<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 12 Oct 2026 15:36:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 12 Oct 2026 15:36:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے پاس اب مزید وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں رہی، صدر ٹیچ دی ورلڈ فاؤنڈیشن ارشد انیس کی گفتگو</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292448/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ارشد انیس ٹیچ دی ورلڈ فاؤنڈیشن (ٹی ٹی ڈبلیو ایف) کے صدر ہیں۔ یہ ادارہ ٹیکنالوجی کی مدد سے تعلیم کے ایسے طریقوں کے ذریعے پسماندہ اور محروم طبقات اور اسکولوں سے باہر بچوں کے لیے تعلیم تک رسائی بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاؤنڈیشن کا اقدام ’’ڈیجیٹل مائیکرو اسکولز‘‘ ڈیجیٹل تعلیمی ذرائع، انٹرایکٹو مواد اور تربیت یافتہ مقامی معاونین کو یکجا کرتا ہے تاکہ بچوں میں بنیادی خواندگی اور حساب کتاب کی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ سیرل کمپنی لمیٹڈ کے چیئرمین بھی ہیں، جس عہدے پر انہوں نے جنوری 2026 میں ذمہ داریاں سنبھالیں۔ کارپوریٹ قیادت اور نظم و نسق کے شعبے میں تجربے کے ساتھ، ان کی توجہ ٹیکنالوجی، کمیونٹی کی شمولیت اور سرکاری و نجی شعبوں کی شراکت داری کے ذریعے تعلیم کے قابلِ توسیع حل فروغ دینے پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذیل میں بی آر ریسرچ کے ساتھ ان کی حالیہ گفتگو کے مرتب کردہ اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ: پاکستان کے سب سے سنگین مسائل میں سے ایک سے نمٹنے کے لیے آپ کو ٹیچ دی ورلڈ فاؤنڈیشن میں شمولیت اختیار کرنے کی ترغیب کس چیز نے دی، خصوصاً اس وقت جب آپ کارپوریٹ شعبے میں ایک شاندار کیریئر گزار چکے تھے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارشد انیس: آپ کے سوال میں ہی اس کا جواب موجود ہے۔ یہ حقیقت کہ یہ پاکستان کے سب سے سنگین مسائل میں سے ایک اور ملک کے وجود کے لیے خطرہ ہے، مجھے اس مقصد کے لیے کام کرنے کی ترغیب دینے کا سبب بنی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اپنے کارپوریٹ شعبے کے تمام تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسا ماڈل تیار کرنے میں مدد دوں جو پاکستان سے ناخواندگی اور بالخصوص اسکولوں سے باہر بچوں کی لعنت کے خاتمے کی راہ دکھا سکے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مجھ پر کی گئی تمام عنایات کا شکر ادا کرنے کا میرا ایک طریقہ بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ: پاکستان کو تعلیم کے شعبے میں ایک بڑے خلا کا سامنا ہے، جو ہر گزرتے سال کے ساتھ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ آپ کے خیال میں بچوں کو اسکولوں سے دور رکھنے والی سب سے بڑی رکاوٹیں کیا ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارشد انیس: تاریخی طور پر سب سے بڑی رکاوٹ ملک کی حیثیت سے ہماری ترجیحات کا غیر متوازن ہونا ہے۔ کوئی بھی قوم تعلیم کو اس کی جائز اہمیت دیے بغیر کبھی ترقی نہیں کر سکی۔ تعلیم سے تاریخی غفلت نے ہمیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ آج ہمارے ہاں اسکول جانے کی عمر کے بچوں میں سے دنیا کی سب سے بڑی تعداد اسکولوں سے باہر ہے۔ یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اب روایتی طریقۂ تعلیم تنہا اس بہت بڑے مسئلے کو حل نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ: پاکستان میں تعلیم کا مسئلہ آج تمام شعبوں کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے کچھ اثرات واضح ہیں، جبکہ کچھ بظاہر نظر نہیں آتے۔ آپ کے تجربے میں ان مسائل میں سے کون سے مسائل اب کارپوریٹ دنیا اور مجموعی معاشرے میں سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارشد انیس: یہ مسئلہ کسی ایک شعبے کو خاص طور پر متاثر نہیں کرتا، بلکہ ملک کے وجود کے لیے خطرہ ہے اور پاکستان کی مجموعی حالت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ زندگی کے ہر شعبے کو یکساں طور پر متاثر کرتا ہے۔ متاثرہ بچوں کی تعداد اتنی زیادہ اور مسلسل بڑھ رہی ہے کہ اب انہیں نظر انداز کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اگر اس تعداد کو ہنگامی بنیادوں پر قابو میں نہ لایا گیا تو ملک کی معاشی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ: قومی تعلیمی پالیسی کے فریم ورک اور ہر بچے کو تعلیم تک رسائی دینے کے آئینی حق کے تناظر میں، آپ کے خیال میں ایسے کون سے پہلو ہیں جنہیں ہم بحیثیت قوم مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارشد انیس: قومی سطح پر ہمارے تعلیمی مسئلے پر بہت کم منظم اور مرکوز کام کیا جا رہا ہے۔ ہمارے آئین میں تعلیم کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے اور ریاست پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے کہ کوئی بچہ اسکول سے باہر نہ رہے۔ حکومت اس آئینی ذمہ داری کو پورا کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے، جس کے نتیجے میں یہ مسئلہ اب ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو چکا ہے اور ہم واضح طور پر ایک بڑے المیے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اگر اس مسئلے کو جنگی بنیادوں پر حل نہ کیا گیا تو ہمارے بچوں کا مستقبل انتہائی تاریک دکھائی دیتا ہے۔ اس بڑے مسئلے سے نمٹنے کا واحد راستہ سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان فوری شراکت داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ: ٹیچ دی ورلڈ فاؤنڈیشن نے ڈیجیٹل مائیکرو اسکول کا ماڈل متعارف کرایا ہے، جو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے میں بھی کام کر رہا ہے۔ وضاحت کریں کہ یہ ماڈل کیسے کام کرتا ہے اور پسماندہ طبقات کی کس طرح مدد کر رہا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارشد انیس: ٹیچ دی ورلڈ فاؤنڈیشن (ٹی ٹی ڈبلیو ایف) نے ایک ایسا ماڈل متعارف کرایا ہے جو ان ممالک میں تعلیم کو ہر فرد تک پہنچانے کا حل فراہم کرتا ہے جہاں تمام اسکول جانے کی عمر کے بچوں کو تعلیم دینے اور ناخواندگی ختم کرنے کے لیے وسائل کی کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی سے آراستہ ماحول قائم کرکے اور ایک کمرے پر مشتمل مراکز کے ذریعے کام کرتے ہوئے، ہمارے حل اسکولوں سے باہر بچوں کو ٹیبلٹس پر انٹرایکٹو اور کھیل کے انداز میں تیار کیے گئے تعلیمی کورسز کے ذریعے سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ہم اپنے عملی کام کے علاقوں سے خواتین کو بطور معاون بھرتی کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف مقامی برادری کی شمولیت بڑھتی ہے بلکہ، اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ لوگوں میں اس منصوبے کے لیے اپنائیت اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اتنی بڑی تعداد کو روایتی طریقوں سے تعلیم فراہم کرنے کے لیے انسانی اور مادی وسائل کی بہت بڑی مقدار درکار ہوگی، جو دستیاب نہیں۔ ہمارے مائیکرو اسکولز ایک پائیدار ماڈل فراہم کرتے ہیں جو کم خرچ ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر وسعت اختیار کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہ ماڈل تربیت یافتہ اساتذہ کی شدید کمی کے مسئلے سے نمٹنے میں بھی مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ: ٹیکنالوجی پاکستان کو تعلیم کے شعبے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں کس طرح مدد دے سکتی ہے، خصوصاً ایسی آبادیوں میں جہاں روایتی اسکولوں کی تعمیر اور وہاں تک رسائی مشکل ہے، جبکہ انٹرنیٹ کی کوریج اور بنیادی ڈھانچے کی صورت حال بھی غیر یقینی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارشد انیس: ہمارے مائیکرو اسکول اس سوال کی ایک بہترین مثال ہیں۔ ہم ایسے پسماندہ علاقوں میں مائیکرو اسکول قائم کرتے ہیں جہاں اسکول نہ جانے والے بچوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے اور انہیں قریب میں کسی باقاعدہ تعلیمی ادارے تک آسان رسائی حاصل نہیں ہوتی۔ ہم ان اسکولوں کو شمسی توانائی کے نظام سے لیس کرتے ہیں اور اس توانائی کو اپنے ڈیجیٹل ٹیبلٹس کے ذریعے تعلیمی کورسز فراہم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ تقریباً ایک ایسا حل ہے جو روایتی بجلی کے نظام اور بیرونی بنیادی ڈھانچے پر انحصار کیے بغیر کام کرتا ہے اور متعلقہ وقت اور مقام پر دستیاب وسائل کو استعمال کرتے ہوئے پائیدار انداز میں چلایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے ملک کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ ایسے علاقوں میں رہتا ہے جہاں تیزی سے بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنا ممکن نہیں۔ ایسے لوگوں سے یہ توقع رکھنا بھی ایک سخت تقاضا ہے کہ وہ روزانہ کئی سو کلومیٹر کا سفر کرکے کسی تعلیمی سہولت تک پہنچنے کی کوشش کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کو درپیش تعلیمی چیلنج کی وسعت کو دیکھتے ہوئے ہمیں تخلیقی انداز میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف مختلف ادارے بنیادی ڈھانچے اور تعلیمی اداروں کی تعمیر کے لیے کام کر رہے ہیں، تو دوسری طرف ہمیں ایسے مؤثر طریقے تلاش کرنے ہوں گے جن کے ذریعے آج ہی بچوں تک تعلیم پہنچائی جا سکے۔ یاد رکھیے کہ ایک ملک کی حیثیت سے اب ہمارے پاس وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ: اب تک آپ کے پروگراموں کے کیا نتائج سامنے آئے ہیں اور آپ ان کی کامیابی کو کس طرح جانچتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارشد انیس: ان پروگراموں کے اثرات نمایاں اور کئی پہلوؤں پر محیط ہیں۔ آج ہمارے مائیکرو اسکولوں میں 25,000 سے زائد بچے زیرِ تعلیم ہیں اور یہ تعداد ہر ہفتے تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ 18 ماہ کے دوران ٹیچ دی ورلڈ فاؤنڈیشن (ٹی ٹی ڈبلیو ایف) کے مائیکرو اسکولوں سے تعلیم مکمل کرنے والے تقریباً 6,000 طلبہ کو باقاعدہ ثانوی اسکولوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ جن طلبہ کی عمر ثانوی اسکولوں میں داخلے کی مقررہ حد سے تجاوز کر چکی تھی، انہوں نے یا تو کسی فنی تربیتی مرکز میں داخلہ لے لیا ہے یا چھوٹے کاروباروں میں بطور شاگرد کام شروع کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم ایک ایسے پروگرام پر بھی کام کر رہے ہیں جس کے تحت تمام فارغ التحصیل طلبہ کی تعلیمی کارکردگی جانچنے کے موجودہ عمل کے علاوہ، مائیکرو اسکولوں سے نکلنے کے بعد ان کی پیش رفت اور تعلیمی و عملی سفر کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ: