<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 12 Oct 2026 15:00:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 12 Oct 2026 15:00:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کی ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملوں کی مذمت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292436/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر یمن کے حوثی جنگجوؤں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا ہے، جس کا کسی بھی جواز یا بہانے کے تحت دفاع نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی حکام کے مطابق اتوار کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک نئے حملے میں ایک شخص ہلاک اور تقریباً ایک درجن افراد زخمی ہوگئے۔ یہ حملہ حوثیوں کی جانب سے کیے گئے اس حملے کے ایک روز بعد ہوا، جس میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر فور کے نام سے معروف چار علاقائی طاقتوں نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے حملوں کا مقابلہ کرنے، خطرات کی روک تھام اور ایسے واقعات کے دوبارہ رونما ہونے سے بچنے کے لیے سعودی عرب کے تمام جائز اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاروں ممالک نے اتوار کو جاری مشترکہ بیان میں کہا کہ گروپ حوثیوں کو ان حملوں کے نتائج اور ان کے تمام ممکنہ اثرات کا مکمل ذمہ دار ٹھہراتا ہے، کیونکہ یہ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے ان حملوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹو کے رکن ترکیہ اور جوہری ہتھیاروں کے حامل پاکستان نے اگست میں سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک فریق پر حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے ان ممالک نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کے تناظر میں اجتماعی دفاعی ذمہ داریاں پوری کرنے اور اپنی افواج و دفاعی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی یقینی بنانے پر اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے جمعرات کو کہا تھا کہ ان کا ملک سعودی عرب کی مدد کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم انہوں نے فوجی دستے بھیجنے اور جارحانہ کارروائیوں میں ترکیہ کی شرکت کو خارج از امکان قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر یمن کے حوثی جنگجوؤں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا ہے، جس کا کسی بھی جواز یا بہانے کے تحت دفاع نہیں کیا جا سکتا۔</strong></p>
<p>سعودی حکام کے مطابق اتوار کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک نئے حملے میں ایک شخص ہلاک اور تقریباً ایک درجن افراد زخمی ہوگئے۔ یہ حملہ حوثیوں کی جانب سے کیے گئے اس حملے کے ایک روز بعد ہوا، جس میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔</p>
<p>آر فور کے نام سے معروف چار علاقائی طاقتوں نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے حملوں کا مقابلہ کرنے، خطرات کی روک تھام اور ایسے واقعات کے دوبارہ رونما ہونے سے بچنے کے لیے سعودی عرب کے تمام جائز اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔</p>
<p>چاروں ممالک نے اتوار کو جاری مشترکہ بیان میں کہا کہ گروپ حوثیوں کو ان حملوں کے نتائج اور ان کے تمام ممکنہ اثرات کا مکمل ذمہ دار ٹھہراتا ہے، کیونکہ یہ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے ان حملوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔</p>
<p>نیٹو کے رکن ترکیہ اور جوہری ہتھیاروں کے حامل پاکستان نے اگست میں سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک فریق پر حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور ہوگا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے ان ممالک نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کے تناظر میں اجتماعی دفاعی ذمہ داریاں پوری کرنے اور اپنی افواج و دفاعی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی یقینی بنانے پر اتفاق کیا تھا۔</p>
<p>ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے جمعرات کو کہا تھا کہ ان کا ملک سعودی عرب کی مدد کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم انہوں نے فوجی دستے بھیجنے اور جارحانہ کارروائیوں میں ترکیہ کی شرکت کو خارج از امکان قرار دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292436</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Oct 2026 11:06:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/12110443e348ccc.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/12110443e348ccc.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
