو کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث توانائی  شعبے کو پہنچنے والے دھچکے کے باوجود اے آئی میں مضبوط سرمایہ کاری کے نتیجے میں عالمی معیشت اس سال بھی حقیقی جی ڈی پی کی شرحِ نمو 3 فیصد سے تجاوز کرنے میں کامیاب رہے گی, تاہم معاشی ترقی کو لاحق منفی خطرات بڑھ رہے ہیں جبکہ مزید ممالک معاشی ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہتے جارہے ہیں اور قرضوں کے بڑھتے بوجھ کے باعث زیادہ غیر محفوظ ہورہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل تنازع کے باوجود جس کے باعث تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہیں، آئی ایم ایف نے 2026ء میں عالمی معاشی شرحِ نمو 3.1 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی ہے جو جولائی میں لگائے گئے 3 فیصد کے تخمینے سے معمولی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی اقتصادی اور مالیاتی رہنماؤں کے بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس کے لیے جمع ہونے کے موقع پر جاری کی گئی عالمی اقتصادی منظرنامے کی رپورٹ میں شرحِ نمو کا یہ تخمینہ اپریل میں پیش کیے گئے سب سے پُرامید منظرنامے کے تقریباً برابر ہے، تاہم 2025ء کی 3.5 فیصد عالمی شرحِ نمو سے کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے 2027ء کے لیے عالمی معاشی شرحِ نمو 3.4 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ تخمینہ جولائی میں دی گئی پیش گوئی کے برابر جب کہ اپریل کے تخمینے سے 0.2 فیصد پوائنٹ زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرحِ نمو میں معمولی بہتری کی بڑی وجہ اے آئی کے بنیادی ڈھانچے میں مسلسل مضبوط سرمایہ کاری ہے۔ اس کے نتیجے میں اے آئی پلیٹ فارمز تیار کرنے والی بڑی ترقی یافتہ معیشتوں کی شرحِ نمو کے تخمینوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ بالخصوص اے آئی ہارڈویئر فراہم کرنے والے ممالک جن میں جنوبی کوریا، ملائیشیا، میکسیکو اور تھائی لینڈ شامل ہیں کو فائدہ پہنچا ہے۔ تھائی لینڈ رواں ہفتے ان اجلاس کی میزبانی کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی چیف اکانومسٹ سلوَانا ٹینریرو نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معیشت نے مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اس صلاحیت کی بھی حدود ہیں، اس لیے ہمیں محض حالات سے نمٹنے کے بجائے معاشی بنیادوں کی ازسرِنو تعمیر کی طرف بڑھنا ہوگا۔ ہمیں مالی گنجائش بحال کرنے اور رسد کے شعبے کی لچک دوبارہ مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ معاشی شرحِ نمو کو لاحق بڑے منفی خطرات میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا طویل اور شدید ہونا جس سے مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے، بانڈز پر منافع کی شرح میں اضافہ جس سے حکومتوں کے لیے قرض لینے کی لاگت بڑھ جائے گی، ال نینو کے باعث شدید موسمی واقعات اور اے آئی سے منافع کمانے کی صلاحیت کے بارے میں توقعات پر نظرثانی شامل ہیں۔ ان عوامل کے نتیجے میں سرمایہ کاری اور اثاثوں کی قیمتوں میں تیزی سے گراوٹ آسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی ڈپٹی ڈائریکٹر برائے تحقیق پیٹیا کویوا بروکس نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو ایک الگ انٹرویو میں بتایا کہ ممالک اور کمپنیوں نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے جھٹکے کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے۔ ان اقدامات میں ذخائر سے تیل استعمال کرنا، متبادل سپلائرز اور توانائی کے دیگر ذرائع کی طرف رجوع کرنا اور تیل کی طلب میں کمی لانا شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر یہ اقدامات نہ کیے جاتے تو رواں سال عالمی معاشی شرحِ نمو کم ہوکر 2.5 فیصد رہ جاتی، تاہم جنگ طول پکڑنے کے ساتھ ان اقدامات کے اثرات کم ہوتے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے نشاندہی کی کہ اے آئی سے فائدہ اٹھانے والے ممالک اور اس کے ثمرات سے محروم رہ جانے والے ممالک کے درمیان فرق بڑھتا جارہا ہے۔ اب صرف 32 ممالک عالمی معاشی نمو کے 95 فیصد حصے کے ذمہ دار ہیں جبکہ اپریل میں ایسے ممالک کی تعداد 54 تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرح نمو میں کمی کے نظرثانی شدہ تخمینے اب زیادہ وسیع پیمانے پر سامنے  آرہے ہیں۔ آئی ایم ایف نے اپریل میں پیش گوئیاں جاری ہونے کے بعد سے 47 فیصد معیشتوں کے لیے معاشی شرحِ نمو کے تخمینے کم کردیے ہیں۔ ان میں اے آئی کی عالمی ویلیو چین سے باہر رہنے والے کئی توانائی درآمد کرنے والے ممالک بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرح نمو کے تخمینوں میں سب سے زیادہ کمی خلیجی ممالک کے لیے کی گئی ہے جو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ سے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کی جی ڈی پی میں رواں سال 3.3 فیصد کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ جولائی میں اس کی شرحِ نمو 1.7 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران، عراق، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات کے بھی شدید معاشی کساد بازاری کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق 2026ء میں ان ممالک کی جی ڈی پی میں بالترتیب 7.6 فیصد، 16 فیصد، 16.7 فیصد، 15.6 فیصد اور 3.9 فیصد کمی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کی شرحِ نمو مستحکم، یورپ کی معیشت میں بہتری&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی معیشتوں میں آئی ایم ایف نے امریکا کی معاشی شرحِ نمو 2026ء اور 2027ء، دونوں برسوں کے لیے 2.3 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ رواں سال کے لیے یہ تخمینہ برقرار رکھا گیا ہے جبکہ آئندہ سال کے لیے اسے 0.1 فیصد پوائنٹ بڑھا دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقع ہے کہ امریکی معیشت کو نجی شعبے میں مضبوط کھپت، ٹیکسز میں کمی اور اے آئی میں سرمایہ کاری سے سہارا ملے گا، تاہم اے آئی سے حاصل ہونے والے فوائد بڑی مقدار میں درآمدات پر انحصار کے باعث کسی حد تک زائل ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی میں سرمایہ کاری میں اضافے، اے آئی کی عالمی ویلیو چین میں شمولیت، بالخصوص جرمنی میں کیمیائی مصنوعات کی تیاری اور یورپی یونین کے ممالک میں دفاعی اخراجات بڑھنے کے باعث یورو زون کی 2026ء کی معاشی شرحِ نمو کا تخمینہ جولائی کے 0.9 فیصد سے بڑھا کر 1.1 فیصد کردیا گیا ہے۔ برطانیہ کے لیے بھی 2026ء کی معاشی شرحِ نمو کی پیش گوئی جولائی کے مقابلے میں 0.3 فیصد پوائنٹ بڑھا کر 1.3 فیصد کردی گئی ہے جس کی بڑی وجہ اے آئی میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے چین کی معاشی شرحِ نمو 2026ء کے لیے 4.5 فیصد اور 2027ء کے لیے 4 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ دونوں برسوں کے تخمینے جولائی میں دی گئی پیش گوئیوں کے مقابلے میں 0.1 فیصد پوائنٹ کم ہیں۔ اس کی وجہ تیل کی بلند قیمتیں ہیں جو مضبوط برآمدات کے باوجود ملکی طلب کی کمزوری کو مزید بڑھا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت بدستور دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے۔ آئی ایم ایف نے 2026ء اور 2027ء دونوں برسوں کے لیے بھارت کی معاشی شرحِ نمو 7 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ جولائی میں جاری کیے گئے تخمینوں کے مقابلے میں رواں سال کے لیے شرحِ نمو کا تخمینہ 0.6 فیصد پوائنٹ جبکہ آئندہ سال کے لیے 0.3 فیصد پوائنٹ بڑھایا گیا ہے۔ اس بہتری کی وجوہات میں مضبوط ملکی طلب، شعبۂ خدمات میں سرگرمیوں کا فروغ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں سرمایہ کاری شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی میں سرمایہ کاری میں تیزی کے باعث قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف نے عالمی سطح پر صارفین کی مجموعی قیمتوں میں مہنگائی کی شرح 2026ء میں 4.7 فیصد اور 2027ء میں 4.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;توانائی کی قیمتیں اور اے آئی رسک&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اجلاس میں شریک افراد عالمی معیشت کے غیر یقینی اور نازک مستقبل کا جائزہ لیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی پیش گوئیاں اس مفروضے پر مبنی ہیں کہ آبنائے ہرمز مارچ 2027ء میں دوبارہ کھل جائے گی اور اکتوبر 2027ء تک بحری جہاز رانی کے حالات بڑی حد تک جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائیں گے۔ آئی ایم ایف نے 2026ء میں تیل کی اوسط قیمت 96 ڈالر فی بیرل اور 2027ء میں 87 ڈالر فی بیرل رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم رپورٹ میں بیان کردہ ایک منفی منظرنامے کے تحت جس میں جنگ شدت اختیار کرنے کے باعث 2027ء کی پہلی سہ ماہی تک تیل کی قیمت 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہے، عالمی معاشی ترقی کی شرح 2026ء میں 0.2 فیصد پوائنٹ اور 2027ء میں 0.5 فیصد پوائنٹ کم ہو جائے گی۔ اس صورت میں 2027ء میں افراطِ زر مزید 1.1 فیصد پوائنٹ بڑھ کر 5.2 فیصد تک پہنچ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق اے آئی بھی غیر یقینی صورتِ حال کا ایک بڑا سبب ہے جس سے معیشت کو شدید منفی اور مثبت، دونوں طرح کے خطرات لاحق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنایا گیا اور اس میں سرمایہ کاری کی رفتار بڑھی تو 2029ء تک عالمی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں مزید 0.6 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم اس کے زیادہ تر فوائد امریکا اور چین کو حاصل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اگر اے آئی سے پیداواری صلاحیت میں اضافے کی توقعات پوری نہ ہوئیں اور اس کے نتیجے میں سرمایہ کاری میں نمایاں کمی آئی تو امریکی جی ڈی پی میں براہِ راست 0.8 فیصد تک کمی ہوسکتی ہے۔ اس کے اثرات ایشیائی ٹیکنالوجی برآمد کرنے والے ممالک تک بھی پھیل سکتے ہیں جس کے نتیجے میں 2028ء تک ان کی جی ڈی پی پر مجموعی براہِ راست اثر 0.4 فیصد تک منفی ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے مطابق اس تبدیلی سے اثاثوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں گراوٹ آئے گی اور مالی حالات مزید سخت ہو جائیں گے جس سے کھپت میں بڑی کمی واقع ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر بانڈز کے منافع میں اضافے سے معاشی سرگرمیاں مزید متاثر ہوں گی۔ ان عوامل کے نتیجے میں 2028ء تک عالمی پیداوار میں مجموعی طور پر 1.1 فیصد کمی ہو سکتی ہے جبکہ امریکی پیداوار میں 1.8 فیصد تک گراوٹ کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ سرکاری قرضوں کی بلند سطح، خصوصاً ترقی یافتہ معیشتوں میں قرض لینے کی لاگت میں تیزی سے اضافے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے جس سے معاشی ترقی کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ مالیاتی گنجائش بحال کرنے کے لیے اقدامات مزید مؤخر نہ کریں اور قرضوں کو پائیدار سطح پر واپس لانے کے لیے درمیانی مدت کے قابلِ اعتماد منصوبے پیش کریں۔ آئی ایم ایف کے حکام بینکاک میں ہونے والے اجلاسوں کے دوران بھی اس مشورے پر زور دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے منگل کو کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث توانائی  شعبے کو پہنچنے والے دھچکے کے باوجود اے آئی میں مضبوط سرمایہ کاری کے نتیجے میں عالمی معیشت اس سال بھی حقیقی جی ڈی پی کی شرحِ نمو 3 فیصد سے تجاوز کرنے میں کامیاب رہے گی, تاہم معاشی ترقی کو لاحق منفی خطرات بڑھ رہے ہیں جبکہ مزید ممالک معاشی ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہتے جارہے ہیں اور قرضوں کے بڑھتے بوجھ کے باعث زیادہ غیر محفوظ ہورہے ہیں۔</strong></p>