ان اقدامات کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے کے لیے حکومت، نجی شعبے اور ترقیاتی اداروں کے ساتھ شراکت داری کتنی اہم ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارشد انیس: سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری انتہائی اہم ہے اور واضح طور پر وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔ مثال کے طور پر، ہم سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ایس ای ایف) کے ساتھ شراکت داری میں اب تک تقریباً 250 مائیکرو اسکول قائم کر چکے ہیں۔ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن حکومتِ سندھ کا ذیلی ادارہ ہے، جبکہ آئندہ 12 ماہ کے دوران مزید 300 اسکول قائم کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ہم نجی شعبے کے ساتھ بھی شراکت داریاں قائم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ ان مائیکرو اسکولوں کا دائرہ پورے پاکستان تک پھیلایا جا سکے۔ ہمیں امید ہے کہ اس طرح ملک میں اسکولوں سے باہر بچوں کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ: آنے والے برسوں کے لیے ٹیچ دی ورلڈ فاؤنڈیشن کی ترجیحات اور توسیعی منصوبے کیا ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارشد انیس: اس وقت ہم ایک بنیادی مقصد کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ اسکولوں سے باہر تمام بچوں کو کسی تعلیمی مرکز تک لایا جائے اور انہیں بنیادی خواندگی فراہم کی جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہمارے ذہن میں کئی مختلف ماڈلز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف اس ایک مقصد کو پورا کرنے کے لیے بھی مجموعی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے اور ٹیکنالوجی کو نمایاں طور پر بہتر بنانے کی ضرورت ہوگی۔ اس کے علاوہ، اس مقصد کو بامعنی اور مؤثر انداز میں حاصل کرنے میں تربیت کا کردار بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ٹی ٹی ڈبلیو ایف پاکستان بھر میں معیاری تربیتی مراکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ارشد انیس ٹیچ دی ورلڈ فاؤنڈیشن (ٹی ٹی ڈبلیو ایف) کے صدر ہیں۔ یہ ادارہ ٹیکنالوجی کی مدد سے تعلیم کے ایسے طریقوں کے ذریعے پسماندہ اور محروم طبقات اور اسکولوں سے باہر بچوں کے لیے تعلیم تک رسائی بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>فاؤنڈیشن کا اقدام ’’ڈیجیٹل مائیکرو اسکولز‘‘ ڈیجیٹل تعلیمی ذرائع، انٹرایکٹو مواد اور تربیت یافتہ مقامی معاونین کو یکجا کرتا ہے تاکہ بچوں میں بنیادی خواندگی اور حساب کتاب کی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔</p>
<p>وہ سیرل کمپنی لمیٹڈ کے چیئرمین بھی ہیں، جس عہدے پر انہوں نے جنوری 2026 میں ذمہ داریاں سنبھالیں۔ کارپوریٹ قیادت اور نظم و نسق کے شعبے میں تجربے کے ساتھ، ان کی توجہ ٹیکنالوجی، کمیونٹی کی شمولیت اور سرکاری و نجی شعبوں کی شراکت داری کے ذریعے تعلیم کے قابلِ توسیع حل فروغ دینے پر مرکوز ہے۔</p>
<p>ذیل میں بی آر ریسرچ کے ساتھ ان کی حالیہ گفتگو کے مرتب کردہ اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>بی آر ریسرچ: پاکستان کے سب سے سنگین مسائل میں سے ایک سے نمٹنے کے لیے آپ کو ٹیچ دی ورلڈ فاؤنڈیشن میں شمولیت اختیار کرنے کی ترغیب کس چیز نے دی، خصوصاً اس وقت جب آپ کارپوریٹ شعبے میں ایک شاندار کیریئر گزار چکے تھے؟</p>
