<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 11 Oct 2026 11:54:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 11 Oct 2026 11:54:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں 12 افراد ہلاک، 309 زخمی، وزیراعظم شہباز شریف کی شدید مذمت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292397/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کے میزائل حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابل قبول اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرنے والے ایسے پرتشدد اقدامات فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CMShehbaz/status/2109110050627129720?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CMShehbaz/status/2109110050627129720?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کو دہرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سعودی حکام کے مطابق حوثی باغیوں نے رواں ہفتے تیسری مرتبہ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوگئے۔ حوثیوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی شہری، بنگلہ دیش کے دو باشندے اور امریکا، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کا ایک ایک شہری شامل ہے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حملے کے بعد زخمیوں کو ایمبولینسوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ ریاض آنے والی تمام پروازوں کا رخ دوسرے ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا اور ایئرپورٹ کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کردی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق ہفتے کو ہونے والے حملے سے قبل سعودی عرب کے خطرے سے آگاہ کرنے والے نظام کی جانب سے کوئی انتباہ جاری نہیں کیا گیا تھا۔ رواں ہفتے کے ابتدائی دو حملوں میں بھی چار افراد ہلاک ہوئے تھے اور رن وے پر کھڑے ایک سعودی تجارتی طیارے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شامل ہونے کے امکان کا جائزہ لے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان 2022 میں طے پانے والی جنگ بندی گزشتہ موسم گرما میں ختم ہوگئی تھی، جس کے بعد خطے میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاض میں آئندہ اہم توانائی اور سرمایہ کاری کانفرنسیں بھی منعقد ہونا ہیں۔ منتظمین نے حملوں کے باوجود ان تقریبات کو طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کے میزائل حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابل قبول اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرنے والے ایسے پرتشدد اقدامات فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CMShehbaz/status/2109110050627129720?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CMShehbaz/status/2109110050627129720?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کو دہرایا۔</p>
<p>دوسری جانب سعودی حکام کے مطابق حوثی باغیوں نے رواں ہفتے تیسری مرتبہ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوگئے۔ حوثیوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔</p>
<p>سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی شہری، بنگلہ دیش کے دو باشندے اور امریکا، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کا ایک ایک شہری شامل ہے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔</p>
<p>حملے کے بعد زخمیوں کو ایمبولینسوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ ریاض آنے والی تمام پروازوں کا رخ دوسرے ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا اور ایئرپورٹ کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کردی گئیں۔</p>
<p>رائٹرز کے مطابق ہفتے کو ہونے والے حملے سے قبل سعودی عرب کے خطرے سے آگاہ کرنے والے نظام کی جانب سے کوئی انتباہ جاری نہیں کیا گیا تھا۔ رواں ہفتے کے ابتدائی دو حملوں میں بھی چار افراد ہلاک ہوئے تھے اور رن وے پر کھڑے ایک سعودی تجارتی طیارے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شامل ہونے کے امکان کا جائزہ لے سکتا ہے۔</p>
<p>ادھر سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان 2022 میں طے پانے والی جنگ بندی گزشتہ موسم گرما میں ختم ہوگئی تھی، جس کے بعد خطے میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرگئی ہے۔</p>
<p>ریاض میں آئندہ اہم توانائی اور سرمایہ کاری کانفرنسیں بھی منعقد ہونا ہیں۔ منتظمین نے حملوں کے باوجود ان تقریبات کو طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292397</guid>
      <pubDate>Sun, 11 Oct 2026 10:06:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرزبی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/11100340a2aa985.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/11100340a2aa985.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