<p>طویل تنازع کے باوجود جس کے باعث تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہیں، آئی ایم ایف نے 2026ء میں عالمی معاشی شرحِ نمو 3.1 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی ہے جو جولائی میں لگائے گئے 3 فیصد کے تخمینے سے معمولی زیادہ ہے۔</p>
<p>عالمی اقتصادی اور مالیاتی رہنماؤں کے بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس کے لیے جمع ہونے کے موقع پر جاری کی گئی عالمی اقتصادی منظرنامے کی رپورٹ میں شرحِ نمو کا یہ تخمینہ اپریل میں پیش کیے گئے سب سے پُرامید منظرنامے کے تقریباً برابر ہے، تاہم 2025ء کی 3.5 فیصد عالمی شرحِ نمو سے کم ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے 2027ء کے لیے عالمی معاشی شرحِ نمو 3.4 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ تخمینہ جولائی میں دی گئی پیش گوئی کے برابر جب کہ اپریل کے تخمینے سے 0.2 فیصد پوائنٹ زیادہ ہے۔</p>
<p>شرحِ نمو میں معمولی بہتری کی بڑی وجہ اے آئی کے بنیادی ڈھانچے میں مسلسل مضبوط سرمایہ کاری ہے۔ اس کے نتیجے میں اے آئی پلیٹ فارمز تیار کرنے والی بڑی ترقی یافتہ معیشتوں کی شرحِ نمو کے تخمینوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ بالخصوص اے آئی ہارڈویئر فراہم کرنے والے ممالک جن میں جنوبی کوریا، ملائیشیا، میکسیکو اور تھائی لینڈ شامل ہیں کو فائدہ پہنچا ہے۔ تھائی لینڈ رواں ہفتے ان اجلاس کی میزبانی کررہا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی چیف اکانومسٹ سلوَانا ٹینریرو نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معیشت نے مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اس صلاحیت کی بھی حدود ہیں، اس لیے ہمیں محض حالات سے نمٹنے کے بجائے معاشی بنیادوں کی ازسرِنو تعمیر کی طرف بڑھنا ہوگا۔ ہمیں مالی گنجائش بحال کرنے اور رسد کے شعبے کی لچک دوبارہ مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ معاشی شرحِ نمو کو لاحق بڑے منفی خطرات میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا طویل اور شدید ہونا جس سے مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے، بانڈز پر منافع کی شرح میں اضافہ جس سے حکومتوں کے لیے قرض لینے کی لاگت بڑھ جائے گی، ال نینو کے باعث شدید موسمی واقعات اور اے آئی سے منافع کمانے کی صلاحیت کے بارے میں توقعات پر نظرثانی شامل ہیں۔ ان عوامل کے نتیجے میں سرمایہ کاری اور اثاثوں کی قیمتوں میں تیزی سے گراوٹ آسکتی ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی ڈپٹی ڈائریکٹر برائے تحقیق پیٹیا کویوا بروکس نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو ایک الگ انٹرویو میں بتایا کہ ممالک اور کمپنیوں نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے جھٹکے کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے۔ ان اقدامات میں ذخائر سے تیل استعمال کرنا، متبادل سپلائرز اور توانائی کے دیگر ذرائع کی طرف رجوع کرنا اور تیل کی طلب میں کمی لانا شامل تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر یہ اقدامات نہ کیے جاتے تو رواں سال عالمی معاشی شرحِ نمو کم ہوکر 2.5 فیصد رہ جاتی، تاہم جنگ طول پکڑنے کے ساتھ ان اقدامات کے اثرات کم ہوتے جارہے ہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے نشاندہی کی کہ اے آئی سے فائدہ اٹھانے والے ممالک اور اس کے ثمرات سے محروم رہ جانے والے ممالک کے درمیان فرق بڑھتا جارہا ہے۔ اب صرف 32 ممالک عالمی معاشی نمو کے 95 فیصد حصے کے ذمہ دار ہیں جبکہ اپریل میں ایسے ممالک کی تعداد 54 تھی۔</p>