<p>ارشد انیس: آپ کے سوال میں ہی اس کا جواب موجود ہے۔ یہ حقیقت کہ یہ پاکستان کے سب سے سنگین مسائل میں سے ایک اور ملک کے وجود کے لیے خطرہ ہے، مجھے اس مقصد کے لیے کام کرنے کی ترغیب دینے کا سبب بنی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اپنے کارپوریٹ شعبے کے تمام تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسا ماڈل تیار کرنے میں مدد دوں جو پاکستان سے ناخواندگی اور بالخصوص اسکولوں سے باہر بچوں کی لعنت کے خاتمے کی راہ دکھا سکے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مجھ پر کی گئی تمام عنایات کا شکر ادا کرنے کا میرا ایک طریقہ بھی ہے۔</p>
<p>بی آر ریسرچ: پاکستان کو تعلیم کے شعبے میں ایک بڑے خلا کا سامنا ہے، جو ہر گزرتے سال کے ساتھ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ آپ کے خیال میں بچوں کو اسکولوں سے دور رکھنے والی سب سے بڑی رکاوٹیں کیا ہیں؟</p>
<p>ارشد انیس: تاریخی طور پر سب سے بڑی رکاوٹ ملک کی حیثیت سے ہماری ترجیحات کا غیر متوازن ہونا ہے۔ کوئی بھی قوم تعلیم کو اس کی جائز اہمیت دیے بغیر کبھی ترقی نہیں کر سکی۔ تعلیم سے تاریخی غفلت نے ہمیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ آج ہمارے ہاں اسکول جانے کی عمر کے بچوں میں سے دنیا کی سب سے بڑی تعداد اسکولوں سے باہر ہے۔ یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اب روایتی طریقۂ تعلیم تنہا اس بہت بڑے مسئلے کو حل نہیں کر سکتا۔</p>
<p>بی آر ریسرچ: پاکستان میں تعلیم کا مسئلہ آج تمام شعبوں کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے کچھ اثرات واضح ہیں، جبکہ کچھ بظاہر نظر نہیں آتے۔ آپ کے تجربے میں ان مسائل میں سے کون سے مسائل اب کارپوریٹ دنیا اور مجموعی معاشرے میں سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں؟</p>
<p>ارشد انیس: یہ مسئلہ کسی ایک شعبے کو خاص طور پر متاثر نہیں کرتا، بلکہ ملک کے وجود کے لیے خطرہ ہے اور پاکستان کی مجموعی حالت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ زندگی کے ہر شعبے کو یکساں طور پر متاثر کرتا ہے۔ متاثرہ بچوں کی تعداد اتنی زیادہ اور مسلسل بڑھ رہی ہے کہ اب انہیں نظر انداز کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اگر اس تعداد کو ہنگامی بنیادوں پر قابو میں نہ لایا گیا تو ملک کی معاشی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔</p>
<p>بی آر ریسرچ: قومی تعلیمی پالیسی کے فریم ورک اور ہر بچے کو تعلیم تک رسائی دینے کے آئینی حق کے تناظر میں، آپ کے خیال میں ایسے کون سے پہلو ہیں جنہیں ہم بحیثیت قوم مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں؟</p>
<p>ارشد انیس: قومی سطح پر ہمارے تعلیمی مسئلے پر بہت کم منظم اور مرکوز کام کیا جا رہا ہے۔ ہمارے آئین میں تعلیم کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے اور ریاست پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے کہ کوئی بچہ اسکول سے باہر نہ رہے۔ حکومت اس آئینی ذمہ داری کو پورا کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے، جس کے نتیجے میں یہ مسئلہ اب ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو چکا ہے اور ہم واضح طور پر ایک بڑے المیے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اگر اس مسئلے کو جنگی بنیادوں پر حل نہ کیا گیا تو ہمارے بچوں کا مستقبل انتہائی تاریک دکھائی دیتا ہے۔ اس بڑے مسئلے سے نمٹنے کا واحد راستہ سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان فوری شراکت داری ہے۔</p>
