<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 13 Oct 2026 14:53:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 13 Oct 2026 14:53:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا مزید پانڈا بانڈز جاری کرنے کا منصوبہ، قرض کے لیے جاپانی مارکیٹ پر بھی نظریں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292489/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت کی جانب سے مالی وسائل کے حصول کے ذرائع میں تنوع لانے کی حکمتِ عملی کے تحت پاکستان چینی یوآن میں مزید قرض حاصل کرنے کے لیے چین کی مقامی بانڈ مارکیٹ سے دوبارہ رجوع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان جاپان میں جاپانی ین میں بانڈز جاری کرنے کے امکان کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے یہ بات&lt;/strong&gt; نائیکی ایشیا کو &lt;strong&gt;دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے مئی کے وسط میں 7.2 ارب چینی یوآن کے پروگرام کے تحت اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کیا جس کی مالیت 1.75 ارب یوآن (261 ملین ڈالر) تھی۔ اس بانڈ کو ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور ایشیائی انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کی جانب سے جزوی ضمانتیں حاصل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانڈا بانڈز ایسے بانڈز ہوتے ہیں جو غیر ملکی حکومتیں یا ادارے چین میں جاری کرتے ہیں اور جن کی مالیت چینی کرنسی یوآن میں مقرر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے نائیکی ایشیا کو بتایا کہ پاکستان کی جانب سے حال ہی میں جاری کیا گیا پانڈا بانڈ محض ایک وقتی اقدام نہیں، بلکہ ملک مستقبل میں بھی چینی بانڈ مارکیٹ سے مسلسل رجوع کرتے ہوئے مزید بانڈز جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی اور وسیع ترین کیپیٹل مارکیٹوں میں سے ایک ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کووڈ 19 کی عالمی وبا کے باعث مزید شدت اختیار کرنے والے شدید معاشی بحران کے ایک عرصے کے بعد پاکستان کی معیشت کسی حد تک سنبھل گئی ہے۔ اس بحالی میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام نے مدد فراہم کی جس پر 2024 میں دستخط کیے گئے تھے۔ یہ 37 ماہ پر محیط پروگرام ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کہلاتا ہے اور اس میں بعض سخت اقدامات بھی شامل ہیں جن میں زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی میں اضافہ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب چینی مارکیٹ تک رسائی کے علاوہ محمد اورنگزیب نے جاپان کی کیپٹل مارکیٹ میں بھی مواقع تلاش کرنے میں دلچسپی ظاہر کی جس میں جاپانی ین میں سامورائی بانڈز کا اجرا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سامورائی بانڈز کا اجرا پاکستان کے لیے ایک موزوں آپشن ہو سکتا ہے اور اس امکان پر غور کیا جانا چاہیے۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں مزید تحقیق اور تیاری کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سامورائی بانڈ ایسا بانڈ ہوتا ہے جو کوئی غیر جاپانی کمپنی، حکومت یا بین الاقوامی ادارہ ٹوکیو میں جاری کرتا ہے۔ اس بانڈ کی مالیت جاپانی کرنسی ین میں ہوتی ہے اور اس پر جاپان کے مالیاتی ضوابط لاگو ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ گزشتہ ہفتے تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک روانہ ہوئے جہاں وہ عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں میں پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ اجلاس 12 سے 18 اکتوبر 2026 تک منعقد ہونے والے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورے کے دوران وزیر خزانہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک گروپ کی اہم تقریبات میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اس دوران وہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں، وزرائے خزانہ اور پالیسی سازوں، ترقیاتی شراکت داروں، عالمی سرمایہ کاروں، بینکوں، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، تحقیقی اداروں اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ 60 سے زائد اعلیٰ سطح ملاقاتوں اور دیگر سرگرمیوں میں شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب پاکستان معاشی استحکام کے مرحلے سے نکل کر پائیدار، سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب بڑھنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں بنیادی ڈھانچے اور معاشی ڈھانچے سے متعلق اصلاحات کو آگے بڑھانے اور عالمی کیپٹل مارکیٹوں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ روابط مضبوط بنانے پر بھی کام جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت کی جانب سے مالی وسائل کے حصول کے ذرائع میں تنوع لانے کی حکمتِ عملی کے تحت پاکستان چینی یوآن میں مزید قرض حاصل کرنے کے لیے چین کی مقامی بانڈ مارکیٹ سے دوبارہ رجوع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان جاپان میں جاپانی ین میں بانڈز جاری کرنے کے امکان کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے یہ بات</strong> نائیکی ایشیا کو <strong>دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔</strong></p>
