<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 12 Oct 2026 19:49:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 12 Oct 2026 19:49:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: اپوزیشن جماعتوں کا چیف الیکشن کمشنر کے خلاف سپریم کورٹ تک مارچ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292465/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اپوزیشن جماعتوں کے سیکڑوں مظاہرین نے پیر کو بھارت کی سپریم کورٹ تک مارچ کیا اور انتخابی فہرستوں سے لاکھوں ووٹروں کے نام خارج کیے جانے کے خلاف احتجاج کیا۔ اس معاملے پر بھارتی دارالحکومت میں کئی روز سے بے چینی پائی جاتی ہے، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی کو بھی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن جماعتیں اور ’’کاکروچ‘‘ نوجوان تحریک کے حامی رواں ماہ تقریباً روزانہ سڑکوں پر نکل رہے ہیں اور انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل سے مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال شروع ہونے والی اس نظرثانی کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں سے 13 کروڑ سے زائد نام خارج کیے گئے، جو جاپان کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہیں۔ ان میں 2 کروڑ 80 لاکھ ایسے افراد شامل تھے جو انتقال کرچکے تھے، 6 کروڑ 30 لاکھ دوسرے علاقوں میں منتقل ہوچکے تھے، جبکہ 3 کروڑ افراد کا سراغ نہیں مل سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے ہفتے اور اتوار کو احتجاج کے دوران ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لے لیا، جن میں ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ (سی جے پی) کے رہنما بھی شامل تھے۔ نوجوان تحریک کے حامی احتجاجی مارچ کرنا چاہتے تھے، تاہم ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں نے نئی دہلی کے مرکزی علاقے کو گھیرے میں لے کر ان کا راستہ روک دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن نے کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی فہرستوں سے غلطی سے خارج کیے گئے ووٹرز دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جائز انتخابی عمل پر بلاجواز سوالات اٹھا کر ملک کے جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن جماعتیں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کے لیے مارچ کر رہی ہیں۔ اس سے قبل چیف جسٹس سوریا کانت نے اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات کی درخواست مسترد کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوریا کانت کا کہنا تھا کہ یہ معاملات پہلے ہی عدالت کے سامنے زیرِ سماعت ہیں اور زیرِ التوا مقدمات پر گفتگو عدالتی اخلاقیات اور ضابطوں کے منافی ہوگی۔ انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ ملاقات کے بجائے درخواست دائر کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں سمیت سیکڑوں افراد نے عدالت کی جانب مارچ کیا، جبکہ سیاسی رہنما بسوں کے ذریعے وہاں پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتجاج میں شریک پی ایچ ڈی کے طالب علم انیرودھ سیاغ نے کہا، ’’ملک کی بنیادی اقدار پر حملہ کیا جا رہا ہے اور ادارے اپنی خودمختاری کھو رہے ہیں۔ میں ان اقدار پر اس حملے کے خلاف احتجاج کرنے آیا ہوں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتجاج کے پیش نظر حکام نے 10 گھنٹے کے لیے میٹرو کے چھ اسٹیشن بند کردیے اور 20 سے زائد شاہراہوں اور راستوں پر ٹریفک کی آمدورفت محدود کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی دہلی میں ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کے لیے حفاظتی سامان سے لیس سیکڑوں اہلکار بھی تعینات کیے گئے، جبکہ اہم سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں اور واٹر کینن تیار رکھے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="احتجاج-کے-لیے-نئے-مقامات" href="#احتجاج-کے-لیے-نئے-مقامات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;احتجاج کے لیے نئے مقامات&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;بی جے پی نے الزام لگایا کہ یہ مظاہرے مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’آئینی