<p>بی آر ریسرچ: ٹیچ دی ورلڈ فاؤنڈیشن نے ڈیجیٹل مائیکرو اسکول کا ماڈل متعارف کرایا ہے، جو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے میں بھی کام کر رہا ہے۔ وضاحت کریں کہ یہ ماڈل کیسے کام کرتا ہے اور پسماندہ طبقات کی کس طرح مدد کر رہا ہے؟</p>
<p>ارشد انیس: ٹیچ دی ورلڈ فاؤنڈیشن (ٹی ٹی ڈبلیو ایف) نے ایک ایسا ماڈل متعارف کرایا ہے جو ان ممالک میں تعلیم کو ہر فرد تک پہنچانے کا حل فراہم کرتا ہے جہاں تمام اسکول جانے کی عمر کے بچوں کو تعلیم دینے اور ناخواندگی ختم کرنے کے لیے وسائل کی کمی ہے۔</p>
<p>ٹیکنالوجی سے آراستہ ماحول قائم کرکے اور ایک کمرے پر مشتمل مراکز کے ذریعے کام کرتے ہوئے، ہمارے حل اسکولوں سے باہر بچوں کو ٹیبلٹس پر انٹرایکٹو اور کھیل کے انداز میں تیار کیے گئے تعلیمی کورسز کے ذریعے سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ہم اپنے عملی کام کے علاقوں سے خواتین کو بطور معاون بھرتی کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف مقامی برادری کی شمولیت بڑھتی ہے بلکہ، اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ لوگوں میں اس منصوبے کے لیے اپنائیت اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اتنی بڑی تعداد کو روایتی طریقوں سے تعلیم فراہم کرنے کے لیے انسانی اور مادی وسائل کی بہت بڑی مقدار درکار ہوگی، جو دستیاب نہیں۔ ہمارے مائیکرو اسکولز ایک پائیدار ماڈل فراہم کرتے ہیں جو کم خرچ ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر وسعت اختیار کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہ ماڈل تربیت یافتہ اساتذہ کی شدید کمی کے مسئلے سے نمٹنے میں بھی مدد دیتا ہے۔</p>
<p>بی آر ریسرچ: ٹیکنالوجی پاکستان کو تعلیم کے شعبے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں کس طرح مدد دے سکتی ہے، خصوصاً ایسی آبادیوں میں جہاں روایتی اسکولوں کی تعمیر اور وہاں تک رسائی مشکل ہے، جبکہ انٹرنیٹ کی کوریج اور بنیادی ڈھانچے کی صورت حال بھی غیر یقینی ہے؟</p>
<p>ارشد انیس: ہمارے مائیکرو اسکول اس سوال کی ایک بہترین مثال ہیں۔ ہم ایسے پسماندہ علاقوں میں مائیکرو اسکول قائم کرتے ہیں جہاں اسکول نہ جانے والے بچوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے اور انہیں قریب میں کسی باقاعدہ تعلیمی ادارے تک آسان رسائی حاصل نہیں ہوتی۔ ہم ان اسکولوں کو شمسی توانائی کے نظام سے لیس کرتے ہیں اور اس توانائی کو اپنے ڈیجیٹل ٹیبلٹس کے ذریعے تعلیمی کورسز فراہم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ تقریباً ایک ایسا حل ہے جو روایتی بجلی کے نظام اور بیرونی بنیادی ڈھانچے پر انحصار کیے بغیر کام کرتا ہے اور متعلقہ وقت اور مقام پر دستیاب وسائل کو استعمال کرتے ہوئے پائیدار انداز میں چلایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ہمارے ملک کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ ایسے علاقوں میں رہتا ہے جہاں تیزی سے بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنا ممکن نہیں۔ ایسے لوگوں سے یہ توقع رکھنا بھی ایک سخت تقاضا ہے کہ وہ روزانہ کئی سو کلومیٹر کا سفر کرکے کسی تعلیمی سہولت تک پہنچنے کی کوشش کریں۔</p>
<p>ملک کو درپیش تعلیمی چیلنج کی وسعت کو دیکھتے ہوئے ہمیں تخلیقی انداز میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف مختلف ادارے بنیادی ڈھانچے اور تعلیمی اداروں کی تعمیر کے لیے کام کر رہے ہیں، تو دوسری طرف ہمیں ایسے مؤثر طریقے تلاش کرنے ہوں گے جن کے ذریعے آج ہی بچوں تک تعلیم پہنچائی جا سکے۔ یاد رکھیے کہ ایک ملک کی حیثیت سے اب ہمارے پاس وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں رہی۔</p>