<p>پاکستان نے مئی کے وسط میں 7.2 ارب چینی یوآن کے پروگرام کے تحت اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کیا جس کی مالیت 1.75 ارب یوآن (261 ملین ڈالر) تھی۔ اس بانڈ کو ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور ایشیائی انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کی جانب سے جزوی ضمانتیں حاصل تھیں۔</p>
<p>پانڈا بانڈز ایسے بانڈز ہوتے ہیں جو غیر ملکی حکومتیں یا ادارے چین میں جاری کرتے ہیں اور جن کی مالیت چینی کرنسی یوآن میں مقرر ہوتی ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے نائیکی ایشیا کو بتایا کہ پاکستان کی جانب سے حال ہی میں جاری کیا گیا پانڈا بانڈ محض ایک وقتی اقدام نہیں، بلکہ ملک مستقبل میں بھی چینی بانڈ مارکیٹ سے مسلسل رجوع کرتے ہوئے مزید بانڈز جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی اور وسیع ترین کیپیٹل مارکیٹوں میں سے ایک ہے ۔</p>
<p>کووڈ 19 کی عالمی وبا کے باعث مزید شدت اختیار کرنے والے شدید معاشی بحران کے ایک عرصے کے بعد پاکستان کی معیشت کسی حد تک سنبھل گئی ہے۔ اس بحالی میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام نے مدد فراہم کی جس پر 2024 میں دستخط کیے گئے تھے۔ یہ 37 ماہ پر محیط پروگرام ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کہلاتا ہے اور اس میں بعض سخت اقدامات بھی شامل ہیں جن میں زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی میں اضافہ بھی شامل ہے۔</p>
<p>دوسری جانب چینی مارکیٹ تک رسائی کے علاوہ محمد اورنگزیب نے جاپان کی کیپٹل مارکیٹ میں بھی مواقع تلاش کرنے میں دلچسپی ظاہر کی جس میں جاپانی ین میں سامورائی بانڈز کا اجرا بھی شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سامورائی بانڈز کا اجرا پاکستان کے لیے ایک موزوں آپشن ہو سکتا ہے اور اس امکان پر غور کیا جانا چاہیے۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں مزید تحقیق اور تیاری کی ضرورت ہے۔</p>
<p>سامورائی بانڈ ایسا بانڈ ہوتا ہے جو کوئی غیر جاپانی کمپنی، حکومت یا بین الاقوامی ادارہ ٹوکیو میں جاری کرتا ہے۔ اس بانڈ کی مالیت جاپانی کرنسی ین میں ہوتی ہے اور اس پر جاپان کے مالیاتی ضوابط لاگو ہوتے ہیں۔</p>
<p>وزیر خزانہ گزشتہ ہفتے تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک روانہ ہوئے جہاں وہ عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں میں پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ اجلاس 12 سے 18 اکتوبر 2026 تک منعقد ہونے والے ہیں۔</p>
<p>دورے کے دوران وزیر خزانہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک گروپ کی اہم تقریبات میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اس دوران وہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں، وزرائے خزانہ اور پالیسی سازوں، ترقیاتی شراکت داروں، عالمی سرمایہ کاروں، بینکوں، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، تحقیقی اداروں اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ 60 سے زائد اعلیٰ سطح ملاقاتوں اور دیگر سرگرمیوں میں شرکت کریں گے۔</p>
<p>یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب پاکستان معاشی استحکام کے مرحلے سے نکل کر پائیدار، سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب بڑھنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں بنیادی ڈھانچے اور معاشی ڈھانچے سے متعلق اصلاحات کو آگے بڑھانے اور عالمی کیپٹل مارکیٹوں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ روابط مضبوط بنانے پر بھی کام جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292489</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Oct 2026 11:44:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/13111841ef1013c.webp" type="image/webp" medium="image" height="452" width="678">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/13111841ef1013c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