اداروں کی ساکھ مجروح کرکے، سڑکوں پر افراتفری اور فسادات پھیلا کر اور سیاسی مفادات کے نام پر لوگوں کو نشانہ بنا کر ان کا واحد مقصد دوبارہ اقتدار میں آنا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے زیرِ مشاہدہ ایک سرکاری حکم نامے کے مطابق، دہلی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ مرکزی کاروباری علاقے میں واقع جنتر منتر کو اب سرکاری طور پر احتجاج کے مقام کے طور پر نامزد نہیں کیا جائے گا، جبکہ مظاہروں کے لیے تین نئے مقامات مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال کے اوائل میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے حامیوں نے جنتر منتر پر کئی ہفتوں تک دھرنا دیا تھا۔ یہ تاریخی رصدگاہ کئی دہائیوں سے احتجاجی مظاہروں کا معروف مقام رہی ہے۔ مظاہرین نے امتحانی پرچوں کے افشا ہونے کے معاملے پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الگ پیش رفت میں سی جے پی کے رہنماؤں نے دہلی پولیس سے ملاقات کرکے پُرامن احتجاج کے لیے تاریخ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر تاریخ نہ دی گئی تو وہ احتجاج کی نئی کال دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوجوانوں کی یہ تحریک حالیہ مہینوں میں سرکاری اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے سے لے کر روزگار تک مختلف مسائل پر احتجاج منظم کرتی رہی ہے۔ یہ مودی اور ان کی جماعت بی جے پی کے اقتدار کے 12 برسوں کے دوران ان کے لیے سب سے بڑے سیاسی چیلنجز میں سے ایک بن کر ابھری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ احتجاج گزشتہ ماہ اخبار انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ کے بعد شروع ہوئے جس میں بتایا گیا تھا کہ گیانیش کمار کے دو نائبین نے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی، ووٹروں کے اندراج کے طریقۂ کار اور ڈیجیٹل نظاموں کے حوالے سے اندرونی سطح پر کئی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں سے نام خارج کیے جانے کے عمل سے مسلمان ووٹرز اور دیگر اقلیتی برادریاں غیر متناسب طور پر متاثر ہوئی ہیں، کیونکہ ان کے ہندو قوم پرست حکمران جماعت کی حمایت کرنے کے امکانات کم ہیں۔ تاہم، الیکشن کمیشن اور بی جے پی دونوں نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اپوزیشن جماعتوں کے سیکڑوں مظاہرین نے پیر کو بھارت کی سپریم کورٹ تک مارچ کیا اور انتخابی فہرستوں سے لاکھوں ووٹروں کے نام خارج کیے جانے کے خلاف احتجاج کیا۔ اس معاملے پر بھارتی دارالحکومت میں کئی روز سے بے چینی پائی جاتی ہے، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی کو بھی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔</strong></p>
<p>اپوزیشن جماعتیں اور ’’کاکروچ‘‘ نوجوان تحریک کے حامی رواں ماہ تقریباً روزانہ سڑکوں پر نکل رہے ہیں اور انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل سے مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔</p>
<p>گزشتہ سال شروع ہونے والی اس نظرثانی کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں سے 13 کروڑ سے زائد نام خارج کیے گئے، جو جاپان کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہیں۔ ان میں 2 کروڑ 80 لاکھ ایسے افراد شامل تھے جو انتقال کرچکے تھے، 6 کروڑ 30 لاکھ دوسرے علاقوں میں منتقل ہوچکے تھے، جبکہ 3 کروڑ افراد کا سراغ نہیں مل سکا۔</p>
<p>پولیس نے ہفتے اور اتوار کو احتجاج کے دوران ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لے لیا، جن میں ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ (سی جے پی) کے رہنما بھی شامل تھے۔ نوجوان تحریک کے حامی احتجاجی مارچ کرنا چاہتے تھے، تاہم ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں نے نئی دہلی کے مرکزی علاقے کو گھیرے میں لے کر ان کا راستہ روک دیا۔</p>
<p>الیکشن کمیشن نے کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی فہرستوں سے غلطی سے خارج کیے گئے ووٹرز دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جائز انتخابی عمل پر بلاجواز سوالات اٹھا کر ملک کے جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p>اپوزیشن جماعتیں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کے لیے مارچ کر رہی ہیں۔ اس سے قبل چیف جسٹس سوریا کانت نے اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات کی درخواست مسترد کردی تھی۔</p>
