<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 12 Oct 2026 21:49:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 12 Oct 2026 21:49:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومتی وزیر کی خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور کابینہ ارکان کو حفاظتی تحویل میں لینے کی تصدیق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292468/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کرکے صوبائی حکومت معطل کیے جانے کے بعد سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی جماعت کے سیاست دانوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر آصف علی زرداری نے اتوار کو خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کرنے اور صوبائی حکومت معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ صوبائی حکومت عمران خان کے قریبی ساتھی سہیل آفریدی کی قیادت میں کام کر رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت کے مطابق صوبے میں دہشت گردی پر قابو پانے میں صوبائی حکومت کی ناکامی کے باعث ہنگامی حالت نافذ کی گئی۔ خیبر پختونخوا کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ان کے حامیوں کو اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے سے روکنے کے لیے کیا گیا، جس کا مقصد عمران خان کی رہائی کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لانگ مارچ کی کال کے بعد ہنگامی حالت نافذ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہنگامی حالت کا نفاذ عمران خان کے حامیوں کی جانب سے صوبے میں کئی روز تک احتجاجی اجتماعات کے ایک ہفتے بعد عمل میں آیا۔ مظاہرین کا ارادہ عمران خان کی رہائی اور انہیں طبی سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسلام آباد مارچ کرنے کا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر طلال چوہدری نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جی ہاں، میں تصدیق کرسکتا ہوں کہ وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر ان افراد کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے قانونی بنیاد موجود ہوئی تو انہیں چارج کرکے عدالت میں پیش کیا جائے گا، جبکہ دیگر افراد کو رہا کردیا جائے گا۔ ان کے مطابق گرفتاریاں اتوار کو پشاور میں وزیراعلیٰ ہاؤس سے کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہدین اور حکام نے بتایا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس اور اس کے اطراف میں اہم تنصیبات کو بھاری پولیس نفری، نیم فوجی دستوں اور مال بردار کنٹینرز کی مدد سے گھیرے میں لے لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کے قریبی ساتھی شوکت یوسفزئی نے ان گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے زیر حراست افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لانگ مارچ سے قبل عمران خان کی تین بہنوں اور سیکڑوں حامیوں کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کا دو سال قبل ہونے والا آخری بڑا احتجاج سکیورٹی فورسز کے ساتھ خونریز جھڑپوں پر ختم ہوا تھا، جبکہ عمران خان کی 2023 میں گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے، جن کے دوران ان کے حامیوں نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دہشت گردی کے معاملے پر مذاکرات ناکام&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا آئین ہنگامی حالت کے دوران وفاقی حکومت کو صوبائی انتظامیہ کی جگہ اختیارات سنبھالنے کی اجازت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی جانب سے ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی صوبے کا انتظام سنبھالیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند ماہ کے دوران صوبے میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی حکومت پی ٹی آئی پر دہشت گردی کی روک تھام میں ناکامی کا الزام عائد کرتی ہے، تاہم پارٹی اس الزام کی تردید کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ لانگ مارچ کی کال دیے جانے کے بعد حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر طلال چوہدری کے مطابق حکومت پی ٹی آئی کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کے لیے تیار تھی، جن میں مارچ کی اجازت دینا بھی شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف ایک مطالبہ کیا تھا کہ پارٹی عوامی طور پر دہشت گردی کی مذمت کرے اور اس کے خلاف جنگ میں ہمارے ساتھ تعاون کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق پی ٹی آئی اس مطالبے پر متفق نہیں ہوئی، اسی لیے مذاکرات ناکام ہوگئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کرکے صوبائی حکومت معطل کیے جانے کے بعد سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی جماعت کے سیاست دانوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>صدر آصف علی زرداری نے اتوار کو خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کرنے اور صوبائی حکومت معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ صوبائی حکومت عمران خان کے قریبی ساتھی سہیل آفریدی کی قیادت میں کام کر رہی تھی۔</p>
<p>وفاقی حکومت کے مطابق صوبے میں دہشت گردی پر قابو پانے میں صوبائی حکومت کی ناکامی کے باعث ہنگامی حالت نافذ کی گئی۔ خیبر پختونخوا کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔</p>
<p>تاہم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ان کے حامیوں کو اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے سے روکنے کے لیے کیا گیا، جس کا مقصد عمران خان کی رہائی کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا۔</p>
<p><strong>لانگ مارچ کی کال کے بعد ہنگامی حالت نافذ</strong></p>
<p>ہنگامی حالت کا نفاذ عمران خان کے حامیوں کی جانب سے صوبے میں کئی روز تک احتجاجی اجتماعات کے ایک ہفتے بعد عمل میں آیا۔ مظاہرین کا ارادہ عمران خان کی رہائی اور انہیں طبی سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسلام آباد مارچ کرنے کا تھا۔</p>
<p>وفاقی وزیر طلال چوہدری نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جی ہاں، میں تصدیق کرسکتا ہوں کہ وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر ان افراد کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے قانونی بنیاد موجود ہوئی تو انہیں چارج کرکے عدالت میں پیش کیا جائے گا، جبکہ دیگر افراد کو رہا کردیا جائے گا۔ ان کے مطابق گرفتاریاں اتوار کو پشاور میں وزیراعلیٰ ہاؤس سے کی گئیں۔</p>
<p>عینی شاہدین اور حکام نے بتایا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس اور اس کے اطراف میں اہم تنصیبات کو بھاری پولیس نفری، نیم فوجی دستوں اور مال بردار کنٹینرز کی مدد سے گھیرے میں لے لیا گیا تھا۔</p>
<p>عمران خان کے قریبی ساتھی شوکت یوسفزئی نے ان گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے زیر حراست افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>لانگ مارچ سے قبل عمران خان کی تین بہنوں اور سیکڑوں حامیوں کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔</p>
<p>پی ٹی آئی کا دو سال قبل ہونے والا آخری بڑا احتجاج سکیورٹی فورسز کے ساتھ خونریز جھڑپوں پر ختم ہوا تھا، جبکہ عمران خان کی 2023 میں گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے، جن کے دوران ان کے حامیوں نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔</p>
<p><strong>دہشت گردی کے معاملے پر مذاکرات ناکام</strong></p>
<p>پاکستان کا آئین ہنگامی حالت کے دوران وفاقی حکومت کو صوبائی انتظامیہ کی جگہ اختیارات سنبھالنے کی اجازت دیتا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی جانب سے ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی صوبے کا انتظام سنبھالیں گے۔</p>
<p>گزشتہ چند ماہ کے دوران صوبے میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی حکومت پی ٹی آئی پر دہشت گردی کی روک تھام میں ناکامی کا الزام عائد کرتی ہے، تاہم پارٹی اس الزام کی تردید کرتی ہے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ لانگ مارچ کی کال دیے جانے کے بعد حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے۔</p>
<p>وفاقی وزیر طلال چوہدری کے مطابق حکومت پی ٹی آئی کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کے لیے تیار تھی، جن میں مارچ کی اجازت دینا بھی شامل تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف ایک مطالبہ کیا تھا کہ پارٹی عوامی طور پر دہشت گردی کی مذمت کرے اور اس کے خلاف جنگ میں ہمارے ساتھ تعاون کرے۔</p>
<p>ان کے مطابق پی ٹی آئی اس مطالبے پر متفق نہیں ہوئی، اسی لیے مذاکرات ناکام ہوگئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292468</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Oct 2026 19:14:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/12190906369897c.webp" type="image/webp" medium="image" height="777" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/12190906369897c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
