<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 12 Oct 2026 12:17:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 12 Oct 2026 12:17:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سرکاری ادارے قومی خزانے پر بوجھ، سلسلہ کب رکے گا؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292433/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کی مالی کارکردگی تیزی سے خراب ہو رہی ہے، باوجود اس کے کہ حکومت بہتر نظم و نسق اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کے دعوے کرتی رہتی ہے۔ اس کا واضح ثبوت وزارتِ خزانہ کی جانب سے حال ہی میں شائع کی گئی سرکاری ملکیتی اداروں کی ششماہی رپورٹ ہے، جس کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں ان اداروں کی خالص مالیاتی شراکت کم ہو کر محض 36 ارب روپے رہ گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 427 ارب روپے تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب آئی ایم ایف نے اپنے بورڈ کی جانب سے اگلی قسط کی منظوری کو سرکاری ملکیتی اداروں کے قانون میں ترامیم کی منظوری سے مشروط کر دیا ہے۔ ان ترامیم کے نتیجے میں رپورٹنگ اور نظم و نسق بہتر ہوگا اور درمیانی سے طویل مدت میں مجموعی کارکردگی میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔ تاہم، مختصر مدت میں بہتر حساب کتاب اور ممکنہ نقصانات کے لیے زیادہ رقوم مختص کرنے کے باعث خسارے بڑھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے معاملے میں، جہاں ری گیسیفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) کے بھاری اخراجات کو چھپایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں مجموعی نقصانات 343 ارب روپے پر برقرار رہے۔ تاہم، منافع میں 7 فیصد کمی ہوئی اور یہ گھٹ کر 243 ارب روپے رہ گیا۔ نتیجتاً، ایڈجسٹمنٹ کے بعد خالص منافع 30 فیصد کم ہو کر 81 ارب روپے رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ یہ ہے کہ منافع چند اداروں تک محدود ہے۔ چار بڑے ادارے، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی)، نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پارکو)، مجموعی منافع میں 40 فیصد حصہ ڈالتے ہیں۔ دوسری جانب، نقصانات زیادہ تر بجلی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق اداروں میں مرتکز ہیں۔ ان میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) سب سے آگے ہے، جس کے بعد بجلی کی تقسیم کار چند کمپنیاں آتی ہیں۔ یہ کوئی نئی صورتِ حال نہیں، بلکہ وہی پرانی کہانی مسلسل دہرائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس بات پر تشویش ہوتی ہے، وہ سرکاری ملکیتی اداروں کے لیے حکومتی مالی معاونت میں تقریباً ایک تہائی اضافہ ہے، جو مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں بڑھ کر 804 ارب روپے ہو گئی۔ یہ معاونت ایکویٹی میں سرمایہ کاری، قرضوں، سبسڈیز اور گرانٹس کی صورت میں فراہم کی جاتی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ اضافہ ایکویٹی میں سرمایہ کاری کا ہوا، جو 190 فیصد بڑھ کر 225 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اس کی بنیادی وجہ بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے سے متعلق ضروریات ہیں۔ اسی طریقے سے گردشی قرضے کے حجم میں اضافے کو روکا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ملکیتی اداروں کے لیے حکومتی معاونت ٹیکس دہندگان کی آمدن کا ایک بڑا حصہ کھا رہی ہے۔ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں ایف بی آر کی آمدن کی بنیاد پر دیکھا جائے تو ٹیکس کی آمدن میں سے ہر نویں روپیہ ان اداروں کی معاونت پر خرچ ہوا۔ یہ ایک انتہائی تشویش ناک صورتِ حال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ، جیسا کہ ابتدا میں بیان کیا گیا، مجموعی خالص مالیاتی آمدن کم ہو کر گزشتہ سطح کے تقریباً دسواں حصے پر آ گئی ہے۔ تاہم، تشویش کی بات صرف یہی نہیں۔ اس معاملے کے مزید پہلو بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، سرکاری ملکیتی اداروں کے قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور زیرِ جائزہ مدت میں یہ 14 فیصد بڑھ کر 10.1 ٹریلین روپے ہو گئے۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا، کیونکہ ان اداروں کے لیے 2.1 ٹریلین روپے کی خودمختار ضمانتیں اور 198 ارب روپے کی غیر مالی اعانت یافتہ پنشن واجبات بھی موجود ہیں۔ مزید یہ کہ گیس اور بجلی کے شعبوں کا مجموعی گردشی قرضہ 3.9 ٹریلین روپے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام عوامل سرکاری ملکیتی اداروں کے حوالے سے حکومت کی مالی ذمہ داریوں اور خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ ان اداروں سے حکومت کو حاصل ہونے والے منافع میں کمی آ رہی ہے۔ مالیاتی کارکردگی کے اعتبار سے مالیاتی خدمات اور تیل و گیس کے شعبوں کی صورتِ حال بہتر ہے، جہاں سے منافع حاصل ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس، بنیادی ڈھانچے اور بجلی کے شعبے کمزور کڑیاں ہیں، جو نقصانات جمع کرنے کے علاوہ براہِ راست اور بالواسطہ قرضوں میں بھی اضافہ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت آئی ایم ایف کی رہنمائی میں بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ معیارات (آئی ایف آر ایس) کے مکمل نفاذ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں تیل اور گیس کے شعبے میں ممکنہ نقصانات کے لیے مختص کی جانے والی رقوم میں تقریباً 500 ارب روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حاصلِ کلام یہ ہے کہ نجکاری پروگرام اور سرکاری ملکیتی اداروں کے نقصانات کم کرنے کی پالیسی کے باوجود مجموعی صورتِ حال بہتر نہیں ہو رہی۔ اس سلسلے میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اب آئی ایم ایف ایسی ترامیم پر زور دے رہا ہے جن کے ذریعے نقصانات سامنے آ سکیں گے۔ اب انہیں قالین کے نیچے چھپانا ممکن نہیں رہے گا، یا کم از کم ایسا کرنا پہلے کی نسبت مشکل ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امید ہے کہ بہتر رپورٹنگ اور شفافیت حکومت کو ضروری اصلاحات کرنے اور ان شعبوں میں کارکردگی بہتر بنانے پر آمادہ کرے گی جہاں اس کی اشد ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کی مالی کارکردگی تیزی سے خراب ہو رہی ہے، باوجود اس کے کہ حکومت بہتر نظم و نسق اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کے دعوے کرتی رہتی ہے۔ اس کا واضح ثبوت وزارتِ خزانہ کی جانب سے حال ہی میں شائع کی گئی سرکاری ملکیتی اداروں کی ششماہی رپورٹ ہے، جس کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں ان اداروں کی خالص مالیاتی شراکت کم ہو کر محض 36 ارب روپے رہ گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 427 ارب روپے تھی۔</strong></p>
<p>اب آئی ایم ایف نے اپنے بورڈ کی جانب سے اگلی قسط کی منظوری کو سرکاری ملکیتی اداروں کے قانون میں ترامیم کی منظوری سے مشروط کر دیا ہے۔ ان ترامیم کے نتیجے میں رپورٹنگ اور نظم و نسق بہتر ہوگا اور درمیانی سے طویل مدت میں مجموعی کارکردگی میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔ تاہم، مختصر مدت میں بہتر حساب کتاب اور ممکنہ نقصانات کے لیے زیادہ رقوم مختص کرنے کے باعث خسارے بڑھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے معاملے میں، جہاں ری گیسیفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) کے بھاری اخراجات کو چھپایا جا رہا ہے۔</p>
<p>مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں مجموعی نقصانات 343 ارب روپے پر برقرار رہے۔ تاہم، منافع میں 7 فیصد کمی ہوئی اور یہ گھٹ کر 243 ارب روپے رہ گیا۔ نتیجتاً، ایڈجسٹمنٹ کے بعد خالص منافع 30 فیصد کم ہو کر 81 ارب روپے رہ گیا۔</p>
<p>مسئلہ یہ ہے کہ منافع چند اداروں تک محدود ہے۔ چار بڑے ادارے، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی)، نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پارکو)، مجموعی منافع میں 40 فیصد حصہ ڈالتے ہیں۔ دوسری جانب، نقصانات زیادہ تر بجلی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق اداروں میں مرتکز ہیں۔ ان میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) سب سے آگے ہے، جس کے بعد بجلی کی تقسیم کار چند کمپنیاں آتی ہیں۔ یہ کوئی نئی صورتِ حال نہیں، بلکہ وہی پرانی کہانی مسلسل دہرائی جا رہی ہے۔</p>