<p>سوریا کانت کا کہنا تھا کہ یہ معاملات پہلے ہی عدالت کے سامنے زیرِ سماعت ہیں اور زیرِ التوا مقدمات پر گفتگو عدالتی اخلاقیات اور ضابطوں کے منافی ہوگی۔ انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ ملاقات کے بجائے درخواست دائر کرے۔</p>
<p>پیر کو اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں سمیت سیکڑوں افراد نے عدالت کی جانب مارچ کیا، جبکہ سیاسی رہنما بسوں کے ذریعے وہاں پہنچے۔</p>
<p>احتجاج میں شریک پی ایچ ڈی کے طالب علم انیرودھ سیاغ نے کہا، ’’ملک کی بنیادی اقدار پر حملہ کیا جا رہا ہے اور ادارے اپنی خودمختاری کھو رہے ہیں۔ میں ان اقدار پر اس حملے کے خلاف احتجاج کرنے آیا ہوں۔‘‘</p>
<p>احتجاج کے پیش نظر حکام نے 10 گھنٹے کے لیے میٹرو کے چھ اسٹیشن بند کردیے اور 20 سے زائد شاہراہوں اور راستوں پر ٹریفک کی آمدورفت محدود کردی۔</p>
<p>مرکزی دہلی میں ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کے لیے حفاظتی سامان سے لیس سیکڑوں اہلکار بھی تعینات کیے گئے، جبکہ اہم سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں اور واٹر کینن تیار رکھے گئے۔</p>
<h2><a id="احتجاج-کے-لیے-نئے-مقامات" href="#احتجاج-کے-لیے-نئے-مقامات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>احتجاج کے لیے نئے مقامات</h2>
<p>بی جے پی نے الزام لگایا کہ یہ مظاہرے مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش ہیں۔</p>
<p>وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’آئینی اداروں کی ساکھ مجروح کرکے، سڑکوں پر افراتفری اور فسادات پھیلا کر اور سیاسی مفادات کے نام پر لوگوں کو نشانہ بنا کر ان کا واحد مقصد دوبارہ اقتدار میں آنا ہے۔‘‘</p>
<p>رائٹرز کے زیرِ مشاہدہ ایک سرکاری حکم نامے کے مطابق، دہلی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ مرکزی کاروباری علاقے میں واقع جنتر منتر کو اب سرکاری طور پر احتجاج کے مقام کے طور پر نامزد نہیں کیا جائے گا، جبکہ مظاہروں کے لیے تین نئے مقامات مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p>رواں سال کے اوائل میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے حامیوں نے جنتر منتر پر کئی ہفتوں تک دھرنا دیا تھا۔ یہ تاریخی رصدگاہ کئی دہائیوں سے احتجاجی مظاہروں کا معروف مقام رہی ہے۔ مظاہرین نے امتحانی پرچوں کے افشا ہونے کے معاملے پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p>الگ پیش رفت میں سی جے پی کے رہنماؤں نے دہلی پولیس سے ملاقات کرکے پُرامن احتجاج کے لیے تاریخ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر تاریخ نہ دی گئی تو وہ احتجاج کی نئی کال دیں گے۔</p>
<p>نوجوانوں کی یہ تحریک حالیہ مہینوں میں سرکاری اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے سے لے کر روزگار تک مختلف مسائل پر احتجاج منظم کرتی رہی ہے۔ یہ مودی اور ان کی جماعت بی جے پی کے اقتدار کے 12 برسوں کے دوران ان کے لیے سب سے بڑے سیاسی چیلنجز میں سے ایک بن کر ابھری ہے۔</p>
<p>یہ احتجاج گزشتہ ماہ اخبار انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ کے بعد شروع ہوئے جس میں بتایا گیا تھا کہ گیانیش کمار کے دو نائبین نے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی، ووٹروں کے اندراج کے طریقۂ کار اور ڈیجیٹل نظاموں کے حوالے سے اندرونی سطح پر کئی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔</p>
<p>اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں سے نام خارج کیے جانے کے عمل سے مسلمان ووٹرز اور دیگر اقلیتی برادریاں غیر متناسب طور پر متاثر ہوئی ہیں، کیونکہ ان کے ہندو قوم پرست حکمران جماعت کی حمایت کرنے کے امکانات کم ہیں۔ تاہم، الیکشن کمیشن اور بی جے پی دونوں نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292465</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Oct 2026 16:52:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/12164901a7a8308.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/12164901a7a8308.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