<p>شرح نمو میں کمی کے نظرثانی شدہ تخمینے اب زیادہ وسیع پیمانے پر سامنے  آرہے ہیں۔ آئی ایم ایف نے اپریل میں پیش گوئیاں جاری ہونے کے بعد سے 47 فیصد معیشتوں کے لیے معاشی شرحِ نمو کے تخمینے کم کردیے ہیں۔ ان میں اے آئی کی عالمی ویلیو چین سے باہر رہنے والے کئی توانائی درآمد کرنے والے ممالک بھی شامل ہیں۔</p>
<p>شرح نمو کے تخمینوں میں سب سے زیادہ کمی خلیجی ممالک کے لیے کی گئی ہے جو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ سے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کی جی ڈی پی میں رواں سال 3.3 فیصد کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ جولائی میں اس کی شرحِ نمو 1.7 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔</p>
<p>ایران، عراق، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات کے بھی شدید معاشی کساد بازاری کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق 2026ء میں ان ممالک کی جی ڈی پی میں بالترتیب 7.6 فیصد، 16 فیصد، 16.7 فیصد، 15.6 فیصد اور 3.9 فیصد کمی متوقع ہے۔</p>
<p><strong>امریکا کی شرحِ نمو مستحکم، یورپ کی معیشت میں بہتری</strong></p>
<p>بڑی معیشتوں میں آئی ایم ایف نے امریکا کی معاشی شرحِ نمو 2026ء اور 2027ء، دونوں برسوں کے لیے 2.3 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ رواں سال کے لیے یہ تخمینہ برقرار رکھا گیا ہے جبکہ آئندہ سال کے لیے اسے 0.1 فیصد پوائنٹ بڑھا دیا گیا ہے۔</p>
<p>توقع ہے کہ امریکی معیشت کو نجی شعبے میں مضبوط کھپت، ٹیکسز میں کمی اور اے آئی میں سرمایہ کاری سے سہارا ملے گا، تاہم اے آئی سے حاصل ہونے والے فوائد بڑی مقدار میں درآمدات پر انحصار کے باعث کسی حد تک زائل ہو جائیں گے۔</p>
<p>اے آئی میں سرمایہ کاری میں اضافے، اے آئی کی عالمی ویلیو چین میں شمولیت، بالخصوص جرمنی میں کیمیائی مصنوعات کی تیاری اور یورپی یونین کے ممالک میں دفاعی اخراجات بڑھنے کے باعث یورو زون کی 2026ء کی معاشی شرحِ نمو کا تخمینہ جولائی کے 0.9 فیصد سے بڑھا کر 1.1 فیصد کردیا گیا ہے۔ برطانیہ کے لیے بھی 2026ء کی معاشی شرحِ نمو کی پیش گوئی جولائی کے مقابلے میں 0.3 فیصد پوائنٹ بڑھا کر 1.3 فیصد کردی گئی ہے جس کی بڑی وجہ اے آئی میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے چین کی معاشی شرحِ نمو 2026ء کے لیے 4.5 فیصد اور 2027ء کے لیے 4 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ دونوں برسوں کے تخمینے جولائی میں دی گئی پیش گوئیوں کے مقابلے میں 0.1 فیصد پوائنٹ کم ہیں۔ اس کی وجہ تیل کی بلند قیمتیں ہیں جو مضبوط برآمدات کے باوجود ملکی طلب کی کمزوری کو مزید بڑھا رہی ہیں۔</p>
<p>بھارت بدستور دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے۔ آئی ایم ایف نے 2026ء اور 2027ء دونوں برسوں کے لیے بھارت کی معاشی شرحِ نمو 7 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ جولائی میں جاری کیے گئے تخمینوں کے مقابلے میں رواں سال کے لیے شرحِ نمو کا تخمینہ 0.6 فیصد پوائنٹ جبکہ آئندہ سال کے لیے 0.3 فیصد پوائنٹ بڑھایا گیا ہے۔ اس بہتری کی وجوہات میں مضبوط ملکی طلب، شعبۂ خدمات میں سرگرمیوں کا فروغ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں سرمایہ کاری شامل ہیں۔</p>
<p>اے آئی میں سرمایہ کاری میں تیزی کے باعث قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف نے عالمی سطح پر صارفین کی مجموعی قیمتوں میں مہنگائی کی شرح 2026ء میں 4.7 فیصد اور 2027ء میں 4.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔</p>