<p>جس بات پر تشویش ہوتی ہے، وہ سرکاری ملکیتی اداروں کے لیے حکومتی مالی معاونت میں تقریباً ایک تہائی اضافہ ہے، جو مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں بڑھ کر 804 ارب روپے ہو گئی۔ یہ معاونت ایکویٹی میں سرمایہ کاری، قرضوں، سبسڈیز اور گرانٹس کی صورت میں فراہم کی جاتی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ اضافہ ایکویٹی میں سرمایہ کاری کا ہوا، جو 190 فیصد بڑھ کر 225 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اس کی بنیادی وجہ بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے سے متعلق ضروریات ہیں۔ اسی طریقے سے گردشی قرضے کے حجم میں اضافے کو روکا جا رہا ہے۔</p>
<p>سرکاری ملکیتی اداروں کے لیے حکومتی معاونت ٹیکس دہندگان کی آمدن کا ایک بڑا حصہ کھا رہی ہے۔ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں ایف بی آر کی آمدن کی بنیاد پر دیکھا جائے تو ٹیکس کی آمدن میں سے ہر نویں روپیہ ان اداروں کی معاونت پر خرچ ہوا۔ یہ ایک انتہائی تشویش ناک صورتِ حال ہے۔</p>
<p>چنانچہ، جیسا کہ ابتدا میں بیان کیا گیا، مجموعی خالص مالیاتی آمدن کم ہو کر گزشتہ سطح کے تقریباً دسواں حصے پر آ گئی ہے۔ تاہم، تشویش کی بات صرف یہی نہیں۔ اس معاملے کے مزید پہلو بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، سرکاری ملکیتی اداروں کے قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور زیرِ جائزہ مدت میں یہ 14 فیصد بڑھ کر 10.1 ٹریلین روپے ہو گئے۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا، کیونکہ ان اداروں کے لیے 2.1 ٹریلین روپے کی خودمختار ضمانتیں اور 198 ارب روپے کی غیر مالی اعانت یافتہ پنشن واجبات بھی موجود ہیں۔ مزید یہ کہ گیس اور بجلی کے شعبوں کا مجموعی گردشی قرضہ 3.9 ٹریلین روپے ہے۔</p>
<p>یہ تمام عوامل سرکاری ملکیتی اداروں کے حوالے سے حکومت کی مالی ذمہ داریوں اور خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ ان اداروں سے حکومت کو حاصل ہونے والے منافع میں کمی آ رہی ہے۔ مالیاتی کارکردگی کے اعتبار سے مالیاتی خدمات اور تیل و گیس کے شعبوں کی صورتِ حال بہتر ہے، جہاں سے منافع حاصل ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس، بنیادی ڈھانچے اور بجلی کے شعبے کمزور کڑیاں ہیں، جو نقصانات جمع کرنے کے علاوہ براہِ راست اور بالواسطہ قرضوں میں بھی اضافہ کر رہے ہیں۔</p>
<p>حکومت آئی ایم ایف کی رہنمائی میں بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ معیارات (آئی ایف آر ایس) کے مکمل نفاذ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں تیل اور گیس کے شعبے میں ممکنہ نقصانات کے لیے مختص کی جانے والی رقوم میں تقریباً 500 ارب روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>حاصلِ کلام یہ ہے کہ نجکاری پروگرام اور سرکاری ملکیتی اداروں کے نقصانات کم کرنے کی پالیسی کے باوجود مجموعی صورتِ حال بہتر نہیں ہو رہی۔ اس سلسلے میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اب آئی ایم ایف ایسی ترامیم پر زور دے رہا ہے جن کے ذریعے نقصانات سامنے آ سکیں گے۔ اب انہیں قالین کے نیچے چھپانا ممکن نہیں رہے گا، یا کم از کم ایسا کرنا پہلے کی نسبت مشکل ہو جائے گا۔</p>
<p>امید ہے کہ بہتر رپورٹنگ اور شفافیت حکومت کو ضروری اصلاحات کرنے اور ان شعبوں میں کارکردگی بہتر بنانے پر آمادہ کرے گی جہاں اس کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292433</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Oct 2026 10:10:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/121006032936854.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/121006032936854.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