<p>بی آر ریسرچ: اب تک آپ کے پروگراموں کے کیا نتائج سامنے آئے ہیں اور آپ ان کی کامیابی کو کس طرح جانچتے ہیں؟</p>
<p>ارشد انیس: ان پروگراموں کے اثرات نمایاں اور کئی پہلوؤں پر محیط ہیں۔ آج ہمارے مائیکرو اسکولوں میں 25,000 سے زائد بچے زیرِ تعلیم ہیں اور یہ تعداد ہر ہفتے تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ 18 ماہ کے دوران ٹیچ دی ورلڈ فاؤنڈیشن (ٹی ٹی ڈبلیو ایف) کے مائیکرو اسکولوں سے تعلیم مکمل کرنے والے تقریباً 6,000 طلبہ کو باقاعدہ ثانوی اسکولوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ جن طلبہ کی عمر ثانوی اسکولوں میں داخلے کی مقررہ حد سے تجاوز کر چکی تھی، انہوں نے یا تو کسی فنی تربیتی مرکز میں داخلہ لے لیا ہے یا چھوٹے کاروباروں میں بطور شاگرد کام شروع کر دیا ہے۔</p>
<p>ہم ایک ایسے پروگرام پر بھی کام کر رہے ہیں جس کے تحت تمام فارغ التحصیل طلبہ کی تعلیمی کارکردگی جانچنے کے موجودہ عمل کے علاوہ، مائیکرو اسکولوں سے نکلنے کے بعد ان کی پیش رفت اور تعلیمی و عملی سفر کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔</p>
<p>بی آر ریسرچ: ان اقدامات کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے کے لیے حکومت، نجی شعبے اور ترقیاتی اداروں کے ساتھ شراکت داری کتنی اہم ہے؟</p>
<p>ارشد انیس: سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری انتہائی اہم ہے اور واضح طور پر وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔ مثال کے طور پر، ہم سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ایس ای ایف) کے ساتھ شراکت داری میں اب تک تقریباً 250 مائیکرو اسکول قائم کر چکے ہیں۔ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن حکومتِ سندھ کا ذیلی ادارہ ہے، جبکہ آئندہ 12 ماہ کے دوران مزید 300 اسکول قائم کیے جانے کا امکان ہے۔</p>
<p>اسی طرح ہم نجی شعبے کے ساتھ بھی شراکت داریاں قائم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ ان مائیکرو اسکولوں کا دائرہ پورے پاکستان تک پھیلایا جا سکے۔ ہمیں امید ہے کہ اس طرح ملک میں اسکولوں سے باہر بچوں کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>بی آر ریسرچ: آنے والے برسوں کے لیے ٹیچ دی ورلڈ فاؤنڈیشن کی ترجیحات اور توسیعی منصوبے کیا ہیں؟</p>
<p>ارشد انیس: اس وقت ہم ایک بنیادی مقصد کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ اسکولوں سے باہر تمام بچوں کو کسی تعلیمی مرکز تک لایا جائے اور انہیں بنیادی خواندگی فراہم کی جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہمارے ذہن میں کئی مختلف ماڈلز ہیں۔</p>
<p>صرف اس ایک مقصد کو پورا کرنے کے لیے بھی مجموعی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے اور ٹیکنالوجی کو نمایاں طور پر بہتر بنانے کی ضرورت ہوگی۔ اس کے علاوہ، اس مقصد کو بامعنی اور مؤثر انداز میں حاصل کرنے میں تربیت کا کردار بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ٹی ٹی ڈبلیو ایف پاکستان بھر میں معیاری تربیتی مراکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292448</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Oct 2026 12:58:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/12125600f76ddc4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/12125600f76ddc4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