<p><strong>توانائی کی قیمتیں اور اے آئی رسک</strong></p>
<p>بینکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اجلاس میں شریک افراد عالمی معیشت کے غیر یقینی اور نازک مستقبل کا جائزہ لیں گے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی پیش گوئیاں اس مفروضے پر مبنی ہیں کہ آبنائے ہرمز مارچ 2027ء میں دوبارہ کھل جائے گی اور اکتوبر 2027ء تک بحری جہاز رانی کے حالات بڑی حد تک جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائیں گے۔ آئی ایم ایف نے 2026ء میں تیل کی اوسط قیمت 96 ڈالر فی بیرل اور 2027ء میں 87 ڈالر فی بیرل رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔</p>
<p>تاہم رپورٹ میں بیان کردہ ایک منفی منظرنامے کے تحت جس میں جنگ شدت اختیار کرنے کے باعث 2027ء کی پہلی سہ ماہی تک تیل کی قیمت 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہے، عالمی معاشی ترقی کی شرح 2026ء میں 0.2 فیصد پوائنٹ اور 2027ء میں 0.5 فیصد پوائنٹ کم ہو جائے گی۔ اس صورت میں 2027ء میں افراطِ زر مزید 1.1 فیصد پوائنٹ بڑھ کر 5.2 فیصد تک پہنچ جائے گا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق اے آئی بھی غیر یقینی صورتِ حال کا ایک بڑا سبب ہے جس سے معیشت کو شدید منفی اور مثبت، دونوں طرح کے خطرات لاحق ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنایا گیا اور اس میں سرمایہ کاری کی رفتار بڑھی تو 2029ء تک عالمی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں مزید 0.6 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم اس کے زیادہ تر فوائد امریکا اور چین کو حاصل ہوں گے۔</p>
<p>تاہم اگر اے آئی سے پیداواری صلاحیت میں اضافے کی توقعات پوری نہ ہوئیں اور اس کے نتیجے میں سرمایہ کاری میں نمایاں کمی آئی تو امریکی جی ڈی پی میں براہِ راست 0.8 فیصد تک کمی ہوسکتی ہے۔ اس کے اثرات ایشیائی ٹیکنالوجی برآمد کرنے والے ممالک تک بھی پھیل سکتے ہیں جس کے نتیجے میں 2028ء تک ان کی جی ڈی پی پر مجموعی براہِ راست اثر 0.4 فیصد تک منفی ہو سکتا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے مطابق اس تبدیلی سے اثاثوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں گراوٹ آئے گی اور مالی حالات مزید سخت ہو جائیں گے جس سے کھپت میں بڑی کمی واقع ہو سکتی ہے۔</p>
<p>عالمی سطح پر بانڈز کے منافع میں اضافے سے معاشی سرگرمیاں مزید متاثر ہوں گی۔ ان عوامل کے نتیجے میں 2028ء تک عالمی پیداوار میں مجموعی طور پر 1.1 فیصد کمی ہو سکتی ہے جبکہ امریکی پیداوار میں 1.8 فیصد تک گراوٹ کا امکان ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ سرکاری قرضوں کی بلند سطح، خصوصاً ترقی یافتہ معیشتوں میں قرض لینے کی لاگت میں تیزی سے اضافے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے جس سے معاشی ترقی کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ادارے نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ مالیاتی گنجائش بحال کرنے کے لیے اقدامات مزید مؤخر نہ کریں اور قرضوں کو پائیدار سطح پر واپس لانے کے لیے درمیانی مدت کے قابلِ اعتماد منصوبے پیش کریں۔ آئی ایم ایف کے حکام بینکاک میں ہونے والے اجلاسوں کے دوران بھی اس مشورے پر زور دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292495</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Oct 2026 13:09:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/13125607bad1f38.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/13125607bad1f38.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
